
پبلک سروس میسج بھیک مانگنا پاکستان میں بہت بڑا کاروبار بن گیا ھے جسمیں شاید ھماری 10فیصد آبادی مصروف ھے۔ فخر کی بات ھے کہ ھم بھکاری بہت بڑی تعداد میں ایکسپورٹ بھی کرتے ھیں ۔ اس کاروبار میں بڑے امیر ٹھیکیدار بھکاریوں کو ملازمتیں دیتے ھیں اور اگر بھکاری گرفتار ھوں کیونکہ یہ غیر قانونی کام ھے تو بڑے بڑے وکیل عدالتوں میں انکی ضمانتوں کے لئیے پیش ھوتے ھیں۔ تقریبا سب شہروں میں انتظامیہ معقول معاوضے کے عوض اس کاروبار کی سر پرستی کرتی ھے۔ تمام بھکاریوں کو بھیک مانگنے کے پوائنٹ پے پک اینڈ ڈراپ سروس ٹھیکیدار میسر کرتے ھیں۔ یہ لوگ پارٹ ٹائم دوسرے جرائم میں بھی ملوث ھوتے ھیں۔ بھیک مانگنے کے نئے طریقے ایجاد کیے جاتے ھیں۔ حج اور عمرے پہ پاکستانیوں بھکاریوں کی بڑی تعداد ایکسپورٹ ھوتی ھے اس سال 90فیصد گرفتاریاں پاکستانی بھکاریوں کی ھوئ ھیں۔ یہ لوگ عموما یتیم خانے یا مسجد کی تعمیر کے لئیے بھیک مانگتے ھیں ۔ ان کا پارٹ ٹائم کام جیب کتروں کا بھی کرتے ھیں ۔












