Sabitlenmiş Tweet
Kashir
29.5K posts

Kashir
@S_zai11
❤ الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہﷺ الصلوۃ والسلام علیک یاخاتم الانبیاءﷺ❤ 🌹یادِ نبیﷺ میں اشک بہائیں خدا کرے ہم بھی در رسولﷺ پہ جائیں خدا کرے🌹 Follow Back%💯
Katılım Kasım 2017
1.5K Takip Edilen1.2K Takipçiler
Kashir retweetledi

خطے میں طاقت کے کھیل کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جنگ اور عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں۔
#TalibanBackedByZionism

اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران صوبائی صدر جنید اکبر خان کا اظہار خیال۔
اس وقت ملک کو اگر کسی کی ضرورت ہے تو وہ صرف عمران خان ہیں، جنہیں لوگ سنجیدگی سے لیتے ہیں اور جن کے پیچھے عوام کھڑی ہے۔
اِن بےچاروں کی تو اپنے گھروں میں عزت نہیں ہے۔ سب کو پتا ہے کہ یہ ہارے ہوئے لوگ ہیں۔ جب انہیں خود پتا ہے کہ یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئے، تو یہ وہی کریں گے جو ان سے کہا جائے گا۔
پیٹرولیم کا بحران (کرائسز) ہے، اس پر ایک طرف تو وزیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس 29 دن کا سٹاک موجود ہے، لیکن اس کے باوجود قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے جب ہماری جمہوری اور عوامی حکومت تھی تو کرونا کے دوران اس سے بھی بدتر حالات تھے، لیکن اس حکومت نے عوام پر بوجھ نہیں ڈالا۔
یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے، ہماری آنے والی نسلوں کا سوال ہے اور اس ملک کی بقا کا سوال ہے۔ آپ اتنے بڑے فیصلے لیتے ہیں مگر نہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ عوام کو۔:جنید اکبر خان
اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

زندہ ہیں ورکر
زندہ ہیں
اور پورے پاکستان کا ورکر متحد ہے، اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہے۔
خان صاحب آپ کا ورکر زندہ ہے اور آپ کے نظرئیے اور بیانیے کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ ڈٹ کے اس پہ کھڑا ہے
PTI@PTIofficial
"ہم عمران خان صاحب کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے “- @khurramzeeshan خوشحال گڑھ دھرنا
اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

جب آپ گھر سے موٹر سائیکل پر پٹرول ڈلوانے نکلیں تو جیب میں 2325 روپئے لازمی رکھیں ۔ 325 کا ایک لیٹر پٹرول اور 2 ھزار کا چالان ۔
کیونکہ آپ نے صرف موٹر سائیکل ھی نھیں چلانا بلکہ پنجاب کا سرکاری لکژری جہاز بھی چلانا ھے ۔
#FairAnalysis

اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

US Sanctions alone have killed more than 38 million people?
Middle East Eye@MiddleEastEye
“American sanctions from 1971 to 2021…murdered 38 million people.” Political scientist John Mearsheimer criticised US foreign policy and cited a report by The Lancet that says US sanctions have killed 38 million people worldwide
English
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

بیڈ رومز میں خفیہ کیمرے لگانے والے ،ننگی ویڈیوز کی مدد سے بلیک میل کرنے والے
عمران ریاض کو سیکس کرتے ہوئے کی ویڈیو بطور ضمانت رکھوا کر رہائی کی آفر کرنے والے
سیاستدانوں کو اپنی پالی ہوئی “ اے کلاس” خواتین بھجوا کر انکی ویڈیوز حاصل کرنے والے
کہتے ہیں کہ بی ایل اے خواتین کو سیکس کے لیے استعمال کرتی ہے پھر حملوں میں استعمال کرتی ہے۔
اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi

مجھے اسرائیل سے کوئی اختلاف نہیں۔ مجھے فلسطینیوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ مجھے کشمیریوں سے بھی کوئی خاص لگاؤ نہیں۔ میں زمین کے ٹکڑوں ، کاغذوں پر کھینچی ہوئی حد بندیوں ، کپڑوں کو رنگ لگا کر انہیں کسی خطے کا نمائندہ ماننے کا قائل ہی نہیں ہوں۔ میں سوچ کا، نظریے کا ، عقیدے کا قائل ہوں اور اسی کا معتقد ہوں۔ میں ظلم سے نفرت اسکی شکل ، رنگ یا اس کا جغرافیہ دیکھ کر نہیں کرتا۔ میں مظلوم سے ہمدردی اس کا مذہب، اسکی ہئیت یا اسکا محل وقوع دیکھ کر نہیں کرتا۔
میرے عقیدے ، میری سوچ ، میرے دلائل یکسانیت رکھتے ہیں۔ یہ نظریے کے پابند ہیں۔ یہ میری جائے پیدائش یا میری مادری زبان سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ مجھے اسرائیل سے نہیں اسرائیل کے ظلم سے نفرت ہے۔ مجھے بھارت سے نہیں ، بھارت کے کشمیریوں کی آزادی دبانے سے نفرت ہے۔ مجھے فلسطینیوں سے ہمدردی ہم مذہب ہونے کی وجہ سے نہیں مظلوم اور محکوم ہونے کی وجہ سے ہے۔
میں ایک سیاسی جماعت کا ہمدرد ہوں۔ میں ایک سیاسی رہنما سے منسلک ہوں۔ مجھے اسکی سیاسی مجبوریوں کا پاس رکھنا پڑتا ہے۔ اسکے لیے مجھے کئی دفعہ مصلحت کی چادر اوڑھنی پڑتی ہے۔ لیکن میری آنکھوں پر وہ پٹی نہیں بندھی جو حوا بلوچ کو داد شجاعت نا دے سکے۔ میرے آنکھوں کے آگے وہ اندھیرا نہیں آیا کہ میں یہ نا بتا سکوں کہ فریقین میں سے ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے ، مجاہد کون ہے اور غاصب کون ہے۔ بہادری اور دلاوری کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔
مزاحمت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ یہ دبانے والوں کی وردیوں پر نہیں چپکی ہوتی۔ یہ غلام بنانے والوں کی بندوقوں کے سائے میں نہیں پلتی۔ یہ نہتے یحیی سنوار کی آنکھوں کی چمک ہوتی ہے جو موت سے عین ایک لمحہ قبل مزاحمت کی چھڑی لہراتی ہے۔ یہ برہان وانی کے اس عزم میں جھلکتی ہے جو آخری چند درجنوں میں تھا لیکن سات لاکھ سے لڑ رہا تھا۔مزاحمت حوا بلوچ کے کپڑوں پر سرخ پھولوں کی کڑھائی جیسی ہے۔
پاک فوج غاصب ہے، اسرائیل کی طرح۔ پاک فوج عوامی رائے پر یقین نہیں رکھتی ، بھارت کی طرح۔ پاک فوج نہتوں کو اس قدر مجبور کرتی ہے کہ وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ، مشرقی پاکستان کی طرح۔ پاک فوج ظالم ہے۔ حوا بلوچ ظلم کا ردعمل ہے۔ پاک فوج غاصب ہے۔ حوا بلوچ مزاحمت ہے۔
میرے لیے حق کا کو تولنے کا پیمانہ وہی ہے جو میں کشمیر میں استعمال کرتا ہوں۔ میرے لیے ظالم کو دیکھنے کا عدسہ وہی ہے جو میں فلسطین میں استعمال کرتا ہوں۔ تم ظالموں اور قاتلوں کے جواز تراشنے والے ، تم لاپتہ کرنے اور آنکھیں نوچنے سے پہلو تہی کرنے والے ، تم زمین کے ٹکڑوں اور کپڑے کے رنگوں کی بنیاد پر اختلاف بنانے والے، تم کیا جانو نظریے کیا ہوتے ہیں۔ تم کیا جانو عقیدے کیا ہوتے ہیں۔
تمہیں حوا بلوچ کی شجاعت کہاں دکھائی دے گی۔ تم یحیی سنوار کے لیے عقیدت کا اظہار شاید اسکے مذہب کی وجہ سے کرتے ہو۔ تم برہان وانی سے محبت کا اظہار اسکی بندوق کا رخ دیکھ کر کرتے ہو۔ مجھے حوا بلوچ کی سوچ سے عشق اسکے دماغ میں پلنے والے اس زعم سے ہوا کہ میں غاصب سے ٹکراؤں گی۔ کسی غاصب کی وردی پر تمغوں کی قطار بے رنگ ہے۔ حوا بلوچ کے کرتے پر سرخ پھولوں کی کڑھائی آنکھیں چندھیا رہی ہے۔ وہ مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ اٹھائی جائے گی۔ تمہارے ٹٹ پونجیے ظلم کرنے والوں کے ساتھ۔

