Abbas

9.2K posts

Abbas banner
Abbas

Abbas

@abbaspakistani1

https://t.co/BqdKE4gKgS Respect & Love Imran Khan, But I'm not a youthia

Sargodha, Pakistan Katılım Ağustos 2012
569 Takip Edilen327 Takipçiler
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@HarmeetSinghPk پنجابی سہل پسند ہوچکےہیں اور کسی حدتک اِن کےروزگار،کاروبار اور دیہاڑیاں لگی ہوئی بھی ہیں تو جتنامل رہا، اتنےمیں گذارا کئےجارہےہیں حق اور سچ کی خاطر شیر کی ایک دن کی زندگی نہیں چاہتے، گیدڑ جیسی سوسالہ بھی نہیں چاہتے البتہ جو چالیس پچاس ہے، وہ جیلوں اورخجالتوں میں نہیں بِتانا چاہتے
اردو
0
0
0
75
Harmeet Singh
Harmeet Singh@HarmeetSinghPk·
🚨 پاکستان میں ہر حوالے سے بڑھتے ہوئے ظلم کے باوجود عوام کی پراسرار خاموشی اور مسلسل برداشت کے پیچھے وجہ کیا ہے؟
اردو
1.5K
904
4.8K
112.8K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@HarmeetSinghPk ڈر اپنی فیملیوں کو ذلیل نہیں دیکھنا چاہتے، اپنے بچوں کو رُلتا نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ قابض ایسٹ اینڈیا کمپنی انتہائی لُچی اور کمینی دشمن ہے جیسا کہ ہم بہت سے کیسوں میں دیکھ چکے ہیں۔
اردو
0
0
0
30
Abbas retweetledi
Waqar khan
Waqar khan@Waqarkhan·
جنید اکبر نے ابھی شیر افضل مروت کے بارے میں کہا کہ ان کے مجھ پر بہت احسانات تھے، ہم ان کے ساتھ فاصلے کم کر رہے تھے، اور جب میں قید تھا تو سب سے زیادہ آواز انہوں نے اٹھائی لیکن سیاست اگر صرف ذاتی احسانات، تعلقات اور وقتی فائدوں کا نام بن جائے تو پھر نظریہ، اصول اور اجتماعی مفاد ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتا ہے خاص طور پر ایسی جماعت میں جو خود کو ایک نظریاتی تحریک کہتی ہو، وہاں فیصلے اس بنیاد پر نہیں ہوتے کہ کس نے میرے لیے کیا کہا، بلکہ اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ کس نے تحریک اور اس کے مرکز کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچایا اگر آج بھی یہ سوچ موجود تھی کہ شیر افضل مروت کے ساتھ فاصلے کم کیے جائیں، تو پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہی وہ شخص ہے جس نے عمران خان کی بہنوں کے بارے میں نہایت نامناسب زبان استعمال کی، انہیں فسادن عورتیں کہا، پارٹی توڑنے کے الزامات لگائے، اور ایسے کئیں جملے بولے جو کسی سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ذاتی حملے کے زمرے میں آتے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ شیر افضل مروت کوئی پہلے سے قومی سطح کا قدآور نام نہیں تھا ایک گلی محلے کے وکیل کو قومی شناخت، پلیٹ فارم اور پہچان عمران خان کی سیاست نے دی پورا پاکستان اسے اسی نسبت سے جاننے لگا مگر بدلے میں اسی شخص نے نہ صرف خاندان پر حملے کیے بلکہ عمران خان کو نااہل تک کہا اور جہاں تک آواز اٹھانے کی بات ہے، تو یہ کوئی ذاتی احسان نہیں تھا، اگر ان کی آواز اثر رکھتی تھی تو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس آواز کے پیچھے عمران خان کا نام، مقبولیت اور تحریک کی طاقت کھڑی تھی۔ ورنہ آپ کی قید کے دنوں میں صرف ایک شخص نے نہیں، لاکھوں کارکن، سپورٹرز اور بے نام لوگ بھی آواز اٹھا رہے تھے فرق صرف یہ تھا کہ ان کے پاس مائیک نہیں تھا، مگر وفاداری ضرور تھی
Waqar khan tweet media
اردو
69
815
2.6K
56.7K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@najamwalikhan لوڑا مقبول تھا کہ آزاد جیتا، ب چ کو عمران خان کے لئے ووٹ پڑا کھوتی کے پتر، علاقہ ہمارا ہے، ہم جانتے ہیں کہ تو
اردو
0
0
0
27
Najam Wali Khan
Najam Wali Khan@najamwalikhan·
ناں کا مطلب ناں ہے چاہے کوئی طوائف ہی کیوں نہ ہو۔ کئی لوگ یہاں پر مسلم لیگ نون کے ایم پی اے کا مقدمہ لڑ رہے ہیں کہ وہ برس ہا برس خرچہ کرتا رہا، بھائی لوگو، وہ خرچہ کرتا رہا تو دو بیویوں اور پانچ بچوں کی موجودگی میں موج بھی تو کرتا رہا۔ یہ تو سیدھا سادا دھندا ہے۔ اگر مومنہ خود مومنہ نہیں تھی تو ثاقب کون سا صدقہ دے رہا تھا، وہ خود بھی تو جھوٹ بول رہا تھا۔ دوسرے اگر دونوں میں تعلق تھا بھی تو جب ناں ہو گئی تو ناں ہو گئی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی دکاندار اپنی دکان بند کر دے تو اس کی مرضی۔ وہ سامان نہیں بیچنا چاہتا تو کون سا قانون اسے مجبور کرتا ہے؟ اور یہ معاملہ تو شادی کا تھا۔ اگر خاتون نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اچھے سے اچھے اور برے سے برے تعلق کے حوالے سے سبق یہی ہے کہ جب ناں ہو جائے تو اسے بھلے طریقے سے ختم کر دو۔ کسی کو ہراساں کرنے یا تیزاب پھیکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تُم اتنے ہی مخلص ہوتے تو بیوی بچے نہ چھپاتے۔ اس سے پہلے شادی کر لیتے۔ بس یار سو باتوں کی ایک بات، ناں کا مطلب ہے ناں اور اگر کسی کو یہ بات سمجھ نہ آئے تو وہ اس ایم پی اے کے انجام سے سیکھ لے۔ اچھا خاصا مقبول تھا آزاد جیتا اور مسلم لیگ نون جوائن کی اور آج مریم نواز نے بھی اس کی ٹکا کے بےعزتی کر دی ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں تھا بندے کے پتر بنے رہنے رہتے؟ معاملے کو خوش اسلوبی سے سلجھا لیتے۔ کچھ دن دکھی گانے سنتے اور پھر اجے دیوگن کی فلم “ دل تو بچہ ہے جی” سے انسپائریشن لے لیتے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ یہاں عزت کا فالودہ بننے میں دو منٹ بھی نہیں لگتے !!!  نجم ولی خان
Maryam Nawaz Sharif@MaryamNSharif

