Mustafa Chaudhary
21.4K posts

Mustafa Chaudhary
@Mustafa_Chdry
A Kashmiri 🍁 🍁 nomad Homo sapien. Copycat Paleogeneticist, have worked for Aaj TV, Geo, @ExpressNewsPk .🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰







کشمیر میں سرحد پار سے بھائی کا آخری دیدار: ’صرف چند میٹر کا فاصلہ ہے مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہ دیا‘ جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کیرن میں راجہ لیاقت علی خان کی وفات ہوئی تو تجہیز و تکفین سے قبل ایک بڑا مسئلہ درپیش تھا۔ کیرن کا خطہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چند میٹر چوڑے دریائے نیلم سے بٹا ہوا ہے۔ لیاقت کے والدین اور بہن بھائی 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ انھیں میت دریا کے اس پار سے دکھائی گئی اور وہ جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے۔ کیرن کے منقسم حصوں کے درمیان دریائے نیلم ہی عبوری سرحد لائن آف کنٹرول کا حصہ ہے اور دونوں آبادیوں کے درمیان رابطے نہیں ہیں۔ کیرن سے یہ آخری دیدار راجہ لیاقت کے بہن بھائیوں نے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے کیا۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفرآباد میں چہلہ بانڈی مہاجر کیمپ میں مقیم شگفتہ بانو نم آنکھوں کے ساتھ یہ سوال کرتی ہیں کہ ’یہ کیسی تقسیم ہے؟ میں اپنے بھائی کے ماتھے پر بوسہ بھی نہ دے سکی اور وہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔‘ لیاقت خان کے ایک رشتہ دار ظہور احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’مسئلہ یہ تھا کہ اُن کے بھائی بہن اس اہم گھڑی میں کس طرح اُن کا چہرہ دیکھیں اور جنازے میں شامل ہو جائیں۔ دریا کے اُس پار چاچا جی کے سبھی اقربا ماتم کر رہے تھے اور ہم نے اس طرف سے اُن کی میت کو دکھانے کے لیے چارپائی کو اونچا اُٹھایا تو اُس پار کہرام مچ گیا۔' راجہ لیاقت علی کیرن میں ایک معروف شخصیت تھے اور نائب تحصیلدار کے طور پر وہیں تعینات تھے۔ ظہور کے مطابق جب ان کا خاندان ایل او سی پار چلا گیا تو وہ نوکری کی وجہ سے یہیں رُک گئے۔ ’انہیں اُمید تھی کہ حالات ٹھیک ہو جائیں تو رابطے پھر بحال ہوں گے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔‘ کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول دنیا کی خطرناک ترین سرحدوں میں شامل ہے۔ 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی ایل او سی عام سرحدوں کی طرح نہیں ہے۔ اس سرحدی پٹی پر دونوں جانب لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔ کیرن کی حساس ترین سرحدی پٹی میں چار ہزار لوگ آباد ہیں۔ یہاں کا ہر خاندان ایل او سی کے بیچ تقسیم ہے۔ جیسے شگفتہ بانو 1990 میں کیرن سے اپنے والد راجہ اظہار خان اور چھ بھائیوں کے ہمراہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر نکل مکانی کر کے آئی تھیں۔ مگر ان کی والدہ اور بھائی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہی رہے اور یہ خاندان کبھی اکٹھا نہ ہو سکا۔ سنیچر کے روز جب راجہ لیاقت کی تدفین کی جا رہی تھی تو دریا کے دونوں جانب لوگ موجود تھے۔ سرحد پار ان کے اہل خانہ انھیں دیکھ سکتے تھے مگر چھو نہیں سکتے تھے۔ میت کو دریائے نیلم کے کنارے اس انداز میں رکھا گیا کہ دوسری طرف موجود اہلِ خانہ اسے دیکھ سکیں۔ شگفتہ بانو کہتی ہیں کہ ’میرا بھائی دنیا سے رخصت ہوا اور میں اس کے جنازے کے پاس بھی نہ بیٹھ سکی۔ نہ ماں کے گلے لگ کر رو سکی۔ چند میٹر کا فاصلہ تھا مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہ دیا۔‘ راجہ لیاقت کے بھائی نثار خان کہتے ہیں کہ ’دریا کے اس پار سے بھائی کا جنازہ آ رہا تھا اور ہم اس طرف روتے چلاتے کھڑے تھے۔ ’میں اپنے بھائی کو کندھا نہ دے سکا۔ نہ آخری بار چہرہ دیکھ سکا۔ ہم یہ دکھ، یہ جدائی دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں۔ دنیا اس مسئلے کو حل کرے تاکہ بیٹے باپ سے، بیٹی ماں سے اور بہن بھائیوں سے مل سکیں۔‘ +1 #Kashmir

@iemziishan اللہ میرے بھائی کو اور ڈالر دے۔۔۔ ایک نہیں دس ویڈیوز بنائیں لیکن سوال پھر وہی کہ آپ نے کہا تھا کہ میں نے اپنی ویڈیو میں اعتراف کر لیا ہے کہ کسی نے گالی نہیں دی، تو مجھے اور لوگوں کو ویڈیو کا وہ حصہ دکھا دیں جس میں میں نے یہ اعتراف کیا ہے۔ باقی سب باتیں بعد میں۔۔۔










