Ashfaq Khan
87.5K posts

Ashfaq Khan
@Ladla74
Voice of Humanity Married life 💞



وزیراعظم شہباز شریف کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باوجود ایک ماہ تک اس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں ہونے دیا۔ یہ صرف ایک فیصلہ نہیں بلکہ ذمہ دار قیادت، مؤثر حکمتِ عملی اور بہترین فِسکل مینجمنٹ کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے نہایت دانشمندی کے ساتھ فِسکل اسپیس پیدا کی، کفایت شعاری کے اقدامات (Austerity Measures) اختیار کیے، غیر ضروری اخراجات میں کمی کی، اور ہر ممکن طریقے سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ عالمی سطح پر جہاں مختلف ممالک میں پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، وہاں پاکستان کو اس بحران سے محفوظ رکھا گیا، یہ مضبوط پالیسی اور مؤثر سپلائی چین مینجمنٹ کا ثبوت ہے۔ یہ فرق ہوتا ہے ایک ذمہ دار قیادت اور ایک ایسی قیادت میں جس نے اپنی جھوٹی اور مصنوعی سیاست کو بچانے کے لیے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔ آج ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کی قیادت شہباز شریف جیسے ذمہ دار اور سنجیدہ رہنما کے ہاتھ میں ہے، جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ آج بھی جب قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، تو اسے عام عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹارگیٹڈ سبسڈی کے ذریعے متوازن کیا گیا۔ 2 ویلرز استعمال کرنے والے محنت کش طبقے، چھوٹے کسانوں (25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے)، اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو خصوصی ریلیف دے کر مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو مشکل حالات میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑتی، بلکہ ہر ممکن حد تک سہارا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پاکستان ایسے رہنما کے ہاتھوں میں ہے جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتا ہے اور ان کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ میں اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو وفاق کی اکائیوں اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونے پہ مبارکباد دیتی ہوں اور تمام وزرائےاعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ ہم انشااللہ ایک قوم بن کر ان مشکل حالات کامقابلہ کریں گے انشاءاللہ انشاءاللہ، جیسے جیسے عالمی حالات بہتر ہوں گے، اسی عزم اور حکمت کے ساتھ مزید ریلیف بھی فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد🇵🇰










ولی خان اور آج کا پاکستان ولی خان انتہا کے مستقبل شناس تھے۔ ضعیف ہوئے۔ بیمار رہنے لگے۔ ایک مرتبہ مولانا فضل الرحمان مزاج پرسی کے لئے گئے۔ ولی بابا نے آؤ بھگت کی۔ لڑکوں کو دوڑایا کہ مولانا صاحب کی مہمان داری میں کوئی کمی کوتاہی نہ آئے۔ پھر مولانا سے گفتگو کرنے لگے۔ مولانا سے پوچھا کہ بیٹا یہ بتاؤ کہ یہ جو افغانستان میں جنگ ہوئی یہ ک فر اور اسلام کی لڑائی تھی یا روس اور امریکہ کی۔ تب تک تو بات کھلی چکی تھی۔ مولانا بولے کہ بابا یہ تو امریکا اور روس کی لڑائی تھئ۔ اگلا سوال کیا کہ روسی کتنے مرے اس جنگ میں۔ مولانا نے کہا اتنے۔ اور امریکی کتنے مرے؟ وہ تو بابا کوئی نہیں مرا۔ امریکیوں کی طرف سے کون مرا؟ زیادہ تر قبائلی پشتون اور باقی پاکستان کے لوگ۔ تب ولی خان نے کہا کہ بیٹا یہی بات جب ہم آپ کے والد صاحب کو سمجھاتے تھے کہ مفتی صاحب یہ جہاد نہیں فساد ہے تو ہم پہ فتوے لگتے تھے۔ ہم نے مفتی صاحب کو یہ بھی عرض کی تھی کہ مفتی صاحب اس خطے کے لوگ پیدائشی مسلمان ہیں۔ ان کے اندر زور زبردستی مزید اسلام نہ گھسائیں۔ یہ اضافی اسلام ان کے اندر خراب ہوجائے گا اور اس خراب اسلام کو نکالنے کے لئے اس سے زیادہ خون خرابہ کرنا پڑے گا۔ تو بات یہ ہے۔ کہ یہ وہ اضافی اسلام ہے جو اندر جا کے خراب ہو چکا ہے۔

I extend a warm welcome to @BBhuttoZardari on his visit to Punjab. Punjab is your home, and you will always find a place of respect here. Thank you for your gracious remarks. You have my heartfelt good wishes and prayers.


#OperationSindoor on the games field. Outcome is the same - India wins! Congrats to our cricketers.








