Sabitlenmiş Tweet

والدین کا چلے جانا ایسے ہی تکلیف دہ ہے جیسے اولاد کا دکھ۔ ان بچوں کے لئے جن کی زندگیوں کا تمام حاصل ماں باپ ہی ہوں اور ان کا سر فخر سے بلند کرنے کی خاطر مسلسل جستجو ہی زندگی کا مقصد ہو۔ کچھ دن پہلے ایک پوسٹ پڑھی کہ آپ خوش قسمت ہیں اگر آج بھی فون پر ماں اور والد کی کال آتی ہے۔ پڑھ کر میں نے فورا ابّو کو کال کی۔
آج ہم بھی اس خوش قسمتی ے محروم ہو گئے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بس صرف وقت ہی گزارنا ہے۔
اپنے والدین کی قدر کیجئے اس سے پہلے کہ ان کی غیر موجودگی آپ کو احساس دلائے کہ آپ نے سب سے بڑی رحمت کھو دی ہے۔

اردو























