🇵🇰چاند🇵🇸
42K posts

🇵🇰چاند🇵🇸
@chand6342
یہودی اور قادیانی کافر جہنمی کتے ہیں




فرحان ملک صاحب پاکستان کی صحافت کا روشن چہرہ اور نوجوانوں کے ہیرو ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب بڑے بڑے نام خاموش ہوگئے، فرحان ملک صاحب فیض و جالب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طاقت کے سامنے سچ بولنے کی پاداش میں جیل چلے گئے۔ افسوس کہ کچھ جاہل اور نادان انکے خلاف سوشل میڈیا مہم چلارہے ہیں۔ تگڑے رہیں سر، آپ ہمارے رول ماڈل ہیں۔ @FarhanGMallick


پراجیکٹ عمران خان رفتار کے سی ای او عزیزم فرحان ملک سماء کے روح رواں تھے جب سماء نیوز نے عمران خان کے 2014 کے دھرنے اور جلسوں کی کسی بھی نیوز چینل سے زیادہ کوریج کی۔ سماء اسی کے نتیجے میں ریٹنگز چارٹ ٹاپ کرتا رہا۔ جسکے جلسوں اور دھرنوں کی کوریج ایک تیسرے درجے کا نیوز چینل بغیر کسی بڑے صحافی اور بغیر کسی بڑے نام کے صف اول کا چینل بن گیا اس دور میں اس سے منسلک صحافی رپورٹرز آج ملک گیر شناخت صرف اسی وجہ سے رکھتے ہیں کہ وہ ان دھرنوں اور جلسوں کی کوریج کیا کرتے تھے وہ مقبول نہیں تھا ؟ عمران خان کو دنیا دیکھنا اور سننا چاہتی تھی آج بھی صورتحال وہی ہے۔ جسکی کوریج 2018 کے انتخابات سے 4 سال پہلے ایک تیسرے درجے کے نئے آنے والے چینل کو ریٹنگ ٹاپ کروا سکتی ہے اسکی مقبولیت 2018 میں سو سوا سیٹیں بھی نکال سکتی تھی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 2018 کے انتخابات سے پہلے اور بعد میں بھی دو سال عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل رہی۔ اسے جھٹلانا کج فہمی ہے۔ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینا، اینٹی منی لانڈرنگ جیسے بلز کے لیے بھی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد فوج کی مدد سے پوری کرنا ، لاتعداد ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں کو مختلف اداروں میں ایڈجسٹ کرنا اسی تعلق و تعاون کے ثبوت ہیں۔ اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ جب عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل نا رہی تو عمران خان اپنی حکومت بھی نا بچا سکا۔ لیکن اس تعاون یا حمایت کو لیکر کچھ چیزیں جان بوجھ کر گدلی کردی جاتی ہیں۔ ان کو گدلا کرنے والے لوگ وہی بدنیت ہیں جو موجودہ نظام کے کاسہ لیس ہیں۔ کچھ اہم نکات اس ساری صورتحال کو واضح کردیتے ہیں جو درج ذیل ہیں •فوج اگر کسی کو مقبول یا غیر مقبول کرسکتی ہے تو چار سال سے عمران خان کو غیر مقبول اور اپنی کٹھ پتلیوں کو مقبول کیوں نہیں کرپائی؟ •فوج ہمیشہ مقبول سیاستدان کیساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ جب جب فوج کسی مقبول سیاستدان کیخلاف ہوئی یا ملک ٹوٹ گیا یا فوج کی کمر ٹوٹ گئی۔ 2018 میں فوج ایک مقبول عوامی رہنما عمران خان کیساتھ کھڑی تھی۔ •ان انتخابات میں کوئی ایک بھی حلقہ ایسا نہیں جہاں جعلی فارم 47 جاری کرنے کی نوبت پیش آئی ہو۔ 