Ihsa Ul Haq

4.7K posts

Ihsa Ul Haq

Ihsa Ul Haq

@IhsaUl

Katılım Ocak 2021
3.4K Takip Edilen1.2K Takipçiler
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@JUI_MRD رحمه الله وغفر الله له واسكنه فسيح جناته وجزاه الله عنا وعن الإسلام والمسلمين خير الجزاء
العربية
0
0
0
32
Iftikhar Ali Yusufzai
Iftikhar Ali Yusufzai@JUI_MRD·
شیخ القرآن مولانا عبدالسلام رستمی رحمہ اللہ سے 1989 اور 1990 میں دورہ تفسیر کیا۔ پھر میں نے ائیر فورس جوائن کیا اور شیخ بڈھ بیر چلے گئے اور وہی مستقل سکونت اختیار کی ۔ شیخ فنا فی التفسیر تھے۔ مشکلات قرآن کو حل کرنے کے ماہر تھے، شرک و بدعت پر کھڑی تنقید کرتے تھے۔ اپنے وقت میں دنیا میں قرآن کو سمجھنے والوں میں سر فہرست تھے، نیلام گھر میں طارق عزیز کے سوال کرنے پر کسی نے جواب میں یہی کہ دیا تھا اور الیکٹرا کا تحفہ جیت گیا تھا۔ ایسے متبخر عالم بہت کم رہ گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین
Iftikhar Ali Yusufzai tweet media
اردو
5
11
75
3.1K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@3ajel_ksa الحل سهل جدا .. وقفوا التأشيرات وتجديد الإقامة
العربية
0
0
0
340
عاجل السعودية
عاجل السعودية@3ajel_ksa·
🚨وزير الشؤون الإسلامية "د.عبداللطيف آل الشيخ" : هناك عشرات آلاف فرص العمل للمواطن السعودي، لكنه محروم منها لوجود وافد.
العربية
345
730
6K
1.4M
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@Saudi_Moia مفصولين من الإمامة منذ سنه بحجة أنتم أجانب ( غير سعوديين ) ولكن حتى الآن لم نستلم المسحقات نهاية الخدمة .. فارجوا من معاليكم التدخل .. كلكم راع والمسؤول عن رعيته علمآ بأننا مستمرين بالعمل بدون مقابل حتى الآن
العربية
0
1
1
595
وزارة الشؤون الإسلامية 🇸🇦
أصدر معالي وزير الشؤون الإسلامية والدعوة والإرشاد، الشيخ الدكتور عبداللطيف بن عبدالعزيز آل الشيخ، توجيهًا لأصحاب الفضيلة خطباء الجوامع في عموم مناطق المملكة، بتخصيص خطبة الجمعة القادمة، بتاريخ 18/ 8/ 1447هـ، للحديث عن خطر الظلم والتحذير منه، وذلك وفق المحاور التالية: 1.التأكيد على خطر الظلم وعِظَم شأنه وتحريم الله له؛ فعن أبي ذرٍّ رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يرويه عن الله تبارك وتعالى أنه قال: (يا عبادي، إني حرَّمتُ الظلمَ على نفسي، وجعلتُه بينكم محرَّمًا، فلا تظالموا). 2.بيان أن أعظم الظلم وأشدَّه خطرًا هو الشرك بالله تعالى؛ لأنه وضعٌ للعبادة في غير موضعها، وصرفٌ لها لغير مستحقها، قال سبحانه: (وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ)، ومن الظلم كذلك ظلمُ العبدِ لنفسه بارتكاب المعاصي، والتفريط في الفرائض والطاعات، والتهاون بحدود الله، قال تعالى: (وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ). 3.التحذير من ظلم العباد بعضهم بعضًا في الدماء والأموال والأعراض وسائر الحقوق؛ فعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (اتقوا الظلم، فإن الظلم ظلماتٌ يوم القيامة). 4.بيان أن من صور الظلم المحرَّم تفريطَ الموظف في مهامه وواجباته، واستغلاله لمنصبه، وتعطيله لمصالح الناس؛ لما في ذلك من ظلمٍ للنفس بأكل الحرام، وظلمٍ للغير بتعطيل مصالحهم وحرمانهم من حقوقهم. 5.الدعوة إلى المسارعة في التوبة من الظلم، وردِّ المظالم، والتحلُّل من الحقوق؛ فعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (من كانت له مظلمةٌ لأخيه من عِرضه أو شيء، فليتحلَّلْه منه اليوم، قبل أن لا يكون دينارٌ ولا درهم؛ إن كان له عملٌ صالح أُخذ منه بقدر مظلمته، وإن لم تكن له حسنات أُخذ من سيئات صاحبه فحُمِلَ عليه).
