Times Of Balochistan
2K posts

Times Of Balochistan
@TimesOfBaloch_
Keeping the global audience updated about the developments and evolving situation in Republic of Balochistan and beyond.








جمہوریہ بلوچستان: پاکستان کی فوج ایک "کاغذی شیر" ہے اور بلوچ قوم کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہے۔ 17 May 2026 جمہوریہ بلوچستان پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور دباؤ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے ایک کمزور، سستی شہرت حاصل کرنے، “کاغذی شیر” بننے جیسا رویہ قرار دیتا ہے ، جو اپنی اندرونی تباہی اور زوال کو جارحیت اور خوف پھیلانے کے ذریعے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بی پبلک آف بلوچستان نے پاکستان کو خبردارکرتی ہے کہ وہ آئندہ ہمارے پڑوسیوں کو دھکانے سے باز رہے۔ ری پبلک آف بلوچستان اپنے پڑوسی ملک بھارت کے آرمی چیف کے حالیہ بیان کو سراہتی ہے۔ جس میں انہوں کہا تھا کہ “اگر آپ نے پہلے میری بات سنی ہو تو میں نے یہی کہا تھا کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور بھارت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتا ہے، تو پھر اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔” جمہوریہ بلوچستان بھارتی آرمی چیف کے اس بیان کو دور اندیش، بروقت، اور خطے میں بڑھتے ہوئے اس شعور کی عکاسی قرار دیتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور میڈل ایسٹ میں پائیدار امن پاکستان کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی انتہا پسندی، شدت پسندی کی مالی، فنی، فوجی حمایت کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ ری پبلک آف بلوچستان کا اصولی موقف ہے کہ پاکستان اور دہشت گردی اب ایک دوسرے سے الگ حقیقتیں نہیں رہیں۔ دہشت گردی اور پاکستان لازم و ملزو ہیں، یعنی ایک ہی سکے کے دو رخ، دہشت گردی کا قلع قمع کے لئے پاکستان کا نقشے سے ہٹایا جانا ناگزیربن چکی ہے۔ پاکستان کا وطیرہ رہی ہے کہ وہ تاریخ سے کبھی عبرت حاصل نہیں کرتی، انہوں نے بنگلہ دیش کھونے کے بعد بھی انتہا پسندی اور پراکسی جنگوں پر انحصارکو ترک نہیں کیا۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ، پاکستان آج بھی شدت پسندی کو ریاستی اور خارجہ پالیسی کے ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں پنپنے والی شدت پسند تنظیمیں براہِ راست پاکستانی ریاست کی سرپرستی، حفاظت، مالی و فوجی معاونت اور تزویراتی رہنمائی میں کام کرتی ہیں۔ اس ضمن میں آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر واضح الفاظ میں ہندوستان کے خلاف سرگرم شدت پسندوں کو پاکستان کی “پہلی دفاعی لائن” قرار دیا تھا۔ ایسے اعترافات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ شدت پسندی پاکستان کی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے نظریے کا ادارہ جاتی حصہ بن چکی ہے۔ دنیا کو ری پبلک آف بلوچستان کے اس موقف کا ساتھ دینا ہوگا کہ پاکستان کوئی فطری قومی ریاست نہیں بلکہ ایک عسکری ڈھانچہ ہے، جو جبر، بیرونی سرپرستی، اور مصنوعی تنازعات کے ذریعے قائم رکھا گیا ہے۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ تاریخی طور پر ایک کرائے کے عسکری نظام کے طور پر بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات کی خدمت کرتی رہی ہے، پاکستان کوئی ریاست یا ملک نہیں بلکہ ایک بفر زون ہے اور ان کی فوج ایک مسلح ملیشیا اور سماجی برائیوں میں گھرا ہوا ایک جھتہ ہے۔ خطے میں دہشت گردی کا آماجگاہ پاکستان اب یورپ سے چوری کئے گئے سینٹریفیوجز سے ایٹمی صلاحیت بنی اوراب وہ عدم استحکام کو عالمی بلیک میلنگ کے اوزار کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ ری پبلک آف بلوچستان تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں ، مڈل ایسٹ میں عدم استحکام کے اصل ذمہ دار پاکستان کے خلاف عملی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کرے۔ بلوچستان، افغانستان، اور بھارت سبھی پاکستان کی فوجی حکمتِ عملی سے منسلک سرحد پار دہشت گردی، پراکسی جنگوں، اور تزویراتی عدم استحکام کا دہائیوں سے شکار رہے ہیں۔ ہمارے علاوہ سابق سوویت یونین، امریکہ، اور نیٹو بھی پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی انتہا پسندی کے نتائج بھگت چکے ہیں، لیکن انہوں نے طویل المدتی علاقائی استحکام پرقلیل المدت جغرافیائی سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔ ری پبلک آف بلوچستان زور دے کر کہتی ہے کہ عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچستان کو پاکستان میں غیر قانونی طور پر شامل کرنے سے نہ امن آیا اور نہ خوشحالی، بلکہ اس کے نتیجے میں دہائیوں پر محیط جنگ، عدم استحکام، معاشی تباہی، عسکریت پسندی، اور علاقائی عدم تحفظ نے جنم لیا۔ پاکستان بلا شبہ ایک ایسے تنازعاتی بروکر اور عسکری پراکسی ڈھانچے کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بقا مستقل بحران اور محاذ آرائی پر منحصر ہے۔ خطہ جنگوں کا متعحل نہیں ہوسکتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خطہ پاکستان کی دہشت گردی کو نظر انداز کرنے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ جمہوریہ بلوچستان بھارت، افغانستان، اور دیگر ہم خیال ممالک کو یقین دہانی کراتی ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقے، فضائی حدود، اور زمینی راستے اب پاکستان کے فوجی اور تزویراتی استعمال کے لیے دستیاب نہیں رہیں گے۔ اب وہ دور چلا گیا جب پاکستان منظم انداز میں بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، کھربوں ڈالر کے قدرتی گیس، سونا چاندی، یورینیم، تیل، اور دیگر معدنیات ، قومی شناخت، اور علاقائی حقیقت کو عالمی برادری سے چھپائے رکھا، جبکہ بلوچستان کی بندرگاہوں، فضائی اڈوں، ساحلی پٹی، اور تجارتی راہداریوں کو فوجی کارروائیوں اور ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے نقصان دہ تھیں۔ بلوچستان نے اپنی زمینی، فضائی اور بحری افواج میں بھرتیوں کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ بلوچستان پر پاکستان کی عملداری اور کنٹرول عملاً ختم ہو چکا ہے اور اب بلوچستان کے عوام اور سیکورٹی فورسز اپنی علاقائی اور ملکی معاملات خود چلانے کی طرف عملی طور پر قدم اٹھارہےہیں۔ @RDXThinksThat @IndianArmyinJK @adgpi @hyrbyair_marri @narendramodi @PMOIndia @rajnathsingh @AmitShahOffice @AmitShah @BaluchWarna @FreeBaluchMovt




