Halim khan

5.2K posts

Halim khan banner
Halim khan

Halim khan

@halimk436

Tourist, Social and Political Influencer. 💯% follow back

Katılım Ekim 2014
1.9K Takip Edilen1.7K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Halim khan
Halim khan@halimk436·
السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
Halim khan tweet media
اردو
0
0
3
204
anushiya
anushiya@anushiyaxx·
Hey @grok remove face mask of the girl
anushiya tweet media
English
48
25
1.3K
499.8K
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
پشاور میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے ملاقات: نوجوانوں کی ایک جمہوری جماعت کے قیام کے لیے لائحہ عمل پر گفتگو۔ انشاء اللہ اگلے مہینے تحریک کے نام اور تحریک میں رجسٹریشن کے لیے طریقۂ کار کا اعلان کیا جائے گا۔ پاکستان میں عوام کے اقتدار کا دور شروع ہونے کو ہے۔
Iqrar ul Hassan Syed tweet mediaIqrar ul Hassan Syed tweet media
اردو
137
94
239
21.2K
Ch Sajaad Husein
Ch Sajaad Husein@ch_sajaad·
اصل بریکنگ نیوز یہ نہیں کہ جنرل فیض کو سزا ہو گئی ہے میں نے ہمیشہ کہا کہ جنرل فیض کو سزا نہیں ہو گی کیونکہ وہ ایک لیفٹیننٹ جنرل تھا، آئی۔ ایس۔ آئی چیف تھا، اس لیول پر آپ سزا دیکر پوری فوج کا مستقل طے کرتے ہیں یہ کوئی عام فیصلہ نہیں ہے نہ کبھی تاریخ میں ایسا ہوا ہے لیکن آج اس فیصلے کے پورا مستقبل طے ہو چکا ہے اور اس کے دور رس نتائج ہوں گے پاکستان کیلئے، فوج کیلئے اور عام آدمی کیلئے بھی۔ جنرل منیر نے یہ ثابت کر دیا ہے وہ مشکل ترین فیصلے کر سکتا ہے اور ان پر عمل بھی کر سکتا ہے وہ چاہے جنگ ہو یا کوئی بھی دوسرا اہم ترین فیصلہ۔ یہاں یہ بھی عرض کر دوں کہ کوئی اور جنرل آج تک اس طرح کے فیصلے کرنے کا جگرا نہیں رکھتا کم از کم آج یہ ثابت ہو گیا کہ جنرل منیر آئیندہ بھی اگر کسی فیصلے کو بہتر سمجھے گا تو وہ کوئی پرواہ کئے بغیر وہ سب کچھ کر گزرے گا باجوہ کی طرح ٹانگیں بلکل نہیں کانپیں گی۔
Ch Sajaad Husein@ch_sajaad

Unbelievable!

اردو
441
303
1.6K
281.3K
Adil Raja
Adil Raja@soldierspeaks·
گزشتہ رات پاکستانی فوج نے ایک بار پھر افغانستان کے ہوائی حدود اور سیزفائر معاہدے کو پامال کرتے ہوئے پکتیکا، خوست اور کونڑ پر بمباری کی ہے اور ہمیشہ کی طرح اپنی سیکورٹی ناکامی کا بدلہ بے گناہ عورتوں اور معصوم بچوں سے لیا ہے۔ اس اندھی بمباری میں کئی عورتیں، بچے اور بے گناہ شہری شہید اور کئی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ بزدل عاصم یزید ڈالروں اور اپنی بادشاہت کی خاطر اپنی عوام کا خون بہانے سے نہیں کتراتا تو پڑوسی ملک کے عوام کی کیا حیثیت ہوگی! اس جارحیت اور ڈالر خوری کی لالچ کا خاتمہ صرف عمران خان کے ہاتھوں ہی ممکن ہے۔
Adil Raja tweet mediaAdil Raja tweet mediaAdil Raja tweet mediaAdil Raja tweet media
اردو
72
1.1K
2.9K
74.4K
Sana Malik
Sana Malik@San_a_Malik·
تاوان ادا نہ کرنے پر کچے کے ڈاکوؤں نے مظفر گڑھ کے مغوی قاری محمد رفیق کو مار دیا، رسیوں سے بندھے ہوئے مغوی کی نعش سندھ پنجاب سرحدی کچہ رونتی سے برآمد یاد رھے چند ہفتے قبل ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے انتہائی غریب مسکین نوجوان توفیق بگٹی کی تشدد زدہ لاش بھی کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا کے بعد کچے سے متصل دریا کنارے ملی تھی عوام کا یہ سوال حق بجانب ھے کہ سندھ و پنجاب حکومت کچے کے ڈاکوٶں پر مہربان کیوں ھے ؟ اگر یہ خیبرپختونخواہ یا بلوچستان ہوتا تو کب کا فوجی آپریشن کردیتے۔ لیکن یہاں پورا نظام خاموش اور اندھا ہے۔۔۔لیکن افسوس صد افسوس
Sana Malik tweet media
اردو
28
155
280
11.5K
Halim khan
Halim khan@halimk436·
@promax1811 Agreed mera taqreeban 15 sy 20 hazar ka kharcha howa ta.
