aamir retweetledi
aamir
39.9K posts

aamir retweetledi

اسی کلونیل مائیڈ سیٹ کو عمران خان نے چیلنج کیا جسکی سزا وہ آج تک کاٹ رہا ہے۔
پاکستان آرمی کی پالیسی خودمختاری نہیں، کھلی تابعداری رہی ہے۔
کبھی واشنگٹن کے اشاروں پر فیصلے ہوتے ہیں، کبھی لندن کی خوشنودی کے لیے جھکا جاتا ہے۔ انکے پاس آزادی بس اتنی ہی ہے کہ یہ اپنی قوم کو غلام بنا کر رکھیں۔وہی کلونیل مائیڈ سیٹ۔
حکمرانی اپنی عوام پر، وفاداری باہر والوں کے ساتھ۔


اردو
aamir retweetledi
aamir retweetledi

یاددہانی یاددہانی یاددہانی
عاصم منیر نے بیٹیوں کو ناجائز سفارتی پاسپورٹ دلوائے
سکول ٹیچر بھائی کو فیڈرل بورڈ میں ڈائریکٹر لگا دیا
داماد بھتیجے کو فوج سے نکال کر سول سروس میں بھیج دیا
سالے کو وزیر داخلہ بنایا ، سینٹر بنایا
نگران وزیر اعلی پنجاب ، چئیرمین پی سی بی بنایا
اربوں روپے مالیت کا لگژری جہاز گلف اسٹریم خریدا
کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر سعودی عرب سے معاہدہ کیا
قوم کا الیکشن مینڈیٹ چھین لیا عدالتیں مفلوج کردیں
درجنوں لوگوں کو سرعام سڑکوں پر قتل کیا سینکڑوں کو زخمی کیا
اردو
aamir retweetledi

People are asking: Why is Gen Asim Munir’s family (wife, children and son-in-law) allegedly flying Doha → DFW (USA) today? What’s the purpose of this trip? And where do his true loyalties lie — with the US or China? Questions that deserve answers. #AsimMunir #Pakistan

English
aamir retweetledi
aamir retweetledi
aamir retweetledi

نواز شریف کے دیرینہ ساتھی اور سینیئر صحافی ابصار عالم کا حالیہ بیان وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے خلاف ایک ایسی چارج شیٹ ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ محسن نقوی کو "قبضہ مافیا کا سب سے بڑا کارندہ" قرار دینا محض ایک سیاسی الزام نہیں، بلکہ اس نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جو کرپشن کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
ابصار عالم کے انکشافات نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ دبئی لیکس میں وزیرِ داخلہ کی اہلیہ کا نام آنا اور کالے دھن کو ایمنسٹی کی ڈھال کے پیچھے چھپانا، محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے۔ ان کا یہ سوال کہ "100 ارب روپے ہنڈی کے ذریعے باہر چلے گئے، جبکہ امیگریشن اور تحقیقاتی ادارے آپ کے ماتحت ہیں ، آخر یہ سب کیسے ہوا؟" براہِ راست اس ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے جو ملکی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
یہ دعویٰ کہ "سندھ سے ڈالر بھرے جہاز دبئی جا رہے ہیں"، اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ جب نظام کے محافظ ہی اس لوٹ مار میں شراکت دار بن جائیں، تو ملکی دولت کی واپسی کی باتیں صرف عوام کو بہلانے کا ایک تماشا بن جاتی ہیں۔ جو طبقہ خود ڈالروں سے بھرے جہاز ملک سے باہر بھیجنے میں مصروف ہو، اس سے قوم کی دولت واپس لانے کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اردو
aamir retweetledi

