اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والا دھماکہ ایک نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ اس بزدلانہ حملے نے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کو ہم سے چھین لیا بلکہ درجنوں خاندانوں کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 74 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد زیرِ علاج ہے۔ ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
یہ محض ایک سانحہ نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق، حفاظتی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی ترجیحات پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ تین ماہ کے اندر دارالحکومت میں یہ دوسرا تباہ کن حملہ ہے۔ اسلام آباد، جسے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے؛ جہاں سیف سٹی کیمرے، جدید نگرانی کا نظام، باوسائل پولیس، اور انٹیلی جنس اداروں کی موجودگی کے دعوے بارہا کیے جاتے ہیں—آج اسی شہر کی گلیاں بے گناہوں کے خون سے رنگی ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کی غلطی، پیشہ ورانہ کمزوری، اور کارکردگی کی ناکامی ہے۔
سب سے تکلیف دہ اور ناقابلِ فہم پہلو یہ ہے کہ جمعہ کے روز امام بارگاہ میں عبادت کے لیے بڑی تعداد میں موجود اجتماع آخر کس طرح اسلام آباد پولیس کی مؤثر نگرانی اور سیکیورٹی کے بغیر رہ گیا؟
کیا اس اجتماع کی پیشگی اطلاع نہ تھی؟
کیا ایسے مذہبی مقامات اور اجتماعات کے لیے کوئی سیکیورٹی پروٹوکول موجود نہیں؟
اگر موجود تھا تو اس پر عمل کیوں نہ ہوا؟
اور اگر عمل ہوا تو یہ اندوہناک ناکامی کیسے رونما ہوئی؟
جب ریاستی مشینری اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو جائے، تو رسمی مذمتیں اور روایتی بیانات قوم کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ کون سی غفلتیں تھیں جنہوں نے دہشت گردوں کو یہ موقع دیا کہ وہ دارالحکومت کے قلب میں ایسی خونریزی کر سکیں۔
یہ وقت محض افسوس کا نہیں بلکہ ٹھوس احتساب کا ہے۔ ذمہ داران کا تعین اور ان کے خلاف واضح کارروائی ناگزیر ہے۔ اگر اس ہولناک ناکامی کے باوجود بھی نااہلی اور غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی، تو خدانخواستہ اسلام آباد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا میدان بنتا چلا جائے گا۔ ریاستی اداروں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ عوام کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے، نہ کہ دیگر غیر متعلقہ مصروفیات۔
یہ سانحہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اب بھی اگر سیکیورٹی ڈھانچے کا ازسرِ نو جائزہ نہ لیا گیا، ترجیحات درست نہ کی گئیں اور ذمہ داروں کا محاسبہ نہ ہوا، تو ایسے واقعات کا اعادہ روکنا ممکن نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ شہداء کو بلند درجات عطا فرمائے، زخمیوں کو صحتِ کاملہ دے، اور ہمیں یہ بصیرت عطا کرے کہ ہم اس سانحے کو محض خبر نہ بننے دیں بلکہ اسے اصلاح، احتساب اور بہتری کی حقیقی ابتدا بنائیں۔
اگر شیر افضل رانگ ہے جو ہیں اور ہم سب مانتے بھی ہے جانتے بھی ہے تو پھر وزیر اعلی کے ساتھ اس کا چیف اف سٹاف اظہار خان کیا کررہا ہے ؟ تصویر میں اپ لوگ دیکھ سکتے ہیں
ضلعی صدر ایم پی اے جوہر خان نے پارٹی قیادت کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے 8 فروری کو پاکستان تحریکِ انصاف کے مبینہ طور پر چوری شدہ مینڈیٹ کے خلاف لکی مروت میں احتجاج کی کال دے دی۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ۔
@KaliwalYam پارٹی کو یکجا کرنے کی بجائے علیمہ خان
نفرت پھیلا رہی ہے ہر ایم این اے اور عہدیدار تنگ ہے ان سے خود خان نے منع کیا ہوا کے اپ نے کوئی بیان نہیں دینا کسی بھی پارٹی رکن پر تنقید نہیں کرنی پتا نہیں یہ کونسی سمت پر جارہی ہے کچھ سمجھ نہیں ارہی اللہ پاک خان کی رہائی نصیب عطا فرمائے آمین
مشعال یوسفزئی عمران خان کی خیر خواہ نہیں اس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹ بولو۔
مشال یوسفزئی اور شیر افضل مروت کو جوائنٹ ٹارگٹ (علیمہ خان) ملا ہوا ہے
علیمہ خان کی گفتگو 🔥
@sherafzalmarwat پلیز کوشش کر لو مروت صاحب
مرشد بے گناہ قید ہے
قوم کی خاطر قربانی کا بکرا بنا ہوا ہے لیکن قوم اتنا مفاد پرست اور بزدل ہے کے احتجاج کے لیے نہیں نکل سکتا
"عمران خان کو پہلی فرصت میں باہر آنا چاہیے یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ باقی معاملات بعد میں دیکھے جا سکتے ہیں لیکن اس وقت سب سے بنیادی اور فوری تقاضا یہی ہے کہ خان صاحب کو رہا کیا جائے۔ اس معاملے کی اہمیت کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ موجودہ سیاسی حالات میں یہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔"
شیر افضل خان مروت