وزارة الشؤون الإسلامية 🇸🇦 tweet media
العربية
124
487
769
220.1K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@ahmad__bobak پشاور اور اور ملک بھر میں ھزاروں فیکٹریاں جو خاص طبقات کی ملکیت ھیں بند ھو گئ ھیں جو مختلف اشیاء افغانستان اور ایشیائی ممالک کو جاتی تھیں ۔۔ آپ دیکھیں گے کہ بارڈر کھولنے کے لئے یہ لوگ طالبان کی منتیں کریں گے
اردو
0
1
1
124
Ahmad Hassan Bobak
Ahmad Hassan Bobak@ahmad__bobak·
افغانستان کے ساتھ تجارتی بارڈر بند ہونے سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو رہا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میں خود ایک کسان ہوں پنجابی ہوں اور میں آپکو حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی بارڈر بند ہونے سے پاکستان کے کسانوں کا اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے
اردو
119
793
3.3K
44.2K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@miandawoodadv اس سے صاف ظاہر ھے کہ اب اے این پی کی حکومت آنے والی ھے ۔۔
اردو
0
0
0
23
Mian Dawood
Mian Dawood@miandawoodadv·
صدر آصف علی زرداری کے سابق ترجمان میاں شمس کا ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس پر تجزیہ👇👇 "اگر میں اپنے تجزیے کی بات کروں تو اس پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے حوالے سے جو گفتگو اور حقائق سامنے آئے، وہ غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے۔ میرے فہم اور ترجمے کے مطابق، اس پوری تصویر میں ہمیں تین لٹکتی ہوئی لاشیں دکھائی دیتی ہیں، مگر ان میں سے ایک لاش کے منہ سے ڈی جی صاحب نے خود سیاہ کپڑا ہٹا دیا۔"
Mian Shams@mianshamspk

ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس پر ہر طبقے نے اپنے اپنے زاویے سے تجزیہ پیش کیا۔ کسی نے کھل کر حمایت کی، کسی نے محتاط انداز میں اختلاف کیا، اور کسی نے اتنی باریک لکیر پر چلنے کی کوشش کی کہ یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ کس طرف کھڑے ہیں۔ میرے ایک دوست کے دوست نے تو چھوٹے چھوٹے کلپس کی مدد سے لگ بھگ ڈیڑھ درجن ٹویٹس کر ڈالیں، مگر ان کا مؤقف بھی واضح نہ ہو سکا۔ نہ مکمل حمایت، نہ واضح مخالفت۔ یوں محسوس ہوا جیسے اصل محرک شاید کسی دعوتِ چائے یا کوکونٹ سے محرومی ہو۔ اگر میں اپنے تجزیے کی بات کروں تو اس پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور اس کے بانی کے حوالے سے جو گفتگو اور حقائق سامنے آئے، وہ غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے۔ میرے فہم اور ترجمے کے مطابق، اس پوری تصویر میں ہمیں تین لٹکتی ہوئی لاشیں دکھائی دیتی ہیں، مگر ان میں سے ایک لاش کے منہ سے ڈی جی صاحب نے خود سیاہ کپڑا ہٹا دیا۔ یہ اشارہ محض علامتی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے۔ ایسا پیغام جسے اس سے زیادہ کھل کر شاید دیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ باقی دو لاشیں بدستور خاموش ہیں، مگر ایک سچ اب پردے میں نہیں رہا۔ میری رائے میں، اس پریس کانفرنس کا اصل وزن اسی نکتے میں پوشیدہ ہے، اور جو لوگ اسے نظر انداز کر رہے ہیں، وہ یا تو دانستہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں یا پھر سچ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔

Punjab, Pakistan 🇵🇰 اردو
13
39
300
42.3K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@CSMR786 اور بالکل ایسا ھی ایبٹ آباد میں ھوا تھا
اردو
0
0
0
5
چوہدری شاہد محمود
وینزویلا ایسا ملک تھا جسے قدرت نے دل کھول کر نوازا تھا۔ زمین کے نیچے 300 ارب بیرل تیل، زمین کے اوپر پھیلا ہوا وسیع رقبہ، سمندر سے جڑی ہوئی طویل ساحلی پٹی اور خشکی کے راستے برازیل، گیانا اور کولمبیا جیسے اہم ہمسائے۔ وینزویلا پاکستان سے بھی کافی بڑا ملک ہے۔ نقشے پر دیکھا جائے تو لگتا تھا کہ یہ ملک نہیں، قدرت کا شاہکار ہے۔ دنیا اسے جانتی تھی: “یہ وہ ملک ہے جس کے پاس سب سے زیادہ تیل ہے۔” لیکن دنیا یہ نہیں جانتی تھی کہ اس ملک کی اصل کمزوری زمین کے نیچے نہیں، زمین کے اوپر ہے۔ سالوں سے یہ ملک طاقت کے ایک بڑے مرکز سے زبانی محاذ آرائی میں مصروف تھا۔ بیانات، دھمکیاں، تقریریں… سب کچھ تھا۔ مگر پس پردہ ایک چیز خاموشی سے کمزور ہوتی جا رہی تھی: اور وہ چیز تھی دفاع۔ پھر ایک دن سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تاریخ نے کروٹ لی۔ فضا میں شور تھا، ریڈار خاموش تھے، کمانڈ سینٹر اندھیرے میں ڈوب چکے تھے۔ چند ہی گھنٹوں میں: فضائی دفاع مفلوج اہم تنصیبات راکھ اور اقتدار کے ایوان خالی کہتے ہیں کہ صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے اٹھا لیا گیا، اور ایک ایسا ملک جو انڈیا کی طرح خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا، وہ چند گھنٹوں میں انڈیا کی طرح ہی عبرت کی مثال بن گیا۔ تب دنیا نے ایک تلخ سچ دیکھا: تیل کے کنویں ٹینک نہیں ہوتے سڑکیں میزائل نہیں بنتیں اونچی عمارتیں دفاعی ڈھال نہیں ہوتیں اگر دفاع ناقابلِ تسخیر نہ ہو تو: ترقی بے معنی معیشت عارضی وسائل بے جان اور خود مختاری ایک فریب ہوتی ہے ایسا ملک کسی مسئلے پر اسٹینڈ نہیں لے سکتا کیونکہ دشمن جانتا ہے ایک بٹن دبے گا اور سب کچھ صفر ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ واقعہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں تھا، یہ دنیا کے ہر ملک کے لیے ایک پیغام تھا۔ اور پھر نظر پاکستان کی طرف جاتی ہے۔ نہ سب سے زیادہ تیل، نہ سب سے بڑی معیشت، نہ جدید ترین سہولیات کی بھرمار— مگر ایک چیز ہے جو سب سے مضبوط ہے: دفاع۔ اسی اعتماد کے ساتھ ہمارے سپہ سالار نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا: “ہم کو لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں تو آدھی دنیا کو ساتھ لے کر ڈوبیں گے۔” یہ جملہ صرف الفاظ نہیں تھا، یہ اعلان تھا کہ یہ ملک آسان شکار نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے پاس وہ چیز ہے جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے: ناقابلِ تسخیر دفاع۔ اور تاریخ گواہ ہے:جس قوم کا دفاع مضبوط ہوتو وہی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتی ہے۔ #DefenseMatters #NationalSecurity
چوہدری شاہد محمود tweet media
اردو
68
230
762
44.7K
THE WOLF OF TASI ™
THE WOLF OF TASI ™@THEWOLFOFTASI·