اردو
Kashir retweetledi

مجھے مارنا ہے تو مار دو۔ یہ میں نہیں کہتا۔ یہ وہ کہتا ہے جسے تم لمبی جیل ، بہت لمبی جیل کی دھمکیاں لگاتے ہو۔ جسے تم خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ وہ کہتا ہے مر جاؤں گا لیکن سمجھوتہ نہیں کروں گا۔تم زیادہ سے زیادہ کیا کرلیتے ہو؟ اس پر سختیاں کرتے ہو؟ اسکی ملاقاتیں بند کرتے ہو؟ اس کو علاج معالجے کی سہولیات نہیں پہنچنے دیتے؟ اس پر کی جانی والی ان سختیوں کی بنیاد پر اس کے چاہنے والوں کو زچ کرتے ہو۔ انکے دل چیرتے ہو؟ لیکن وہ تمہارے کسے لالچ ، کسی دھونس ، کسی بہکاوے میں نہیں آیا۔
وہ جس جیل میں ہے اس سے باہر آجائے گا۔ تم جس جیل میں ہو اب قیامت تک اس سے باہر نہیں آسکتے۔ تمہارے پرخچے اڑ رہے ہیں۔ آج جگہ جگہ تمہارے چیتھڑے لٹک رہے ہیں۔معیشت تم نے برباد کردی۔ ملک کی عزت تم نے برباد کردی۔ اس ملک کے کسانوں کی فصلیں تم نے برباد کردیں۔ تجارت تم نے ختم کردی۔ سرمایہ کار تم نے دوڑا دیے۔ یہاں سے انصاف کا ڈھانچہ تم نے ختم کردیا۔ جمہوریت کا گلہ تم نے گھونٹ دیا۔ اور اس سب کا نتیجہ پتہ ہے کیا نکل رہا ہے؟ نہیں تمہیں نہیں پتہ۔ اگر تمہیں اتنی سمجھ ہوتی تو تم سب سے کرتے ہی کیوں؟
ہم نے جو بھگتنا تھا بھگت لیا ، ہم نے جو دیکھنا تھا دیکھ لیا۔ اب تمہاری باری ہے۔ جس کے پٹے کیساتھ تم کتے کی طرح بندھے تھے اور تمہیں بوٹیوں کے خواب آرہے تھے اس نے تمہیں بھنبھوڑی ہوئی ہڈیاں بھی نہیں دیں۔ اب یہ صرف نفرت کی آگ نہیں رہی جس سے ہم تمہیں ڈراتے رہے۔ یہ اب معاشی ، سفارتی اور سیاسی ناکامیوں کا وہ بوجھ ہے جو اعداد و شمار کیساتھ تمہیں آئینہ دکھائے گا۔ یہ وہ ناکامیاں ہیں جنہیں تم تول بھی سکو گے اور ناپ بھی سکو گے۔
اور وہ جسے تم ڈراتے دھمکاتے ہو، وہ تمہاری رعونت چاٹ گیا۔ وہ تمہارا خوف کھا گیا۔ وہ تمہاری مقبولیت واڑ گیا۔ وہ تمہارے سارے وہم بھی ختم کرگیا اور زعم بھی۔ تمہارا ڈر تو بہت چھوٹا رہ گیا۔ اس کا عزم بہت بڑا ہوگیا۔ اگر اللہ کا حکم ہوا تو تم اس کا بال بھی بیکا نا کرپاؤ گے۔ لیکن تمہارے ساتھ جو ہورہا ہے وہ تم ہم روز دیکھتے ہیں۔ روز دیکھتے ہیں۔ روز دیکھتے ہیں۔
اردو
Kashir retweetledi
Kashir retweetledi








