Muhammad Shahid
3K posts

Muhammad Shahid
@Muhamma7722691
D Engineer
Bahawalpur, Pakistan Katılım Ağustos 2023
471 Takip Edilen119 Takipçiler
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

سیالکوٹ کی ایک تنگ گلی میں مغرب کا وقت تھا۔ ایک ماں، تین ماہ کے بخار سے تپتے بچے کو چادر میں لپیٹے، موبائل ریپئرنگ کی چھوٹی سی دکان پر آ کھڑی ہوئی۔
ہاتھ میں پرانا نوکیا 3310۔ اسکرین چٹخی ہوئی، بیک کور غائب، بیٹری کا نام و نشان نہیں۔
دکاندار نے موبائل الٹ پلٹ کر دیکھا۔ "باجی، یہ تو اب کباڑ ہے۔ بیٹری ہی 500 کی آئے گی، اور پتا نہیں چلے بھی یا نہ چلے۔"
ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ گود میں بچہ ہلکا سا کراہا، جیسے ماں کا دکھ سمجھ گیا ہو۔
دکاندار نے نرم لہجے میں پوچھا، "باجی، خیریت؟ بڑی پریشان لگ رہی ہو۔"
بس یہی سننا تھا۔ ماں کا ضبط ٹوٹ گیا۔ روتے ہوئے بولی، "بھائی، میرا پُتر تین دن سے بخار میں جل رہا ہے۔ حکیم نے کہا انجکشن لگے گا، 400 روپے لگیں گے۔ گھر میں کل 50 روپے پڑے ہیں۔ سوچا یہ موبائل بیچ کر دوا لے آؤں۔ خاوند دبئی میں دیہاڑی کرتا ہے، پیسے ابھی نہیں بھیجے۔ یہ نوکیا ہی آخری سہارا تھا۔"
دکان میں سناٹا چھا گیا۔ پنکھے کی آواز بھی اونچی لگنے لگی۔
دکاندار نے چپ چاپ گلہ کھولا۔ 500 کا نوٹ نکالا اور ماں کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ "باجی، یہ رکھو۔ پہلے پُتر کا علاج کراؤ۔ یہ موبائل میرے پاس امانت ہے۔ جب اللہ کرم کرے، آ کر لے جانا۔"
ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "پر پُتر، تو مجھے جانتا بھی نہیں۔"
دکاندار ہلکا سا مسکرایا۔ "ماں کو جاننے کے لیے شناختی کارڈ نہیں چاہیے باجی۔ بس اس کی ممتا دیکھ لو تو رشتہ بن جاتا ہے۔ جا، پُتر کو سنبھال۔"
ماں نے کانپتے ہاتھوں سے نوٹ پکڑا، بچے کا ماتھا چوما، اور دکان سے نکل گئی۔ دروازے پر رُک کر بولی، "پُتر تیرا ناں؟"
"عبداللہ"، اس نے جواب دیا۔
ماں کی دعا نکلی، "جیوندا رہ عبداللہ پُترا، رب تینوں کدی کسے دا محتاج نہ کرے۔"
*سبق:* سیالکوٹ کی گلیوں میں 400 روپے کبھی کبھی ایک ماں کی پوری کائنات ہوتے ہیں۔ انسانیت ابھی مری نہیں، بس کسی ٹوٹے نوکیا کے بہانے جاگ جاتی ہے۔
---

اردو
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

ایک ایسا سچا واقعہ جس کو پڑھنے سے بندے کا ایمان تازہ ھوجائے.
عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔
نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔
امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔
امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔
معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔
نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔
امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔
(ریاض الناصحین ص:۱۰۵،۱۰۴)

اردو
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

اقرار الحسن نے وضاحت کر دی،
میں بھی وضاحت کرنا چاہتا ہوں، میں احمد جواد ہوں، مجھے جواد احمد سے کنفیوز نا کیا جاۓ، مجھے گانا نہیں آتا، میں نے کوئ پارٹی بھی نہیں بنائ، میرا ویژن نیا پاکستان ہے
میرا لیڈر عمران خان ہے، میں دُنیا میں سب سے زیادہ ایرانی قوم سے متاثر ہوں، میں پاکستان اور ایران کو اکھٹے ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں، میں اپنے ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، میں حکومت میں عوام کی نمائندگی دیکھنا چاہتا ہوں، میں انصاف اور میرٹ چاہتا ہوں، میں کرپٹ اشراقیہ کا احتساب چاہتا ہوں، میں ہمسایہ ممالک سے تجارت کرنا چاہتا ہوں، میں پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے نکالنا چاہتا ہوں، میں اسرائیل کے خلاف اسلامی اتحاد کا خواہاں ہوں، میں فلسطین اور کشمیر کی آزادی کا خواہاں ہوں، میں فرقہ پرستی پر یقین نہیں رکھتا، میں خاتم النبین محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَیہِ وآلہ وَسَلِّم کا پیروکار ہوں
اردو
Muhammad Shahid retweetledi

جج نے مصری صدر انور سادات کے قاتل سے پوچھا:
تو نے سادات کو کیوں قتل کیا؟
قاتل : کیونکہ وہ سیکولر تھا۔
جج : یہ سیکولر کیا ہوتا ہے؟
قاتل : مجھے نہیں پتہ۔
مشہور مصری ادیب نجیب محفوظ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے
ملزم سے جج نے پوچھا:
تو نے نجیب کو کیوں چھرا گھونپا؟
مجرم : کیونکہ وہ ایک دہشت گرد ہے۔
اور اس نے دہشت گردی کو شہ دیتی کتاب
" اولاد حارتنا" لکھی ہے۔
جج : کیا تو نے اولاد حارتنا پڑھی ہے؟
مجرم : نہیں۔
جج نے مشہور کاتب فرج فودة کو مارنے والے
تین مجرموں میں سے ایک سے پوچھا:
تو نے فرج کو کیوں قتل کیا:
قاتل : کیونکہ وہ کافر تھا۔
جج : تجھے کیسے پتہ چلا کہ وہ کافر تھا؟
قاتل : اس کی کتابوں سے۔
جج : تجھے اس کی کونسی کتاب سے پتہ چلا کہ وہ کافر تھا۔
قاتل : میں اس کی کتابیں نہیں پڑھتا۔
جج : تم اس کی کتابیں کیوں نہیں پڑھتے؟
قاتل : کیونکہ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا!
معاشرہ جہالت کی کیسی کیسی قیمت ادا کرتا ہے؟ اور کیسوں کیسوں کو تلقین، تبلیغ اور شہ دینے والے دجال معاشرے سے اپنا لگان وصول کرتے ہیں!!
پہلے دلیل کا جواب گالی سے ہوتا تھا اب گولی سے ہو رہا ہے ۔ مشال کے والد صاحب نے روتے ہوئے کہا تھا سائنس کا زمانہ ہے بچوں کے سوالوں کے جواب دیں گولی مت ماریں
قرآن مجید کہتاہے پہلے تحقیق کرلو ۔ کسی ملاں کے جعلی فتویٰ میں آکر کسی بیگناہ کی جان لینا کتنا بڑا جرم ہے ملاں سے کہو دلائل کا جواب دلائل سے دے الله تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی کا مالک نہ بنے۔ سوچا کرو قرآن مجید کی دعوت ہی تدبر اور تفکر ہے۔
منقول
اردو
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

چاندی سونے تے ہیرے دی کان تے ٹیکس
عقل مند تے ٹیکس نادان تے ٹیکس
مکان تے ٹیکس دوکان تے ٹیکس
ڈیوڑھی تے ٹیکس لان تے ٹیکس
پانی پین تے ٹیکس روٹی کھان تے ٹیکس
آئے گئے مسافر مہمان تے ٹیکس
انجیل تے ٹیکس قران تے ٹیکس
لگ جائے نہ دین ایمان تے ٹیکس
ایسے واسطے بولدا نہیں دامن!
متاں لگ جائے میری زبان تے ٹیکس
(استاد دامن)
اردو
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

پاکستان میں صنعتوں کے بعد سب سے زیادہ بجلی زرعی ٹیوب ویل استعمال کرتے تھے
گذشتہ تین چار سالوں میں مگر نوے فیصد ٹیوب ویل سولر پہ منتقل ہو چکے ہیں
کچھ بڑے اور سمجھدار زمین داروں نے اپنے زرعی رقبے میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے چھپڑ نما ڈیم بنا لئے جہاں دن میں ضرورت سے زیادہ پانی ذخیرہ کر لیتے ہیں اور رات کو آب پاشی میں استعمال کرتے ہیں ، ایسے ہی آٹے کی پچاس فیصد چکیاں بھی اب سولر پہ چلی گئی ہیں
گاؤں دیہات میں EV موٹر سائیکلوں اور سکوٹیوں کا رواج بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے
سولر پہ مفت چارج ہونے والی یہ دو پہیوں والی گاڑیاں مستقبل قریب میں چھوٹے اور غریب گھرانوں کیلئے بڑی سہولت بن جائیں گی
ہمیں درحقیقت اب آئی پی پیز کی ضرورت ہی نہیں ہے
ایٹمی بجلی گھروں اور ڈیموں سے جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے
وہی ہمارے ضرورت کیلئے کافی ہے
اگر کچھ کمی رہ جائے تو اسے پورا کرنے کیلئے سولر ٹیکنالوجی میں جدت لائی جائے
اور اسے اتنا سستا کر دیا جائے کہ ہر گھر اپنی ضروریات کے مطابق اپنا ذاتی بجلی گھر بنا لے
#ائی_پی_پیز_بند_کرو
اردو
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi
Muhammad Shahid retweetledi

سیرت النبی ﷺ
حضورﷺ كا کھانے پینے کا ذوق بہت نفیس تھا، گوشت سے خاص رغبت تھی، زیادہ ترجیح دست، گردن اور پٹھ کے گوشت کو دیتے، نیز پہلو کی ہڈی پسند تھی، ثرید (گوشت کے شوربہ میں روٹی کے ٹکڑے بھگو کر یہ مخصوص عربی کھانا تیار کیا جاتا تھا) تناول فرمانا مرغوب تھا، پسندیدہ چیزوں میں شہد، سرکہ، ککڑی، لوکی، کھچڑی، مکھن وغیرہ اشیاء شامل تھیں، دودھ کے ساتھ کھجور (بہترین مکمل غذا بنتی ہے) کا استعمال بھی اچھا لگتا اور مکھن لگا کے کھجور کھانا بھی ذوق میں شامل تھا، کھرچن (تہ دیگی) سے بھی اُنس تھا، ککڑی نمک لگا ک کر بھی کھاتے، مریضوں کی پرہیزی غذا کے طور پر حریرا کو اچھا سمجھتے اور تجویز بھی فرماتے، میٹھا پکوان بھی مرغوب خاص تھا، اکثر جو کے ستو بھی استعمال فرماتے۔
ایک مرتبہ بادام کے ستو پیش کئے گئے تو یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ امراء کی غذا ہے، گھر میں شوربہ پکتا تو کہتے کہ ہمسایہ کے لئے ذرا زیادہ بنایا جائے، پینے کی چیزوں میں نمبر ایک میٹھا پانی تھا اور بطور خاص دو روز کی مسافت سے منگوایا جاتا، دودھ، پانی ملا دودھ (جسے کچی لسی کہا جاتا ہے) اور شہد کا شربت بھی رغبت سے نوش فرماتے، افراد کا الگ الگ بیٹھ کر کھانا ناپسند تھا، اکٹھے ہوکر کھانے کی تلقین فرمائی، سونے چاندی کے برتنوں کو بالکل حرام فرما دیا تھا، مٹی، تانبہ اور لکڑی کے برتنوں کو استعمال میں لاتے رہے، دسترخوان پر ہاتھ دھونے کے بعد جوتا اتار کر بیٹھتے، سیدھے ہاتھ سے کھانا لیتے اور اپنے سامنے کی طرف سے لیتے، برتن کے وسط میں ہاتھ نہ ڈالتے، ٹیک لگا کر کھانا پینا بھی خلاف معمول تھا، دو زانو یا اکڑوں بیٹھتے، ہرلقمہ لینے پر بسم اللہ پڑھتے، ناپسندیدہ کھانا بغیر عیب نکالے خاموشی سے چھوڑ دیتے، زیادہ گرم کھانا نہ کھاتے، کھانا ہمیشہ تین انگلیوں سے لیتے اور ان کو لتھڑنے نہ دیتے، دعوت ضرور قبول فرماتے اور اگر اتفاقاً کوئی دوسرا آدمی (بات چیت کرتے ہوئے یا کسی اور سبب سے) ساتھ ہوتا تو اسے لیتےجاتے مگر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت لیتے، مہمان کو کھانا کھلاتے تو بار بار اصرار سے کہتے کہ اچھی طرح بے تکلفی سے کھاؤ، کھانے کی مجلس سے بہ تقاضائے مروّت سب سے آخر میں اٹھتے، دوسرے لوگ اگر پہلے فارغ ہوجاتے تو ان کے ساتھ آپ ﷺ بھی اٹھ جاتے، فارغ ہوکر ہاتھ ضرور دھوتے، دعا کرتے جس میں خدا کی نعمتوں کیلئے ادائے شکر کے کلمات ہوتے، نیز طلب رزق فرماتے اورصاحب خانہ کے لئے برکت چاہتے۔
کھانے کی کوئی چیز آتی تو حاضر دوستوں کو باصرار شریک کرتے اور غیر حاضر دوستوں کا حصہ رکھ دیتے، پانی غٹ غٹ کی آواز نکالے بغیر پیتے اور بالعموم تین بار پیالہ منہ سے الگ کرکے سانس لیتے اور ہر بار آغاز "بسم اللہ" اور اختتام "الحمد للہ والشکرللہ" پر کرتے، عام طریقہ بیٹھ کر پانی پینے کا تھا، پینے کی چیز مجلس میں آتی تو بالعموم داہنی جانب سے دور چلاتے اور جہاں ایک دور ختم ہوتا دوسرا وہیں سے شروع کرتے، بڑی عمر کے لوگوں کو ترجیح دیتے مگر داہنے ہاتھ والوں کے مقررہ استحقاق کی بناء پر ان سے اجازت لےکر ہی ترتیب توڑتے، کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا یا ان کو سونگھنا نا پسندتھا، کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانکنے کا حکم دیا ہے، کوئی نیا کھانا سامنے آتا تو کھانے سے پہلے اس کا نام معلوم فرماتے، زہر خورانی کے واقعہ کے بعد معمول ہوگیا تھا کہ اگر کوئی اجنبی شخص کھانا کھلاتا تو پہلے ایک آدھ لقمہ خود اسے کھلاتے۔
کبھی اُکڑوں بیٹھتے، کبھی دونوں ہاتھ زانوؤں کے گرد حلقہ زن کرلیتے، کبھی ہاتھوں کے بجائے کپڑا (چادر وغیرہ) لپیٹ لیتے، بیٹھے ہوئے ٹیک لگاتے تو بالعموم الٹے ہاتھ پر، فکر یا سوچ کے وقت بیٹھے ہوئے زمین کو لکڑی سے کریدتے، سونے کے لئے سیدھی کروٹ سوتے اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر داہنا رخسار پر رکھ دیتے، کبھی چت بھی لیٹتے اور پاؤں پر پاؤں بھی رکھ لیتے، مگر ستر کا اہتمام رکھتے، پیٹ کے بل اور اوندھا لیٹنا سخت ناپسند تھا اور اس سے منع فرماتے تھے، ایسے تاریک گھر میں سونا پسند نہ تھا جس میں چراغ نہ جلایا گیا ہو، کھلی چھت پر جس کے پردے کی دیوار نہ ہو سونا اچھا نہ سمجھتے، وضو کرکے سونے کی عادت تھی اور سوتے وقت مختلف دعائیں پڑھنے کے علاوہ آخری تین سورتیں (سورۂ اخلاص اور معوذتین) پڑھ کر بدن پر دم کرلیتے، سوتے ہوئے ہلکی آواز سے خراٹے لیتے، رات میں قضائے حاجت کے لئے اٹھتے تو فارغ ہونے کے بعد ہاتھ منہ ضرور دھوتے، سونے کے لئے ایک تہ بند علیحدہ تھا، کرتا اتار کر ٹانگ دیتے۔

اردو
Muhammad Shahid retweetledi

انسانیت جیت گئی مذہب نہیں، کردار بولتا ہے
بھارت کے شہر گجرات میں پیش آنے والا یہ واقعہ دل کو چھو لینے والا ہے.
ایک ہندو خاندان مشکل وقت سے گزر رہا تھا—شوہر کا ہسپتال میں آپریشن، گھر میں مویشی…
لیکن پڑوس میں رہنے والی ایک مسلمان خاتون نے وہ کام کیا جو اصل انسانیت کی پہچان ہے دو دن تک نہ صرف مویشیوں کا خیال رکھا بلکہ دودھ نکال کر محفوظ بھی کیا، صفائی ستھرائی کا بھی پورا خیال رکھا… بغیر کسی لالچ کے
جب خاندان واپس آیا اور یہ سب دیکھا، تو ان کے تاثرات بدل گئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ سنا تھا، وہ سب غلط نکلا .
بعد ازاں مفتی سلمان اظہری کی موجودگی میں اس خاتون نے اپنے خاندان کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔
دعوت صرف الفاظ سے نہیں… کردار سے دی جاتی ہے نرمی خدمت اور حسنِ اخلاق وہ طاقت ہے جو دل بدل دیتی ہے .

اردو
Muhammad Shahid retweetledi

نواز شریف: میری والدہ مجھے جیب خرچ کیلیے چار آنے دیتی تھیں اور میں ایک نان اور پودینے کی چٹنی مہینے میں ایک یا دو بار جاکر کھاتا تھا
مريم نواز: وه ایک ارب پتی دادا کے پوتے ہیں جو 1960،70 میں پاکستان کا امیر ترین انسان تھا،بزنس کیلیے سارا پیسہ دادا سے بچوں کو ٹرانسفر ہوا_
شہباز شریف:میرے والد ایک غریب آدمی تھے ہم گوالمنڈی رہتے تھے وہاں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے😂
#خان_کی_جدوجہد_کے_30_سال
اردو