حالیہ معاملہ، جس میں مسلم لیگ (ن) کے ایک رکنِ صوبائی اسمبلی اور ایک معروف میڈیا شخصیت شامل ہیں، ایک ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے مکمل طور پر میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ تاہم میں واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنے، دھمکانے یا استحصال کی کوشش میں ملوث کسی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔ کوئی فرد، چاہے اس کا عہدہ، حیثیت یا سیاسی تعلق کچھ بھی ہو، قانون سے بالاتر نہیں۔ ریاستی ادارے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور آئین و قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔ کسی خاتون کو ذاتی مواد منظرِ عام پر لانے کی دھمکی دے کر دباؤ ڈالنے یا استحصال کرنے کی ہر کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اسے متعلقہ عناصر کے لیے وارننگ سمجھا جائے۔

اردو
35
14
119
25K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@ameerabbas84 ویگو ڈالوں کے ڈر سے میاں، بات کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے
اردو
0
0
0
6
Ameer Abbas
Ameer Abbas@ameerabbas84·
سب کو آن بورڈ کرنے کا بہانہ کیوں چاہیے؟ خارجہ پالیسی منتخب وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کا کام ہے، اگر وہ آن بورڈ ہیں تو پھر کسی “سب” کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر کام میں “سب” کو شامل کرنا یا “سب” کا ہر کام میں ٹانگ اڑانا ہی تو اس ملک پر سب سے بڑی مصیبت ہے۔ “سب” کی تعریف قوم بدل چکی ہے، اب صرف وہی “سب” میں آتے ہیں جنہیں قوم منتخب کرتی ہے، باقی “سب” مسائل کا سبب ہیں
Siddique Jan@SdqJaan

