Sabitlenmiş Tweet
𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶
33.9K posts

𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶
@MuhammadAzamSEO
𝑻𝒐𝒑-𝑹𝒂𝒕𝒆𝒅 𝑺𝑬𝑶 𝑬𝒙𝒑𝒆𝒓𝒕 | 10+ Years in Technical, Local & Semantic SEO | GEO & AEO | Keyword & Content Strategist | Helping Brands Win on Google.
JLT Cluster O Reef Tower Dubai Katılım Şubat 2020
4.8K Takip Edilen4.2K Takipçiler

@AdvHifsaGillani @AtaElahi اس ٹاور کی ہر ڈیڈ بائیو میٹرک ہوتی ہے، کھاجا بعد فریق صاحب!
کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔
اردو

خواجہ سعد رفیق کا کانسٹیٹیوشن ایونیو میں آٹھ فلیٹس کے حوالے سے اہم بیان
👈 “کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ ارب کےفلیٹس خرید سکوں۔
👈 چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔
👈 میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
👈 کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔
@KhSaad_Rafique


اردو

@ArifRetd Sir this is due to new algorithms of different platforms including LinkedIn. Google introduced new strict algorithms in 2026, and now rest of the platforms are following Google in the same direction.
English

مجھے ایک ڈرائیور کی ضرورت ہے جسے فوٹو گرافی بھی آتی ہو ۔ اگر لائسنس نہیں ہے تو میں اپنے پیسوں سے دلوا دوں گی ۔ مگر محفوظ گاڑی چلانا جانتا ہو
باقی کھانا ، پینا ، رہائش اور گھر میں وائی فائی سب کچھ میری طرف سے ۔ انشاء اللہ جتنا ہو سکے گا میں سہولیات مہیا کروں گی ۔
مجھے اسکول تک لے کے جانا اور کبھی کبھار گاؤں گھومنے جاتی ہوں ساتھ چاہیے ۔ لانگ ڈرائیو بھی کبھی کبھی ہوتی لاہور ، اسلام آباد کام کے حوالے سے ۔ ورنہ اپنے شہر ہی رہنا ہے ۔ میرا شہر لیہ ہے۔ کمنٹ کریں میں باقی ساری ڈیٹیل خود انباکس کروں گی لوکیشن وغیرہ فون نمبر ۔ بہت شکریہ
اردو
𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶 retweetledi

میں پنجاب گیا وہاں گاڑی خراب ہو گئی، معمولی کام تھا میں نے بیٹے سے کہا بیٹا یہ کام کرا کے آپ کل آ جانا میں نے جلدی واپس جانا ہے اسلام آباد مجھے کوئی رینٹ والی گاڑی کرا دیں، رینٹ کی گاڑی پر واپس آ رہا تھا سارے راستے میں ڈرائیور(جو ایک ریٹائرڈ فوجی ڈرائیور تھا) نے عمران خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے، میں چپ کر کے سنتا رہا، آخر میں نے سوال کیا کہ یار آپ خان کی اتنی تعریفیں کیوں کر رہے ہو اس نے کونسا پہاڑ گرایا ہے؟ واللہ مجھے کہتا کہ سر باقی سارے جیل جاتے تھے چھ مہینے، سال بعد کسی کی کمر میں درد، کسی کو دل کا مسئلہ، کوئی جیل کے ہسپتال منتقل، کوئی باہر کے ہسپتال، کوئی گھر منتقل، کوئی ملک سے باہر، عمران خان جب سے جیل گیا ہے اس کو تو سر درد بھی نہیں ہوا، بس اسی لئے پسند، میں نے سوچا یار عوام کے سوچنے کے زاویے بہت مختلف ہوتے ہیں🤔
اردو

@sh_no01 @RebelByThought اتحاد ائیر ویز میں پہلے ہی بھارتی کثیر تعداد میں ہیں۔
دوسرے یہ ہمارے دوست تھے کب؟
ہمارے ملک میں دہشت گردی کروا کر دس سال اپنے ملک کے کرکٹ سٹیڈیم آباد کیے رکھے۔ گوادر کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اردو

@RebelByThought عرب امارات بہت حد تک انڈیا کے زیر اثر ہے ، انڈین لابی پاکستانیوں کو نکال کر مکمل طور پر انڈین لوگوں کو لا نا چاہتی ہے جو کہ تشویش ناک بات ہے ۔
اردو

متحدہ عرب امارات کی قومی ائیر لائن Etihad Airways نے 15 پاکستانی ملازمین کو اچانک نوکری سے فارغ کر کے انہیں 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
ان ملازمین کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہیں امیگریشن آفس بلایا گیا جہاں ان کے ہاتھ میں فوری اخراج کے احکامات تھما دیے گئے۔
یہ اقدام پاکستانی کمیونٹی میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

اردو
𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶 retweetledi

حسن نثار صاحب کا کالا قول ہے کہ سیاستدان کی ناک کتے کی ہوتی ہے۔ وہ آنے والے خطرے کی بو دور سے سونگھ لیتا ہے۔
آپ کو حیرت ہوگی کہ دبئی کی طرف بڑھتے ہوئے خطرے کی بو سب سے پہلے شریف خاندان نے سونگھی تھی اور اپنے پیسے دبئی سے نکال کر سوئٹزرلینڈز پہنچانا شروع کردیے تھے۔ اور یہ عمل اس وقت ہو رہا تھا جب شریف خاندان کے لوگ امارتی شیخ کے رحیم یار خان میں ہاتھ دبا رہے تھے۔
جب پاکستان میں ن لیگی صحافی اور لفافی مریم نواز کو کینسر کے مرض اور علاج کے قصد سے یورپ جانے کی جھوٹی خبریں دے رہے تھے اس وقت اصل میں شریف خاندان اپنا کرپشن کا سرمایہ منتقل کر رہا تھا۔ پہلے ڈنمارک جاتے پھر جینوا، سوئٹزرلینڈز جاتے۔ یہ خصوصی پروازیں تھیں جن میں سب اکاؤنٹس ہولڈرز سوار ہو کر جاتے تھے۔
نیچے کی ویڈیو جینوا کے ایسے ہی ایک سفر کی ہے۔ یہاں پر ان کا استقبال کرنے تین اورسیز پٹواری تشریف لائے۔ کسی کو ان کے نام پتہ ہیں؟
اردو
𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶 retweetledi