"دیکھیے پی ٹی آئی کی قیادت سب کچھ جانتی ہے۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ کیا کرنا ہے وقت کی ضرورت کیا ہے اور تحریک کیسے چلتی ہےیہ چیزیں انہیں سکھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ سازشوں فتنوں حکومت اور کرپشن پر تو بات کر سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ایک مؤثر احتجاجی تحریک چلانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہی اصل سوال اور اصل مسئلہ ہے۔"
شیر افصل خان مروت
یہ وہ آواز ہے جو عمران خان کے لیے ڈٹی رہی، یہ وہ چہرہ ہے جو حق کے لیے آگے آیا۔
مگر افسوس! اسی وفاداری، اسی جرأت، اسی بے لوث احتجاج کی قیمت
بغیر کسی گناہ کے پارٹی سے نکالے جانے کی صورت میں چکانی پڑی۔
قوم! وقت ہے وفاداروں کی قدر پہچاننے کا…
شیر افضل خان مروت کو مت بھولو۔
سابق وزیرِاعظم پاکستان عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِ خانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود کسی قسم کی شفاف معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے یا سیاسی مخالفت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں۔ قیدیوں سے ملاقات، علاج اور معلومات تک رسائی کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔
اس طرزِ عمل سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہو رہے ہیں بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ رہا ہے۔ ذمہ دار اداروں سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، صحت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں اور قانون و انسانیت دونوں کا خیال رکھا جائے۔
"خان سے اگر لوگ محبت کرتے ہیں تو یہ بھی اللّٰہ کی کرم نوازی ہے اور دوسرا پارٹی کو کلٹ نہ بنائیں. جب میں نے لوگوں کو نکالا تھا، تو میں وزیر اعلیٰ نہیں تھا بلکہ ایک ورکرز کی حثیت سے عوام کو نکالا.
آپکی یہ بات کہ خان کا جس پہ ہاتھ ہو تو وہ عزت پاتا ہے تو بات یہ ہے کہ خان نے تو سب پہ ہاتھ رکھنا چاہا، تو وہ ہیرو کیوں نہ بنے؟ اس میں ہماری محنت بھی شامل ہے اور عزت و ذلت صرف اور صرف اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے! یہ وقت فیصلہ کریگا کہ سرخرو کون ہوتا ہے."
#sherafzalkhanmarwat
"جب یہ لوگ تھک جائیں گے تو میں نکلوں گا۔ ڈیڑھ سال انہوں نے ضائع کیا،جو ایک قیمتی وقت تھا۔ اور جتنا وقت ضائع ہو رہا ہے،اتنی ہی خان کی رہائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔اگر خدانخواستہ یہ کامیاب نہیں ہوتے تو میں پارٹی سے کہوں گا کہ ہم مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں۔"شیر افضل خان مروت
26ویں ائینی ترمیم کے وقت اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی دو ارب 20 کروڑ لے کر اپنا ضمیر بھیج دیتا اور پیسے کما لیتا ، اور وزارت بھی لیں لیتا ، میں کوئی عرب پتی یا کھرب پتی ادمی نہیں ہوں ، مگر میں نے عمران خان کی کاز اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا ، شیر افضل خان مروت
📍صحافی کا شیر افضل خان مروت سے سوال:
"عام طور پر جب لوگوں کو پارٹیوں سے نکال دیا جاتا ہے تو وہ لیڈر بدل لیتے ہیں، یا دوسری جماعتوں میں شامل ہو جاتے ہیں، مگر میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی آپ کا دفتر عمران خان کی تصاویر سے بھرا ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اب بھی آپ کے دل میں بستے ہیں۔"
شیر افضل خان مروت کا جواب:
📍"26ویں ائینی ترمیم کے وقت اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی دو ارب 20 کروڑ لے کر اپنا ضمیر بھیج دیتا، پیسے کما لیتا، اور وزارت بھی لیں لیتا۔
میں کوئی عرب پتی یا کھرب پتی ادمی نہیں ہوں، مگر میں نے عمران خان کی کاز اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔"
#ReleaseImranKhan
"26ویں ائینی ترمیم کے وقت اگر اپنا ضمیر بیچنا ہوتا تو میں بھی دو ارب 20 کروڑ لے کر اپنا ضمیر بھیج دیتا، پیسے کما لیتا، اور وزارت بھی لیں لیتا۔
میں کوئی عرب پتی یا کھرب پتی ادمی نہیں ہوں، مگر میں نے عمران خان کی کاز اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔"
شیر افضل خان مروت
@sherafzalm
مروت صاحب🔥
اگر پولیس اس طرح راستہ روکے گی تو،کبھی اللہ نہ کرے، اگر میرا ان کے ساتھ سامنا ہوا تو خدا کی قسم میں گرفتاری نہیں دوں گا۔ میں مزاحمت کروں گا، چاہے یہ مجھے ماریں، لیکن میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ ان کے ہاتھ پاؤں توڑ دوں گا۔
🚨بندہ جذباتی ہے کبھی لالچی ہو جاتا ہے میرا شیر افضل سے لاکھ اختلافات ہیں اور مجھے بلکل پسند بھی نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دل کا ہر گز برا نہیں ہے جذبات میں بہہ جاتا ہے غصہ ہو جاتا ہے اول فول بول لیتا ہے مگر حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ دل واقعی اچھا ہے