🔴 هذه قصة رجل الأعمال هيف القحطاني.. عنده برج مكتبي يعمل فيه عدد كبير من الموظفين التابعين له، فعرض عليه مستشاروه فكرة تأجير هذا البرج بالكامل بعقد إيجار مغري 💸 سألهم: طيب والموظفين؟ قالوا: نقفل النشاط ونسرحهم لأن عائد التأجير أكبر!! رد بغضب ورفض هذه الفكرة وقال: لا والله أعوذ بالله أفصل هذا العدد من الموظفين وكلهم فاتحين بيوت ويصرفون على عوائلهم! لا يمكن أفعل هذا ✋ بيض الله وجهك وكثر الله من أمثالك.. "مصدر القصة د. محمد الجذلاني"
THE WOLF OF TASI ™ tweet media
العربية
337
495
3K
1.6M
Aftab Nazir
Aftab Nazir@Aftab_Nazir·
ڈاکٹر مولانا منظور مینگل صاحب ہمارے استاد ہیں اور مولانا طاہر اشرفی صاحب ہمارے دوست،دونوں کے درمیان جو معمولی سی غلط فہمی ہے ان شاءاللہ ختم ہوجائیگی۔۔۔۔بعض لوگ محض گپ شپ میں کی گئ گفتگو کے باقاعدہ اسٹیکرز اور کیپشنز بنوا کر دونوں کو برانگیختہ کررہے۔۔۔۔ رات میری اشرفی صاحب سے بھی بات ہوئ،انکا مؤقف یہی تھا کہ کہ یار میں بھی تو ان ہی مدارس سے پڑھا ہوں میرے پاس بھی تو وفاق المدارس العربیہ ہی کی سند ہے۔۔۔۔۔ اگر معرکہ حق میں ہم نے ہندوستان پر کامیابی حاصل کی تو میں نے اپنے طبقے اور علماء کا پیغام پہنچایا کہ ہم افواج پاک کے ساتھ ہیں اور اس میں کوئ ایسی غلط بات بھی نہیں،مختلف علماء کرام تقریبا ہر موقع پر یہ کہتے اور سیدھی سی بات ہے ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں نا کہ نیتن یاہو یا مودی کی فوج کے۔۔۔۔۔ ہمارے مدارس میں چونکہ منطق فلسفہ اور دیگر فنون اس قدر خشک ہوتے کہ مدرسین حضرات کلاس میں اس سے بھی زیادہ گپ شپ لگاتے ایک دوسرے کی باقاعدہ کلاس لیتے،انتہائ مردانہ قسم کے لطائف ہوتے لیکن یہ سب ایک مکمل نجی گفتگو اور دوستانہ ماحول کی باتیں ہوتیں۔۔۔۔۔۔ مینگل صاحب پر بھی وہی مزاج غالب ہے اور اس وجہ سے کئ مرتبہ انہیں خود نقصان بھی اٹھانا پڑا۔۔۔۔ خیر یہ سارا ہمارے گھر کا مسئلہ ہے،قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن صاحب اور مفتی تقی عثمانی صاحب جیسے حضرات نے اس بیٹھک میں جو باتیں کیں وہ اس سب سے بہت بڑی ہیں جس میں آج ہم الجھے پڑے ہیں۔۔۔۔۔ اس وقت صدیق جان تا شہباز گل و دیگر مینگل صاحب کو چڑھا رہے لیکن حقیقت یہ ہیکہ ہم نے اپنے اکابر اور اساتذہ کو کسی کے پراپیگنڈے کے لئیے استعمال نہیں ہونے دینا۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ گرد بیٹھ جائیگی۔۔۔۔۔ ہر ایک کا اپنا محاذ ہے،اختلاف ہوتے رہتے،شائستگی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئیے۔۔۔۔۔ بہت سے دوست جانتے ہیں کہ مجھے ذاتی طور پر مفتی عبدالرحیم صاحب کی کئ باتوں سے اختلاف رہا ہے لیکن دوسری طرف مجھے ہمیشہ سے یہ بھی خوشی رہی کہ اگر مفتی صاحب کی جگہ ڈی جی آئ ایس پی آر یا حافظ صاحب کے ساتھ کوئ کالا پیلا ہوتا تو شائد ہمارا نقصان زیادہ ہوتا،مفتی صاحب کم از کم ایک عالم دین ہیں پراپر مفتی ہیں،ادارہ جاتی شخصیت ہیں، میری تو یہ بھی چاہت ہیکہ مفتی صاحب سینیٹ میں آئیں کیونکہ جہاں راجہ ناصر عباس سے تکفیری پوری تحریک انصاف کو ہائ جیک کر کے اسکے سادہ لوح مخلص کارکنان کو کو دفاع خان کے نام پر اپنا رہے وہاں مفتی عبدالرحیم یا مولانا طاہر اشرفی سے لوگوں کا پارلیمان میں مولانا فضل الرحمن صاحب کا دست و بازو بن کر دفاع ناموس رسالت یا دفاع ناموس صحابہ کے کاز کے لئیے کام کرنا مجھ سوں کے لئیے یقینا ایک نعمت ہوگی۔۔۔۔۔ کیونکہ گذشتہ دنوں دو چیزیں میری نظر سے گزریں،ایک یہ کہ مولانا فضل الرحمن صاحب اور مفتی عبدالرحیم صاحب جب ایک پروگرام میں آپس میں گلے ملے تو دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی،والہانہ پن اور اپنائیت تھی،جبکہ علماء و مشائخ کانفرنس میں جب مائیک مفتی عبدالرحیم صاحب کو ملا تو انہوں نے پہلی بات یہی کی کہ چونکہ ہمارے اکابر حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب یہاں موجود نہیں لہذا اس لئیے میں یہ بات کررہا۔۔۔۔ انکا یہ ماننا اور کہنا کہ "ہمارے اکابر" اس بات کی دلیل ہیکہ وہ انہیں اپنا بڑا سمجھ رہے۔۔۔۔۔ باقی یہ کہ آجکل ہر بندہ اپنے گھر کا خود ہی بڑا ہے،ہر ہر مدرسے کا اپنا نظام ہے،ہر ایک کی اپنی فکر ہےچھوٹے مکتب سے لیکر بڑی جامعات تک ہر ایک کا اپنا منجن ہے اور سچی بات یہ ہے کہ مجھ سے عام زندہ باد مردہ باد والے شائد بڑوں کو سرینہ شیریٹن اور آبپارہ کی خفیہ ملاقاتوں میں یاد بھی نا رہتے ہوں کیونکہ اس ساری ایکسرسائز کے بعد جب کبھی بھی کوئ عہدہ، منصب، حکومت، اختیار یا کسی بڑے سے ملاقات ہوتی تو وہاں مکمل "فیملی شو" چلا کرتا ہے،غریب طالب اور کارکن کو کوئ نہیں پوچھتا۔۔۔۔۔ اللہ کرے کہ جومیں کہنا چاہ رہا وہ بچوں کو سمجھ آجائے۔۔۔۔ پھر کہہ رہا اللہ کی قسم کوئ ایک پاؤ آٹا آپکے گھر نہیں ڈالتا۔۔۔۔۔سب منجن ہے اپنا اپنا دیکھیں اور آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں نا دیں جو جیسا چل رہا ٹھیک ہے۔۔۔۔ جب کبھی یہ بڑے آپس میں ملتے تو سب اوکے ہوتا جبکہ کارکنان ایک دوسرے کی ماں بہن سوشل میڈیا پر انکی خاطر ایک کرتے۔۔۔۔۔ اللہ تعالی مجھ سمیت ہم سب کو ہدایت دے آمین آفتاب نذیر
Aftab Nazir tweet media
اردو
42
12
169
16.1K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@QureshiiFarzana طلاق کے 3 حیض گزرنے کے بعد دوسرا نکاح ھوتا ھے اگر اس دوسرے مرد سے عورت حاملہ ھوجائے تو بچہ اسی دوسرے مرد کا ھوگا اس حالت میں طلاق دے تو عدت وضع حمل ھوگا ۔۔ یعنی بچہ پیدا ھونے کے بعد پہلے شوھر سے نکاح جائز ھوگا
اردو
0
0
0
7
Farzana Qureshi
Farzana Qureshi@QureshiiFarzana·
تمیز کے دائرے میں ایک جواب چاہیے ایک سوال مجھے بہت الجھا رہا ہے حلالہ کے لیے جو نکاح ہوتا ہے کسی اور کے ساتھ اس بعد پھر پہلے والے شوہر سے نکاح ہوتا ہے اگر حلالہ والے مرد سے ہمبستری کے دوران حمل ہو تو بچے کا باپ کون کہلائے گا
اردو
416
13
360
69K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@mohsin__zaid کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔۔ برنال استعمال کرو
اردو
0
0
0
4
mohsin zaid
mohsin zaid@mohsin__zaid·
جاوید صاحب نے لاجیکل ، حقیقت پر مبنی اور عام فہم گفتگو کی، جبکہ مفتی شمائل نے وہی روائتی جلیبیاں بنائی۔۔۔
mohsin zaid tweet media
اردو
521
20
305
55.6K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@adnanalaegm صدام حسین ، الملك فيصل ، ذوالفقار على بوتو .. رحمهم الله جميعا
العربية
0
0
0
51
عدنان الاعجم
عدنان الاعجم@adnanalaegm·
من هو الرئيس الذي حزنت عليه ؟؟؟؟؟
عدنان الاعجم tweet media
العربية
6.6K
88
2K
927.1K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@RaghadAlajami كثيرات ولله الحمد والمنة .. معظم البيوت الذي فيها الأطفال المدرسه
العربية
0
0
