zoya khan ☘️ retweetledi

پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور ہمدردوں سے میرا ایک انتہائی اہم اور مخلصانہ سوال ہے۔
محترمہ علیمہ خان صاحبہ نے 7 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار تنظیمی عہدیداروں کا واضح ٹارگٹ دیا ہے کہ وہ ایک منظم اور مضبوط اجتماع کے ذریعے عمران خان صاحب سے ملاقات کا دباؤ ڈالیں اور ان کی صحت کا احوال بھی معلوم کریں۔ یہ کال تحریک کے لیے بہت اہم ہے۔
لیکن صرف دو دن بعد، یعنی 9 اپریل کو، تحریک انصاف نے راولپنڈی کے ناصر باغ میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
کیا اس مختصر وقفے میں علیمہ خان صاحبہ کی دی گئی 10 ہزار کی ٹارگٹ پوری طرح پورا کیا جا سکے گا؟
کیا ناصر باغ جلسے کی وجہ سے اڈیالہ جیل والا اجتماع متاثر تو نہیں ہو جائے گا؟
ہم سب جانتے ہیں کہ جب بھی تحریک کوئی بڑا جلسہ، ریلی یا احتجاج کا پروگرام رکھتی ہے تو اس سے پہلے ہمارے کارکنوں پر شدید کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔ گرفتاریاں ہوتی ہیں، اہلِ خانہ کو تنگ کیا جاتا ہے، اور چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے۔
تو کیا یہ زیادہ مناسب نہ ہوتا کہ ناصر باغ کا جلسہ ایک ہفتہ یا دس دن کے وقفے کے بعد رکھا جاتا؟
اس طرح ہم مکمل تیاری کے ساتھ 7 اپریل کو اڈیالہ جیل کے باہر 10 ہزار لوگوں کا منظم اور پرامن اجتماع کر پاتے، جو عمران خان صاحب کے لیے حقیقی دباؤ بھی بنتا اور ان کی صحت کا احوال بھی معلوم ہوتا۔
یہ کوئی تنقید نہیں، صرف ایک مخلص کارکن کی فکر مندی اور تجویز ہے۔
ہم سب ایک ہی مقصد کے لیے ہیں — عمران خان صاحب کی رہائی اور پاکستان کی بقا۔
اس لیے قیادت سے گزارش ہے کہ دونوں پروگراموں کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے تاکہ دونوں ہی کامیاب اور موثر ثابت ہوں۔
تحریک زندہ باد!
خان زندہ باد!
اردو














