Begum Hamza
4K posts

Begum Hamza retweetledi

میں دیکھ رہا ہوں کہ کل سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اونٹنی کا پاؤں کاٹنے پر سب رنجیدہ ہیں میں اس کو جسٹیفائی نہیں کر رہا جس نے بھی کیا ہے سخت سے سخت سزا دی جائے اسے ۔
لیکن دوسرے طرف وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے بچھائے ہوئے لینڈز مائن سے ہزاروں بچے اپاہج ہو چکے لیکن اس پر نہ کوئی میڈیا چینل بات کر رہا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر کسی کی پوسٹ دیکھی یہ دوہرا معیار اخیر پختونوں کیساتھ کیوں کیا جا رہا ہے؟ پختونوں کا سب کچھ چھین لیا پاکستانی فوج نے ان کے معدنیات اور جو زخائر ہیں سب پر فوج قابض ہے اور ان سب کے باوجود ان کو جینے کا حق نہیں دیا جا رہا اور کوئی بولنے کیلئے تیار بھی نہیں ہے
اب دیکھنا کچھ بہن کے بھڑوے آئیں گے کہ آپ صوبائیت کے نام پر تقسیم پیدا کر رہے ہو ۔


اردو
Begum Hamza retweetledi

ایک دلچسپ بات امام رضا علیہ السلام کے روضے کے بارے میں:
۱۔ ایران میں چاہے جو کتنے بھی بڑے رتُبے پر ہی فائز کیوں نہ ہو وہ امام رضا کے روضے پر رضاکاری کا کام کرنے کے لئیے اپنا نام لکھواتا ہے۔ کچھ کو ایک دن کی رضاکاری ملتی ہے اور کچھ کو تین دن کی۔
۲۔ رضاکاری میں آپ زائیرین کے جوتے جمع کرتے ہیں۔ جھاڑو دیتے ہیں۔ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں یا جو بھی آپ کی ڈیوٹی لگائ جاۓ آپ وہ کرتے ہیں۔
۳۔ رضاکاری کرنے کے لئیے دو سے تین سال تک کی ویٹینگ لسٹ ہوتی ہے۔
۴۔ چھے سال پہلے میں اپنے جوتے جمع کروا رہا تھا اور ایک باریش شخص نے میرے جُوتے لیئے کاؤنٹر کے پیچھے سے اور مجھ سے انگلش میں بات کرنا شروع کردی۔ بہت ہی عجیب لگا کیونکہ ایرانی کبھی انگریزی نہیں بولتے۔ میں بھی باتیں کرنے لگ گیا اور کوئ تیس منٹ باتیں کرتا رہا اور میں دیکھ رہا تھا کہ لوگ مجھے آتے جاتے دیکھ رہے ہیں مسکرا رہے ہیں۔
۵۔ بعد میں مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص ایران کے سُپریم کورٹ کا چیف جسٹس تھا۔
۶۔ اور اٗس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ ہر ایرانی صدر۔ آئیت اللہ اور بڑے سے بڑے رَتبے ک انسان روضے پر آکر آلِ رسول ﷺ کے زائیرین کی اسطرح خدمت کرتا ہے۔
۶۔ صدر ابراہیم رئیسی نے وہاں پر ۵ مرتبہ رضاکاری کی ہے۔
اس واقعے کو سُنانے کا مقصد فقط ایک ہے کہ جس دن ہمارے لیڈران میں بھی ایسی انکساری آجاۓ گی اُس دن ہم ایک بہتر قوم بن جائینگے کیونکہ ہمارے پاس اس سے بھی اچھی مثالیں ہونگی۔ آمین۔
اردو
Begum Hamza retweetledi

آپ نے انتہائی غلط بیانی سے کام لیا کہ ڈاکٹر سلام نے پاکستان کی خدمت سے انکار کر دیا۔ سنیں اب اصل سچ۔
1986 میں UNESCO کے DG کا عہدہ خالی ہوا تو پاکستان کی طرف سے ڈاکٹر سلام اسکے سب سے بڑے حقدار تھے لیکن پاکستان نے جنرل یعقوب خان کو نامزد کیا،جس پر برطانیہ اور اٹلی نے کہا کہ اگر آپ ہماری شہریت قبول کر لیں تو ہم آپکو اس عہدہ کیلئے اپنے ملک کی طرف سے نامزد کر دیں گے لیکن ڈاکٹر سلام نے یہ پیشکش ٹُھکرا دی اور 1996 میں اپنے انتقال تک صرف پاکستانی شہریت رکھی اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
ڈاکٹر سلام کو 1951 میں پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک سال گزارنے کی پیشکش ہوئی جہاں پروفیسر Einstein بھی تھے لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹُھکرا کر GC لاہور کے شعبہ ریاضی میں پڑھانے کو ترجیح دی، 1952 میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ ریاضی کے سربراہ بنے اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
انہیں GC میں رہائش نہ دی گئی اور اُسوقت کے وزیر تعلیم عبدالحمید دستی نے کہا کہ اگر تمہیں پڑھانا ہے تو پڑھاؤ ورنہ جا سکتے ہو لیکن وہ نہیں گئے اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
نویبل انعام یافتہ پروفیسر Wolfgang نے انہیں ممبئی ملنے کی خواہش کی جب وہ مل کر واپس لاہور آئے تو انکے خلاف محاذ کھول دیا گیا اور معاملہ نوکری سے برطرفی تک پہنچ گیا۔ فزکس کے عظیم سائنسدان کو GC لاہور کے پرنسپل نے فٹبال ٹیم کا کوچ بنا دیا اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
1953 میں لاہور میں قادیانی مخالف فسادات شروع ہوئے تو انہیں ملک چھوڑ کر جانا پڑا جہاں imperial کالج لندن نے انہیں پروفیسر کی پیشکش کی جہاں انہوں نے فزکس کا دنیا کا بہترین سنٹر قائم کیا اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
ایوب خان نے ڈاکٹر سلام کو پاکستان کا Chief Scientific Officer مقرر کیا جس کے بعد انہوں نے پاکستان میں PINSTECH اور SUPARCO جیسے کئی سائنسی ادارے قائم کئے، پھر وہ PAEC کے رکن بنے اور انہوں نے نیوکلیئر توانائی بڑھانے میں پاکستان کی خدمت کی اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
ڈاکٹر سلام سے اقوام متحدہ نے سائنس و ٹیکنالوجی پر اپنی ایڈوائزری کمیٹی بنانے میں مدد لی، انہوں نے برطانیہ میں بہترین سائنسدانوں کی ایک ٹیم یشکیل دی جس میں انہوں نے زیادہ پاکستانی سائنسدان رکھے۔
COMSATS جیسے تعلیمی اداروں کا تصور ڈاکٹر سلام نے ہی دیا، انہی کی وکالت اور کوششوں کی وجہ سے پاکستان میں COMSATS قائم کرنے کا معاہدہ 1994 میں ہوا اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
وہ پاکستان میں International Centre for Theoretical Physics جیسا دنیا کا عظیم سائنسی مرکز قائم کرنا چاہتے تھے لیکن جب یہاں نفرت سے انکا جینا مشکل کر دیا تو پھر انہوں نے یہ سنٹر اٹلی میں بنایا اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
انہیں جو مالی انعامات ملے انہوں نے اس سے پاکستانی طلبا کیلئے فنڈ قائم کیا اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
1970 میں ڈاکٹر سلام نے کینیڈین اور پاکستانی انجینئرز کی مدد سے پاکستان کا پہلا nuclear power plant لگانے میں مدد دی اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
سویڈن کے بادشاہ سے اپنا نوبیل انعام وصول کرتے وقت انہوں نے پگڑی اور شیروانی پہن رکھی تھی اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
1981 میں انہوں نے ڈان کو خط لکھا جو شائع ہوا جس میں پاکستانی قوم کو اپنے دین پر عمل کرتے ہوئے تفکر، سائنس و ٹیکنالوجی اور قابلیت میں آگے بڑھنے کی اپیل کی اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
وہ IAEAمیں پاکستانی مشن کے سربراہ رہے اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
انہوں نے نتھیا گلی میں ہر سال فزکس کانفرنس بلانا شروع کی تاکہ دنیا بھر سے فزکس کے ماہرین کو پاکستان لایا جا سکے اور آپ گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی خدمت نہیں کی
جب وہ بھارت گئے تو وزیراعطم اندرا گاندھی نے انہیں اتنی عزت دی کہ اپنے گھر لے گئیں، اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پیش کی اور انکے سامنے احترام سے بیٹھیں، جب لاطینی امریکہ کے ملکوں میں گئے تو وہاں کے صدور انہیں لینے خود ائررپورٹ پہنچے
وہ 1996 اپنے انتقال تک پاکستان کے سچے عاشق اور سب سے بڑے سفیر رہے باجود اسکے کہ ان کا اپنا ملک انہیں دُھتکارتا رہا۔ انہیں اپنی جائے پیدائش جھنگ سے اتنی محبت تھی کہ ایک بار انہوں نے کہا کہ دنیا میں 325 نوبیل انعام یافتہ لوگ ہیں لیکن ہیر صرف ایک ہی تھی۔
Qaiser Ahmed Raja@qaiseraraja
پاکستان نے اس شخص اعلیٰ ترین سول ایوارڈز سے نوازا، لیکن اس نے اپنے مذہب کو اہمیت دے کر پاکستان کو خیرباد کہا اور سائنس کے میدان میں پاکستان کی خدمت سے انکار کیا۔ وہ اپنے مذہب کی وجہ سے جناب امیر عباس سمیت سبھی غیر قادیانیوں کو کافر سمجھتا تھا۔ اگر وہ اپنے مذہب کو بنیاد بنا کر سائنس، دیگر لوگوں سمیت ہر چیز کو ثانوی سمجھتا تھا تو ہم بھی اس کے مذہب کی ہی بنیاد پر اس پر رائے رکھتے ہیں۔ اس میں ایشو کیا ہے؟ 🙂
اردو
Begum Hamza retweetledi

اگر ڈاکٹر سلام انتہا پسند تھے تو کاش اللّہ اس ملک کو ڈاکٹر سلام جیسے دس پندرہ اور انتہا پسند دے دیتا تو یہ ملک کہاں سے کہاں چلا جاتا۔ جس شخص نے 100 سال میں سائنس کی دنیا میں تاریخی کارنامہ دکھایا، جس نے نوبیل انعام اپنا قومی لباس پہن کر وصول کیا، جس کا نوبیل انعام آج بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں رکھا ہے، جسے اپنے ملک اور قوم سے بے انتہا عشق تھا، جو دنیا میں کہیں بھی جاتا تو دنیا اسے سونے میں تولتی مگر وہ سارا علم اور اعزاز لے کر اپنے ملک واپس لوٹا لیکن صرف اس بنیاد پر کہ وہ ہمارے مذہبی عقائد سے مختلف عقیدہ رکھتا تھا، ہم اسے مذہبی انتہا پسند کہہ دیں؟ انتہا پسند ہم ہیں جو کسی دوسرے مذہب، مسلک یا مخالف سوچ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ رکھیں اختلاف ڈاکٹر سلام سے لیکن خدارا اس قسم کے نفرت انگیز، متشدد اور تقسیم کرنیوالے الفاظ مت استعمال کریں۔ آپ اگر اپنی انفرادیت قائم رکھنا چاہتے ہیں تو کیا اسکا طریقہ صرف تنازعات، اختلافات اور فتنہ پروری ہی رہ گیا ہے۔ ایک قابل شخص اپنی مثبت قابلیت سے بھی تو اپنی انفرادیت قائم کر سکتا ہے
Qaiser Ahmed Raja@qaiseraraja
ڈاکٹر عبدالسلام سائنس فیسٹیول: ہر ملک میں مذہب، سائنس، انسانی حقوق جیسے میدانوں میں ملک کی خدمت کرنے والے افراد کی یاد میں ایونٹ منعقد کیئے جاتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عبدالسلام جیسے مذہبی انتہا پسند جس نے اپنے مذہب کی خاطر پاکستان کو ٹھکرا دیا، اس کے ساتھ ایسا ایونٹ منسوب کر دینا بیوقوفی ہے۔
اردو
Begum Hamza retweetledi

بہت پرانی سٹوری ہے اب تو وہ لوگ سب بیچ باچ کر امریکہ شفٹ ہو چکے ہیں اور لیاقت علی خان صاحب نے جو کیا اس کی سزا یہ ہی بنتی تھی ۔
جنرل گریسی کے ساتھ مل کر جناح صاحب کو زیارت بھیجا یہ جانتے ہوئے کہ وہ سانس کے مریض ہیں اور ایوب خان کو فوج کا سربراہ بنایا یہ جانتے ہوئے کہ جناح صاحب نے ایوب خان کو کبھی پسند نہیں کیا۔ اور بھی بہت کچھ ان کے کھاتے میں نکلتا ہے اتنے دودھ کے دھلے ہوئے نہیں تھے نواب صاحب۔
اردو
Begum Hamza retweetledi

یہ تصویر ہمارے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر ولد ببرک خان زدران کی ہے۔
کیا آپ کو پتا ہے ایبٹ آباد میں ایک تاریخی شخصیت گزشتہ دنوں 106 سال کی عمر میں وفات پا گئی
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ وہ کون سی شخصیت تھی جو گمنام رہی تو وہ شخصیت اس سید اکبر کی بیوی تھی جس نے 1951 میں ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کیا تھا. اس سید اکبر کو تو موقع پر ہی پکڑنے کی بجائے قتل کیا گیا تھا
مگر اسکے چار بیٹوں اور بیوہ کو ایبٹ آباد کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور سخت پہرے میں اُس وقت کی جدید ترین سہولیات بھی مہیا کی گئی تھیں
اسکا بڑا بیٹا دلاور خان جو اُس وقت 8 سال کا تھا، آج بھی 85 سال کی عمر میں زندہ سلامت اپنے ذاتی بہت بڑے گھر میں شملہ ہل بانڈہ املوک میں رہائش پزیر ہے کیونکہ جو گھر اس کو اور اسکی ماں کو الاٹ کیا گیا تھا وہ بیوہ کے نام پہ تھا اور انکا بچپن وہاں گزرا
اِسی دوران پہرہ دینے والے سپاہی سے انکی ماں نے شادی کر لی اور اسکے ہاں 5 بچے یعنی 4 بیٹے اور ایک بیٹی کی مزید پیدائش ہوئی، 8 بھائی اور ایک بہن والا کنبہ نہایت خوشحال زندگی گزارتا رہا, بالآخر دلاور خان کی شادی بھی اسکے دوسرے پاکستانی والد بدل زمان خان نے اپنی رشتہ دار سے کروائی جو 7 بچوں یعنی 4 بیٹوں اور 3 بیٹیوں کی ماں ہے، سید اکبر (لیاقت علی خان کا قاتل) کے باقی 3 بیٹے یکے بعد دیگرے امریکہ میں سیٹل کرا دیئے گئے
دلاور خان شادی کے کچھ عرصہ بعد کابل گیا، بقول اس کے اپنی آبائی زمینیں دیکھنے اور اپنی بیوی اور ایک ہی بیٹا جو اس وقت تھا اس کو ماں کے پاس چھوڑ رکھا تھا 8 سال بعد واپس آیا اور بیوی بچے کو بھی لے گیا مگر کچھ عرصہ آتا جاتا رہا اور بالآخر پچھلے 50 سال سے مستقل اپنے ذاتی گھر میں مقیم ہے. الاٹ ہوا گھر ماں نے فروخت کر دیا اور دوسرے خاوند کے بچوں کے ساتھ نئے بنگلوں میں رہائش پذیر ہو گئی اور بالآخر دنیا سے رخصت ہو گئیں
امید ہے آپ لوگوں کو پہلے وزیرِ اعظم کے قتل کے بارے میں کچھ تو سمجھ آئی ہو گی؟
لیاقت علی خان کو جس نے شہید کیا اس قاتل کی بیوہ کو وظیفہ دیا جاتا رہا؟ اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوہ رعنا لیاقت علی خان کی پینشن حکومت پاکستان کی جانب سے روک دی گئی؟قاتل سید اکبر کے بیٹے امریکہ گئے اور وہاں کاروبار کر کے کروڑ پتی بنے، جبکہ بھارت میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین سینکڑوں ملازم اور کروڑوں روپے ملک پاکستان کی خاطر ٹھکرا کر ہجرت کرنے والے نواب لیاقت علی خان کے بچے ان کی شہادت کے بعد سکول کی فیسوں اور روٹی کے چند نوالوں کو ترستے رہے. *سید اکبر کو قتل کر کے کیس ختم/ خراب کرنے والے ڈی ایس پی کو خانیوال میں مخدوم پور پہوڑاں روڈ پر ایک چک میں 10 مربع زرعی اراضی سے نوازا گیا اسکی اولادیں بھی آج عیش کر رہی ہیں
یاد رہے لیاقت علی خان کو جب شہید کیا گیا تو وزیر اعظم پاکستان تھے مگر انکی شیروانی کے نیچے موجود بنیان کئی جگہ سے پھٹی ہوی تھی
لیاقت علی خان کے قتل کی کامیاب سازش کے بعد آج تک پاکستان کے ساتھ یہی کھلواڑ کھیلاجا رہا ہے

اردو
Begum Hamza retweetledi

احمد کابلو کینیا بلکہ افریقہ میں بڑا نام ہے۔ سوشل میڈیا براڈکاسٹر ہے۔ نیروبی میں رہتا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی سامراج کے خلاف طاقتور آواز ہے۔
آج ملاقات ہوئی تو ارشد شریف کی شہادت کے بارے پوچھا۔ ایک ٹھنڈی آہ بری اور کہا کہ اس کے پاس اس واقعے کی کافی تفصیل ہے لیکن براڈکاسٹ نہ کرسکا۔ خطرہ تھا۔
پوچھا کیوں؟
کہا مجھے فورا پتہ چل گیا تھا کہ اس پاکستانی صحافی کے قتل میں بڑی طاقتیں ملوث ہیں۔ اس نے نام بھی لیے۔ کہا پاکستان بھی اور آپ کا ایک ہمسایہ بھی۔ دبئی کا ذکر بھی ہوا۔
بتایا کہ جب ارشدشریف کے قتل میں ملوث سارے پلئیرز کا پاکستانیوں کو پتہ چلے گا تو مبہوت رہ جائیں گے۔

اردو
Begum Hamza retweetledi

کافر ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کے لیے سائنس کے شعبے میں پہلا نوبل انعام حاصل کیا، پاکستان نیوکلیئر پروگرام کی بنیاد رکھی، پاکستان کا سپیس پروگرام شروع کیا، فزکس کے شعبے میں 26 کے قریب بین الاقوامی انعامات جیتے۔
مولانا عزیز الرحمن، مفتی دین، قران کا معلم، مدرسے کا استاد اور پرنسپرنسپل، اپنی ہی مدرسے کے ڈیڑھ سو طلبہ کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں، اپ کے خیال میں کس پاکستانی نے پاکستان کا نام زیادہ روشن کیا کافی ڈاکٹر عبدالسلام نے یا پھر مسلمان مفتی عزیز الرحمن نے؟


اردو
Begum Hamza retweetledi

10:23۔
💐🤲آج کی خوبصورت دعا 🤲💐
اے میرے معبود میرے دل پر پردہ ہے، میری روح عیب ہے، میرا دماغ شکست خوردہ ہے، میری خواہش غالب ہے، میری اطاعت تھوڑی ہے، میری نافرمانی بہت ہے، اور میری زبان گناہوں کا اقرار کرتی ہے، تو میری چال کیسی ہے؟ عیوب، اے غیب کے جاننے والے، اے مصیبت کو ظاہر کرنے والے، میرے تمام گناہوں کو محمد ﷺ کی حرمت سے بخش دے = اپنی رحمت سے، اور آلِ محمد کے صدقے، اے بخشنے والے، اے معاف کرنے والے اے معاف کرنے والے، رحم کرنے والے = رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے .
#دعاء

اردو
Begum Hamza retweetledi
Begum Hamza retweetledi
Begum Hamza retweetledi

ٹرمپ کے بیان کا مطلب تھا کہ اس بار اگر دھاندلی کی تو بندوقیں چلیں گی۔
امریکہ میں عام شہریوں کے پاس فوج سے بھی زیادہ اسلحہ ہے۔
اور ٹرمپ کے سپورٹرز بہت غصے میں ہیں۔
اس لئیے ٹرمپ کی وارنگ صحیح ہے۔
پچھلی میٹنگ میں ٹرمپ اور خان صاحب نے دکھ سکھ پھولے تھے۔ دونوں کا خیال تھا کہ ان کے مخالفین زیادہ ظالم اور گھٹیا ہیں۔ آخر میں ٹرمپ خان صاحب سے متفق دکھائی دیتا تھا۔
ٹرمپ ہماری تکلیف کو سمجھتا ہے۔
اردو
Begum Hamza retweetledi