عمران خان کے دورہ روس پر تمام ادارے آن بورڈ تھے ، علیمہ خانم

اردو
34
381
1.4K
21.2K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@ameerabbas84 اور ب چ فوجی جرنیلوں کی تو قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ وہ پابند ہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے، جیسے بھی ہوں، وہ جو پالیسی بنائیں، یہ اس پہ عمل کریں
اردو
0
0
0
61
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@ArifAlvi معافی کی بات ، دھمکی نہیں تھی بلکہ ایک سرزنش تھی جو ایک آقا کی جانب سے اپنے پالتووں کو کی گئی تھی
اردو
0
0
0
5
Dr. Arif Alvi
Dr. Arif Alvi@ArifAlvi·
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔ پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم @ImranKhanPTI کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔ مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔) چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟ پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔ صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔ تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔ اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔ ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔ جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔ پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔ جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے: اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔ مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔ جعفر از بنگال و صادق از دکن ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
Dr. Arif Alvi tweet mediaDr. Arif Alvi tweet media
اردو
146
4.5K
10.2K
118.6K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@RevoltSpire سب چھوڑو بس پاک فوج زندہ باد کے نعرے لاؤ
اردو
0
0
0
44
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@AzharKhan 2024 جیسا ہی الیکشن کروانا تو ووٹر کی عمر تبدیلی کہ ضرورت نہیں لگتا ہے اگلا الیکشن فئیر کرانے جارہے ہیں 12 جماعت پاس پھدو دماغ ہائے رے ساڈی خوش فہمیاں
اردو
0
0
0
20
Azhar M Khan
Azhar M Khan@AzharKhan·
سُنا ہے کہ ووٹر کی عمر میں آئینی ترمیم کے ذریعے کوئی تبدیلی لانے پر غور ہو رہا ہے۔ ویسے پاکستانی عوام کی مجموعی سیاسی بلوغت کو مدنظر رکھتے ہوۓ, آپکے خیال میں ووٹ ڈالنے کی عمر کیا ہونی چاہیے؟
اردو
949
35
474
42.1K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@enkidureborn 12 جماعت پاس پھدو دماغ
اردو
0
0
0
16
Enkidu Reborn
Enkidu Reborn@enkidureborn·
اٹھارہ سال کے لڑکے اور لڑکی کی شادی ہوسکتی ہے اللہ اپنا فضل رکھے تو پچیس سال کی عمر تک وہ پانچ سات بچوں کے والدین بن سکتے ہیں ۔سولہ سترہ سال کا لڑکا فوج میں لفٹین بھرتی ہوسکتا ہے ، اٹھارہ انیس سال کا لڑکا پولیس میں اے ایس آئی ، سب انسپکٹر بھرتی ہوسکتا ہے ، بائیس تئیس سال کا لڑکا مقابلے کے امتحان میں بیٹھ سکتا ہے ۔ لیکن اس ملک میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے انہیں پچیس برس کا ہونے کا انتظار کرنا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ملک پر ان نااہلوں کا قبضہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی معیشت فوجی پریڈ ہے جو بڑے باگھے والے حوالدار کی ببکار پر اٹینشن ہوجائے گی یا عدم استحکام اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال دوسرے ببکار پر ہالٹ ہوجائے گی۔ یہ نااہل چار سال کے فوجی قبضے کی لگاتار ناکامیوں کے بعد سٹھیا گئے ہیں۔ یعنی بندہ پوچھے اے ناخدائی مخلوق ، اے ہوائی مخلوق ، اے وبائی مخلوق جب مینڈیٹ ہی چھین لینا ہے تو ووٹر کی عمر پچیس سال ہو یا پچاس کیا فرق پڑتا ہے؟ اورووٹر کی عمر کی حد بڑھانے سے آپ کو فرق کیا پڑنے والا ہے؟ جن بیس اکیس بائیس سال کے ووٹرز نے آپ کو 2024 میں شکست دی اگلے عام انتخابات 2029 میں وہ ایک بار پھر ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔ آپ روک کن لوگوں کو رہے ہیں؟ آپ ان کو روک رہے ہیں جن کے مستقبل کو آپ نے مکمل برباد کردیا ہے۔ ایک صوبہ علیحدگی پسندوں کے قبضے میں کے دوسرے میں شدت پسند ہیں۔ تیسری ریاست کشمیر ہے جو اب آپ سے بھی آزادی چاہتی ہے۔ معیشت جام کردی ہے۔ اس ملک کا دوسرا بڑا ایمپلائر امارات آپ نے ناراض کردیا ہے اور پاکستانی نوجوان وہاں سے نکالے جارہے ہیں۔ اگلے پانچ سال میں دو کروڑ نوکریوں کا شارٹ فال ہوگا۔ تین کروڑ گھروں کا شارٹ فال ہوگا۔ چالیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہوں گے۔ تجارت آپ نے بند کررکھی ہے۔ آپ نے صحت کارڈ جیسی سہولت چھین لی ہے ، آپ نے سرکاری سکول ٹھیکے پر چڑھا دیے ہیں ، آپ نے آپ کی نااہلی نے اور آپ کی ناکامی نے اس ملک کو جکڑ لیا ہے۔ جن سے آپ نے سب کچھ چھین لیا ہے انکو دینے کے لیے آپ کے پاس پاک فوج میں بھرتی کا سنہری موقع والا اشتہار بچا ہے۔ اس میں بھی اب کشش نہیں بچی۔ مدتوں بعد آپ سکولوں کالجوں میں جا جا کر بھرتی اسٹال لگا رہے ہیں مساجد میں اعلان کررہے ہیں۔ آپ بلاتے ہیں کوئی آتا نہیں۔ ایک دن یہ محروم آئیں گے ، بن بلائے آئیں گے۔
اردو
75
1.2K
3.6K
42.3K
ZEShan ⚫
ZEShan ⚫@zeshmohmand·
پاکستان میں سب سے زیادہ غیر مقبول شخصیات کا نام بتائیں؟ 1/ عاصم منیر 2/ شہباز, نواز, زرداری, مریم, بلو رانی 3/ سارے کے سارے
اردو
149
23
116
5.8K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@AzmaBokhariPMLN آپ جتنا مرضی پلیتھن لا لیں اب عوام پکی نالیوں پہ ووٹ دینے والی نہیں رہی
اردو
0
0
1
26
Azma Zahid Bokhari
Azma Zahid Bokhari@AzmaBokhariPMLN·
ایسے ہی نہیں پنجابی اپنی وزیراعلئ پے فخر کرتے، مریم نواز deserve کرتی ہیں۔ ماشاءاللہ اچھرہ بازار دیکھ کر دل کر رہا ہے میں بھی ایک چکر لگاو ذرا یہاں کا-
اردو
298
604
2K
76.4K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@AzbaAbdullah امید غالب ہے کہ آپ کی کچھ ویلیو ضرور ہوگی جبھی تو آپ کو یہ دیا جارہا ہے البتہ اس کی نااہلوں کو بھی بہت بندر بانٹ کی گئی ہے ویسے ویلیو آپ کی بھی ہو گی اور اِس کی بھی ہے البتہ نہ دینے والے کی ہے اور نہ پیچھے کھڑے ہوئے کی، عوام کی نظر میں، مبینہ طور پہ😜
اردو
0
0
0
62
Azba Abdullah
Azba Abdullah@AzbaAbdullah·
شکریہ مسٹر پریذیڈنٹ۔میں جانتی ہوں ایک مخصوص سیاسی جماعت مجھے گالیاں دے گی لیکن خوشی کی خبر شیئر کیے بنا رہا نہیں جارہا۔
Azba Abdullah tweet media
اردو
299
55
1.2K
98.3K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@SAfridiOfficial اس ایوارڈ سے نہ آپ کی عزت میں کچھ اضافہ نہیں ہؤا آپ کی عزت جو ہمارے عوام کے دل میں تھی اور ہے، اسے، اس ایوارڈ سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا تھی اس لئے کہ کچھ عرصہ قبل عوام کے محبوب کے خلاف اور پھر ایک کنفرم منی لانڈرر کے حق میں آپ کی گفتگو نے مایوس کیا
اردو
1
0
0
106
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@SAfridiOfficial اس حساب تو اللہ نے یزید کو بھی بڑی عزت دی کہ خلیفہ المسلمین بنایا اور آج بھی ایک لعنتی گروپ موجود ہے جو یزید کو امیر المومنین کہہ کر عزت دیتا ہے عزت کے لئے سب بھین یکوں نے اپنا اپنا معیار الگ بنا رکھا ہے
اردو
0
0
0
128
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@RShahzaddk کھوتی دیا پترا نالائق ترین حکومت کی وجہ اور ناکارہ ترین اپوزیشن کی وجہ تیری ماں کےوہ خصم ہیں جِنھوں نےتین بار گجومتہ کی ڈھوئی پہ ٹُھڈ مارا اورچوتھی بارپھر اپنا بوٹ چٹوا لیا۔ لعنت صرف ان سیاستدانوں پہ جو نورجہاں کے لعنتی پُتروں کی بیساکھیوں کاسہارا لیں، چاہے وہ نواز ہو یا عمران
اردو
0
0
0
80
RAShahzaddk
RAShahzaddk@RShahzaddk·
حکومت تو پاکستان کی تاریخ کی نالائق ترین ہے ہی جس سے اپنے حامی تک تنگ ہیں مگر آپ دیکھیں پاکستان کی ہسٹری کی سب سے نکمی ترین اپوزیشن ہیں جو اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود عوام کے کسی ایک مسلہ پر موثر احتجاج نہی کر سکی ہے حکومت جو اتنی کھل کر کھیل رہی اس کی وجہ ناکارہ اپوزیشن ہے
اردو
56
201
595
5.3K
Abbas retweetledi
Ameer Abbas
Ameer Abbas@ameerabbas84·
عمران خان اور ایمان مزاری میں بہت فرق ہے، عمران خان ریاست کی redline ہے، کوئی ایک جج تو کیا اگر سول ججز سے لے کر آئینی عدالت کے چیف جسٹس تک پاکستان کے تمام جج متفقہ طور پر بھی عمران خان کی بیگناہی اور رہائی کا فیصلہ لکھ دیں تو ریاست پھر بھی عمران خان کو جیل سے باہر نہیں آنے دے گی۔ حتی کہ دنیا کے 194 ملکوں کے تمام جج بھی بغیر اختلافی نوٹ کے متفقہ فیصلہ عمران خان کے حق میں لکھ دیں تو انہیں پھر بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ جب بات عمران خان کی ہو تو نہ کوئی دلیل چلے گی، نہ کوئی جج اور نہ کوئی گواہی۔
Ehtsham Kiani@ehtshamkiani