نواز شریف کے دیرینہ ساتھی ابصار عالم نے محسن نقوی کو "قبضہ مافیا کا سب سے بڑا کارندہ" قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر داخلہ کی اہلیہ کا نام دبئی لیکس میں شامل ہے اور کالے دھن کو ایمنسٹی کے پیچھے چھپایا گیا۔ انہوں نے براہ راست سوال کیا کہ "100 ارب روپے ہنڈی کے ذریعے باہر چلے گئے، امیگریشن آپ کے زیر انتظام ہے تو یہ سب کیسے ہوا؟" یہ تلخ حقیقت اب سامنے ہے کہ جو خود ڈالروں سے بھرے جہاز دبئی بھیج رہے ہوں، وہ ملک کا پیسہ واپس کبھی نہیں لائیں گے۔
نواز شریف کے قریبی ساتھی ابصار عالم کا یہ دعویٰ کہ "سندھ سے جہازوں کے ذریعے ڈالر دبئی جا رہے ہیں" اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ نظام کے محافظ ہی جب لوٹ مار میں شریک ہوں تو ملکی دولت کی واپسی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اس ڈاکو ڈفر الائینس کی کارستانیوں اور عیاشیوں میں عوام پستی ہے اور نقصان ملک کا ہوتا ہے ۔
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
اردو
aamir retweetledi

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر لکھی گئی کتاب میں ایبٹ آباد آپریشن پر بھی گفتگو کی گئی ہے اور جنرل اسد درانی نے آئی ایس آئی کے ایک افسر کرنل اقبال کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا ’’ کرنل اقبال نے 5 کروڑ ڈالر(تقریباً5ارب روپے) لے کر امریکی کمانڈوز کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک پہنچایا تھا، اب کرنل سعید امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں رہائش پذیر ہے۔ یہ شخص اس "میجر شہریار اقبال" کا والد ہے جو پرویزمشرف کا سٹاف آفیسر اور بزنس پارٹنر ہے۔ یہ دونوں مل کر دبئی میں ایک پرائیویٹ ہسپتال چلا رہے ہیں اور اس ہسپتال میں شرما نامی بھارتی ڈاکٹر بھی شراکت دار ہے۔‘‘
اسی کرنل کے بارے میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں بھی گواہی موجود ہے جو میجر عامر عزیز نے دی۔ ڈان نیوز کے مطابق میجر عامر عزیز نے ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) سعید اقبال دو سے تین بار میرے گھر آئے تھے جو اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کے قریب ہی واقع تھا۔ کرنل سعید مجھ سے بظاہر میری زمین خریدنا چاہتے تھے تاہم زمین کی خریداری کا معاملہ انجام کو نہ پہنچ سکا۔ کرنل سعید انتہائی مہنگی گاڑی پر میرے پاس آتے تھے جس کی قیمت تین سے چار کروڑ روپے ہو گی۔ یہ گاڑی ساؤنڈ پروف اور بلٹ پروف تھی۔کوئی ریٹائرڈ کرنل اتنی مہنگی گاڑی کی استطاعت نہیں رکھ سکتا۔ ایک بار کرنل سعید اقبال میرے گھر کی چھت پر بھی گئے اور میرے پالتوں جانوروں کی تصاویر بنائیں۔ میں نہیں جانتا کہ اس دوران انہوں نے اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تصاویر بھی بنائی تھیں یا نہیں۔ان کے پاس جدید ترین ڈیجیٹل کیمرا تھا جو کوئی بھی شخص محض جانوروں کی تصاویر بنانے کے لیے نہیں رکھ سکتا۔
کرنل سعید کا ایک بیٹا سابق صدر پرویز مشرف کا اے ڈی سی بھی تھا اور اب ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کر رہا ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کمیشن کے اراکین نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’میجر عزیز کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سی آئی اے کا نیٹ ورک کیسے کام کر رہا ہے۔ میجر عزیز کے مطابق کرنل سعید اقبال نے آئی ایس آئی کے سابق اہلکاروں کو اپنے سکیورٹی بزنس میں بھی بھرتی کیا۔ان کے بیان سے کرنل سعید ایک انتہائی مشکوک شخص کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے اسامہ بن لادن کی موت میں اہم اور متحرک کردار ادا کیا۔
ایبٹ آباد کا واقعہ ہونے کے فوری بعد کرنل سعید اقبال پاکستان چھوڑ کر امریکہ منتقل ہو گیا تھا۔
پاکستان آرمی ایسے غداروں اور وطن فروشوں سے بھری پڑی ھے
#داستان_ایمان_فروشوں_کی

اردو






