شعبِ ابی طالب کا دُکھ
آج مَیں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ شعبِ ابی طالب کو ڈھونڈ کر دم لوں گا ۔ ایک دوست حسن صادق صاحب نے اِس معاملہ اصل میں کچھ معلومات دیں اگرچہ وہ درست نہیں تھیں لیکن یقین مانیے مَیں نے اُنھی معلومات کو بنیاد بنا کر تلاش شروع کی اور آخر کار شعبِ ابی طالب مل گیا ۔ اصل میں یہ جگہ کوہِ ابی قبیس کے عین عقب میں ہے ۔ چاروں طرف پہاڑ ہیں اور درمیان میں یہ گھاٹی نما وادی ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک پنجاب کے چھوٹے دیہات جتنی ہے ۔ اگر آپ کوہِ ابی قبیس پر چڑھیں تو شمال کی جانب نیچے یہ وادی ہے ۔ اب یہاں ایک چوراہا بنا دیا گیا ہے اور چاروں طرف پہاڑوں سے سرنگیں نکال کر راستے بنا دیے ہیں ۔ آجکل اَس علاقے کو عزیزیہ کہتے ہیں ۔ کعبہ خانہ سے زیادہ فاصلہ نہیں ہے ۔ اِس گھاٹی میں صرف ایک طرف سے ہی رستہ تھا اور وہ جنوب کی سمت تھی ۔ قریش نے جب مقاطعہ کیا تو ایک دو سو بدمعاشوں کو گھاٹی اور حرم کے درمیان اُس چھوٹے سے راستے پر ننگی تلواریں دے کر بٹھا دیا ۔ یہ مقاطع اول تو صرف بنی ہاشم سے تھا اور اُن میں بھی اُن سے جو مسلمان ہو چکے تھے اور رسولِ خدا کے حواری تھے ۔ مثلاً ،ابوطالب اور اُس کی ساری اولاد اور حمزہ اور شامل تھے ۔ عباس اور ابولہب اگرچہ بنی ہاشم میں سے تھے لیکن وہ اپنے کفر کی بنیاد پر اِس مقاطعہ سے باہر ہو گئے تھے ۔ عباس بھی تب مسلمان نہیں ہوا تھا ۔ دوئم دیگر قبیلے والے جو اگرچہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن اُن سے مقاطع نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ شعب میں گئے تھے ۔ کوہِ ابی قبیس کو کافی زیادہ کاٹ دیا گیا ہے لیکن جو بچ گیا ہے مَیں گھاٹی کی طرف سے اُس ابوقبیس پر چڑھ گیا اور اُسے اوپر سے بغور دیکھا ۔ چاروں طرف پہاڑ ہیں اور درمیان میں یہ ایک کنواں نما گھاٹی ہے ۔ اصل میں یہ گھاٹی حضرت ابوطالب کی ذاتی جاگیر تھی جس میں اُن کے اونٹ چرتے تھے ، غلہ جمع کیا جاتا تھا اور جانور باندھے جاتے تھے ۔ آپ یوں سمجھ لیں شعبِ ابو طالب اصل میں حضرت ابوطالب کا مال مویشی کا احاطہ تھا ۔ اور چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا ۔ یہ مقاطع اصولاً اُن کے ساتھ،مذہبی سماجی ، معاشی اور سیاسی اور سماجی بنیادوں پر کیا گیا تھا ۔ تاکہ اُنھیں کعبہ کے ذریعے اُن تجارتی سہولیات سے کاٹ دیا جائے جو سب اہلِ مکہ کو حاصل تھیں پھر یہ تنگ آ کر اپنے نظریات سے تائب ہو جائیں ۔ یہ معاہدہ تین سال تک جاری رہا اور ابوطالب اپنے تمام کنبے سمیت اِس گھاٹی میں رہے ۔ تین سال بعد معاہدہ ختم کر دیا گیا تھا ۔ کیونکہ مکہ کے کچھ لوگوں نے اِس کی مخالفت کی اور معاہدہ نامہ کو دیمک چاٹ گئی ۔
جب آپ سعی کر کے مروہ سے نکلیں تو عین شمال مشرق کی طرف رسولِ خدا سے منسوب گھر نظر آتا ہے ۔ دراصل وہ گھر اور اُس کا سارا صحن عبدالمطلب کا احاطہ تھا جس میں ابوطالب کا گھر بھی تھا ،تو ظاہر ہے، وہیں رہے بسے ۔ اُس گھر اور کھلے صحن کے عین عقب میں ابی قبیس کی پہاڑی ہے اور پہاڑی کے دوسری طرف گھاٹی ہے لیکن اُس میں جانے کے لیے آپ کو جنوب کی طرف سے کم و بیش دو کلومیٹر چل کر آنا پڑے گا ۔ یہ جگہ عزیزیہ کہلاتی ہے ۔ کسی سے پوچھ لیں ۔ ہاں اگر آپ مکہ میں کسی سے بھی شعب ِابی طالب کے نام سے پوچھیں گے تو وہ نہیں بتا سکے گا ۔ مَیں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ لوگ یہاں صرف ثواب کمانے اور نیکیاں اکٹھی کرنے آتے ہیں تاکہ وآپس جا کر بتا سکیں کہ اب میں حاجی لقلق ہو آیا ہوں لہذا مجھ سے ڈرو ۔ ہر وقت نمازیں اور نوافل میں غرق رہتے ہیں یا خریدو فروخت کرتے ہیں ۔ اگر کوئی وہاں کھجوریں تقسیم کر رہا ہو تو کھجوریں اکٹھی کرتے ہیں ۔تاکہ واپس جا کر بتائیں کہ ۵۰ ریال کلو آئی ہیں اور یہی اجوہ ہیں ۔
خیر ابھی تک کوہِ ابی قبیس پر بنی امیہ کا قبضہ جاری ہے ۔ یعنی اُنھوں نے آدھے پہاڑ پر محل بنا لیا ہے اور باقی پر کام جاری ہے ۔
علی اکبر ناطق



Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
Begum Hamza retweetledi

کوفہ کا معاملہ
آلِ محمد کے دشمنوں نے ایک سازش کے تحت کوفہ کو مطعون کیا ، اِسے منافقوں اور کافروں کا شہر قرار دیا ۔ یہاں تک کہ اِسے منافقت کی علامت سمجھا جانے لگا ۔ اور یہ پراپریگنڈا اتنا عام ہوا کہ خود شیعہ بھی اِس دھوکے کا شکار ہو گئے جو دشمنوں نے پھیلایا تھا اور کوفہ کے لیے ہرزہ سرائی کرنے لگے ، حالانکہ صورت ِ حال اِس سے کہیں برعکس ہے ۔ دراصل دنیا میں کوفہ ہی ایک ایسا شہر تھا ،جو آلِ محمد کے لیے جائے پناہ تھی ، جب مدینہ اور مکہ جیسے شہروں نے آلِ محمد کو رد کر دیا ، اُ نھیں قتل کرنے کے درپے ہوئے تو ایک کوفہ ہی تھا جہاں آلِ محمد مُڑ مُڑ کر اور بار بار پناہ لیتے تھے ۔ سب سے پہلے مَیں کچھ غلط فہمیاں دُور کر دوں ۔
اول مولا علی علیہ السلام نے کوفہ میں پناہ لی ۔ وجہ اُس کی صاف یہ تھی کہ مدینہ سے چل کر بی بی عائشہ نے مولا علی کے خلاف جب بغاوت کی تو مکہ اور مدینہ سمیت ۸۰ ہزار لوگ اُس کے ساتھ تھے اور مولا کے خلاف تھے جن میں طلحہ اور زبیر بھی شامل تھے ۔ جبکہ مولا علی ؑ کے ساتھ مدینہ کے مضافات اور بستیوں سے ملا جلا کر فقط ۱۳۰۰ آدمی ساتھ نکلے تھے ، باقی ۲۱ ہزار کوفہ سے ہی مولا کی حمایت میں اُٹھے تھے ۔ آپ ہی بتائیں علیؑ کی مدد اگر کوفہ والے نہ کرتے تو مدینہ اور مکہ نے تو علیؑ کو مروا دیا تھا پہلے دن ہی۔ مدینہ والے تو علیؑ کا ساتھ دینا ایک طرف سلام لینے سے بھی گئے تھے ۔ جنگِ جمل اور جنگِ صفین اور جنگِ نہروان ،یہ تینوں جنگیں امام علی علیہ السلام نے کوفہ کے تعاون سے لڑیں ، مدینے اور مکے میں سے کسی نے مولا علی کا ساتھ نہ دیا تھا ، وہ سب لوگ جمل میں جناب عائشہ اور صفین میں معاویہ کے ساتھ ہو گئے ۔ اِن تمام جنگوں میں مولا علی کی طرف سے کم و بیش دس ہزار کے لگ بھگ کوفہ کے لوگ شہید ہوئے اور یہ لوگ ایسے تھے کہ امام سے سوائے محبت کے اِن کے لیے کوئی دنیاوی فائدہ نہ تھا ۔
دوئم مولا حسین نے کوفہ کی طرف رجوع کیا۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ مدینہ کے لوگوں نے امام حسینؑ کی حمایت سے بالکل ہاتھ اُٹھا لیا تھا ۔ اور ایک متنفس نے بھی نہیں کہا کہ مولا آپ نہ جائیں ،ہم آپ کے ساتھ ہیں ، بلکہ اُلٹا یہ ہوا کہ ابو بکر کے بیٹے عبد الرحمان نے یزید سے ۳ لاکھ دینار لے کر بیعت کر لی ، ڈھائی لاکھ دینار عبدلللہ ابنِ عمر نے لے کر بیعت کر لی اور اِسی طرح تمام مدینہ یزید کا غلام ہو چکا تھا ۔ امام حسین وہاں کس برتے پر رُکتے ۔ مدینہ اور مکہ والوں نے تو فاطمہ سلام اللہ کا گھر ڈھا دیا تھا ۔ آگ تک لگا دی تھی ۔ یہاں تک کہ رسولِ خدا کے حجرے اور قبر تک پر قبضہ جما بیٹھے تھے ۔ اور امام حسینؑ پر جن مفتیوں نے قتل کے فتوے دے کریزید کے ہاتھ میں دیے تھے وہ سب مکہ اور مدینہ کے تھے ۔ امام حسینؑ کے کوفہ کی طرف کوچ کا معاملہ یہ تھا کہ جس وقت امام حسین علیہ السلام مکہ سے چلے کہ ابنِ زیاد نے کوفہ کا دس ہزار آدمی جو آلِ محمد پر جان نچھاور کرنے والے تھے ،وہ کنووں میں قید کردیے ، ، اُن میں اکثریت قید ہی میں مر گئی ۔ اُن کے گھر کھود دیے گئے ، بچے اور عورتیں لونڈیاں اور غلام بنا کر ایران و توران میں بیچ دی گئیں ۔ پورے شہر کی ناکہ بندی کر دی گئی ، اور امام حسین کو کوفہ سے سو کلو میٹر دُور روک دیا گیا ۔ پھر بھی امام حسین علیہ السلام کا ساتھ دینے والے بہتر میں سے ۵۴ کوفہ کے تھے اور ٹوٹل دو لوگ مدینے کے تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے ہی کوفہ سے نکل کر مکہ میں امام سے آملے تھے ۔
سوئم امام حسین کا بدلہ بھی قاتلوں سے کوفہ والوں نے لیا ۔ جبکہ مدینہ والوں نے اور مکہ والوں نے نہ صرف امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو پناہ دی بلکہ یزیدی لشکروں کا اور زبیریوں کا ساتھ بھی دیا ۔
چہارم امام حسین علیہ اسلام کے بعد کوفہ ہی ایک ایسا شہر تھا جہان ہر حالت میں وقت کے ظالم حکمرانوں کے خلاف کوفہ ہی سے بغاوت ہوئی اور یہیں آلِ محمد کی پناہ گاہ رہی ۔ مدینہ کی حالت تو یہ تھی ، کہ مولا علی کا ساتھ نہیں دیا ، امام حسن کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اُس کی لاش میں تیر مارے۔ اور اولادِ علی میں سے کوئی بھی مدینہ اور مکہ لوٹ کر دوبارہ نہ گیا ۔ امام زین العابدین جب یزید کی قید سے وآپس آئے تو مدینہ شہر کی بجائے دس میل باہر سکونت اختیار کی ۔ امام جعفر صادق علیہ اسلام اکثر کربلا اور کوفہ میں رہتے تھے اور جب مدینہ آتے تو روضہ پر حاضری دے کر وآپس شہر سے باہر اپنی سکونت میں چلے جاتے ، مدینہ شہر میں قیام نہ کرتے ۔ باقی آئمہ کا بھی آپ کو خبر ہے کوئی بھی مدینہ اور مکہ میں نہیں رہا ۔ یہ حالت تھی وہاں کے لوگوں کی ۔ ۔
اردو
Begum Hamza retweetledi

اس میں کوئی شک نہیں
کہ خدانخواستہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو قاتلوں کی نسلیں مٹا دی جائیں گی
قاتلوں اور ان کے خاندانوں کو دنیا میں کہیں پناہ نہیں ملے گی
خیبر پختونخوا ، پنجاب اور بلوچستان کے دو کروڑ سے زیادہ مسلح نوجوان کچھ گھنٹوں میں قاتلوں کو جہنم واصل کر دیں گے
مگر اس سے کیا عمران خان واپس مل جائے گا ؟؟
قاتلوں کو ایسا خبردار کرو
کہ وہ جرات ہی نہ کر سکیں
پاکستان کی بقا اور سلامتی کیلئے عمران خان کی سلامتی بہت ضروری ہے
اردو
Begum Hamza retweetledi

یہ خاتون فوزیہ یزدانی صاحبہ جنھیں پی ٹی وی سے بھاری بھرکم ادئیگیاں ہُوئی ہیں کیا کوئی بتا سکتا ہے کے انھوں نے کیا کیا ہے یا کس خدمت کے بدلے انھیں نوازا گیا ہے؟؟؟
آخری تینوں ادئیگیاں ابھی آنے والی پندرہ تاریخ کی ہیں۔ کیا مرتضیٰ سولنگی صاحب نے آنے والے وقت کی ادائگیاں بھی مزدُوروں کو پسینہ آنے سے پہلے ادا کر دی ہیں۔🤔؟؟


اردو
Begum Hamza retweetledi





