I_KZ90

15.7K posts

I_KZ90 banner
I_KZ90

I_KZ90

@I_KZ90

🤲اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین ثمہ آمین یا رب العالمین ❤️

Hyderabad, Pakistan Katılım Şubat 2016
4.5K Takip Edilen4.3K Takipçiler
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبر کراچی ناقابل فراموش ہے، قائدتحریک الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 37ویں برسی کے موقع پر بیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سانحہ 30ستمبر حیدرآباد اور سانحہ یکم اکتوبرکراچی ناقابل فراموش ہیں اورسانحہ 30 ستمبرحیدرآباد کے شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ کل سانحہ 30ستمبر حیدرآباداورسانحہ یکم اکتوبرکراچی 1988ء کے شہدا ء کی 37ویں برسی ہے۔ 30ستمبر1988ء کوفوج اور آئی ایس آئی نے حیدرآباد اورکراچی میں قتل وغارتگری کامنصوبہ بنایا جس کے تحت کئی گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں کے ذریعے حیدرآباد کے مختلف علاقوں بے گناہ مہاجروں پر اندھادھند فائرنگ کروائی گئی اور ڈھائی سو سے زائد مہاجربزرگ، خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو خاک وخون میں نہلادیا گیاجبکہ سینکڑوں شہریوں کو شدید زخمی کردیاگیا۔دوسرے دن یکم اکتوبر1988ء کوفوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے زرخریددہشت گردوں کے ذریعے کراچی میں بے گناہ سندھیوں پر حملے کرائے تاکہ صوبے کو لسانی فسادات کی آگ میں جھونکا جاسکے اور سندھ کے مستقل باشندوں میں غلط فہمیاں پیدا کرکے انہیں آپس میں لڑایاجاسکے۔ستم بالائے ستم یہ کہ سینکڑوں معصوم وبے گناہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث سفاک قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دینے کے بجائے عدالت کی جانب سے بری کردیاگیا اوربے گناہ شہریوں کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں۔  میں سانحہ 30 ستمبراور یکم اکتوبر کے شہدا ء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اورشہداء کے لواحقین کو یقین دلاتا ہوں کہ معصوم وبے گناہ شہیدوں کا لہو ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اورسندھ کے مستقل باشندوں کو آپس میں لڑانے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔میری دعاکی کہ اللہ تعالی تحریک کے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، شہیدوں کوجنت الفردوس میں جگہ دے اورتمام لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔(آمین) پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم وفاپرست کارکنان کوہدایت کرتا ہوں کہ تحریک کے شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ یاد رکھیں ،سانحہ 30 ستمبرحیدرآباد اور سانحہ یکم اکتوبر کراچی کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کے اجتماعات منعقد کریں۔ الطاف حسین
Altaf Hussain tweet media
اردو
30
205
315
9.5K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
ڈرامے بازیاں کرنے کے بجائے پاکستان سیدھا سیدھا اعلان کردے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں  #ہمارا_مقدر_17ستمبر فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میں نے پہلے ہی کہاتھا کہ دوریاستی حل کومان لیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے لیکن سپر طاقتوں کے دباؤ پر خاموشی اختیارکرلی گئی لیکن آج ٹرمپ سے گلے مل کے، جھپیاں ڈال کے اورسعودی عرب سے معاہدہ کرکے وہی کام کیا جارہا ہے۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں اور عوام کو سبزباغ دکھائے جارہے ہیں کہ جیسے اس معاہدے سے ملک میں دودھ کی نہریں بہنےلگیں گی۔اتنی ڈرامے بازیوں کی کیا ضرورت ہے، سیدھاسیدھا اعلان کردیں کہ ہم فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کے حل کے لئے دوریاستی حل کے حامی ہیں، ہم ایٹمی طاقت ہیں اور اسرائیل کوبھی تسلیم کررہے ہیں۔ عوام خودغورکریں کہ کیا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی کے بغیرہوسکتاہے؟ سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کے بعد آج کل صدرٹرمپ سے معاشقہ چل رہا ہے ،صدرٹرمپ سے بغل گیر ہواجارہا ہے اوریہ وہی معاشقہ ہے کہ جیسے کوئی نیانیاجوان اپنی محبوبہ کو خوش کرنے کےلئے چاند تارے توڑ کرلانے کا یقین دلاتا ہے اوردونوں ایک دوسرے سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ آج بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں اوربڑے فخر سے کہاجا رہا ہے کہ ہماری فوج تو پہلے سے ہی سعودی عرب میں موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ آپ کی فوج نے 78برسوں میں سوائے کرائے کی فوج کے کیا کوئی ایک کام ایسا کیا ہے جس پر آپ فخر محسوس کرسکیں؟ البتہ ایک ایسا کام ضرور کیا ہے کہ جوتاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ 93ہزار کی تعداد میں فوج نے سرینڈر کیا۔ آپ نے سینہ تان کر ہمیشہ اپنے ہی ملک کے نہتے لوگوں پر چڑھائی کی ہے، آپ اپنے ہی شہریوں کے گھروں میں گھس کرمظلوم لوگوں کوغائب کردیتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم فرعون، نمرود، شداد، ہامان کو ظالم سمجھتے ہیں لیکن ہماراعمل یہ ہے کہ گزشتہ دوسال سے غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ہورہا ہے اور 57 اسلامی ممالک اس ظلم وبربریت پر خاموش ہیں اور زبانی کلامی مذمت تک محدود ہیں ۔ ہماراحال یہ ہے کہ ہم غزنوی اورغوری نام کے میزائل توبناتے ہیں لیکن غزنوی اورغوری کے افغانستان کودشمن کہتے ہیں اور اس پر حملہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔   ہماری فوج ان کی باقیات ہے جنہوں نے1757ء سے 1857ء تک  یعنی 200سال تک انگریزوں کی خدمت گاری کی ہے،جن کی رگ رگ میں یہ خدمت گاری سمائی ہوئی ہے۔ اردن میں ضیاالحق کی سربراہی میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں فلسطینی نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں اوربچوں کا قتل کیا،اس قتل عام کو ”بلیک ستمبر“ کےنام سے یاد کیا جاتا ہے۔ صومالیہ میں انہوں نے قتل کیا،یمن میں یہ موجود ہیں۔  فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ کو کفرو اسلام کی جنگ بنادیااوریہ دلیلیں دیں کہ روسی اللہ کونہیں مانتے ، وہ کافر ہیں اور امریکی اہلِ کتاب ہیں، ہمارے بھائی ہیں۔ آج بھی ''ابراہیم اکارڈ '' کی بات ہورہی ہے۔ فوج نے روس اورامریکہ کی جنگ میں جہاد کے نام پر پشتونوں کواستعمال کیا، جہادی مدرسے قائم کئے، مجاہدین اور طالبان بنائے۔ میں نے اسی وقت خبردار کیا تھا کہ آپ جو طالبان بنارہے ہیں یہ مونسٹر بن جائیں گے اور ایک دن آپ ہی کو کھائیں گے۔آج وہی طالبان، فوج پر ہی حملے کررہے ہیں اوردوسری طرف فوج طالبان کو'' خوارج '' قرار دے کرمارہی ہے۔ یہ طالبا ن فوج نے ہی تیار کئے تھے تو اب فوج انہی طالبان کو کس لئے ماررہی ہے؟ ان کی سرپرستی کس نے کی تھی؟ آرمی پبلک اسکول میں 150سے زائد بچوں اوراساتذہ کے سفاکانہ قتل میں ملوث طالبان کا دہشتگرد احسان اللہ احسان فوج کی کسٹڈی میں تھا وہ فوج کی حراست سے کیسے فرار ہوگیا؟ الخوارج کوبعد میں ماریں ، پہلے آرمی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سوسے زائد بچوں اوراساتذہ کوقتل کرنے والے طالبان اوران کی سرپرستی کرنے والے فوجیوں کوسرعام لٹکایاجائے۔  الطاف حسین  لندن میں 72ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 27،ستمبر 2025
اردو
67
428
1.2K
62.4K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
