
Banari Baloch
1.4K posts

Banari Baloch
@BanariBaloch
A practicing Lawyer struggling for a world based on Justice and Equality under the rule of law |adv BHC










Maulana Fazal-ur-Rehman openly declares that he will violate the law by organizing marriages (actually abuse) of children. But instead, the state goes after @ImaanZHazir & her husband because they shared some “anti-state” posts on social media. 1/4 @Taimur_Laal @husainhaqqani











اسلام آباد کی ایک عدالتی سماعت کے دوران جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منسوخ کر دی ہیں اور انہیں گرفتار کر کے اگلی سماعت میں پیش کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ مزید یہ کہ استغاثہ کے گواہوں پر جرح کے حق کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جو عدالتی عمل کے بنیادی اصولوں کے مطابق سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔ آج ڈی آئی جی اسلام آباد کو طلب کر کے ایمان مزاری اور ہادی علی کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے جو عدالتی شفافیت اور قانونی رویے کے نقطہ نظر سے تشویشناک ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی خود وکیل ہیں اور انہوں نے عدالتی کارروائی کے دوران قانونی نمائندگی اور انصاف کے مساوی مواقع کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ تاہم جج کی حالیہ کارروائی میں ان کے قانونی حقوق اور عدالتی شفافیت کے اصولوں کی پامالی کے شواہد موجود ہیں۔ گذشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی پر بلا ثبوت الزامات عائد کرنا بھی عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے مترادف ہے، جس سے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کے مؤقف کے مطابق، جج افضل مجوکا اسٹبلشمنٹ کی خواہش کے مطابق انہیں سات سال قید کی سزا دینے کی تیاری میں ہیں۔ دونوں نے متعدد بار یہ واضح کیا ہے کہ ان کے خلاف سزا کا فیصلہ پہلے سے کر لیا گیا ہے، اور عدالتی عمل میں یہ غیر جانبداری اور قانونی اصولوں کے منافی ہے۔ اس صورتِ حال میں عدالتی آزادی اور ملزمان کے قانونی تحفظات کے بنیادی اصول خطرے میں ہیں، جو آئینی حقوق اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق غیر قانونی ہے۔ اس کیس میں جج کے رویے، سماعت کے طریقہ کار اور اسٹبلشمنٹ کے ممکنہ دباؤ کے پیشِ نظر، مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں، وکلا کی تنظیمیں اور صحافی عدالتی شفافیت اور غیر جانبداری پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ عدالتی عمل میں شفافیت، قانونی نمائندگی اور برابری کے مواقع کو یقینی بنانا آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ناگزیر ہے۔ #StandWithImaanMazariAndHadiAli @OHCHRAsia @EUPakistan @amnestysasia @hrw @HRCPakistan @KenRoth @AsadAToor @HamidMirPAK @saqibbashir156 @MunizaeJahangir @soldierspeaks @Matiullahjan919 @ShireenMazari1









The Weight of a Photograph: A Life Measured in Absence — Shahab Baloch thebalochistanpost.net/2025/12/the-we…