2018 میں تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ انتخابی عذرداریوں کی پیٹیشنز کی تعداد دوسری کسی بھی جماعت سے زیادہ تھی۔ •انتخابات کے فورا بعد اپوزیشن نے دھاندلی کا شور مچایا تو عمران خان نے ہر طرح کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ اسکے بعد اپوزیشن کا کوئی نمائندہ کہیں کسی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرتا نظر نہیں آیا۔ •دو ہزار اٹھارہ میں عمران خان کے پاس سادہ اکثریت نہیں تھی۔ دوہزار چوبیس میں سترہ سیٹیں جیتنے والی ن لیگ کے پاس دو تہائی اکثریت ہے۔ یہ ہوتی ہے فوج کی حمایت۔ •2011 سے عمران خان کی سب سے بڑی طاقت نئی نسل اور سوشل میڈیا تھا۔ جن متروک نسلوں کو آج 2026 میں یہ بات ہضم نہیں ہوتی جو آٹھ فروری جیسا انقلاب نہیں سمجھ پائے آج سے دس سال پہلے یہ ان چیزوں سے کیسے لاتعلق تھے آپ خود اندازہ کرلیں۔ •نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے لندن جا کر بیمار بن کر لیٹ گیا، بعد کے فرار تو کسی کھاتے میں نہیں عمران خان نا اب ایسا ہے نا تب تھا۔ عمران خان نے فیصلہ سازی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی۔ فوج کو یہ رسہ کشی پسند نہیں آئی۔ اسی وجہ سے فوج اور عمران خان کے تعلقات خراب ہوئے۔ •عمران خان فوج کا تابعدار تھا تو اسکی حکومت گرا کیوں دی گئی؟ کیونکہ وہ تابعدار نہیں تھا۔ جو تابعدار تھے انکی حکومت جعلی ووٹوں پر بھی کھڑی کر دی گئی۔ •عمران خان کے ہر چیز کنٹرول میں کرنے کی کوشش سے فوج اس قدر خائف ہوئی کہ سلیم صافی اور عاصمہ شیرازی 2019 میں ہی بتانے لگے کہ پس پردہ کیا چل رہا ہے۔ وہ تو بعد میں پتہ چلا کہ باجوہ کے سسر کو اوجھڑیاں کھلائی جارہی ہیں اور ڈگیوں میں ملاقاتیں۔ •فارن پالیسی ، کشمیر پالیسی ، افغانستان پالیسی ، امریکہ کو اڈے دینے یا نا دینے کا سوال ، ملکی ترجیحات یہ سب بڑی حد تک عمران خان نے اپنے کنٹرول میں لیا۔ آخر میں ایک بار پھر کچھ رفتار کے لیے ، یہاں یہ ڈھیلی سی دلیل بھی دے ڈالیں کہ عمران خان کی بہت زیادہ کوریج ہی نے تو اسے مقبول کیا تھا ٹھیک ہے دو سال سے اسکی تصویر تک نہیں چل سکی لیکن جو مقبولیت اسکے پاس آج ہی وہ تو کبھی بھی نہیں تھی۔ ٹی وی سکرینوں سے لیکر چوکوں کے کھمبوں تک ہر جگہ فوجی جرنیل لٹکے ہیں لیکن 1971 کے بعد سے بدترین ذلت۔ فرحان ملک الیکٹرانک میڈیا کے جاندار لوگوں میں سے ایک ہیں شاندار آدمی ہیں سماء کے بعد اب ان کے یوٹیوب چینل کی کامیابی ان کی محنت اور لگن کی دلیل ہے۔ پاکستان میں چونکہ دوطرفہ موقف چلایا نہیں جاسکتا اس لیے ایسی ڈاکیومینٹریز تصویر کا پورا رخ کبھی نہیں دکھا پاتیں ، سختیاں اور مجبوریاں اپنی جگہ۔





اوورسیز پاکستانیوں: اگلے چھ مہینے پاکستان پیسے نہ بھیج کر منافع کمائے، ڈالر 300 روپے سے بڑھ کر 500 روپے کا ہونے والا ہے 1۔ خطے میں جنگ کی وجہ سے UAE اپنا دو ارب ڈالر واپس لے گا 2۔ سعودی عرب ادھار پر تیل دینا بند کر دے گا 3۔ افغانستان سے جنگ میں اب تک دو ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے






