
AliSikander
4K posts

AliSikander
@alisikanderlive
I'm here on this planet to make it beautiful. Civil Servant,Writer, Dreamer.








What will be his legacy?


During Ops Sindoor, the ISR that Pakistan was getting was from the people in the northern side (China) , says Air Marshal N Tiwari (Retd), then then IAF Vice chief says at the launch of the book ‘The Sky Warriors’ written by @VishnuNDTV






حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بند کریں۔ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کو “اوپن اینڈ شٹ” کہنا محض سیاسی نعرہ ہے، قانونی حقیقت نہیں۔ برطانیہ میں یہ ایک سول سیٹلمنٹ تھا، کوئی فوجداری سزا نہیں ہوئی، اس لیے اسے قطعی کرپشن ثابت شدہ معاملہ قرار دینا درست نہیں۔ سادہ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پرائیویٹ فرد کا پیسہ، جو بیرونِ ملک تھا، اس پر کوئی باقاعدہ کرپشن ثابت ہوئی؟ کیا ملک ریاض کے خلاف اس کیس میں کوئی سزا ہوئی؟ اگر نہیں، تو پھر کرپشن کہاں ثابت ہوئی؟ محض رقم کے حجم یا اس کے واپس آنے سے خود بخود جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ اگر اصول منی ٹریل اور اثاثوں کا ہے تو پھر یہی اصول سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ ایون فیلڈ، ہائڈ پارک اور سوئس اکاؤنٹس جیسے کیسز میں بھی یہی سوال تھا کہ جائیداد کیسے بنی، پیسہ کہاں سے آیا اور کیا ڈکلیئر کیا گیا۔ اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں بھی بیرونِ ملک جائیدادوں اور منی ٹریل پر سوالات اٹھے، مگر اگر وہاں مکمل ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر معاملہ ثابت نہ ہو سکا تو یہاں بغیر مکمل اور ناقابلِ تردید ثبوت کے حتمی رائے دینا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس کو بنیاد بنانا ہے تو یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ “پرسیپشن انڈیکس” ہے، یعنی بدعنوانی کے تاثر کا اشاریہ، نہ کہ عدالتوں سے ثابت شدہ جرائم کی فہرست۔ مزید یہ کہ آج بھی پاکستان کی رینکنگ کوئی مثالی نہیں، تو پھر صرف ایک دور کو بدعنوانی کی علامت بنا دینا دیانت دارانہ مؤقف نہیں۔ ساڑھے تین سال کے پورے دور کو ایسے پیش کرنا کہ وہاں صرف ایک ہی مقدمہ ملا، حقیقت کے مطابق نہیں۔ اگر واقعی بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی تھی تو سوال یہ ہے کہ کتنے کیسز عدالتوں میں ثابت ہوئے، کتنے میں مالی فائدہ واضح طور پر ثابت ہوا، اور کتنے فیصلے ایسے آئے جن پر کوئی قانونی ابہام باقی نہ رہا؟ محض الزامات، بیانیے اور میڈیا ٹرائل سے قانونی معیار پورا نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ احتساب کو یکساں اور غیرجانبدار نہیں رکھا گیا بلکہ اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک طرف مخصوص افراد کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری طرف بڑے معاملات یا تو دب گئے یا منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے۔ اب جب عدالتی و آئینی ڈھانچے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب واقعی عوامی مفاد میں ہے یا مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے۔ خدا را قوم کو گمراہ نہ کریں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ قانون ثبوت مانگتا ہے، نعرے نہیں۔ قوم اب بیانیہ نہیں بلکہ مکمل سچ چاہتی ہے۔




But you will never know what happened during Operation Sindoor. Indian journalists or common people can not ask any questions before, during or after the war is over. It is simply not allowed.










