
ویر اعظم عمران خان نے موجودہ وزیر محمد علی چوہدری کی سربراہی میں آئی پی پیز کے خلاف انکوائری کمیٹی بنائی، میں ایف آئی اے کی نمائندگی کر رھا تھا، آئی پی پیز کا فراڈ ثابت ھوا، انکوائری رپورٹ وزارت پانی و بجلی کو جمع کروائی گئی کہ آئی پی پیز کی فارنزک انویسٹیگیشن کروائی جائے اور مشیر وزیراعظم ندیم بابر نے ہماری رپورٹ پر میڈیا میں تنقید شروع کر دی کہ رپورٹ غلط بنائی گئی ھے، بعد میں پتا چلا کہ 600 ارب سے ذائد آئی پی پیز کو ادا کر ئیے گئے اور ندیم بابر صاحب خود بھی آئی پی پیز کے مالکان میں شامل تھے











