Sabitlenmiş Tweet

🚨عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ۔”🚨
عمران خان نے ایسا کیا جرم کیا کہ امریکہ کو اسے فوراً سکے عہدے سے ہٹانا پڑا ۔
اور اگر امریکہ ایسا نا کرتا تو اس (امریکہ) کو کونسے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے ۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے تصورات کا احاطہ کرتے ہیں
۱- پیٹرو ڈالر کیا ہے ۔؟
یہ 1974میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے .*
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کی زمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکہ ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسرا کرنسی نوٹ یا سونا قبول نا کرے ،
فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں اور فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے
کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے
بدلے میں سعودی کرنسی 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی
سعودی معیشت کی حالت جیسے بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح ایسی ہی رہے گی
اور یہ ہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد بھی ایک ڈالر سعودی ریال3.75 کے برابر ہے ۔
اور دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا ۔
امریکہ کی زمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے باہر نا نکلے
عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اپ نے دیکھا کہ ان کا کیا انجام ہوا
1953مین سویت یونین (روس ) کے درومیان ہندوستانی روپیہ روبل تجارت معاہدہ ہوا۔
جس سے روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے ہندوستانی کرنسی میں خریداری کرین گے ۔
اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط ہوتی رہے گی ۔
اور دوسرا روس بھی بلکل ایسا کرے گا جس سے اس کو بھی روپیہ مضبوط ہو گا
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک انڈیا میں تجارت کی سہولت کے لے شاخ کھولے گا ۔
یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ 1953 میں یہ معاہدہ ہوا تھا جو کہ 1974 کے پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہو تھا
عمران خان -“🔥
عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی روپے یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا اس معاہدے میں سیمی کندکٹر” ٹرانسفارمر نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے ۔اگر چہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا مگر وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا ۔
عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بلکل قریب تھا “
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کر سکتا تھا
کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو امریکی ڈالر کمزور ہو جائے گا اور اس کی معیشت گر جائے گی اور یہ سپر پاور نہیں رہے گا
اگر عمران خان اس مشن میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن کے ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکہ کی غلامی سے نکل جاتا ۔
اسی لیے امریکہ کو عمران خان کو فوری ہٹانا پڑا ۔
عمران خان صاحب کو اور ہم عوام کواللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کے خان صاحب کو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ابھی تک معمر قذافی یا صدام حسین کی طرح ہٹایا نہیں -جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں
اگر عمران خان صاحب دوبارہ منتخب ہوتے ہیں اور اپنی مدت پوری کرتے ہیں اور اس معاہدے کو کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو روپے کی قیمت میں مسلسل کمی رک جائے گی
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی
اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا ۔
سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے اور ائیندہ انے والی اپنی نسلوں کے بارے سوچیں ۔🔥
اردو













