Sabitlenmiş Tweet
Education,Health & Safety
32.5K posts

Education,Health & Safety
@Cure_WithNature
doctor by profession
Katılım Aralık 2022
5.4K Takip Edilen758 Takipçiler
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi

"ہمارے لئے آئی ایم ایف ایک وِلن ہے۔ جب ایوانِ صدر کا بجٹ بڑھا تو آئی ایم ایف نے کیوں نہیں اعتراض کیا؟جب وزیراعظم ہاؤس کا بجٹ بڑھا تو آئی ایم ایف نے کیوں نہیں اعتراض کیا؟آئی ایم ایف نے تب کیوں نہیں اعتراض کیا، جب ججوں کی مراعات اور سہولتیں بڑھیں؟آئی ایم ایف نے تب کیوں نہیں اعتراض کیا، جب وزراء اور ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں بڑھیں؟مریم نواز نے جہاز لیا تب آئی ایم ایف نے کیوں نہیں اعتراض کیا ؟"۔ ارشاد بھٹی
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں

اردو
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi

پاکستان واقعی معجزہ ہے؛ 150 روپے فی لیٹر پر تباہ ہو رہا تھا، 400 روپے فی لیٹر پر اونچی اڑان بھر رہا ہے! خالد انعم
@khaledanam1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan

اردو
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi

@MaidahMuhammad سن 86 میں ہم آل پاکستان ٹور پر کالج سے گئے تھے لاھور میں بیکو کمپنی کے اسی کارخانہ کا وزٹ کیا فیکٹری کی حالت قابلِ دید تھی ہر طرف گلوانائزن کے تالاب اسی طرح کیمیکل سے بھرے ہوئے تھے اور ان کے اوپر ہزاروں کی تعداد میں سائیکلوں کے پہیے زنگ آلود حالت میں اور ہیڈ ریل سے آویزاں تھے۔😥
اردو
Education,Health & Safety retweetledi

کیا آپ جانتے ہیں کہ!!!
کتنے ہیرے کھوئے...
Democracy of Occupied Pakistan
جس مُلک کی خاطر سب کچھ چھوڑا اُسی مُلک نے 1971 میں اُن سے سب کچھ چھین لیا💔
پاکستان کا ٹاٹا جسے اپنوں نے لوٹا: 💔
محمد لطیف 1907ء کو مشرقی پنجاب کے شہر بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مہر میران بخش تھا۔ محمد لطیف نے اعلی ٰ تعلیم حاصل کی اور 1930ء میں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ 1932ء میں انہوں نے اپنے آبائی شہر کے نام پر ”بٹالہ انجینئرنگ کمپنی (بیکو BECO )“ کی بنیاد رکھی۔
جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا سی ایم لطیف چاہتے تو بھارت میں رہ کر اپنا کاروبار بچا سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی فیکٹریاں اور اپنا سب کچھ بھارت میں ہی چھوڑا اور پاکستان کی محبت میں ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔
سی ایم لطیف نے لاہور میں بیکو کمپنی کے نام سے صنعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 1947ء کو انہوں نے لاہور کے علاقے بادامی باغ میں پھر سے کمپنی کو زیرو سے آغاز کیا اور تین سال کی انتھک محنت کے بعد کمپنی کے قیام کو مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔ کمپنی میں سٹیل ورکس، سٹیل فاؤنڈری، سٹیل رولنگ ملز، آئرن فاؤنڈری، مشین ٹول شاپ، ڈیزل انجن شاپ، سٹرکچرل شاپ اور جنرل انجینئرنگ شاپ سمیت 8 شعبے قائم تھے۔ بیکو میں اس وقت مشینوں کے پرزہ جات، واٹر پمپس، پاور لومز، کرینیں، الیکٹرک موٹرز اور سائیکل تیار کیے جاتے تھے۔
بیکو 60ء اور 70ء کی دہائی میں ایک بین الاقوامی اور پاکستان کا قابل فخر ادارہ بن چکا تھا۔ مختلف ممالک کے سربراہان بیکو کا دورہ کرنے کے لئے بادامی باغ آیا کرتے تھے اور اپنے انجینئرز کو بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا کرتے تھے۔ چین کے اس وقت کے وزیراعظم چو این لائی نے بیکو کا دورہ کیا اور اپنے انجینئرز بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجا، چو این لائی نے بیکو کے سٹرکچر اور انتظامی امور کی طرز پر چین میں باقاعدہ ادارے اور فیکٹریاں قائم کی۔
چو این لائی کے علاوہ شام کے سربراہ مملکت حافظ الاسد اور تھائی لینڈ کے بادشاہ بھی بیکو کا دورہ کر چکے ہیں۔ چین کے ساتھ ساتھ جاپان اور جرمنی کے انجینئرز بھی بیکو میں ٹریننگ کے لئے بھیجے جاتے تھے۔ آج ان تینوں ممالک کے انجینئرنگ نے اپنا لوہا منوایا۔ اپنے عروج کے زمانے میں بیکو میں 6000 لوگ ملازمت کیا کرتے تھے۔ سی ایم لطیف دوراندیش انسان تھے۔ انہوں نے ایک ایسا مثالی ادارہ قائم کر دیا تھا جو اپنے وقت کا شاہکار اور پاکستان کا قیمتی اثاثہ تھا۔ مگر کیا کیجئے کہ بدقسمتی چپکے سے ان کے ادارے کا پیچھا کر رہی تھی۔
یکم جنوری 1972ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات نافذ کرتے ہوئے 31 اہم صنعتی اداروں کو nationalize کرنے یعنی قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا جس میں بیکو بھی شامل تھا۔ ایک ہی رات میں سی ایم لطیف سے سب کچھ چھین لیا گیا، ان کے سالوں کی محنت ضائع کردی گئی اور ان کو ان کے اپنے ہی ادارے سے نکال کر ادارے کو حکومت پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایک ہی رات میں وہ پھر سے 1947ء والی پوزیشن پر آچکے تھے۔
جس ملک کی محبت میں انہوں نے سب کچھ چھوڑا 1972ء میں اسی ملک نے ان سے سب کچھ چھین لیا تھا۔ حکومت وقت نے بیکو کا نام تبدیل کر کے پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پیکوPECO ) کر دیا۔ حکومت نے اپنے وقت کے اس صنعتی شاہکار ادارے کو بعد میں ان لوگوں کے سپرد کر دیا گیا جنہیں مکینیکل انجینئرنگ کی الف تک نہیں آتی تھی اور پھر اس عالیشان ادارے کا وہی حال ہوا جو ہر سرکاری ادارے کا ہوتا ہے۔
بیکو نے پھر کبھی منافع نہیں کمایا اور پاکستان کا قومی اثاثہ کہلایا جانے والا ادارہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ بیکو نے 1972ء سے لے کر 1998ء تک 760 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان کیا۔ بعد میں جنرل ضیاءالحق نے سی ایم لطیف کو بیکو واپس لینے کی آفر کی جن کو انہوں نے ٹھکرا دیا۔
سی ایم لطیف پاکستان سے مایوس ہو کر جرمنی چلے گئے اور انہوں نے اپنی باقی تمام عمر جرمنی میں گزار دی۔ سی ایم لطیف نے بعد میں ساری زندگی کوئی کاروبار کیا اور نہ ہی کوئی فیکٹری بنائی۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت باغبانی اور پھولوں کو اگانے میں لگاتے تھے۔
سی ایم لطیف 2004ء میں 97 سال کی عمر میں جرمنی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔ 💔
ایسے ہی کئی ہیرے ہم اپنے ہاتھوں سے گنوا چکے ہیں اور کئی گنوانے کے لیئے تیار بیٹھے ہیں اللہ پاک ہمیں عقل دے

اردو
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi

خواجہ سعد رفیق خود کو پاپڑ والا فالودے والا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جن کے اکاؤنٹ میں زرداری کمپنی اربوں روپے منتقل کر دیتی تھی اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا تھا
خواجہ صاحب کے بقول کانسٹیٹیوشن ایونیو میں 8 ارب کے 8 فلیٹ انکے سوشل میڈیا مینیجر نے انکے نام کروا دیئے بینک نے خواجہ صاحب کے اکاؤنٹ سے بتائے بغیر ان فلیٹس کی پیمنٹ بھی کر دی۔ اور یہ کام انکے سوشل میڈیا مینیجر نے کیا🥺
یہ ساری دنیا کو للو سمجھتے ہیں ؟🤓

اردو
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi

جب والدین کی عمر بڑھ جاتی ہے تو وہ اُس بیٹے یا بیٹی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو نرم مزاج، محبت کرنے والا، بردبار اور کشادہ دل ہو؛
جو اُن سے تنگ نہ ہو، اُن پر جھنجھلائے نہیں، اور جس سے وہ ناراض ہونے کا خوف محسوس نہ کریں، بلکہ جس پر وہ بے جھجھک بہت سا حق جتاسکیں۔
پھر وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات، اپنے طبی معائنے کے اوقات طے کرنے، تقریبات میں ساتھ جانے، اور خاص ملاقاتوں میں رفاقت کے لیے اسی پر زیادہ بھروسا کرتے ہیں۔
یہ والدین کا وہ اطمینان ہے جو خریدا نہیں جا سکتا، بلکہ اللہ کی طرف سے اُس بیٹے یا بیٹی کے لیے ایک خاص عطیہ ہوتا ہے۔
پس خوش نصیب ہے وہ جسے اُس کے والدین نے اپنے سب بہن بھائیوں میں چن لیا، اور اپنی تھکن میں پناہ، اور اپنی ضرورت میں سہارا بنا لیا۔
اردو

@_free_Pakistan @AfaqSomroo خفیہ خط جعلی تھا اور خلیفہ وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مہر آپ سےچپ کر اس پر لگایا گیا تھا ،
اردو

@AfaqSomroo ان کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ لیکن ان کے اقدامات کا دفاع ممکن نہیں۔ اپنے ہی قبیلے کے لوگوں کو گورنر لگایا حالانکہ وہ اکثرو بیشتر طلقاء میں سے تھے۔نہ اسلام میں سبقت نہ کوئی کردار۔ پھر احتجاج کرنے والوں سے وعدہ کر لینے کے بعد اس خفیہ خط کا سامنے آنا جس میں ان لوگوں کے قتل کا حکم تھا
اردو

