
کشمیر کے عوام کی مشکلات فوری ختم ہونا چاہئیں، انٹرنیٹ اور بینکنگ بحال ہونا چاہئیے، کھانا دوا اور ضروری سامان ان تک پہنچنا چاہئیے۔ تعلیم، کاروبار اور روزگار دوبارہ معمول پر آنا چاہئیے۔ آزاد کشمیر اسمبلی سچ اور مفاہمت کے کمیشن کے قیام کے حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے۔ اب احتجاج کرنے والے اور وفاق، دونوں اس کمیشن کو تسلیم کریں۔ احتجاج اور کارروائی کا سلسلہ فوراً معطل ہو، ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن سے کچھ نہیں چھپایا جائے گا اور ہر متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا۔ یہی کشمیر میں امن و انصاف کا راستہ ہے۔ اگر آپ اس سب سے اتفاق کرتے ہیں تو دو اگست کو تیر پر مہر لگائیں۔





