17ستمبر کومیری سالگرہ ہوتی ہے، 16ستمبر کو MQM کے کارکنان اور ہمدردسالگرہ کے کیک کاٹتے ہیں، مبارکباد دیتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی ساتھیوں نےگھروں میں سالگرہ کے سلسلےمیں پروگرام ترتیب دیے۔ #ہمارا_مقدر_17ستمبر 16ستمبر کو کراچی میں MQM کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ارکان نثارپہنور اور انورخان ترین سالگرہ کی ایک تقریب میں جانےکےلئے ایک ساتھ گھر سے نکلے، انہیں راستے سے نامعلوم افراد نے اٹھالیا، آج کے دن تک ان کا کوئی پتہ نہیں ہےکہ وہ کہاں ہیں، ان کے اغوا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تو ہائیکورٹ کے جج نے ان کی پٹیشن کی سماعت کی تاریخ 21 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس کے بعد ارجنٹ پٹیشن داخل کی تواس کی سماعت میں بھی جج نے 21 اکتوبر کی تاریخ کوتبدیل نہیں کیا۔  دنیا کے کونسے ملک میں ایساہوتا ہے؟ قانون کے تحت گرفتارشخص کو24 گھنٹے کے اندر جج کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے، اب یہ اتنے نثارپہنور اورانورترین کوکہاں رکھیں گے،ان کے ساتھ کیاکریں گے؟ یہ نثارپہنور اور انور خان ترین کامسئلہ نہیں ہے، یہ انصاف کا قتل ہے۔ جس ملک میں عدالتیں انصاف کاقتل کریں، اس کاحال کیا ہوگا؟ الطاف حسین  لندن میں 72 ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب 27، ستمبر 2025ئ
اردو
11
160
236
4.6K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
Avoid tactful manoeuvre and announce straightforward that you are recognizing Israel: #Gaza #Palestine #ہمارا_مقدر_17ستمبر I had already said that the solution to the Palestine problem should be a diplomatic or state-level solution and that it should be implemented, but silence was adopted under pressure from superpowers. Yet today, by embracing Trump, by hugging him and making a pact with Saudi Arabia, the same thing is being done. People are celebrating the defense agreement with Saudi Arabia and are being shown green pastures as if rivers of milk will start flowing in the country because of this agreement. Why all these theatrics? Just announce plainly that we support a diplomatic solution to the long-standing Palestine issue; we are a nuclear power and we are also recognising Israel. The public should consider for themselves: could a defense agreement with Saudi Arabia happen without @realDonaldTrump Trump’s approval? After the defense agreement with Saudi Arabia, there is these days a courtship with President Trump, there is hugging and cozying up to him, and it is the same kind of courting as when a lovestruck young man promises his beloved that he will bring down the moon and the stars to make her happy; both make grand declarations of love for one another. Big claims are being made today and people proudly say that our army has already been present in Saudi Arabia. The question is: in 78 years, aside from acting as a mercenary force, has your army done a single thing that you can be proud of? However, it has done one thing that is unprecedented in history, an army of 93,000 surrendered. You have always, chest held high, attacked your own country’s unarmed people; you enter the homes of your own citizens and make the oppressed disappear. As Muslims we consider Pharaoh, Nimrod, Shaddad and Haman to be tyrants, yet our practice is that for the past two years the oppressed Palestinians in Gaza have been subjected to cruelty, and 57 Islamic countries have remained silent about this brutality, limited to verbal condemnations. Our condition is that we manufacture missiles named Ghaznavi and Ghori, yet we call Afghanistan the enemy and speak of attacking it. Our army is the legacy of those who served the British from 1757 to 1857, in other words, for 200 years, and this servitude is ingrained in every vein. In Jordan, under Zia Ul Haque’s leadership, Pakistan’s army killed thousands of Palestinian youth, elders, women and children, this massacre is remembered as “Black September.” They killed