پلیز اس آرٹیکل کو سیاست سے ہٹ کر پڑھیں
بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا شمار برطانیہ کی مشہور یونیورسٹیوں میں ہو تا ہے- یہ دنیا کی 50 بڑی اور برطانیہ کی ٹاپ 10 اچھی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے- 2005 میں یونیورسٹی کو چانسلر کی ضرورت تھی- پوری دنیا سے 100 سے زیادہ سکالرز اور بزنس مینیجرز کو بلایا گیا –جس میں زیادہ تعداد برطانیہ، امریکا اور جرمن سکالرز کی تھی –اس لسٹ میں پاکستان اور انڈیا میں سے صرف ایک بندے کو بلایا گیا – سلیکشن سے پہلے جرمن سائنٹسٹ کو چانسلر کی سیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا - مگر تمام کہانی اس وقت تبدیل ہوئی جب "ٹیلنٹ " لیڈرشپ " ماڈرن اسٹڈیز " پر بحث میں پاکستان نژاد نے دوسرے تمام امیدوار کو پیچھے چھوڑ دیا- اس ہال میں بریڈفورڈ کے تمام ڈائریکٹرز کھڑے ہو کر تالیاں مارنے اور داد دینے پر مجبور ہو گئے - تب جرمن سائنٹسٹ اس سکالر کے پاس آیا اور کہا اس پوسٹ پر تم مجھ سے زیادہ قابل بندے ہو-
کابینہ کی اکثریت نے اس سکالر کو منتخب کر لیا - اور کہا، "بولو کتنی تنخواہ لو گے؟"
اس نے تاریخی کلمات بولے: "میں یہاں بزنس کے لیے نہیں آیا - اور بولا تعلیم اور پیسے کا ایک دوسرے سے موازانہ نہیں کیا جا سکتا- میں ایک ایسے ملک سے ہوں جہاں لوگوں کو تعلیم کی بنیادی سہولیات نہیں ہیں- ہمارے پیسے والے لوگ دوسرے ممالک میں جا کے تعلیم حاصل کر لیتے ہیں- جب کہ غریب لوگ اپنے دل میں حسرت لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں- یہ ہی وہ خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے غریب اور امیر کا فرق دن بدن زیادہ ہوتا جا رہا ہے- میری زندگی کی خواہش ہے میرے ملک کے وہ لوگ جو دوسرے ممالک میں نہیں جا سکتے وہ اپنے ملک میں ہی رہ کر اچھی تعلیم حاصل کریں اور بریڈفورڈ جیسی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر سکیں- اس لیے میں بریڈفورڈ یونیورسٹی پھر ہی جوائن کر سکتا ہوں اگر آپ مجھے میرے ملک کے لیے یہ سہولت دیں"۔
کابینہ کے تمام ارکان اس بات سے حیران رہ گئے - کابینہ کی اکثریت اس فیصلہ کے خلاف تھی اور کہا: "ایسا ممکن نہیں کہ ہم پاکستان میں اپنی ڈگری متعارف کروائیں"
سکالر کہنے لگا، "پھر آپ پاکستان کا بندہ بریڈفورڈ کا چانسلر کیوں لگا رہے ہو؟"-
بات یہاں آ کر رک گئی اور وہ سکالر اٹھ کے چلا گیا۔
بعد میں کرس ٹیلر نے اپنی کابینہ کو کہا، "اس بندے کو ایسے مت جانے دو اس میں کچھ کر دکھانے کی صلاحیت موجود ہے- جو بندہ اپنے ملک کا وفادار ہو اور کچھ کرنے کا عزم ہو وہ کام بھی ہمیشہ اچھا کرتا ہے اور پیسے کا لالچ نہیں کرتا۔ آپ اس کی بات مان لیں-"
کابینہ نے اس سکالر کو واپس بلایا اور کہا آپکی تمام باتیں منظور ہیں -آپ پاکستان میں جہاں چاہتے ہیں کیمپس بنا سکتے ہیں- وہ اسکالر 9 سال تک بریڈفورڈ کا چانسلر رہا ہے- 1986 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کے کوئی بندہ اتنے زیادہ عرصے کے لیے چانسلر بنا رہا -اس دوران اس نے پاکستان میں نمل یونیورسٹی بنائی جس میں پڑھنے والے طالب علموں کو وہی ڈگری ملتی ہے جو برطانیہ میں کروڑوں روپے خرچ کر کے بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کرنے والوں کو-
اس کا نام عمران خان ہے اور وہ منافق خان، طالبان خان یہودی ایجنٹ اور غدار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہے- مگر میں اپنی زندگی میں ایسا پہلا منافق بندہ دیکھ رہا ہوں جو پیسے کا لالچ نہیں کرتا اور ایسا پہلا غدار دیکھ رہا ہوں جو ملک کے با ہر جا کے بھی پیسے پر اپنے ملک کو ترجیح دے۔
(ماخوذ)
جن ذہنی غلاموں کو یہ بات جھوٹ لگے، لنک پیش ہے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا
bradford.ac.uk/about/chancell…
bradford.ac.uk/about/chancell…
نمل یونیورسٹی کا بریڈ فورڈ یونیورسٹی سے الحاق کا لنک- اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوۓ بچوں کو برطانوی ٹاپ کلاس یونیورسٹی کی ڈگری دی جاۓ گی۔

اردو

@Saba5670 لسوڑا ہے، اس کا اچار ڈالا جاتا ہے۔
اگر یہ اچار آم کے ساتھ ڈالا جائے تو اس کا مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔
اردو

@MuhammadAzamSEO ماشاءاللہ,
اللہ پاک آپ کو کامیابیاں اور دونوں جہانوں کی خوشیاں عطا فرمائے
اردو

