salman
7.3K posts




@wajih_sani جسٹس اعجاز الاحسن بینچ میں ضرور شامل تھے مگر انہوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا، دوسرا فرق یہ ہے کہ نسلا ٹاور سروس روڈ پر بنا ہوا تھا، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سروس روڈ پر قبضہ کر کے یا سرکاری زمین گھیر کر نہیں بنایا گیا تھا ۔ تمام حقائق سامنے رکھ کر رائے دیا کریں


نون لیگ کا اصل "میرٹ" دیکھنا ہو تو یہ منظر کافی ہے۔ جو شخص کبھی لندن میں ان کے گھر کا چوکیدار تھا اور باہر کھڑے ہو کر دوسروں پر آوازیں کستا تھا، بچا ہوا میکڈونلڈز کھا کر دن گزارتا تھا آج مریم نواز کے ساتھ کھڑا ہو کر ایک منصوبے کا افتتاح کر رہا ہے۔ قابل اور پڑھے لکھے لوگ اس جماعت سے کوسوں دور پائے جاتے ہیں۔


گرینڈ حیات منصوبہ بلاشبہ پاکستان میں فراڈ کاسب سے بڑا منصوبہ! اس منصوبے میں اربوں روپے کی دہاڑیاں لگائیں گئیں اور وہ بھی دارالحکومت کی عین مرکزی شاہ پہ۔ جسٹس اطہر من اللہ کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جب اپیل سپریم کورٹ آئی تو اسی اعجاز الحسن نے ثاقب نثار کےساتھ بینچ میں بیٹھ کر فیصلہ ٹھیکیدار حفیظ شیخ اور بنک آف پنجاب کے حق میں کردیا جن کا اعجاز الحسن ایک ہی وقت میں قانونی مشیر رہ چکا تھا جج بننے سے پہلے۔ گرینڈ حیات کے ٹھیکیدار عبدالحفیظ شیخ نے مبینہ جعلی سازی سے ٹھیکہ لیا، ہوٹل بننا تھا لیکن اپارٹمنٹس بناکر امیر لوگوں کو فروخت کردیے۔ٹھیکہ حاصل کرنے کے بعد 2005 میں شیخ قرض کے لئے بنک آف پنجاب کے پاس گیا جس نے اپنے لیگل ایڈوائز اعجاز الاحسن سے قانونی رائے مانگی۔ اعجاز الاحسن دراصل اس وقت ٹھیکیدارحفیظ شیخ کی کمپنی کا بھی قانونی مشیر تھا اور اسی کی قانونی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے بنک نے 1 ارب 38 کروڑ جولائی 2005 میں ٹھیکیدار شیخ کی کمپنی کو جاری بھی کردیے۔ بنک نے اسی سال مزید 75 کروڑ روپے ٹھیکیدار کی کمپنی کے لئے منظور کر لیے۔جولائی 2007 میں بنک نے 1 ارب روپے کا مزید قرضہ ٹھیکیدار شیخ کی کمپنی کو جاری کیا۔


ملک میں انتشار کو سیاست کا نام دینے والے شخص نے پوری نسل کے بڑے حصے میں زہر گھول دیا۔۔ اس کے اثرات سے نکلنے میں وقت لگے گا۔



آزادئ رائے اور درست حقائق پیش کرنا وطن عزیز میں کبھی آسان نہیں رہا۔ چند دنوں سے حکمران جماعت کے مخصوص اکاؤنٹس جنہیں ن لیگ کی اعلیٰ قیادت follow کرتی ہے ، میرے خلاف باضابطہ اور منظم مہم چلا رہی ہے۔ اُن کا مقصد میری رائے کو میرے عقیدے کے ساتھ منسلک کرنا ہے۔ اُن سے سوال ہے کہ اسرائیل مخالف بیانیہ اُن کا ذاتی موقف ہے یا اُن کو جماعت کی حمایت حاصل ہے؟ یہ سوال اُن کی پنجاب اور وفاق کی اعلیٰ قیادت سے بھی ہے۔ باقی ہم اپنا فریضہ پہلے بھی ادا کرتے رہے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔








