Sabitlenmiş Tweet
Äzéêz Khåñ pti
11.6K posts

Äzéêz Khåñ pti
@Azeez224867
🇵🇰 Proud Pakistani 🇵🇰 🇧🇫پی ٹی آئی سوشل میڈیا ورکر🇧🇫 https://t.co/WKz7XNMUO9 @ImranKhanPTI @pti @teamipian @TeamPakRising
Saint-Usage, France Katılım Haziran 2024
1.5K Takip Edilen1.7K Takipçiler

Äzéêz Khåñ pti retweetledi

Follow the Azeez Official channel on WhatsApp: whatsapp.com/channel/0029Vb…
English

Subscribe my YouTube channel please guy's
@Ash_ali0
@wajizafar
@Zikraiman
@Tani_1k
@MSaeedPTI_
@VOkaptan
youtube.com/shorts/SHsdU3C…

YouTube
English

Äzéêz Khåñ pti retweetledi

”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
اردو
Äzéêz Khåñ pti retweetledi
Äzéêz Khåñ pti retweetledi

“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
English
Äzéêz Khåñ pti retweetledi

"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
اردو

Aaslamoalkom Good afternoon x friends
*اے اللہ!*
جو لوگ پریشان ہیں اور تیری مدد کے طلبگار ہیں انکی مشکلوں کو ختم کر دے۔
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 ❤️
#imrankhanPTI
#PTIKhyberPakhtunkhwa
@Ash_ali0 @ImranKhanPTI
@PTIOfficialISB
اردو
Äzéêz Khåñ pti retweetledi

میرا لیڈر واپس آرہا ہے
فالو کریں
@D3G39
@ishaq7872
@Kababeel
@FarhanQ017
@mgamalik1
@aYmilicious56
@Kanwal965
@Eman_Aajaz
@its_Buttjee
@Haroon_Malik804
@HIILL_TIGER804
@Alishah_804
@Azeez224867
@wakhra__swag
@DaughterOfSoil_
@Happiness7mkgg
#ReleaseLeaderOfMajority

اردو
Äzéêz Khåñ pti retweetledi

“The concept of a ‘hard state’ that Asim Munir is attempting to implement in Pakistan is entirely misguided. In its true sense, a “hard state” is one where the Constitution reigns supreme, justice remains independent, democratic freedoms are protected, and the national interest outweighs personal gain.
In contrast, Asim Munir’s notion of a ‘hard state’ signifies a system in which the pillars of democracy are dismantled and ‘Asim Law’ prevails. No ‘hard state’ can ever be established without the support and will of the people. The atrocities being perpetrated under ‘Asim Law’ are not strengthening the state. They are, in fact, eroding its very foundations. No country can become strong by turning its guns on its own citizens, as witnessed on November 26th (2024) and in Muridke, where the army, paramilitary Rangers, and the police opened fire on their own people.
The people of Khyber Pakhtunkhwa have given a clear and overwhelming mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf. This mandate grants me the constitutional and democratic authority to determine the province’s policies, for my accountability lies solely with the people. It is also the right of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, to ensure the implementation of the policies, formulated in consultation with me, for which the people reposed their trust and cast their votes in our favor.
During PTI’s tenure, prudent policies fostered peace across Khyber Pakhtunkhwa and beyond. Yet, since the regime change, the nation has witnessed a consistent deterioration in stability. Over the past three years, I have consistently emphasized the need for wisdom and foresight in dealing with Afghanistan through peaceful means. The current strained relations with Afghanistan are deeply concerning. Hatred and confrontation serve no one’s interests; only policies framed by genuine representatives of the people can bring about a lasting solution to terrorism.
The baseless and fabricated cases against me are being deliberately prolonged. In the Al-Qadir University Trust case, justice has been systematically denied for the past ten months. After an extended delay, the case was finally scheduled for hearing, yet the decision on bail continues to be postponed. I instruct all PTI political leaders, members of assemblies, and lawyers to regularly attend and remain present during all court proceedings of my cases, and to continue their presence until justice is served. Participation in open-court hearings is your legal and democratic right.
During PTI’s tenure in government, Nawaz Sharif was allowed daily meetings with numerous political figures in jail, with unrestricted access to family members. Even formal dinners were arranged. In stark contrast, I am being held in complete isolation. There is no precedent for such political vendetta in Pakistan’s history.
I am not being provided the basic facilities guaranteed under prison regulations. Over the past ten months, I have been allowed to speak to my sons only once, and that too for two brief intervals of three minutes each. I am being deprived not only of my fundamental human rights but also of my rights as the head of a political party, to meet party officials and consult with them. Hurdles are constantly placed to obstruct my meetings with lawyers, political colleagues, and family members. This is a blatant violation of my fundamental and legal rights.”
Message from former Prime Minister Imran Khan, delivered through his sisters and lawyers from Adiala Jail (October 21, 2025)
English
Äzéêz Khåñ pti retweetledi

"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
اردو