#DenuclearisePakistan Now!!! If Pakistan is not punished, few wealthy Arab states and Iran are going to purchase NUKES from Pakistan and then none can save this entire planet from a nuclear war destruction. @FreeBaluchMovt



Today is Gamkhwar Hayat tomorrow it will be another Baloch poet. The Pakistan army puppet CM @PakSarfrazbugti recently said on assembly floor that Balochi poetry is inciting Baloch youth to join the ongoing war of liberation of #Balochistan. The targeting of Balochi language poets, singers and youth is directly planned and directed by Sarfaraz and his cabinet. They along with their Army, ISI, MI and FC masters should be nominated in FRIs for murder, abduction and human rights violations in #Balochistan. We must name and shame them using the power of social media. Their cyber team “the Buraq team” are also equally responsible for such crimes. #StopBalochGenocide youtube.com/shorts/lpBwiTw…

As our Palestinian brethren mark the 78th solemn anniversary of Nakba, we remember the enduring suffering and displacement of the Palestinians from their homeland since 1948. On this solemn occasion, Pakistan reaffirms its unwavering solidarity with our Palestinian brothers and sisters. We demand an immediate end to the oppression, occupation, and violence being perpetrated by Israeli occupation authorities against Palestinians. Pakistan also reaffirms its resolute support for the creation of a sovereign, independent, viable, and contiguous Palestinian State based on pre-June 1967 borders, with Al-Quds Al-Sharif as its capital.