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تب بھی ٹھیک اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا تب بھی ٹھیک لیکن تاریخ کو چھیڑنے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے نظر آتاہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف حضرت حسینؓ کی ہی شھادت مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ اگر ہم 10 محرم کہ طرف جاتے ہوئے رستہ میں 18 ذی الحج کی تاریخ پڑھیں تو ایک ایسی شھادت دکھائی دیتی ہے جسمیں شھید ہونیوالے کا نام حضرت عثمانؓ ہے
جی ہاں__ وہی عثمانؓ جنہیں ہم ذالنورین کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم داماد مصطفیؐ کہتے ہیں
وہہ عثمان جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں
وہی عثمانؓ جو حضرت علیؓ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھاتے ہیں
وہی عثمانؓ جسکی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو بھیجتے ہیں
وہی عثمانؓ جسے جناب محمد الرسول اللہؐ کا دوہرا داماد کہتے ہیں
خیر یہ باتیں تو آپکو طلبا خطبا حضرات بتاتے رہتے ہیں
کیونکہ حضرت عثمانؓ کی شان تو بیان کی جاتی
حضرت عثمانؓ کی سیرت تو بیان کیجاتی ہے
حضرت عثمانؓ کی شرم حیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں انکے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے یہ کہ انکی مظلومیت کو بیان نہیں کیا جاتا انکی دردناک شھادت کے قصہ کو عوام کے سامنے نہیں لایاجاتا
تاریخ کی چیخیں نکل جائیں اگر عثمانؓ کی مظلومیت کا ذکر کیا جائے کوئی عالم یا خطیب نہیں لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ عثمان وہ مظلوم تھا
جسکا 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پانی کو ترس رہاہے جو کبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریدا کرتاتھا
حضرت عثمانؓ قید میں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے تو آواز لگائی ہے کو جو مجھے پانی پلائے ؟
حضرت علیؓ کو پتہ چلا تو مشکیزہ لیکر علیؓ عثمان ؓ کا ساقی بن کر پانی پلانے آرہے ہیں
ہائے ۔۔۔ آج کربلا میں علی اصغر پر برسنے والے تیروں کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر برسنے والے تیروں کا ذکر نہیں ہوتا باغیوں نے حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر تیر برسانے شروع کئے تو علیؓ نے اپنا عمامہ ہوا میں اچھالا تاکہ عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روز عثمانؓ اللہ کو شکایت نا لگاسکے کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نا آیا
کربلا میں حسینؓ کا ساقی اگر عباس تھا
تو مدینہ میں عثمانؓ کا ساقی علیؓ تھے
اس عثمانؓ کو 40 دن ہوگئے ایک گھر میں بند کیئے ہوئے جو عثمانؓ مسجد نبوی کیلئے جگہ خریدا کرتاتھا
آج وہ عثمانؓ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جسکی محفل میں بیٹھنے کیلئے صحابہ جوق درجوق آیاکرتے تھے
40 دن گزر گئے اس عثمانؓ کو کھانہ نہیں ملا جو اناج سے بھرے اونٹ نبیؐ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا
آج اس عثمان کی داڑھی کھینچی جارہی ہے جس عثمان سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے
آج اس عثمانؓ پر ظلم کیا جارہا ہے جو کبھی غزوہ احد میں حضور نبی کریمؐ کا محافظ تھا
آج اس عثمانؓ۔کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کہ تھی
ہائے عثمان میں نقطہ دان نہیں میں عالم نہیں جو تیری شھادت کو بیان کروں اور دل پھٹ جائیں آنکھیں نم ہوجائیں
آج اس عثمانؓ کے جسم پر برچھی مار کر لہو لہان کردیا گیا جس عثمان نے بیماری کی حالت میں بھی بغیر کپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا
آج آپؐ کی 2 بیٹیوں کے شوہر کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں
18 ذی الحج 35 ھجری ہے جمعہ کا دن ہے حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں ہیں باغی دیوار پھلانگ کر آتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی داڑھی کھنچتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ایک باغی پیٹھ پر برچھی مارتاہے ایک باغی لوہے کا آہنی ہتھیار سر پر مارتاہے ایک تلوار نکالتا ہے حضرت عثمانؓ کا ہاتھ کاٹ دیتاہے وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپ کی بیعت کی تھی قرآن سامنے پڑا تھا خون قرآن پر گرتا ہے تو قران بھی عثمانؓ کی شھادت کا گواہ بن گیا عثمانؓ زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو ٹھوکریں مارنے لگے جس سے آپؐ۔کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حضرت عثمانؓ باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے۔
اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی
دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی::
مدینہ منورہ جنت البقیع میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی کی قبر مبارک۔۔۔۔۔۔
منقول

اردو
Education,Health & Safety retweetledi
Education,Health & Safety retweetledi




















