Sabitlenmiş Tweet
abdullah06
19.9K posts

abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi

2016 میں عالمی تیل کی قیمت 40 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ نواز شریف کو تقریباً 98 روپے ملا۔ تو مطلب نواز شریف تقریباً 27 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 65 روپے میں دے رہا تھا۔
کچھ بے غیرت بار بار 65 کا حساب دیتے ان کو اصل حقیقت بتاؤ کہ وہ خود عالمی مارکیٹ سے 27 روپے پر خرید رہا تھا۔ اس وقت جو اسد عمر نے بات کی تھی۔ وہ درست تھی ۔ لیکن کچھ بد بخت جاہل نسل کے لوگ اسد عمر پر بکواس کرتے۔
2022 میں عالمی تیل کی قیمت 115 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ عمران خان کو تقریباً 125 روپے ملا۔ لیکن اگر ڈالر کی وہ قیمت شمار کی جائے جو اُس وقت تقریباً 180 روپے تک جا چکی تھی، تو مطلب عمران خان تقریباً 150 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو تقریباً اسی قیمت پر دے رہا تھا۔
اور 2026 میں اس وقت عالمی تیل کی قیمت تقریباً 95 ڈالر ہے، جبکہ ڈالر کا ریٹ شہباز شریف کو تقریباً 180 روپے ملا۔ لیکن اگر آج کے دن کے ڈالر ریٹ، یعنی تقریباً 280 روپے، کو حساب میں لیا جائے تو مطلب شہباز شریف تقریباً 170 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 400 روپے کے قریب دے رہا ہے۔ یعنی ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 200 روپے سے بھی اوپر ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک تباہ و برباد ہو جائے اور عوام مہنگائی میں پس رہی ہو، تب بھی عوام کی کھال سے ایک لیٹر پر 200 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اور جب اس پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سپورٹرز کو شرم دلاؤ تو الٹا وہ ہم پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں اور عمران خان پر بکواس شروع کر دیتے ہیں
کوئی پڑھا لکھا ن لیک یا پی پی کا سپورٹر دلیل سے جواب دے گا کہ جب سازش سے حکومت لی فوج کے مدد سے تو ملک کو کتنا آگے لے گئے؟؟
اردو
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi

سعد صاحب، ہم سب کی اصل بدقسمتی اور دھوکہ یہ ہوا کہ جب پاکستان میں PTI کیخلاف پولیس اور ریاست کا کریک ڈائون چل رہا تھا تو PTI کی طرز سیاست و بغاوت کے میرے جیسے تمام مخالف کریک ڈائون کے حامی بنے ہوئے تھے، پولیس بالخصوص پنجاب پولیس وحشی درندوں اور پیشہ ور ڈاکوئوں سے بھی چند درجہ آگے جا کر عوام کی جان و مال سے کھیل رہی تھی اور ہم سب واہ واہ کر رہے تھے۔۔۔۔ اس واہ واہ کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ پنجاب پولیس اب باضابطہ پیشہ ور ڈاکوئوں کا روپ دھار چکی ہے، جس پولیس اہلکار اور افسر کا جب دل کرے جس مرضی کو اٹھائے اور محض الزام پر قتل کر دے، جب دل کرے جس مرضی شخص کے گھر گھس جائے، توڑ پھوڑ کرے، لوٹ مار کرے۔ کئی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں کہ سیاسی مخالفین یا دیرینہ دشمنیوں میں مخالفین سے کروڑوں روپے کی سپاری لے کر پنجاب پولیس/ سی سی ڈی نے دوسرے فریقین کو جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔۔۔
آپ اپنا ہی مقدمہ دیکھ لیں، پوری دنیا آپ کو جانتی ہے اور آپ کے کردار کی گواہ ہے لیکن چند پولیس افسران نے آپ کو ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا اور جھوٹا مقدمہ درج کیا۔۔۔ اس سے بھی زیادہ ظلم اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ایک شریف پاکستانی کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر ابھی تک پنجاب حکومت نے متعلقہ پولیس افسران کیخلاف کوئی محکمانہ انکوائری نہیں کی، معطلی نہیں کی۔۔۔۔
پولیس کو PTI کیخلاف بے لگام نہ کیا جاتا تو آج ہم سب محفوظ ہوتے لیکن خوفناک صورتحال یہ ہے کہ اب پاکستان میں پولیس کو لگام نہیں ڈالی جا سکے گی۔۔۔ آئندہ بھی کئی سعد جھوٹے مقدمات میں اٹھائے جاتے رہیں گے، آئندہ بھی پولیس افسر و اہلکار پیشہ ور ڈاکوئوں کی طرح کئی سعدوں کی قیمتی اشیاء لوٹتے رہیں گی۔۔۔
پولیس کی بدمعاشی پر واہ واہ کرنے والے ہم سب آپ کیخلاف جھوٹے مقدمے کے اندراج کے ذمہ دار ہیں۔۔
Muhammad Saad@hafizsaadriaz
All the physical, psychological trauma aside, I feel more pain about my new laptop (a good teacher of mine gifted that to me after my MPhil Graduation),and the laptop of my wife, along with my Google Pixel phone that was stolen during my abduction Total 4 phones and 3 laptops 😭
Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi

عوامی بائیکاٹ کی طاقت ملاحظہ کریں۔
مغربی بنگال کی نئی انتہاپسند حکومت نے بڑی عید سے پہلے گائے کے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی۔ مسلمانوں نے گائے کی جگہ بکرے اور دُنبے خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مغربی بنگال اور حیدرآباد کی منڈیوں میں ہندو بیوپاری گائے فروخت کے لیے رکھ کر بیٹھے ہیں اور ایک بھی گائے فروخت نہیں ہو رہی۔ اب یہی لوگ بنگال میں بننے والی مودی سرکار کو گالیاں دے رہے ہیں۔
مغربی بنگال کے مسلمانوں کے ایک عقلمندانہ فیصلے نے انتہا پسندوں کی پورے بھارت میں چیخیں نکلوا دی ہیں۔ کاش مہنگا پیٹرول، گیس اور بجلی استعمال کرنے والی ہماری پاکستانی عوام کو بھی یہ شعور آ جائے تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہو جائیں۔
اردو
abdullah06 retweetledi
abdullah06 retweetledi

مخے ہم نے آپ ہو سبسڈی دی ہے
آج کل بجلی کے بلوں پر ایک @QR کوڈ کے ساتھ قوم پر سبسڈی والا احسان عظیم جتلایا جا رہا ہے ۔ آئیے جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ۔
حکومت نے پیا من بھائے #IPPs مالکان کو کہا کہ تم بھلے ایک یونٹ پیدا نہ کرو، ہم تمھیں کیپسٹی چارجز کی قیمت دیں گے اور وہ بھی ڈالروں میں ۔
اب فرض کریں کہ وہ #IPPs ماہانہ بیس یونٹ بناتی ہیں اور حکومت انھیں قیمت سو یونٹوں کی دیتی ہے ۔ اسی طرح حکومت اشرافیہ کو ہزاروں یونٹس فری دیتی ہے اور یہ سب پیسا غریب عوام کے بلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
اب جس غریب کا بل دو سو روپے بنتا تھا حکومت اس سے ایک ہزار روپیا لیتی ہے اور پھر بل پر لکھ دیتی ہے کہ جی آپ کا بل ہزار روپیا تھا، ہم آٹھ سو روپے لے کر آپ کو دو سو کی سبسڈی دے رہے ہیں ۔
جناب آپ دو سو کی سبسڈی نہیں دے رہے بلکہ آپ عوام سے چھ سو زیادہ لے رہے ہیں ۔ احسان جتلانے کی بجائے ڈریکولا نما اشرافیہ اور بدمعاشیہ کو لگا ڈالیں اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ان کے چارے کا نظام اپنی جیب سے کریں ۔
#KausarAbbas
اردو
abdullah06 retweetledi