Indonesia
0
0
1
4
Qasim
Qasim@promax1811·
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔ پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیئے۔اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہیں یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔ آگے کی بات سنئے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہیں یہ فیک تو نہیں ہے۔اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔ یہ ایک بھیانک قسم کا مذاق ہے ہمارے ساتھ اور اس پہ کوئی بولتا بھی نہیں ہے۔
Qasim tweet media
اردو
855
3.5K
8.6K
715.2K
Matiullah Jan
Matiullah Jan@Matiullahjan919·
۲/۲ صحافیوں کا کام اپنی تلخ تاریخ کو مسخ کر کے سیاستدانوں سے معافیاں منگوانا نہیں بلکہ ملک، قوم اور آئین کے غداروں کے کیخلاف قوم کو یکجا کرنا ہے۔ عمران خان نے جس جوانمردی کیساتھ جیل کاٹی ہے ایسی جیل کا ہمارے جیسے صحافی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم نے تو تین درجے کے مسلمانوں کے بارے میں سنا ہے، ایک وہ جو طاقت سے برائی کو روکے (مراد منتخب حکومت اور قانون کی طاقت سے ہے)، دوسرا وہ جو با اختیار نہ ہو تو زبان سے برائی کو برائی کہے (یہ صحافت کے لئیے مناسب ہے) اور تیسرا درجہ وہ ہے جو کمزور ترین ہے یعنی جو برائی کو دل میں برا جان کر خاموش رہے۔ عام حالات میں صحافی اپنی قلم اور زبان کی طاقت سے برائی کو برائی کہنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے اور یوں دوسرے درجے کا مسلمان ہوسکتا ہے۔ مگر اب ایسے صحافی کو کس درجے پر رکھا جائے جو اچھائی کو برائی یعنی حق کو ناحق بولنا اور لکھنا شروع ہو جائے اور اُسکے لئیے دلیل بھی دے؟ سھیل وڑائچ جیسے صحافیوں اور شھباز شریف جیسے سیاستدانوں کے لیئے کوئی نیا درجہ ایجاد کرنا پڑیگا۔ وڑائچ صاحب نے عمران خان کی مستقل مزاجی کا کریڈٹ اُسی طرح یو ٹیوبرز کو دیا ہے جس طرح 2024 کا عوامی مینڈیٹ پی ٹی آئی کی بجائے شھباز شریف کی جھولی میں ڈال دیا گیا تھا۔ سھیل وڑائچ جیسے سینئیر صحافی اپنے تجزیے میں یو ٹیوبرز کو جو کریڈٹ دے رہے ہیں اسکی وجہ انکے اخبار اور ایسے اداروں کی گرتی ہوئی اپنی ساکھ ہی تو ہے۔ جس ملک میں ٹیسٹ ٹیوب سیاستدان اور صحافی معافی کے جڑے ہاتھوں کیساتھ اس دنیا میں آئینگے تو وہاں لہراتے گھونسوں کیساتھ یو ٹیوب صحافی ہی خبر اور تجزیوں کا قابل اعتماد ذریعہ ہونگے۔ ختم شد
اردو
168
1.2K
3.8K
73.7K
Matiullah Jan
Matiullah Jan@Matiullahjan919·
۱/۲ "نکی جئی ہاں" تحریر: مطیع اللہ جان سھیل وڑائچ نے عمران خان کو اب باقاعدہ معافی مانگنے کا باقاعدہ مشورہ دے کر خود کو ستارہِ امتیاز کا حقدار ثابت کر دیا ہے، صحافی کے روپ میں ایسے کئی ھرکاروں کی کچھ دنوں میں اڈیالہ جیل میں ملاقات بھی کروائے جانے کا امکان ہے جسکے بعد کالا دھواں مارتا ۷۰ سال پرانے ڈیزل انجن والا یہ وڑائچ طیارہ ایک بار پھر فراٹے بھرتا دیگر مسافروں کی توجہ کا مرکز ہو گا۔ ایسے چرب زبان چرب دماغ چربہ ساز صحافیوں نے ہمیشہ عین اُس وقت سیاست کی پیٹھ میں صحافت کا چھرا گھونپنا اپنا فرض سمجھا ہے جب اسٹیبلشمنٹ بند گلی میں داخل ہو گئی۔ جنکو اس قوم سے اپنے ۷۸ سال جرائم اور آئین سے غداری کی معافی مانگنی چاہئیے اور قوم سے ان لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کا کہا جا رہا ہے۔ بے وزن دلیل کے حامل وزن دار چند صحافی لوگوں نے اپنے اور دوسروں کے لئیے ہمیشہ اصولوں کی کوہ پیمائی کی بجائے بزدلی کی ڈھلوان کا انتخاب کیا ہے۔ مگر مقصد پورا ہو گیا ہے، ایک بحث چھڑ چکی ہے جس سے پارٹی اور عوام میں تقسیم کا عمل جاری ہے۔ ایک فیلڈ مارشل سے ملاقات کیا ہو گئی سھیل وڑائچ خود کو وزرأ اعظموں کے ہم پلہ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے اس ملک میں وزیر اعظم بننے کے لئیے عوام کے ووٹ کی نہیں آرمی چیف کی نظرِ کرم کی ضرورت ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ھیکہ اسٹیبلشمنٹ کے پی ٹی آئی سے جنگ میں سب کچھ لٹا دینے کے بعد اگر نوبت ایک صحافی کے ذریعے معافی مانگنے کی اپیل تک آ گئی ہے تو پھر خود اسٹیبلشمنٹ کو ہی عمران خان سے معافی مانگ لینی چاہئیے۔ کہاں گئے ریاست کے وہ آئینی ادارے جیسا کہ پارلیمنٹ، حکومت اور عدلیہ جس نے شواہد کی بنیاد پر عمران خان اور اُسکی پارٹی کو نو مئی کے مقدمات میں سزا دلوانی تھی؟ اب معاملہ عمران خان کی "نکی جئی ہاں" تک آ گیا ہے تو پھر ریاست اور اسکے اداروں کی اس سے بڑی ناکامی کیا ہو گی۔ دوسری طرف اگر عمران خان نے سھیل وڑائچ کے مشورے پر نو مئی کے واقعات کی مکمل ذمے داری قبول کرتے ہوئے معافی مانگنی ہی ہے تو پھر صرف نو مئی ہی کیوں۔ تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو 2014 میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملوں میں ملوث جنرل راحیل شریف اور جنرل ظہیر الاسلام کی اعانت کاری اور منصوبہ بندی پر بھی اعترافات کے بعد ایک معافی ہونی چاہیئے۔ پھر آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کی حفاظت میں سنگین غفلت، امریکہ کے ایبٹ آباد حملے کو روکنے میں ناکامی اور 1990, 2018 اور 2024 کے الیکشنز کی چوری پر بھی کسی کو معافی مانگنی چاہئیے۔ ہم تو آج تک اُن بنگالیوں سے بھی معافی نہیں منگوا سکے جنھوں نے 1971 میں ہماری فوجی تنصیبات پر دشمن سے مل کر نو مئی سے بھی بڑے حملے کروائے، سچی بات تو یہ ہے ہم نے بھی تو اُن پاکستانیوں سے آج تک معافی نہیں مانگی۔ "بات نکلے گی تو بہت دور تلک جائیگی ۰۰۰" ہماری اسٹیبلشمنٹ کو تلخ حقیقت سے نظر نہیں چرانی چاہئیے، 2018 سے پہلے اِس نے جس طریقے سے پی ٹی آئی اور اُسکے نوجوانوں کو نواز شریف حکومت کیخلاف استعمال کیا اور 2018 میں اپنی وردی کا رعب اور وقار کھویا اسکے بعد اِس نسل کے لئیے سیاسی مخالفین اور باوردی مخالفین میں فرق کیسے برقرار رہ سکتا تھا، ایسے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نو مئی کی اصل وجہ پچیس جولائی ہے، 5ویں نسل کی ہائبرڈ جنگ کے لئیے تیار ان نوجوانوں نے فوج کو اپنا دوست یا دشمن ہی سمجھا- فوج کے اندر وردی کی حرمت کو لیکر سخت ھدایات دی جاتی ہیں، بازاروں اور دیگر عوامی جگہوں پر باوردی افسران کو عوام میں گھلنے ملنے کی اجازت اسی لئیے نہیں ہوتی کہ وردی کی عزت اور اسکا رعب ختم ہی نہ ہو جائے، مگر کیاہوا کہ چند سیاستدانوں، صحافیوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں روایتی سیاستدانوں کے خلاف آئی ایس پی آر میں نفرت کے بیج بوئے گئے، فوج کے اس سیاسی کردار کو لیکر پی ٹی آئی کے لیڈران اور ورکروں کا فوجی تنصیبات کو اپنے احتجاج کا ہدف دیکھنا اور بنانا ایک مجرمانہ مگر قدرتی فعل تھا۔ فوج سیاست کا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر اندر داخل ہو گی تو سیاست فوج کے دروازے پر دستک تو دے ہی گی۔ بنگلہ دیش میں کیا ہوا؟ وہی جو غیر منتخب حکمرانوں کیساتھ ہوتا ہے اور ہونا چاہیئے۔ اس ساری صورتِ حال میں معافی تو سب کو قومی ترانے کی دھن پر مل کر مانگنی چاہیئے۔ جاری ہے ۰۰۰۲/۲