@JimmyVirkk عرفی تو مہ اندیش ز غوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را
اردو

ایثار رانا ایک صحافتی ورکر ہے۔ جس نے صحافت کا سفر گراسروٹس سے شروع کیا تھا۔ اخبار بیچتا تھا۔ اتنی محنت کی کہ آج ایک esteemed journalist بن چکا ہے جس کے تجزیوں اور تبصروں میں بلا کا اعتدال اور میزان ہے۔
ایسے محنتی اور شریف النفس انسان کو آج ن لیگ کے ایک بدزبان شخص نے مغلظات بکی ہیں۔ یہ ن لیگ کا وطیرہ ہے کہ ہر گندا کام کسی دوسرے سے کرواتے ہیں جیسے بینظیر بھٹو کو گالیاں دینے کے ڈیوٹی شیخ رشید اور عابد شیر علی کے والد کی تھی۔ اسی طرح ایثار رانا کے ساتھ کیا۔
ایثار بھائی، سفر جاری رکھیں۔
اور یاد رکھیں:
سگها پارس میکنند، کاروان به راه خود ادامه میدهد.
@Isarrana1

اردو

"ہم جیسے بہت سے دوستوں کا مشترکہ دکھڑا ۔ ایک پڑھنے لائق انتہائی دلچسپ تحریر" 👇
میری عمر عزیز کچھ اس نہج پر ہے کہ لوگ مجھے نوجوان نہیں مانتے اور میں اپنے آپ کو بوڑھا تسلیم نہیں کرتا۔۔۔۔ !
قصہ مختصر ، میں ایک پچپن سالہ نوجوان ہوں ۔ اکثر لوگ مجھ سے دانستہ یا نادانستہ زیادتی کرتے ہیں کہ سرِ بازار چار چار بچوں کی مائیں مجھے انکل ، ناواقف لوگ حاجی صاحب اور بے تکلف احباب مجھے چاچا جی کہہ کر پکارتے ہیں ۔۔۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ سب مجھے بوڑھوں کے سانچے میں مکمل فٹ کرنے کی اجتماعی سازش میں ملوث ہیں ۔۔۔۔۔ !
میری اولاد بھی مجھے دانستہ بوڑھا کرنے کے درپے ہے ۔۔۔۔ !
خود پیزا کا آڈر دے کر میرے لئے دو تندوری روٹیاں منگوا لیتے ہیں ۔ بیگم پرہیزی کھانوں کی افادیت بتاتی رہتی ہے
کہ اس عمر میں سادہ کھانے کھائیں ، مبادا ہاسپٹل کا مستقل ممبر بننا پڑے ۔۔۔۔ !
سسرال والوں کا جب بھی آنا ہوتا ہے تو میرے لئے عجوہ کھجوریں ، آب زم زم اور مسنون دعاؤں والی کتابیں لے آتے ہیں ۔
رشتے دار اپنے بچوں کو بولتے ہیں کہ ان کے پاس بیٹھو کہ بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے ۔
اگرچہ یہ سب اچھے لوگ ہیں اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں ، لیکن مجھے میرے مطابق جینے نہیں دیتے ۔ یہ بات انہیں نہیں معلوم کہ ان کا ایسا خیال رکھنا مجھ میں عجیب سی بےچینی پیدا کر دیتا ہے ، جس سے میرے اندر کا نوجوان سسک سسک کر مر رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔ !
میں روزانہ واک کرتا ہوں اور خود کو مسٹر فٹ قرار دیتا ہوں ۔ مجھے یقین ہے کہ جوانی مجھ سے نہیں ، آج کے جوانوں سے چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔ !
اب اکثر قریبی رشثہ دار فون کال کو لمبا کر دیتے ہیں اور بار بار میری صحت کو کریدتے ہیں ، گویا ان کے خیال میں میرا صحت مند ہونا حقائق پر پردہ پوشی ہے ۔ مزید یہ کہ مجھ میں کسی بیماری کو دریافت کرنا ان کی خیر خواہی کی دلیل ہے ۔۔۔ !
" تم نے تو ایک ہی غم سے کیا تھا دو چار
دل کو ہر طرح سے برباد کیا ہے میں نے"