1
8
رغد العجمي
رغد العجمي@RaghadAlajami·
المرأة التي تستيقظ قبل الفجر ثم تصلي وتعجن وتخبز وتحضر الصبوح لزوجها ثم ترافقه الى الباب وتدعو له بالرزق في اي مدينه تجدونها؟؟
رغد العجمي tweet media
العربية
3.9K
129
2.8K
511.6K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@MaidahMuhammad تا حیات استثنی کے بارے میں مفتی صاحب فتوی آچکا ھے جس میں مفتی صاحب نے اس کو ناجائز اور غیر شرعی کہا ھے اس لئے اب بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔
اردو
0
0
0
10
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂@MaidahMuhammad·
اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں پہلے ہی واضح تنبیہ فرما دی تھی جو دین کو ہدایت کے بجائے دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “بے شک جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں…” (سورۃ البقرہ: 174) یہ آیت صرف کتاب چھپانے کی بات نہیں کرتی، بلکہ اس ذہنیت کو بے نقاب کرتی ہے جس میں سچ کو مفاد کے بدلے بیچ دیا جاتا ہے۔ جب دین سچ بولنے کے بجائے طاقتور کو خوش کرنے لگے، جب منبر سے حق کے بجائے خوف اور نفرت بکنے لگے، اور جب عالم کی پہچان اس کے علم سے نہیں بلکہ اس کی قربتِ اقتدار سے ہونے لگے تو سمجھ لیں کہ وہی وقت ہے جس کی خبر دی گئی تھی۔ آج کی تلخ حقیقت یہی ہے کہ کچھ لوگ دین کی زبان استعمال کر کے دنیا کی سودے بازی کرتے ہیں، سچ کو مصلحت کے نیچے دفن کرتے ہیں، اور عوام کے جذبات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ دین کے وفادار ہوتے ہیں نہ عوام کے وہ صرف اپنے مفاد کے ہوتے ہیں۔ آخر میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم چہروں نہیں، کردار کو دیکھیں؛ نعروں نہیں، اصولوں کو پرکھیں؛ اور دین کو افراد کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں۔ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرما، باطل کو باطل پہچاننے اور اس سے بچنے کی ہمت دے، اور ہمیں ایسے لوگوں کے فتنوں سے محفوظ رکھ جو دین کو دنیا کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ tweet media
اردو
57
313
779
15.3K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@MaidahMuhammad یہ بات آپ نے بہت اچھی کہی ۔۔ جزاک اللہ خیرا
اردو
0
0
0
20
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂@MaidahMuhammad·
جب ہم تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ مدرسہ عالیہ کلکتہ انگریز گورنر جنرل وارن ہسٹنگز نے 1780 میں اپنے سیاسی اور انتظامی مفادات کے تحت قائم کیا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کی علمی خدمت نہیں تھا، بلکہ برصغیر کی حکمرانی کو آسان بنانا، شریعت کی تعبیر کو اپنے تابع کرنا، اور مسلمان اشرافیہ کا اعتماد جیتنا تھا۔ اگر ہم ذرا گہرائی میں اتر کر سوچیں تو یہ سوال ابھرتا ہے: کیا وارن ہسٹنگز بھی اپنے وقت کے اہلِ علم سے یہ کہتا ہوگا کہ ‘‘اگر ہمارے قائم کردہ مدرسہ عالیہ کلکتہ کی طرز پر مدرسے بنانے ہیں، تو ہزاروں بنا لو’’؟ کیونکہ ایسے ادارے تو ہمیشہ حکمرانوں کے سیاسی مفادات کا بازو بنتے ہیں۔ نام دین کا ہوتا ہے، لیکن روح کہیں اور سے کنٹرول ہوتی ہے۔داستانِ مصلحین بدل جاتی ہے، مگر حکمرانوں کے طریقے نہیں بدلتے۔ آج جب ہم موجودہ مدرسہ سیاست، روایت، کشمکش اور فکری انتشار کو دیکھتے ہیں تو دل بے اختیار یہ کہہ اٹھتا ہے: آہ! قاسم نانوتوی…تیری فکر کا نام لینے والے ۔۔۔ فکر مدرسہ عالیہ کلکتہ کے وارث بن چکے ہیں