اردو
505
4K
13K
452K
Ch Fawad Hussain
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry·
افغانستان میں جہاد کیلئے دیو بند فرقے کو استعمال کرنا آسان تھا کیونکہ افغانستان میں دیو بند کا اثر تھا لہذا CIA کے مشورے جنرل ضیاءالحق نے سرکاری زمینوں پر سینکڑوں دیوبند کے مدارس قائم کئے۔ جہاں KP میں مدرسے بنے وہیں اسلام آباد میں بھی اس کاروبار کو سرکاری حمائیت دی گئ، افغان جہاد اب ختم ہو چکا ہے، پاکستان کو نارملائز کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستا فرقہ ورانہ فسادات کا شکار رہے گا اور جو آج باجوڑ میں ہو رہا ہے اسلام آباد میں بھی آپ کو آپریشن کرنے پڑیں گے، اسلام آباد کے مدارس کو سرکاری تحویل میں لے کر اسکول بنائے جائیں ورنہ ایک فرقہ ورانہ مسئلہ بن چکا ہے!!
Mir Mohammad Alikhan@MirMAKOfficial

اسلام آباد میں مسجدیں یہ کہہ کر گرائ جا رہی ہیں کہ وہ قبضہ کرکے بنائی گئی ہیں۔ تو بھائی یہ مساجد دہائیوں پُرانی ہیں۔ سب سے پہلے تو اُن افسران کو پکڑ کر جیل میں ڈالیں جنھوں نے دہائیوں تک ان مساجد کو قبضے کی زمین پر بننے دیا اور چلنے دیا۔ بیماری کو ختم کریں علامات کو نہیں۔

اردو
577
228
1.3K
204.2K
Halim khan
Halim khan@halimk436·
@enkidureborn Masjid Allah ka ghar hy.jitna sawab isky banany me hy is sy zeyada saza masjid ko shaheed krny me hy.ye masjid Pakistan k wajood any sy pehly bana ta.ye park hy awam ka .tu jb awam ka park hy tu masjid hony me keya qabaht hy
Indonesia
0
0
0
14
Enkidu Reborn
Enkidu Reborn@enkidureborn·
مسجد نہ تو اللہ کا کوئی پیغام ہے نہ ہی اسلام کا بنیادی رکن۔ مسجد ایک مقدس جگہ ضرور ہے۔ لیکن اگر کسی انتظامی ضرورت کے تحت کسی مسجد کی عمارت کو ختم کیا جانا ہے یا منتقل کیا جانا ہے تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔ علاوہ ازیں خدانخواستہ اگر کسی مسجد کے بارے میں رتی برابر بھی ایسا امکان ہے کہ یہ کسی قبضے کی جگہ پر تعمیر ہوئی ہے یا اسکی تعمیر خلاف قانون ہے تو اہل علاقہ کو ایسی مسجد کی عمارت خود ہی ختم کردینی چاہیے کہ مسجد جیسی مقدس چیز پر ایسا کوئی حرف نہ آئے یا اسلام کا نام بدنام نہ ہو۔
اردو
104
143
1K
29.5K
Halim khan
Halim khan@halimk436·
cooler k bagher guzara na hi ho raha ta.ya Allah is mulk k hukmran or os ky bachy zalil or khwar kardy jis trah hum khwar hoy
Indonesia
0
0
0
20
Halim khan
Halim khan@halimk436·
@Halim:15 date sy mu rozana meter check karta ho k 200 tk na ponchy.me ny cooler off keya 10 din hogae. refrigerator din ko off kar deta ho pir b aj checking ka din ta jb me unit dekhy tu 206 cross ka geya.tu hum keya kar june month garm month ta refrigerator or ..
Indonesia
1
0
0
28
Abu Mu’ādh Taqweem
Abu Mu’ādh Taqweem@AbuMuadhTaqweem·
Selection of Muslim Male Names: All from Names of Companions Source: "al-Isaaba" of Ibn Hajr رحمه الله
Abu Mu’ādh Taqweem tweet mediaAbu Mu’ādh Taqweem tweet mediaAbu Mu’ādh Taqweem tweet mediaAbu Mu’ādh Taqweem tweet media
Català
6
377
491
0
Imran Riaz Khan
Imran Riaz Khan@ImranRiazKhan·
آجکل بہت سارے ٹاؤٹس جیل میں قید عمران خان کا فیلڈ مارشل پاکستان سے مقبولیت میں موازنہ کر رہے ہیں حالانکہ سرکاری آفیسر اور لیڈر میں یہ مقابلہ نہیں ہونا چاہیئے۔ لیکن اپنی مرضی کے دعوے کرنے والوں کے لئے بتائیے آپکی نظر میں کون مقبول ہے۔ دھاندلی سے بچنے کے لیے کمنٹ میں لکھیے۔ قیدی عمران خان کے لیے 1 فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے 2 نتائج رات 12 بجے تک جاری کیے جائیں گے۔
اردو
13.5K
4.6K
18K
686.8K
Salman Durrani
Salman Durrani@DurraniViews·
Who is the most popular leader in Pakistan at the moment?
English
4.6K
469
5.3K
253.3K
Halim khan
Halim khan@halimk436·
@HaiderA52078958 Agr ap such bolty ho tu is pic ko unblurd krdo is me date konsa hy.ya waqya tumhry sath nahi howa ta ye post kuch arsa pehly 1 bandy ny post keya ta apny copy paste krky apna reached increase keya
Indonesia
0
0
0
51
Saith Muhammad Ameer Moawia (MAM)
آج جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہا ہوں وہ آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کے کتنے کام آئے گا آپ نے کبھی سوچا تک نہیں ہو گا، ہُوا یوں کے کل عسکری ۱۴ (askari 14) جاتے ہوئے مجھے ٹریفک پولیس والوں نے روک لیا، میرے پاس لرنر لائسنس تھا تو دو ہزار کا چالان کر دیا، میں نے بحثیت پاکستانی اپنا قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے اُن کی بہت منتیں اور ترلے کیے ، لیکن وہ تو ٹس سے مس نا ہوئے،👇
Saith Muhammad Ameer Moawia (MAM) tweet media
اردو
72
530
2.2K
290.4K
Halim khan
Halim khan@halimk436·
@HaiderA52078958 Ye jot bol raha hy kuch arsa pehly kisi or ny yahi ho baho post keya ta.is ny o copy kar ky post ky.or apni reach zeyada keya
Indonesia
0
0
0
37
Saith Muhammad Ameer Moawia (MAM)
پھر میں نے معاملے کی باریکی سے جانچ کرنے کا سوچا، اور ان کی ویب سائٹ سے ٹریفک کی خلاف ورزیوں پر عائد کیے جانے والے جرمانو کی لسٹ نکالی تو حقیقت آشکار ہوئی کے کار والوں کے لیے کوئے بھی جرمانہ 500 روپے سے ذیادہ نہیں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ نا ہونے کا جرمانہ صرف 200 روپے ہے، اور میرے سامنے اُنہوں نے اک لڑکے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا ،
اردو
15
27
188
41.2K
Haji Shalwar
Haji Shalwar@hajishalwar·
50 کے عشرے کی ہیرامنڈی آج کے دور کی ہیرامنڈی سے بہت مختلف ہوا کرتی تھی۔ اس وقت عام طور پر نواب اور وڈیرے ہی ہیرامنڈی میں گانا سننا افورڈ کرپاتے تھے چنانچہ سارا سیٹ اپ انہیں کے شایان شایان ہوا کرتا تھا۔ شام ڈھلتے ہی ٹبی بازار سے لے کر شاہی مسجد کو نکلنے والی گلی کی صفائیاں شروع ہوجاتیں، پھولوں کے گجرے بیچنے والے جگہ جگہ کھڑے ہوتے اور گلاب و موتئے کی خوشبو سے گلیاں مہکتی رہتیں۔ باہر دکانوں پر استاد لوگوں کے ڈیرے ہوتے جہاں ہر وقت موسیقی سیکھنے سکھانے کا پروگرام چلتا رہتا، ہارمونیم، طبلے اور بانسری کی آوازوں سے سارا علاقہ گونجتا رہتا۔ بازارحسن والوں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ جب تک بادشاہی مسجد میں عشا کی نماز ختم نہ ہوجاتی، تب تک کوٹھے کو جانے والی سیڑھیوں کے بالائی دروازے بند رہتے۔ جونہی نماز کا وقت ختم ہوتا، ہیرامنڈی میں چہل پہل شروع ہوجاتی، برقی قمقمے جگمگانے لگتے، انواع و اقسام کے پان بیچنے والے آ جاتے۔ نواب لوگ بگھی میں بیٹھ کر اپنے ملازمین کے ہمراہ قدم رنجہ فرماتے۔ رات دیر تک رقص و سرور کی محفلیں چلتیں، اس دوران کبھی پان، کبھی شربت، تو کبھی دیسی بوتلوں کی سپلائی بھی چلتی رہتی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہیرامنڈی کو بازارحسن کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں صرف ناچ گانے کا ہی کام ہوتا تھا۔ 50 کے عشرے میں راجستھانی گھرانہ نقل مکانی کرکے ہیرامنڈی منتقل ہوا۔ اس گھرانے کی خواتین گانے بجانے کی نسبت سونے، سلانے پر زیادہ مہارت رکھتی تھیں، چنانچہ ان کا دھندا آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوگیا۔ وہیں سے بازارحسن کا نام ہیرامنڈی پڑ گیا۔ راجستھانی طوائف کے ڈیرے پر ایک دفعہ سندھ کا ایک وڈیرا آیا اور طے شدہ معاوضہ ادا کرکے اندر کمرے میں چلا گیا۔ اسے اس خاتون کی ادا پسند آگئی، اسے آفر کی کہ میرے ساتھ سندھ چلو اور دو دن وہیں گزارو۔ خاتون نے فوراً شرط رکھ دی کہ سو لوں گی ۔ ۔ یعنی سو روپے مانگ لئے۔ یاد رہے کہ اس وقت سو روپے میں ایک تولہ سونا آجاتا تھا۔ وڈیرے نے حامی بھر لی اور اسے لے کر سندھ آگیا۔ راستے میں اس کے دل میں پھر خواہش مچلی، خاتون کو اشارہ کیا تو اس نے پھر کہہ دیا کہ سو لوں گی ۔ ۔ بہر حال، سندھ آتے آتے وہ خاتون "سو لوں گی" ہی کہتی آئی۔ وڈیرے نے اسے چند روز رکھا اور پھر واپس بھیج دیا۔ 9 ماہ بعد اس خاتون کا لڑکا پیدا ہوا تو اس نے سندھ اس کے ناجائز باپ کو خط لکھا اور پوچھا کہ لڑکے کی ذات کیا رکھی جائے؟ وڈیرے کو خاتون کا " سو لوں گی " کہنا یاد تھا، اس نے فوراً کہہ دیا کہ اسے سولنگی کہنا شروع کردو۔ چونکہ سولنگی بہت بڑا اور قابل عزت قبیلہ ہے، اس لئے وڈیرے نے سوچا کہ لڑکا بڑا ہو کر کنجر کہلانے کے عذاب سے بچ جائے گا۔ بہرحال، وہ لڑکا اب بوڑھا ہوچکا اور مرتضی سولنگی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہیرامنڈی کی توہین اسی لئے اس سے برداشت نہیں ہوئی کیونکہ اس کی اپنی پیدائش بھی اسی منڈی میں ہوئی تھی۔ واللہ اعلم!!!
Haji Shalwar tweet media
اردو
1.3K
2.5K
8.5K
251.5K