in Somalia, they are present in Yemen. The army turned the Russia–America war into a war of unbelief versus Islam, offering arguments that Russians do not believe in God and are infidels, while Americans are “People of the Book,” our brothers. Even today people talk about the “#AbrahamAccords .” The army used the Pashtuns in the Russia–America conflict in the name of jihad, established jihadi madrassas, created mujahideen and the Taliban. I warned at the time that the Taliban you are creating would become monsters and one day would devour you. Today those very #Taliban are attacking the army, while on the other hand the army calls the Taliban “Khawarij” and kills them. The army itself produced those Taliban, so why is the army now killing them? Who sponsored them? In the savage massacre of more than 150 children and teachers at the Army Public School, the terrorist Ehsanullah Ehsan was in the army’s custody, how did he escape from army detention? Kill the Khawarij later, first publicly hang the Taliban who killed more than 150 children and teachers at the Army Public School and the soldiers who supported them. Altaf Hussain London. Public address at the 72nd birthay on September 27, 2025.
English
6
122
204
5.3K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
اسرائیل اور فلسطین تنازعے پر فریقین میں ملاقاتیں اور معاہدے 2/2
Altaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet media
اردو
7
129
149
2.3K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
قدیم ترین اسرائیل فلسطین تنازعہ  فریقین : اسرائیل اورفلسطین  تنازعے کے حل کےلئے دونوں فریقین کے رہنماؤں کی ملاقاتیں اورمعاہدے  #Gaza #Palestine گزشتہ روز 29ستمبر 2025ء کوامریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ اوراسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہوکے درمیان 20 نکاتی معاہدہ طے پایا جس میں فلسطین کاکوئی نمائندہ کیوں شریک نہ کیاگیا؟ جبکہ تنازعہ امریکہ اور اسرائیل کے مابین نہ تھا بلکہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین تھا۔  قارئین کرام ! آپ کی خدمت میں چند تاریخی حقائق پیش کرناچاہوں گا جس سے ثابت ہوجائےگا کہ یہ مسئلہ دو فریقین کےدرمیان تھاجس کے رہنماؤں کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔اس کی تصاویر اور وڈیوز منسلک ہیں۔  (1) 1991ء میں اسپین کے دارالخلافہ میڈرڈ میں ایک کثیرالجہتی سمٹ Multilateral Summit  ہوئی جس میں امریکہ، روس، اسرائیل ،PLO  یعنی Palestinian Liberation Organisation اورعرب ریاستوں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔  (2) 1993ء میں اوسلو  اکارڈ (Oslo Accord) ہوا جس میں دوریاستی حل کے فارمولے پربات چیت ہوئی۔ اس Oslo Accord کے شرکاء میں امریکی صدر بل کلنٹن، اسرائیلی پرائم منسٹراتسحاق رابین، PLO کے چیئرمین یاسر عرفات اوردیگر شامل تھے۔  (3) 1995ء میں Oslo ll   معاہدہ ہوا۔ یعنی   ٰIn 1995, Palestinian-Israeli Interim Agreement (Oslo ll)  اس معاہدے پر PLO کے چیئرمین یاسر عرفات اوراسرائیلی وزیراعظم اتسحاق رابن نے دستخط کئے ۔  (4) 13جنوری 1997ء کو اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو اور PLO کے چیئرمین یاسر عرفات کے درمیان US  ایلچی ڈینس روز Dennis Ross کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔  (5) 23  اکتوبر 1998ء کوWye River Memorandum نامی ایک معاہدہ وہائٹ ہاؤس USA میں ہوا۔ اس معاہدے میں بھی اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو اور PLO کے چیئرمین یاسر عرفات نے امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں دستخط کئے جس میں طے پایا تھا کہ اسرائیل، فلسطین کے مزید علاقوں پر سے قبضے ختم کردے گا۔  (6) 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ سمٹ Camp David Summit میں امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں طے پایاکہ 95 فیصد ویسٹ بینک کاعلاقہ اورپورے کا پورا غزہ  (Gaza) فلسطین کوملے گا اوریروشلم Shared ہوگا۔کیمپ ڈیوڈ سمٹ میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود بارک اور فلسطین کےصدر یاسر عرفات اورامریکی صدر بل کلنٹن موجود تھے۔ اس طرح ملاقاتوں ، معاہدات کایہ سلسلہ 2001، 2007ء اور2013-2014 ء تک جاری رہا۔ مگر29 ستمبر 2025ء کو صرف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے درمیان 20 نکاتی معاہدہ ہوا جس میں فلسطینی اتھارٹی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے موجودہ صدر محمودعباس دستیاب تھے، آخر انہیں کیوں مدعونہیں کیاگیا؟ کیا یہ قدیم ترین تنازعہ اسرائیل اورفلسطین کے مابین نہ تھا؟ اور کیایہ تنازعہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تھا؟ آخر اس معاہدے کے وقت فلسطینی نمائندگی کیوں نہ تھی؟   میں قارئین کرام خصوصاً تاریخ اورفلسفے کے اساتذہ کرام سے درخواست کرتاہوں کہ وہ مہربانی کرکے میرے ان خیالات اورذہنی الجھن کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میں ان کابہت بہت مشکور ہوگا۔  شکریہ  الطاف حسین  30ستمبر 2025ئ لندن تصاویر ۔ 1/2
Altaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet media
اردو
33
179
273
11.8K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
Photographs and videos of the meetings between Israeli and Palestinian leaders are annexed herewith. 2/2 #Gaza #Palestine
Altaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet media
English
4
83
107
2.8K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
The decades old Israel–Palestine conflict: Parties involved. Israel and Palestine efforts for resolution: Meetings and agreements between the leaders of the two sides. #Gaza #Palestine Yesterday, on September 29, 2025, a 20-point pact was signed between the U.S. President @realDonaldTrump and Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu. The Palestinian side was not taken on board. Why? The conflict wasn't a U.S- Israel one, but a conflict between Israel and Palestine. Respected readers! Allow me to present some historical facts which will endorse that this conflict has always been between two parties whose leaders have held meetings in the past. Photographs and videos of these meetings are annexed herewith. 1. In 1991, a Multilateral Summit was held in Madrid, the capital of Spain, where representatives from the U.S., Russia, Israel, the PLO (Palestinian Liberation Organization), and Arab states participated. 2. In 1993, the Oslo Accord was signed, which discussed the two-state solution formula. Participants included U.S. President Bill Clinton, Israeli Prime Minister Yitzhak Rabin, PLO Chairman Yasser Arafat, among others. 3. In 1995, the Oslo II Agreement (Palestinian–Israeli Interim Agreement) was signed by PLO Chairman Yasser Arafat and Israeli Prime Minister Yitzhak Rabin. 4. On 13 January 1997, a meeting took place between Israeli Prime Minister Netanyahu and PLO Chairman Yasser Arafat in the presence of U.S. envoy Dennis Ross. 5. On 23 October 1998, the Wye River Memorandum was signed at the White House in the USA. Israeli Prime Minister Netanyahu and PLO Chairman Yasser Arafat signed the agreement in the presence of U.S. President Bill Clinton. It was decided that Israel would withdraw from further Palestinian territories. 