میرے پاس اللّہ کا دیا سب کچھ ہے لیکن میرے اندر کا نوجوان ، اس دنیا کے رویئے سے نالاں ہے ۔ میرا دل چاہتا ہے میں اپنی شریک حیات کے ساتھ باہر اکیلے میں ڈنر کروں اور وہ اپنی رضا سے مجھے مسکرا مسکرا کر دیکھے ۔۔۔۔ !
مگر ڈر لگتا ہے ، وہ مشہور مقولہ نہ بول دے ۔۔۔۔
"آپ کو بڑھاپے میں چونچلے سوجھ رہے ہیں "
"رخصت ہوا شباب تو اب آپ آئے ہیں
اب آپ ہی بتائیے سرکار کیا کریں"
اب تو میں اپنی بیوی کو پسند کا کوئی تحفہ بھی نہیں دے سکتا کہ بچوں کا قبضہ یقینی ہے ۔ میری تھوڑی سی عمر کیا بڑھی کہ بیگم میں بہت تبدیلی آ گئی اور وہ ایک پروفیسر اور ماں کا روپ دھار گئی ہے ۔ میرے اندر کا نوجوان سوال کرتا ہے کہ کیا اس عمر میں بچوں کی ماں ، میری بیوی نہیں ۔۔۔۔؟؟؟
"کوئی تو ہو ، جو میری وحشتوں کا ساتھی ہو ۔۔۔"
اب مایوس ہو کر میں نے دنیا کو اپنی جوانی پر قائل کرنا چھوڑ دیا ہے اور سوشل میڈیا ، نیٹ فلکس ، یوٹیوب کو اپنا شعار بنا لیا ہے کہ یہاں عمر کی کوئی قید و تفریق نہیں ۔۔۔۔۔
کچھ دن تو بیگم نے برداشت کیا ، پھر بولیں کہ جناب بچے کیا سوچیں گے یہ سب فضول کی چیزیں ہیں ، رات اگر نیند نہ آئے تو تہجد پڑھ لیا کریں ۔ مزید داڑھی رکھنے کا بھی اہتمام کریں کہ چہرا نورانی لگتا ہے اور فرشتے بغیر حساب آسانی کر دیتے ہیں ، شاید آپ کی بخشش کا یہی ذریعہ بن جائے ۔۔۔۔ !!!
"سفر پیچھے کی جانب ہے ، قدم آگے ہے میرا
میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں،
جواں ہونے کی خاطر"
(منقول)
اردو
𝑴𝒖𝒉𝒂𝒎𝒎𝒂𝒅 𝑨𝒛𝒂𝒎 𝑺𝑬𝑶 retweetledi

ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن ان خون آشام اداروں کے مالک کون کون ہیں وہ بھی آپکو پتہ ہونا چاہیے
28 فیصد شریف خاندان ۔۔ %16 نواز لیگ کے رہنما ۔۔۔ تقریبا % 16 ہی زرداری اور %8 پیپلز پارٹی کے رہنما اور %10 اسٹیبلشمنٹ جو اس ملکے کی سلامتی کی ٹھیکدار ہے ۔۔ %8 وہ جن کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے یعنی چینی کمپنیاں ۔۔ %8 ہمارے مسلم برادر عرب کے سرمایہ کار (قطری) بابو اور تقریبا %6 فیصد پاکستانی سرمایہ دار ہیں ۔۔
یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ ۔۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے ۔۔۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔۔۔۔
یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا %125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئےلیکن یہ بجلی گھر صرف %48 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں """ لیکن قیمت عوام سے %125 فیصد کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا اج بھی 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہ تحریر بہت قیمتی ہے ۔۔۔ اس کو شیئر کریں تاکہ ان بدبخت اور لٹیرے حکمرانوں کاحال اس عوام کو پتہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو













