Muhammad Yasin
551 posts

Muhammad Yasin retweetledi

I’ve cried several times writing this.
Arshard Sharif always reminded me of Srilankan journalist, Lasantha Wickrematunge.
When he was murdered in 2009, his newspaper published a column he had written, his own obituary. He had known his death was coming, and he faced it with the clarity only truth tellers have.
I will use some of his quotes from his obituary below, so moving, so emotional, and so inspirational.
“For this I, and my family, have now paid the price I have long known I would have to pay. I am, and have always been, ready for that. I have done nothing to prevent this outcome: no security, no precautions. I want my murderer to know that I am not a coward like he is, hiding behind human shields while condemning thousands of innocents to death. What am I among so many? It has long been written that my life would be taken, and by whom. All that remains to be written is when.”
In that single paragraph, he stripped fear of its power. He knew who would kill him, a president who had once been his friend. He knew what would follow, the hollow inquiries, the noise, the denial. And he wrote anyway.
Another quote where he is addressing his killer, the Sri Lankan President:
“You have told me that your sons are your greatest joy… Now it is clear to all who will see that that machinery has operated so well that my sons and daughter do not themselves have a father… For truth be told, we both know who will be behind my death, but dare not call his name.”
He was not a martyr seeking glory; he was a father who loved his children, and a journalist who would not lie to them.
“As for me, I have the satisfaction of knowing that I walked tall and bowed to no man.”
14 years later, the same script repeated, this time not in Colombo, but in Nairobi.
Arshad Sharif, too, once moved close to power. He covered the corridors of the military with the familiarity of an insider, and yet, when conscience called, he turned against the very institution that he had once embraced and loved. For him, his journalistic values were way above any personal relations.
And like Lasantha, he refused to bend. He too received the threats, saw the writing on the wall, and still chose to report the truth, about corruption, coercion, and the silent wars waged in Pakistan.
I still hear him asking “وہ کون تھا؟”
Both men believed journalism was not a profession, but a form of public service. Both men knew that exposing power could cost them everything. Both men died in exile from safety, each silenced by those who could not silence the truth itself.
Lasantha: “People often ask me why I take such risks… Of course I know that: it is inevitable. But if we do not speak out now, there will be no one left to speak for those who cannot.”
In Lasantha’s words, we find Arshad’s echo. Two fathers who left behind children; two journalists who left behind a challenge, that courage must not die with them.
“I hope my assassination will be seen not as a defeat of freedom but an inspiration for those who survive to step up their efforts.”
So, let this be a reminder. The men who spoke truth to power were not naive; they were brave enough to know the cost and still pay it. That their deaths were not coincidences, they were consequences. And that the machinery of silence, no matter how efficient, cannot erase truth once it has been written.
Lastly, both were fathers and here’s the last quote from Lasantha’s obituary;
“After all, I too am a husband, and the father of three wonderful children. I too have responsibilities and obligations that transcend my profession, be it the law or journalism.”
My tribute to both gentlemen and their respective families.

English
Muhammad Yasin retweetledi

اچھھھا! تو اقرار کے پیٹ میں پچھلے کچھ عرصہ مروڑ اٹھنے کی وجہ یہ تھی 🤔
ظاہر ہے بھئ عسکری 💩💩 ہضم کرنا آسان تھوڑی ہے اس کے لئے تو ISI کی غلاظت کھانا پڑتی ہے خون میں ذرا برابر بھی خوداری، غیرت اور انسانیت کے جراثیم ہوں انھیں مارنے کے لئے جرنیلوں کے پیشاب کے انجیکشن لگوانے پڑتے ہیں
Sheharyar Khan@SHAHARYARKHAN26
نئی سوچ، نیا نظام — اقرار الحسن کی تحریک" دنیا کے جمہوری ملکوں میں کوئی ایک شخص یا خاندان ہمیشہ پارٹی کا سربراہ نہیں رہتا۔ وہاں ہر لیڈر اپنی مدت پوری کرتا ہے، پھر نیا لیڈر عوام کے ووٹ سے آتا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ اقرار الحسن نے ایک نئی تحریک شروع کی ہے @iqrarulhassan
اردو

Absolutely Not
غیروں کی جنگوں میں شمولیت ❌
پاکستانی وسائل کی نیلامی ❌
اپنے لوگوں پر ملٹری آپریشن❌
امریکہ کو اڈوں کی فراہمی❌
فلسطینی ریاست پہ سمجھوتا❌
اسرائیل کو تسلیم کرنا❌
کیا آج آپ کو یہ سب ہوتا نظر آ رہا ہے؟
اب بھی کسی کو سائفر کے زریعے سازش اور مداخلت میں شک ہے؟
اب بھی اس مسلط کردہ رجیم کے بیرونی سہولت کار ہونے میں کوئی شک ہے؟
اللہ الحق ہے
ہر راز کا پردہ فاش ہو کر رہتا ہے
عمران خان سچا تھا اور سچا ہے
اردو

مشرف کا دور تھا۔ عرفان صدیقی مشرف کے خلاف نوائےوقت میں صفحہ نمبر دو پر قلم توڑ مضامین لکھا کرتے تھے۔ بتھیرے لوگ کہا کرتے تھے کہ ہم نوائے وقت یا اخبار پڑھتے ہی عرفان صدیقی کے لیے ہیں۔ پھر عرفان صدیقی نے جنگ گروپ جوائن کرلیا۔ وہاں انکے کالمز چھپنے لگے۔ نظریاتی طور پر تو نواز شریف سے قربت تھی ہی۔ 2013 کی حکومت بننے کے بعد مکمل طور پر نواز شریف سے منسلک ہوگئے۔ شاید انہوں نے اپنی لفاظی کی قیمت وصول کرلی تھی جو انکی تحریر سے تاثیر جاتی رہی۔
آج مدت بعد ان کا کالم پڑھا ہے۔ آج ہی پتہ چلا کہ دنیا اخبار میں لکھتے ہیں۔ جیسے جیسے انکی تحریر پڑھتا گیا دل بیٹھتا گیا۔ اللہ کی شان ہے۔ کیا بلندی تھی اور اب کیا پستی۔ اگر شرم سے ڈوب مرنا محاورے سے نکل کر حقیقی زندگی میں وقوع پذیر ہونا ہوتا تو عرفان صدیقی اس روز شرم سے ڈوب کر مرجاتے جب انکے آقاء کو شکست فاش ہوئی اور اس نے عسکری پٹہ گلے میں ڈالتے ہوئے سترہ سیٹوں کیساتھ حکومت قبول کرنا گوارا کرلیا۔ عرفان صدیقی صاحب اس ہارے ہوئے شخص کیساتھ چپک گئے۔ رہیں ہوگی کوئی مجبوریاں یوں ہی تو نہیں کوئی بے ضمیر ہوتا۔
مدعے پر واپس آئیں۔ ہزار بارہ سو الفاظ کا یہ کالم عرفان صدیقی کی دانشوری ، پارسائی اور شعور کے کپڑے اتار اتار کر پھینک رہا ہے۔ میں چشم تصور سے دیکھ سکتا ہوں کہ ایک قریب المرگ بڈھا ، برہنہ بدن ، اپنے بے تاثیر الفاظ کی مدد سے اپنے ننگ دھڑنگ آقاؤں کو ڈھکنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز پر طنز کے نشتر برسائے ہیں۔ان میں سے دو ججز کے بیڈرومز میں فوج کے لگائے گئے خفیہ کیمرے برآمد ہوئے۔ جس جج کے والد کو اغواء کیا گیا وہ رام ہوچکا۔ جس جج کے سالے کو اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اسے سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کیونکہ وہ ان کے ننگ دھڑنگ آقاؤں کو سب سے زیادہ چبھتا ہے۔
اپنے جس قریبی عزیز سابق جج شوکت صدیقی کا دفاع کرنے کی کوشش کی وہ بھی مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ خود بھی اسی غلاظت میں اترے۔ ایک سراسر جھوٹ کو ضبط تحریر میں لائے۔ تحریک انصاف کے مشن نور کو قادیانیت سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس کا کوئی حوالہ کوئی ثبوت موجود نہیں سوائے ایک جعلی سکرین شارٹ کے۔ خواہش ہے کہ عوام اس جھوٹ پر یقین کریں۔ برانگیختہ ہوں۔ تحریک انصاف کو قادیانیت سے منسلک جماعت سمجھیں۔ ان کے ننگ دھڑنگ آقاؤں کے کچھ کپڑے ڈھکے جائیں۔ کیسی ذلت کیسی پستی۔
نو مئی کو نشانے پر رکھا۔ دس مئی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے۔ پھر محض الفاظ کے زور سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جس ملک کی پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے جا چکی ، جس ملک کے دو صوبے آگ میں جل رہے ہیں ، جس ملک میں فوج مینڈیٹ چھین کر بیٹھی ہوئی ہے ، جس ملک میں شفاف انتخابات عرفان صدیقی اور انکے آقاؤں کی موت ہیں ، جس ملک کے تین دریاؤں کا ضامن معاہدہ معطل ہے ، جس ملک کو ایک اور امریکی جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے ، وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
سب کچھ پڑھا۔ پہلے غصہ آیا۔ پھر ہنسی آئی ۔ پھر عرفان صدیقی پر افسوس ہوا۔ اللہ کس طرح کسی کو عزت دیتا ہے۔ پھر کیسے وہی شخص ذلت کی گہرائیوں میں گر جاتا ہے۔ جس کے الفاظ کا سحر ایک نسل نے دیکھا۔ اسکے لفظ اب کھوکھلے ہیں۔ اسکے دلائل کی اب قیمت ہے۔ باغیوں کے قبیلے کا آدمی اب درباری ہے۔ جو ظالم کو آئینہ دکھاتا تھا وہ اب ننگ دھڑنگ ، جھریوں زدہ بدن کیساتھ ، قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا ہے اور اسکی زندگی کے آخری چند سال اسکے عروج کے سالوں کی ضد میں گزر رہے ہیں ۔میرے لیے یہ ایک ولن کی موت کا منظر ہے جو فلم کے انٹرول تک ہیرو دکھایا جارہا تھا۔ میں عرفان صدیقی کے لیے افسردہ ہوں۔
اردو
Muhammad Yasin retweetledi

1۔ مجاہد شاہ
9 مئی کے واقعات میں گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
2024ء کے وسط میں ضمانت پر رہائی ہوئی
جولائی 2025ء میں انتقال ہوا
2۔ شیخ لطیف
9 مئی کے واقعات میں گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
2024 کے وسط میں ضمانت پر رہا ہوا
جون 2025ء میں انتقال کر گیا
3۔ ندیم چوہدری
9 مئی کے واقعات میں گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
جون 2025ء میں انتقال کر گیا
4۔ عابد مسیح
9 مئی کے واقعات میں گرفتار ہوا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
جون 2025ء میں انتقال کرگیا
5۔ افتخار جٹ
زمان پارک سے گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا
1 جولائی 2025ء کو انتقال کرگیا
6۔ عبداللہ
9 مئی کے واقعات میں گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
جون 2025ء میں انتقال کر گیا
7۔ جمشید خان
زمان پارک سے گرفتار کیا گیا
کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید رکھا گیا
20 جولائی 2025ء کو انتقال کر گیا
ان 7 کارکنوں کو جیل میں ہیپاٹائٹس کا انفیکشن ہوا جس کی نہ تو بروقت تشخیص ہوئی اور نہ جیل حکام نے ٹھیک سے علاج کروایا جو کہ ان کی موت کا سبب بنا۔
ان کے علاؤہ آج ایک اور کارکن قاسم کھوکھر جو کہ سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں قید تھا وہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا جسے 9 مئی کے مقدمات میں 5 سال سزا سنائی گئی تھی اور سزا کے خلاف اپیل گزشتہ ایک سال سے لاہور ہائیکورٹ میں پینڈنگ ہے ۔
ہم اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں قیدیوں کی اموات اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر فوری نوٹس لیں۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تمام ادارے سیاسی مخالفین کو دبانے اور جمہوری آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے فسطائی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
قیدیوں کو علاج اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر ان کی زندگیاں چھینی جا رہی ہیں جو انسانی وقار اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ہم عالمی برادری سے بھرپور تقاضا کرتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں قائم اس فسطائی رجیم پر سخت سفارتی، سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالا جائے تاکہ انسانی حقوق کی پامالی بند ہو سکے اور اس کے لیے اس رجیم کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کو انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کرے۔
@UN
@UNHumanRights
@amnesty
اردو

@babakodda18plus Absolutely right. Bangladesh model is only 🇧🇩 solution.
English

چند گھنٹے پہلے کی گئی پوسٹ پر میں لوگوں کے تبصرے پڑھ رہا ہوں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا، اسے کچھ ہوا تو ہم یہ کردیں، ہم وہ کردیں گے، وغیرہ وغیرہ۔
پتہ نہیں آپ لوگ کسے بیوقوف بنا رہے ہیں؟
عمران خان پر سیدھے فائر ہوئے، عمران خان کو جیل بھیجے ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا، اس کی تصویر باہر آنے پر پابندی ہے، اس کی آواز نہیں سنائی جاسکتی، اس سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں، اس کے بنیادی حقوق معطل ہیں، اس کا سیل گرمیں میں تندور اور سردیوں میں برف کا گولا بن جاتا ہے، اسے کانوں اور دانتوں کا مرض لاحق ہے، اس کا وزن گر رہا ہے، اسے عبادت نہیں کرنے دی جاتی، وہ قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو بجلی بند کردی جاتی ہے، اسے ناقص خوراک اور پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ سب کچھ آج کی تاریخ میں ہورہا ہے، آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس میں کوئی ایک بھی بات غلط نہیں۔
آپ نے اب تک اپنے لیڈر کیلئے کیا کرلیا؟ کسی حرامزادے جرنیل کی ہمت نہ تھی کہ وہ عوام کے سب سے مقبول لیڈر کے ساتھ ایسا سلوک کرسکتا لیکن آپ کی بزدلی، کم ہمتی، منافقت اور غلامی نے یہ سب کچھ ہونے دیا۔
اب آپ یہ سوچ کر اطمینان سے بیٹھے ہیں کہ عمران خان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
پچھلے تین سال سے مسلسل اس پر زندگی تنگ کردی گئی، آپ نے سوائے 8 فروری کو ووٹ ڈالنے کے، اور ایسا کیا کیا کہ جس سے عمران خان کو رہائی مل سکتی؟
آپ تو اپنے ووٹ کا تحفظ نہ کرسکے، آپ اپنے لیڈر کا تحفظ کیسے کرتے!!!
اردو

5 ماہ قبل کی گئی یہ پوسٹ آج کی تاریخ میں جبڑے کھول کر عاصم منیر کے سامنے آکھڑی ہوئی ہے!!!
Haji Shalwar@hajishalwar
ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک یہ آفر کررہا ہے کہ اگر اسے آرمی چیف بنانے کا وعدہ کیا جائے تو وہ فوج کے موجودہ اضافی بوجھ کو اتارنے میں مدد کر سکتا ہے۔ غالباً اس نے یہی پیغام اشاروں کنایوں میں اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز کو بھی دیا ہے تاکہ وہ امریکی حکومت تک پہنچا دیں۔ عاصم منیر تُساں ہُن اُڑ جانا اے دن رہ گئے تھوڑے۔۔۔
اردو