صاف ستھرا پنجاب پروگرام کرپشن کی نذر ہو گیا ہے 🥲💔
ضلع کوٹ ادو
وزیر اعلی پنجاب کا صاف ستھرا پنجاب کا خواب شرمنده تعبیر نہ ہو سکا ؟
کروڑوں روپے کا فنڈ کرپشن کی نزر ہو گیا۔
یہ رکشوں کے فیول کو کھا جاتے ہیں پھر رکشوں کی میٹر ریڈنگ ٹائروں کو گھما کر بڑھا رہے ہیں
محکمہ کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں
اردو
abdullah06 retweetledi

ہمارے پرانے محلے میں ایک سیٹھ فضل دین ہوا کرتے تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے ٹرانسپورٹ کا کام شروع کیا اور دن رات محنت کر کے 80 کی دہائی تک ان کے پاس 45 شاندار بسوں اور ٹرکوں کا فلیٹ بن گیا۔ پورے علاقے میں ان کی بڑی چوہدراہٹ تھی۔ پھر سیٹھ صاحب گزر گئے اور چلتا چلایا کاروبار ان کے نالائق بیٹوں کے ہاتھ آ گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ ان کے پاس صرف 13 کھٹارا گاڑیاں بچی ہیں، جن میں سے آدھی ہر وقت ورکشاپ میں کھڑی رہتی ہیں۔ مگر کمال کی ڈھٹائی دیکھیے کہ بیٹے آج بھی سوٹ بوٹ پہن کر، چوہدری بنے پھرتے ہیں اور محلے داروں کو بتاتے ہیں کہ "الحمدللہ، ہمارا کاروبار منافع میں ہے"۔ کوئی پوچھے کہ بھئی جب گاڑیاں ہی نہیں چل رہیں، سواریاں کوئی بیٹھتی نہیں، تو منافع کیسا؟ تو اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ یہ منافع سواریاں بٹھا کر نہیں، بلکہ پرانی گاڑیوں کے ٹائر، انجن اور اثاثے بیچ بیچ کر کاغذی ہیر پھیر سے دکھایا جا رہا ہے۔
یہ کہانی کسی سیٹھ فضل دین کے بیٹوں کی نہیں، بلکہ ہمارے قومی ادارے 'پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن' (PNSC) کی ہے۔ کبھی یہ ادارہ ہمارا قومی فخر اور ہماری لائف لائن ہوا کرتا تھا۔ 1947 میں صرف 3 جہازوں سے شروع ہونے والا یہ سفر 1982 تک 45 شاندار بحری جہازوں تک پہنچ گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمارے جہاز دنیا کے سمندروں کا سینہ چیرتے تھے، ملکی ایکسپورٹ اور امپورٹ کا بوجھ اٹھاتے تھے اور قومی خزانے میں منافع لا کر دیتے تھے۔ مگر پھر اس محکمے کو بھی ہماری بیوروکریسی، مس گورننس، سیاسی مداخلت اور کمیشن مافیا کی نظر لگ گئی۔
آج اس محکمے کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ 45 سے سکڑ کر ہم صرف 13 جہازوں پر آ گرے ہیں، اور ان میں سے بھی 50 فیصد جہاز 20 سال سے پرانے اور خستہ حال ہیں۔ ان کا حجم اور کوالٹی دنیا کے معیار سے اتنی پیچھے رہ گئی ہے کہ کوئی ان پر مال لادنے کو تیار نہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آج بھی مالی سال 25-2024 کی فنانشل رپورٹس میں 'منافع' دکھایا جاتا ہے۔ مگر یہ منافع سمندروں پر راج کر کے نہیں، بلکہ پرانے اثاثے بیچ کر اور چارٹر کے ذریعے دکھایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی آمدنی میں 19 فیصد کمی آ چکی ہے اور پہلے کوارٹر کے منافع میں 34 فیصد کا غوطہ لگ چکا ہے۔