6. In 2000, during the Camp David Summit, it was agreed in the presence of U.S. President Bill Clinton that 95 percent of the West Bank and the "entire Gaza Strip" would be given to Palestine, and Jerusalem would be shared. Attendees included Israeli Prime Minister Ehud Barak, Palestinian President Yasser Arafat, and U.S. President Bill Clinton. This process of meetings and agreements continued through 2001, 2007, and 2013–2014. However, on 29th September 2025**, only U.S. President Donald J. Trump and Israeli Prime Minister Netanyahu signed a 20-point agreement, with no representative of the Palestinian Authority present, even though the current Palestinian President Mahmoud Abbas was available. Why he was not invited? Was this not the oldest conflict between Israel and Palestine? Was it really a conflict between the U.S. and Israel? So, this rises a question as why Palestinian were deprived of their due representation in this pact? It's my request to all the respected readers, especially teachers of history and philosophy, to dissipate ambiguities and confusions thear have grasped me. I shall appreciate them most. Thank you, Altaf Hussain LONDON. [UK]. September 30 2025. (Photographs and videos of meetings 1/2 👇
Altaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet mediaAltaf Hussain tweet media
English
13
143
199
6.3K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
فلسطین اسرائیل مسئلے پر اپنے گزشتہ روز کے بیان پر عوام کی رائے، مشورے اور رہنمائی کا طالب ہوں #Gaza #GazaPlan
اردو
26
148
263
4.1K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
اگر آپ جانناچاہتے ہیں کہ فوج ملک کی سیاست میں کیسے مداخلت کرتی ہے، وڈیرے جاگیردار کیا کرتے ہیں، ملک کی معاشی تباہی اورعوام کی پسماندگی کا سبب کیاہے، ملک اورقوم کے مسائل کیا ہیں، ان مسائل کا ذمہ دار کون ہے، مسائل کاحل کیا ہے، یہ سب کچھ اور اسکے علاوہ اوربھی بہت کچھ جاننے کےلئے آپ سے گزارش ہے کہ میرے فیس بک اوریوٹیوب چینل Revelations with Altaf Hussain  اورٹک ٹاک اکاؤنٹ altafhussain_90 کوفالو کیجئے، اسے سبسکرائب کیجئےاورآگہی حاصل کیجئے
اردو
147
1K
1.6K
213.1K
I_KZ90 retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
وزیراعظم پاکستان !جس 20نکاتی امن منصوبے میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے آپ نے اس کو کیسے قبول کرلیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لندن ۔ 2،اکتوبر 2025ء پاکستان کے موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی کی خاطر غزہ میں امن کیلئے اُن کے پیش کردہ 20نکاتی ایجنڈے کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی ڈھول تاشے لیکر خوشی میں خوب شادیانے بجاکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زبردست خراج تحسین پیش کرڈالا مگر جب دیگر اسلامی ممالک نے اِس 20نکاتی امن منصوبے پر اعتراضات اُٹھائے تو بڑی ہی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے شور مچانے لگے کہ اسرائیل اور فلسطین کے دیرینہ تنازع کے حل کیلئے یہ وہ امن منصوبہ نہیں ہے جو ہمیں دکھایا گیا تھا۔ یہاں میرا سوال یہ ہے کہ جناب ِ وزیراعظم آپ قوم کو جواب دیں کہ 20نکاتی امن منصوبے کے باقاعدہ اعلان سے پہلے ہی آپ نے اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شان میں قصیدہ گوئی کا ارتکاب کیوں کیا تھا؟ میرا سوال یہ بھی ہے کہ جس 20نکاتی امن منصوبے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے آپ نے اس کو کیسے قبول کرلیا؟ غزہ کے مستقبل کے بارے میں ایک ایسا معاہدہ جس میں تنازعے کے اصل فریق یعنی فلسطینیوں کے کسی نمائندے کی شمولیت نہیں ہے آپ نے اس کی حمایت کیسے کردی؟ قوم آپ سے ان سوالات کے جوابات چاہتی ہے۔ الطاف حسین
اردو
30
181
257
5.3K