بہت سے دانشوروں کو یہ واہمہ ہے کہ عمران خان کی میڈیا کوریج کی بدولت عمران خان مقبول ہوا۔ 2014 کے دھرنے سے لیکر پانامہ تک اور اسکے بعد پھر انتخابات عمران خان کے بغیر کوئی بلیٹن کوئی فرنٹ پیج مکمل نہیں ہوتا تھا۔ اسکی وجہ کسی فوجی کا حکم نہیں ، عمران خان کی خبریں پڑھنے اور دیکھنے والوں کی اکثریت تھی۔
کسی کھانگڑ تبصرہ پاڑ نے مریم نواز اور فوج کے ذہنوں میں البتہ بٹھا دیا ہے کہ لگاتار کوریج ، خبریں ، بڑی بڑی تصاویر ہی مقبولیت کی ضمانت ہیں۔ مثال وہی دی جاتی ہے کہ “ عمران خان کو میڈیا نے دکھا دکھا کر مقبول کردیا”۔ اسی لیے اب فوج ہو یا کٹھ پتلی حکومت کوریج کوریج اور کوریج پر زور ہے۔
عمران خان مقبول تھا ، اسکی باتیں لوگوں کے دلوں میں اترتی تھیں۔ عمران خان کو دکھا دکھا کر میڈیا اپنی طبعی عمر سے پانچ سال زیادہ نکال گیا۔ الیکٹرانک میڈیا دس سال پہلے کسی غیر مقبول شخص کو دکھاتا تو جو حالت آج ہوئی ہے وہ دس سال پہلے ہوجاتی۔ دو سال سے عمران خان قید میں ہے۔ نام تک لینے پر پابندی ہے لیکن دلوں پر راج وہ کرتا ہے۔
یہ لگاتار کی کوریج اور اشتہارات اس فوج کو اور کٹھ پتلی حکومت کو مکمل برباد کریں گے۔ بالکل ویسے جیسے عام طور پر وزیر اطلاعات الیکشن ہار جاتا ہے کہ لوگ اسکی شکل دیکھ دیکھ اور اسکے جھوٹ سن سن اکتائے ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ شکلیں جب لوگوں کو بار بار دکھائی دیتی ہیں تو انہیں مزید غصہ آتا ہے۔ انہیں مزید نفرت ہوتی ہے۔
اردو

بشری بی بی کو گنڈاپور کے مطالبے پر گرفتار کیا گیا۔ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ان کی موجودگی میں کارکنان اور عوام گنڈاپور کی اتھارٹی تسلیم نہیں کریں گے جس سے فوج کی مرضی کے فیصلے کرنے میں دشواری ہوگی۔
عمران خان اور علیمہ خانم کی ملاقاتوں پر پابندی گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے مشورے سے لگائی گئی اور وجہ وہی تھی جو اوپر بیان کی گئی، یعنی علیمہ خانم کے ہوتے ہوئے عمران خان کا پیغام فلٹر کرکے عوام تک پہنچانا ممکن نہ تھا۔
علیمہ خانم کے بیٹوں کی گرفتاری کا مشورہ بھی گنڈاپور نے دیا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت گنڈاپور کا بغل بچہ شیرافضل بھڑوت ہے جس نے چند روز قبل ٹی وی پر علیمہ خانم کے بیٹوں پر نو مئی کے حوالے سے الزامات لگائے اور دو دن بعد گرفتاری ہو گئی۔
نامعلوم اکاؤنٹس کو خاموش کروانے کی حکمت عملی بھی گنڈاپور نے ہی فوج کو دی جس کے تحت بھڑوت نے بیان دیا کہ نامعلوم اکاؤنٹس کو علیمہ خانم کے بیٹے آپریٹ کرتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ اگر وہ ان اکاؤنٹس کے ساتھ رابطوں میں ہوئے تو انہیں خاموش کروا سکیں تاکہ علیمہ خانم کے بےگناہ بیٹوں کی رہائی میں مدد مل سکے۔
گنڈاپور پنجاب میں بھی نقب لگا چکا ہے۔ عامر ڈوگر اور شیخ وقاص اس کے دست راست ہیں۔
گنڈاپور نے فوج سے کہہ رکھا ہے کہ وہ مائنس عمران خان کرکے دکھائے گا بشرطیکہ عمران خان تک عوام کی رسائی بند رکھی جائے۔ہمیں یہ چومکھی لڑائی لڑنی ہے۔ ایک طرف فوج، دوسری طرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی، تیسری طرف بکاؤ عدلیہ اور میڈیا، چوتھی طرف غداران تحریک انصاف۔
ہمیں یہ لڑائی جیتنی ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں!!!
اردو

@enkidureborn Thugs not police. I would say state Thugs.
English