جب گھر کے برتن بیچ کر گزارہ ہونے لگے تو پھر کرائے کے برتنوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ آج پاکستان کی کل تجارتی کارگو کا صرف 11 فیصد حصہ PNSC اٹھاتا ہے، باقی 90 فیصد سامان غیر ملکی جہاز لاتے اور لے جاتے ہیں۔ اس سستی اور نااہلی کی قیمت ہم ہر سال 4 سے 8 ارب ڈالر (بذریعہ زرمبادلہ) غیر ملکی کمپنیوں کو کرائے کی مد میں ادا کر کے چکا رہے ہیں۔ ذرا سوچیے، جو ملک آئی ایم ایف کے آگے ایک ایک ارب ڈالر کے لیے منتیں ترلے کر رہا ہو، وہ اپنی نااہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر غیروں کی جیب میں ڈال رہا ہے۔
اپنے پڑوسیوں کو دیکھ لیں۔ انڈیا کی شپنگ کارپوریشن کے پاس آج لگ بھگ 64 جہاز ہیں، سری لنکا جیسے چھوٹے ملک کے پاس 95 جہاز ہیں۔ 1960 کی دہائی میں جب ہمارے پاس 40 سے زیادہ جہاز تھے، تو جنوبی کوریا کے پاس بمشکل 10 یا 15 جہاز تھے۔ آج جنوبی کوریا کے پاس 2100 اور انڈونیشیا کے پاس 11,400 بحری جہاز ہیں۔ اور ہم؟ ہم 45 سے 13 پر آ کر بغلیں بجا رہے ہیں۔
جب کوئی مریض آئی سی یو میں آخری سانسیں لے رہا ہو، تو اسے عام ڈاکٹروں سے ہٹا کر کسی اسپیشلسٹ کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی، مگر حکومت کو یہ بات سمجھ آ گئی ہے۔ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ڈوبتے ہوئے جہاز (PNSC) کا کنٹرول 'نیشنل لاجسٹکس سیل' (NLC) کے حوالے کیا جائے۔ NLC، جس کا ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور سپلائی چین کے حوالے سے ایک شاندار اور پروفیشنل ٹریک ریکارڈ ہے، اب اس مردہ ہاتھی میں جان ڈالے گا۔
اس نئے پلان کے تحت NLC کی پروفیشنل مینجمنٹ اس ادارے کا کنٹرول سنبھالے گی۔ PNSC کے 30 فیصد شیئرز کو مارکیٹ ریٹ پر لا کر نیا سرمایہ (Capital) اکٹھا کیا جائے گا تاکہ خستہ حال بیڑے کی جگہ نئے اور جدید جہاز خریدے جا سکیں۔ ذرا سوچیے، جب سمندر میں PNSC کے جہاز اور خشکی پر NLC کے ٹرک مل کر ایک 'سپلائی چین' بنائیں گے تو کارکردگی کہاں جائے گی؟ نہ صرف بحری اور بری ٹرانسپورٹ کا ایک بہترین گٹھ جوڑ (Synergy) بنے گا، بلکہ ملک کے وہ 8 ارب ڈالر بھی بچیں گے جو ہم گوروں کو مال برداری کی مد میں دیتے ہیں۔ اس سے روزگار بھی بڑھے گا، جہاز سازی کی صنعت (Maritime Ecosystem) بھی پروان چڑھے گی اور قومی خزانے کو حقیقی ٹیکس بھی ملے گا۔
پی این ایس سی کی تباہی محض ایک کارپوریشن کی ناکامی نہیں تھی، یہ ان مفاد پرستوں اور نالائقوں کی کہانی تھی جنہوں نے اپنے کمیشن کے چکر میں ملکی سمندری تجارت کو غرق کر دیا۔ اب NLC کی انٹری سے امید کی ایک بڑی کرن پیدا ہوئی ہے اور ہم سمندروں میں کھویا مقام حاصل کر سکتے ہی

اردو
abdullah06 retweetledi














