
Ihsa Ul Haq
4.7K posts










ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس پر ہر طبقے نے اپنے اپنے زاویے سے تجزیہ پیش کیا۔ کسی نے کھل کر حمایت کی، کسی نے محتاط انداز میں اختلاف کیا، اور کسی نے اتنی باریک لکیر پر چلنے کی کوشش کی کہ یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں۔ میرے ایک دوست کے دوست نے تو چھوٹے چھوٹے کلپس کی مدد سے لگ بھگ ڈیڑھ درجن ٹویٹس کر ڈالیں، مگر ان کا مؤقف بھی واضح نہ ہو سکا۔ نہ مکمل حمایت، نہ واضح مخالفت۔ یوں محسوس ہوا جیسے اصل محرک شاید کسی دعوتِ چائے یا کوکونٹ سے محرومی ہو۔ اگر میں اپنے تجزیے کی بات کروں تو اس پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے حوالے سے جو گفتگو اور حقائق سامنے آئے، وہ غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے۔ میرے فہم اور ترجمے کے مطابق، اس پوری تصویر میں ہمیں تین لٹکتی ہوئی لاشیں دکھائی دیتی ہیں، مگر ان میں سے ایک لاش کے منہ سے ڈی جی صاحب نے خود سیاہ کپڑا ہٹا دیا۔ یہ اشارہ محض علامتی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ ایسا پیغام جسے اس سے زیادہ کھل کر شاید دیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ باقی دو لاشیں بدستور خاموش ہیں، مگر ایک سچ اب پردے میں نہیں رہا۔ میری رائے میں، اس پریس کانفرنس کا اصل وزن اسی نکتے میں پوشیدہ ہے، اور جو لوگ اسے نظر انداز کر رہے ہیں، وہ یا تو دانستہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں یا پھر سچ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔




































