
Traveler🏇
30.1K posts

Traveler🏇
@Mandahar11
👉Reading is the serious threat to ignorance۔ 👉Retweet is not endorsement.
















دنیا کیوں ہمارا اعتبار نہیں کرتی؟ دو ہزار بائیس میں استنبول میں مقیم چوہدری سجاد حسین نامی ایک پاکستانی، جن سے ٹوئیٹر کے ذریعے شناسائی تھی، نے رابطہ کیا کہ فن لینڈ کا سکول سسٹم دنیا کے بہترین سسٹمز میں شمار ہوتا ہے اس لئے وہ استنبول میں فنش سکول کھولنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں میری مدد کے طلبگار ہیں۔ موصوف کے مطابق انکا استنبول میں بہت بڑا کنسٹرکشن کا کاروبار تھا اور وہ اکثر مختلف بلڈنگز کو اپنے پراجیکٹ بتا کر انکی تصاویر شئیر کیا کرتے تھے۔ فن لینڈ میں بہت سی کمپنیز ہیں جو مختلف ممالک میں فنش طرز کے سکول مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر چلا رہی ہیں۔ میں نے ایسی ہی ایک کمپنی سے موصوف کا رابطہ کروا دیا۔ حضرت ایک سال کے اندر اندر سکول شروع کرنا چاہتے تھے جبکہ فنش کمپنی کے لئے یہ ٹائم لائین کافی سخت تھی، بہرحال انہوں نے اس پراجیکٹ کے لئے ایک علیحدہ ٹیم بھرتی کی تاکہ پراجیکٹ کو کسٹمر کی خواہش کے مطابق مکمل کیا جسکے۔ پراجیکٹ ایگریمنٹ سائن کرنے کے لئے ہیلسنکی میں تقریب رکھی گئی جس میں ترکی سے موصوف نے اپنے بیٹے سمیت شرکت کی جبکہ انگلینڈ سے انکا کوئی ڈاکٹر پارٹنر ہسپتال سے چھٹی نہ ملنے کے باعث شریک نہ ہوسکا۔ تقریب میں مجھے بھی بلایا گیا۔ بھائی صاحب نے ضد کرکے کہا ہوا تھا کہ رہائش کا انتظام نہ کروں کیونکہ ان کی سیکرٹری نے سارا بندوبست کر دیا ہے۔ خیر شرکت کے لئے پہنچا تو بُکنگ وغیرہ نہیں تھی حضرت نے فرمایا آپ اپنا کمرہ بُک کروا لیں۔ مجھے بہت عجیب لگا کہ ۔۔۔۔خیر اگلے دن معاہدے پر دستخط ہوئے اور شام میں بھائی صاحب نے مجھے کہا کہ کہ میں انکی دو دن کے لئے جرمنی کی ٹکٹس خرید دوں کیونکہ انہیں واپس ترکی جانے سے قبل جرمنی میں ایک بزنس ڈیل فائنل کرنی ہے اور انکے پاس کریڈٹ کارڈ یا کوئی بنک کارڈ نہیں۔ میرے لئے حیران کن تھا کہ ابھی اس بندے نے کئی ملینز یوروز کا پراجیکٹ سائن کیا ہے، ترکی میں اسکا اتنا بڑا کاروبار ہے اور اسکے پاس بنک کارڈ تک نہیں ( ٹکٹس، بورڈنگ پاسز اور ادائیگی کی رسیدیں محفوظ ہیں)۔ اوپر سے باپ بیٹے نے کپڑے وغیرہ بھی کسی مناسب سوٹ کیس کی بجائے بچوں کے سکول بیگز میں ڈالے ہوئے تھے۔ مجھے کچھ کچھ شک ہو چکا تھا کہ یہ کاروباری معاہدے کی آڑ میں یورپ کی ڈنکی لگا رہے ہیں۔ خیر موصوف اپنے بیٹے سمیت جرمنی چلے گئے جہاں جا کر اسائلم لے لی۔ معاہدے کی شق کے مطابق دستخط ہونے کے بعد فن لینڈ کی کمپنی نے ابنتدائی پیمنٹ کی انوائس بھیجی، جس پر کچھ ہفتے تو حضرت نے جواب تک نہ دیا اور پھر کمپنی کے اصرار پر صاف جواب دے دیا کہ میرا پراجیکٹ کے بارے میں ارادہ بدل گیا ہے۔ چونک باہمی رابطہ میرے ذریعے ہوا تھا تو اس کمپنی نے مجھے فون کر کے ساری تفصیلات بتائیں کہ موصوف کے پراجیکٹ کے لئے علیحدہ ٹیم ہائر کی گئی تھی جسکو کمپنی کئی ماہ سے ادائیگیاں کر رہی تھی۔ اب جب معاہدے کے بعد انوائس بھیجی گئی تو موصوف پراجیکٹ سے ہی بھاگ گئے۔ ساتھ ہی اس نمائندے نے یہ تک کہا دیا کہ انکی توبہ اگر آئیندہ کسی پاکستانی کمپنی یا فرد سے کسی قسم کی کوئی بزنس ڈیل کریں کیونکہ جو لوگ لکھے ہوئے معاہدوں سے بھاگ جائیں ان سے دوری ہی بھلی۔ مارے شرمندگی کے میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، البتہ ہم وطن پر جی بہت افسوس ہوا کہ کیسے اپنی اسائلم کے چکر میں بدبخت نے پاکستان کا نام ڈبویا۔ ایک ڈیڑھ سال بعد موصوف نے ایک اور معاملے میں مجھ سے پانچ ہزار یوروز کا فراڈ کرنیکی کوشش کی تو میری ہنسی ہی نکل گئی، خدا کے بندے اگر میں تمہارے پچھلے فراڈ پر خاموش ہو گیا ہوں تو تم نے مجھے بیوقوف ہی سمجھ لیا ہے؟ آجکل انھی صاحب کے بارے میں ٹوئیٹر پر شور ہے کہ حضرت کی روٹی روزی ہی فراڈ اور دھوکہ بازی سے چلتی ہے۔ پاکستان سے سٹڈی ویزے، کاروبار وغیرہ کے نام پر کئی غریبوں کی جمع پُونجی لُوٹ کر جرمنی میں اسائلم انجوائے کر رہے ہیں جبکہ غریب گھرانوں کے کئی نوجوان لُٹنے کے بعد خود کٌشیوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔




عمران خان خود میرے پاس آئے تھے اور ساتھ والا کمرہ آفر کیا تھا، جیل میں جا کر پوچھ لو، فواد چوہدری سے حلف لو مولانا طاہر اشرفی کا بڑا بیان




Air Commodore Władysław Turowicz The Polish Man Who Helped Build Pakistan’s Skies 🇵🇱🇵🇰 Not born in Pakistan. But chose Pakistan. After World War II, Turowicz migrated to Pakistan.He became a key figure in the Pakistan Air Force helping build its technical and training foundations. More importantly? He played a crucial role in Pakistan’s early space and missile development programs.A foreigner by birth. A patriot by choice.






(1/2) وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر، پاور ڈویژن نے نیپرا سے 25اور 25کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے فیس ختم کرنے اور لائسنس کی ضرورت نہ ہونے کیلیے نظرِ ثانی کا باضابطہ کہہ دیا ہے ۔