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂ tweet media
اردو
15
52
194
7.2K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@ZahidNadeempk کیا یہ اسی جگہ بنا رھے ھیں یا کہیں اور ۔۔۔ ؟؟
اردو
0
0
0
1.3K
Zahid Nadeem
Zahid Nadeem@ZahidNadeempk·
بابری مسجد : ہندوستان کے مسلمانوں نے پھر سے بابری مسجد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پچھلے جمعے کو سنگ بنیاد رکھا گیا، ہر چوک اور چوراہوں پر کیوں ار کوڈ لگایا گیا۔ پہلے ہی دن 9 کروڑ کا انڈین روپوں میں چندہ جمع ہوا، سنگ بنیاد رکھنے کیلئے ہر کوئی اپنے ساتھ اپنی طاقت کے مطابق اینٹیں لے کر جاتے تھے، ہیاں تک کے چھوٹے بچے اور ضعیف العمر لوگ بھی اس نیک کام میں حصہ لیتے رہے، اللّٰہ ان سب کی قربانیوں کو اپنے دربار میں قبول فرمائے۔ #foryou#BabriMasjid #BabriMasjidDemolition
Zahid Nadeem tweet mediaZahid Nadeem tweet mediaZahid Nadeem tweet media
اردو
19
263
1.4K
48.4K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@ReadinWakil جزاک اللہ ۔۔ اگر پوری تفصیل جاننا چاھتے ھیں اور حق تک پہنچنا چاھتے ھیں تو فتاوی دارالعلوم دیوبند کا مطالعہ کریں ۔۔ اس فتوے کا پس منظر اور حقیقت واضح ھو جائے گی
اردو
0
0
1
14
VAKEEL AHMAD KHAN🇵🇰🇨🇦
@IhsaUl محترم ! اس میں ۰۰۰ میں نے ایک لفظ بھی ردّ و بدل نہیں کئے ۰۰۰۰۰ مجھے جو تحریر ملی من و عن شئیر کرڈالے ۔ آخر میں اصل لکھاری کا نام بھی لکھ دیا ۔
اردو
1
0
0
60
VAKEEL AHMAD KHAN🇵🇰🇨🇦
لاؤڈ سپیکر 1890 میں ایجاد ہوا، 1920 کے عشرے میں اس میں کافی جدت آچکی تھی اور ریڈیو، تھیٹرز وغیرہ میں اس کا استعمال عام ہوچکا تھا۔ انہی دنوں کسی نے برصغیر میں لاؤڈسپیکر پر اذان اور نماز پڑھانے کی تجویز پیش کی تو جیسے آگ لگ گئی اور تقریباً ہر فرقے کے علما نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔ برصغیر کے نامور عالم، مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے 1928 میں فتوی جاری کردیا کہ لاؤڈ سپیکر پر نہ تو اذان جائز ھے، نہ جمعہ کا خطبہ اور نہ ہی نماز کی امامت۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو ان کا جواب تھا کہ لاؤڈ سپیکر پر آواز پہلے ریکارڈ ہوتی ھے اور پھر نشر کی جاتی ھے، اس لئے شرعی اعتبار سے ریکارڈڈ آواز میں نہ تو اذان جائز ھے اور نہ ہی خطبہ اور امامت۔ کچھ " لبرل" حضرات نے مولانا کی تھیوری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو ان پر حسب توقع اور حسب توفیق، کفر کے فتوے لگ گئے۔ جب دباؤ بڑھا تو مفتی شفیع نے اپنے فتوے میں کہا کہ اگر لاؤڈ سپیکر کے اندر موجود سسٹم آواز کی " ایکو" کو اس طریقے سے پراسیس کرتا ھے کہ اصل آواز کی ہئیت بدل جاتی ھے۔ مزید براں یہ کہ اگر دوران نماز لاؤڈسپیکر کسی وجہ سے خراب ہوجائے تو پوری نماز ضائع ہوجائے گی اور دوبارہ پڑھنے پڑے گی۔ حالت اور وقت ایک سے نہیں رہتے، یہی کچھ بے چارے لاؤڈسپیکر کے ساتھ بھی ہوا۔ جب سعودی عرب کے علما نے 1950 میں لاؤڈسپیکر کے زریعے حرم میں اذان اور خطبہ وغیرہ دینا شروع کردیا تو ہمارے علما کو اچانک لاؤڈسپیکر کے اندر چھپی ہوئی روحانیت نظر آنے لگی پھر راتوں رات تھانوی صاحب کے فتوے کو منوں مٹی تلے دبا کر نیا فتوی دیا گیا جس کے تحت لاؤڈ سپیکر کا استعمال جائز قرار دے دیا گیا۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ 90 کی دہائی میں نوازحکومت نے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر قابو پانے کیلئے مساجد میں لاؤڈسپیکر کا استعمال ممنوع قرار دیا تو پورے ملک میں آگ لگ گئی۔ علما نے ملک گیر ہڑتالیں کیں، ٹائر جلائے، املاک کو تباہ کیا، تب جا کر حکومت کو اس کے اس ' شیطانی ' اقدام پر نظرثانی کرنا پڑی۔ چند برس قبل لاہور میں جلالی صاحب کا ختم نبوت ﷺ کا دھرنا اختتام پذیر ہوا۔ وہ شروع تو رانا ثنا اللہ کے استعفی کے مطالبے پر ہوا تھا لیکن ختم اس شرط پر ہوگیا کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی تعداد بڑھانے پر غور کرے گی بہ شکریہ جناب خالد صاحب
VAKEEL AHMAD KHAN🇵🇰🇨🇦 tweet media
اردو
6
19
99
4.6K
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@yasminkhalid1 لوگ خوامخوا ایسے فضول لوگ کے ساتھ وقت ضائع نہ کریں ۔۔ یہ اللہ کا حکم ھے ملاں کا نہیں اور یہ مسلمان عورتوں کے لئے ھے لیبرل سیکولر فاحشہ عورتوں کے لئے نہیں ھے
اردو
0
0
0
12
Ihsa Ul Haq
Ihsa Ul Haq@IhsaUl·
@RShahzaddk اگر سائنسدان جنوں کا وجود مان لیں تو ضروری نہیں کہ بجلی ھی بنائیں کوئی اور مفید کام بھی جنوں سے لے سکتے ھیں ۔۔ بشیر الدین صاحب نے راستہ تو دکھا دیا
اردو
0
0
0
23
RAShahzaddk
RAShahzaddk@RShahzaddk·
🚨جنوں سے بجلی بنانے کی حقیقت سلطان بشیر الدین محمود جو ڈی جی صاحب کے والد ان پر ایک الزام یہ جنوں سے بجلی بنانے کا لگا رہے ایٹمی سائنسدان کے علاوہ وہ اسلامی سکالر، مصنف اور فلسفی بھی ہیں۔ وہ اسلام اور سائنس کو جوڑنے پر زور دیتے ہیں اور کئی کتابیں لکھ چکے ہیں، جیسے “الجزائر سے اسلام آباد” اور “سائنس اور اسلام” ہے ان کی ایک تھیوری ہے قرآن مجید میں سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جنوں پر کنٹرول کا ذکر ہے (جو بڑے بڑے کام کرتے تھے) جن ایک “پلازما” یا “انرژی فارم” کی مخلوق ہیں جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے جدید سائنس میں ہم “پلازما” کو کنٹرول کر کے بجلی بناتے ہیں (جیسے فیوژن ری ایکٹرز میں) اگر ہم جنوں کو “سلیمانی طریقے” سے (یعنی قرآن کے علم سے) کنٹرول کر لیں تو وہ ہمارے لیے لامحدود مفت بجلی پیدا کر سکتے ہیں، بالکل جیسے حضرت سلیمان کے دور میں کرتے تھے۔ اب وہ عام انسان نہی بہت بڑے سائنسدان اور ایٹمی ریکٹر بنانے والے تھے ایک تھیوری پیش کی جدید سائنس میں جتنی ترقی وہ پہلے تھیوری اور خیال ہوتا پھر تحقیق ہوتی کبھی ناکامی ہو جاتی مگر اسی سے جدید سائنس بھی جنم لیتی ہے بڑے جینیس سائنسدان ایسی باتیں کرتے جو عام بندہ بسا اوقات سمجھ نہی سکتا ہے آئن سٹائن نے یہ نظریہ دیا تھا کہ کائنات نہ پھیل رہی ہے، نہ سکڑ رہی ہے، بلکہ ہمیشہ سے ایک ہی سائز کی ہے۔ اس کا بہت مذاق اڑا اور اسے اس کی حماقت کہا گیا بعد میں واپس لینی پڑی تو بڑے ذہن اسی طرح کام کرتے آوٹ آف باکس سوچتے تبھی تو وہ عام بندے سے اوپر ہوتے ہیں
اردو
19
64
335
13.3K