اہم خبر یہ ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دونوں میاں بیوی کیلئے اُن کے وکلاء نے تین ماہ میں وہ ریلیف حاصل کر لیا جو عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکلاء 14 ماہ میں حاصل نہیں کر سکے، ایمان اور ہادی کی سزا معطلی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ اب سپریم کورٹ کے آرڈر کے بعد دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی پابند ہے جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستیں 14 ماہ زیرالتواء رکھے جانے کے بعد مسترد کر دی گئیں لیکن اس تمام وقت میں سپریم کورٹ کا دروازہ نہ کھٹکھٹایا گیا

اردو
63
753
2.5K
51.4K
Abbas
Abbas@abbaspakistani1·
@iemziishan الیکشن لڑ کے آیا تھا کوئی تقرری پہ اعتراض کیسے کر سکتا ہے جب عوام کے ووٹوں سے سلیکٹ ہؤا ہو، البتہ اگر کوئی قانونی اڑچن نہ ہو تو پسند ناپسند، اہلیت نا اہلیت طے کرنا والا کوئی بھی کھوتی کا بچہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ عوام ووٹوں کے ذریعے منتخب کر چکی ہو جمہوریت یہی ہے۔
اردو
1
0
1
68
Syed Zeeshan Aziz
Syed Zeeshan Aziz@iemziishan·
کیا عثمان بزدار کی وزیراعلی تقرری کو کسی صورت Defend کیا جا سکتا ہے؟
اردو
333
25
501
43.3K
Fayyaz Shah
Fayyaz Shah@RebelByThought·
کبھی سوچا ہے ہمارے یہ پاکستانی مولوی پُل صراط سے کیسے گزریں گے؟ 🙄
Fayyaz Shah tweet media
اردو
123
209
992
15K