#𝕄𝕒𝕥𝕦𝕟𝕕𝕒𝕄𝕒𝕟 👨🏻🌾
143.2K posts

#𝕄𝕒𝕥𝕦𝕟𝕕𝕒𝕄𝕒𝕟 👨🏻🌾
@TheMatundaMan
Agro Consultant 🌱• Avocado 🥑• Passion Fruits • Chia • Rice • DESIGN Engineering • Real Estate 🏡• Liverpool FC • FATHER 🧑🧒• Photography • Blockchain • 📚

🚨BREAKING Bloomberg reveals that 16 U.S. fighter jets have been destroyed so far in the war against Iran.

For the first time since 1967. No Eid prayer at Al-Aqsa mosque.


This is Kharkiv. 15 km from the frontline. Still one of the most alive cities I know.


My family built this house in Israel 126 years ago, and still live in the same spot. Post whatever you want on social media, your posts will not move them one inch from the land they have been cultivating for 5 generations. Am Yisrael Chai.

Arabs ARE the most racist lot I’ve ever encountered in my life.

كانت السعودية تطلق على قطر اسم، جزيرة سلوى، وفرضت حصاراً برياً وجوياً عليها، وقطعت عنها حتى حليب الأطفال. وأول من لبّى إغاثتها بفتح الأجواء وتصدير الغذاء لها هي إيران. وحينما شُنّ العدوان على إيران، فتحت قطر أراضيها وأجوائها لأمريكا وإسرائيل. هل هناك أخسّ من عائلة آل ثاني؟!

ایران اور بھارت آمنے سامنے آگئے ۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے 22 بھارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے انڈیا اس کے 3 جہازوں کو واپس بھیجے جنہیں اس نے امریکہ کو خوش کرنے کیلئے ضبط کرلیا تھا ۔ ایران کے اس دلیرانہ فیصلے نے نئی دہلی کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، جہاں اب بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تہران کی شرائط ماننے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ بھارت نے فروری میں اس وقت ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو ضبط کیا تھا جب وہ امریکہ کے ساتھ ایک بڑی تجارتی ڈیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھارت نے ان ٹینکرز پر "شناخت چھپانے" کا من گھڑت الزام لگا کر انہیں قید کیا تھا، لیکن اب تہران نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ایران کے یہ تینوں ٹینکرز عزت کے ساتھ واپس نہیں بھیجے جاتے، آبنائے ہرمز بھارتی جہازوں کے لیے "نو گو ایریا" رہے گا۔ عالمی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق، اس وقت 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے گرم پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن پر 611 بھارتی شہری سوار ہیں۔ ان میں سے 6 جہاز مائع پیٹرولیم گیس (LPG) سے لدے ہوئے ہیں۔ بھارت اپنی ضرورت کی 90 فیصد ایل پی جی خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، اور ایران کی اس پابندی کے باعث بھارت میں گھریلو گیس کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس نے مودی سرکار کو گھٹنوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔







