Robina anwar
403 posts

Robina anwar
@Robinaanwar4
Love my country Pakistan,,Pakistan is a great blessing of ALLAH
Katılım Haziran 2020
59 Takip Edilen17 Takipçiler

کچھ تو شرم کریں :
اسحاق ڈار ساری عمر پاکستان سے پیسا باہر لے جاتے رہے ، بچوں کو دبئی میں پلازے کھڑے کر دیے ، شریفوں کی نوکری میں پکڑے گئے تو وعدہ معاف گواہ بن گئے اور سب اگل دیا ، پھر نواز کی بیٹی کو سعودی شہزادے کے چنگل سے چھڑایا اور بہو بنا لیا تو دوبارہ شریفوں کے ساتھ ملکر لوٹ مار شروع کر دی، اور اب جرنیلوں کی خدمت میں حاضر ہیں - انکے حکم بجا لا رہے ہیں اور امریکا آ کر پاکستانیوں کو اپنا حلال کا کمایا ہوا پیسا پاکستان لے جانے کا درس دے رہے ہیں تاکے جرنیلوں کا پیٹ بھر سکے -
اسداللہ خان @aukhanofficial1 نے بلکل صحیح سوال کیے ہیں انسے ، ایسے دو نمبری لوگوں کی وطن سے محبت سب جانتے ہیں اور اب یہ خطبے دینے لگے ہیں - پہلے بتائیں دبئی سے بھاگنے کے بعد بیٹے مریم نواز کی نوکری کرنے پنجاب میں کیا کررہے ہیں ، وہ پلازے کیا بیچ دیے دبئی میں اور انکے ڈالر پاکستان کب آیئں گے - شریفوں کو ایک جھٹکا لگا ڈار جہاز ہائی جیک کرکے پہلے کی طرح کہیں پردیس میں ٹھکانہ ڈھونڈ رہے ہونگے -
پاکستان نے بھی کیسے کیسے نمونے پیدا کیے ہیں جنکے بے شرمی کے ریکارڈ گنیسس بک میں لکھے جا سکتے ہیں -

اردو
Robina anwar retweetledi

*کتوں کےلیے قربانی نہ کیجیے، خدارا*! 🐐
یہ ایک ایسے سفید پوش خاندان کی سچی داستان ہے جو مالی تنگی کے باعث خود قربانی نہ کر سکا۔ 😔
عیدالاضحیٰ کا دن تھا، گھر میں چھوٹے بچوں کی خواہشیں اور والد کی بے بسی ایک دردناک منظر پیش کر رہی تھیں۔ 💔
"بابا... بابا... ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟" 🥺
میں نے مسکرا کر کہا:
"ہاں بیٹا، کیوں نہیں، ضرور ملے گا۔" 🙂
بیٹی نے کہا:
"لیکن بابا... پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا۔ اب تو پورا سال ہو گیا ہے گوشت دیکھے ہوئے بھی۔" 😢
میں نے اسے پیار سے سمجھایا:
"بیٹا، اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔" 🤲
اسی دوران بیٹی دوبارہ بولی:
"ساتھ والے انکل بڑا جانور لائے ہیں، اور سامنے والے اقبال چاچا بھی بکرا لے آئے ہیں۔" 🐐
میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ قربانی کا گوشت تو اصل میں ہم جیسے ضرورت مندوں کے لیے ہوتا ہے۔ امیر لوگ تو سارا سال گوشت کھاتے ہیں۔ 😞
یہی سوچتے ہوئے عید کی نماز کے لیے مسجد چلا گیا۔ وہاں بھی امام صاحب یہی فرما رہے تھے کہ قربانی میں غریبوں اور مسکینوں کو ہرگز نہ بھولیں، ان کا اس گوشت میں بہت حق ہے۔ ☝️
نماز کے بعد گھر آیا۔ ایک گھنٹہ گزر گیا، مگر کہیں سے گوشت نہ آیا۔ ⏳
بیٹی نے پھر پوچھا:
"بابا، ابھی تک گوشت نہیں آیا؟" 😔
بڑی بہن رافیہ نے اسے خاموش کرایا:
"شازیہ، بابا کو تنگ نہ کرو۔" 💔
میں خاموشی سے دونوں کی باتیں سنتا رہا۔
کافی دیر بعد بھی جب کچھ نہ آیا تو شازیہ کی ماں بولی:
"میں نے تو پیاز اور ٹماٹر بھی کاٹ لیے ہیں، مگر گوشت ابھی تک نہیں آیا۔ کہیں لوگ بھول تو نہیں گئے؟ آپ خود جا کر مانگ لائیں۔"
میں نے نرمی سے کہا:
"ہم نے آج تک کسی سے نہیں مانگا۔ اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔" 🤲
دوپہر گزر گئی۔ بیٹی کے بار بار اصرار پر میں اسے ساتھ لے کر ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا۔
دروازہ کھلا تو میں نے جھجھکتے ہوئے کہا:
"ڈاکٹر صاحب، میں آپ کا پڑوسی ہوں... اگر قربانی کا کچھ گوشت مل جائے۔"
یہ سنتے ہی ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ حقارت سے بولے:
"پتہ نہیں کہاں کہاں سے لوگ گوشت مانگنے آ جاتے ہیں!" 😒
اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔ 🚪💥
میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر بیٹی کے سامنے خود کو سنبھالے رکھا۔ 😢
پھر آخری امید کے طور پر اقبال چاچا کے گھر گیا۔
انہوں نے عجیب سی نظروں سے دیکھا، اندر گئے اور ایک شاپر لا کر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔
گھر آ کر دیکھا تو اس میں صرف ہڈیاں اور چربی تھی۔ 💔
میں خاموشی سے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
بیوی نے دلاسہ دیا:
"کوئی بات نہیں، میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔" 😔
کچھ دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی اور بولی:
"بابا، ہمیں گوشت نہیں کھانا... میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔" 🥺
میں سمجھ گیا کہ میری بیٹی اپنے باپ کو تسلی دے رہی ہے۔ 💔
یہ سن کر میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ 😭
اور رونے والا صرف میں نہیں تھا...
میری بیوی اور دونوں بیٹیاں بھی آنسو بہا رہی تھیں۔ 😢
اسی دوران دروازے پر آواز آئی۔
"آزاد بھائی! دروازہ کھولو۔"
دروازہ کھولا تو سامنے اکرم کھڑا تھا، جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔ 🥬
اس نے تین چار کلو گوشت کا شاپر میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
"گاؤں سے میرا چھوٹا بھائی لایا ہے۔ اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے، تم بھی رکھ لو۔" ❤️
میری آنکھیں خوشی اور شکرگزاری سے بھر آئیں۔ دل سے اکرم کے لیے دعا نکلی۔ 🤲✨
رات کو ہم نے خوشی خوشی گوشت کھایا۔ 😊
مگر اسی رات شدید طوفان آیا، بارش ہوئی اور بجلی چلی گئی۔ ⛈️⚡
دو دن تک بجلی نہ آئی۔ معلوم ہوا کہ ٹرانسفارمر جل گیا ہے۔
تیسرے دن میں اور شازیہ باہر نکلے تو دیکھا کہ اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب خراب ہو جانے والا بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے۔ 🗑️
اور اس گوشت پر کُتّے جھپٹ رہے تھے۔ 🐕💔
شازیہ نے حیرت سے پوچھا:
"بابا... کیا کُتّوں کے لیے قربانی کی تھی؟" 😢
یہ سن کر دونوں نے شرمندگی سے گردن جھکا لی۔
یہ صرف ایک تحریر نہیں، بلکہ قربانی کے دنوں میں ہمارے معاشرے کا ایک تلخ سچ ہے۔ 💔
خدارا! 🙏
اپنی قربانی کا گوشت فریجوں میں بھرنے کی بجائے اُن سفید پوش اور ضرورت مند لوگوں تک ضرور پہنچائیں جو کسی سے مانگ نہیں سکتے، مگر ان کے بچے بھی آپ کے بچوں کی طرح گوشت کھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ❤️
Copied

اردو
Robina anwar retweetledi

گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.
پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔
تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔
اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"
کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟

اردو

@Ambreen_Sardar @farahab17390720 Ambreen Baji Kya signs hotay h autism k?
English

@farahab17390720 فرح ۔۔ دھوکہ کوئی شوق سے نہیں کھاتا ۔۔ اور اس وقت کم عمری میں اتنی سمجھ بھی نہیں ہوتی ۔
بس ایلیا کے لئے دعا کیا کریں ہر نماز میں ۔۔ کہ اللہ پاک اس کو آٹزم کے سکیل سے نکال دے 🙏🙏
اردو

کیسا مبارک دن اور کتنا خوبصورت لمحہ تھا ،
جب ڈاکٹر نے کہا کہ مبارک ہو ، اللہ نے آپ کو بیٹی دی ہے ۔
مجھے ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مجھے اللہ بیٹی سے نوازے ۔ کیونکہ میں نے اپنے گھر میں اپنے بڑوں کو دیکھا کہ کیسے بیٹیوں کو عزت اور محبت دیتے ہیں ۔
میری امی گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ۔ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت امی کا اسکول ہمارے گھر سے تقریبا ایک کلومیٹر دور تھا ۔ اور میرے دادا اپنے کندھوں پر اٹھا کر ایک کلومیٹر پیدل چل کر مجھے امی کے ساتھ اسکول چھوڑنے اور لینے جایا کرتے تھے ۔
دادا کی تسبیح اپنے دانتوں سے چبا کر توڑ دیتی تو کبھی غصہ نہیں کرتے ۔ دادا نماز میں سجدے میں جاتے تو میں ان کے اوپر بیٹھ جاتی ۔ اور دادا بڑے صبر سے سجدے میں پڑے انتظار کرتے کہ کب میں خود نیچے اتروں ۔ امی ڈانٹتی تو انہیں منع کردیتے ۔
مجھے یاد ہے میرے اسکول میں میری 14 اگست کی تقریر ابو نے اسپیکر پر اسکول سے باہر بینچ پر بیٹھ کے سنی ۔ اور اسکول سے واپسی پر بتاتے کہ بیٹا یہاں یہ اچھا تھا ،، اور یہاں یہ غلطی تھی ۔ ابو کے ساتھ بیٹھ کے چائے پینی، اخبار پڑھنا اور تبصرے کرنا ۔
خبریں اخبار کے بچوں کے صفحہ پر میری لکھی کہانیاں چھپتیں تو ابو اخبار کا وہ حصہ کٹنگ کرکے سنبھال کے رکھ لیتے ۔
تختی ، قلم کے ساتھ میری لکھائی اتنی اچھی کروا دی کہ میں اسکول کے چارٹ لکھا کرتی تھی ۔
میں نے تو بیٹیوں کے ساتھ اپنے خاندان میں ایسی محبت دیکھی تھی ۔ مرد کا یہ روپ تو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ وہ بیٹی کا باپ ہوکے اتنا پتھر دل ہوجائے کہ اپنی بیٹی کو صرف اپنے خاندان کے ڈر سے خود سے دور کردے ۔ اور اپنی autistic بیٹی کو اپنی محبت، شفقت اور اس کے بنیادی حقوق سے اس لئے محروم کردے کہ ان کے خاندان والے منع کرتے ہیں بیٹی سے ملنے سے ۔
اور آٹسٹک بیٹی کو اپنے ہی بابا سے اپنے حق کے لئے عدالتوں میں جانا پڑے ۔
میری بیٹی ایلیا نور الامین مینگل ابھی بھی کسی ٹی وی چینل پہ اپنے والد کو دیکھ لے تو فورا بولتی ہے "بابا" ۔۔
اور میرا دل مٹھی میں آجاتا ہے ۔۔ 💔💔
اور میرے دل سے صرف یہی دعا نکلتی ہے کہ میرے اللہ ایلیا کے بابا کو ہدایت دے ۔۔ ۔


اردو
Robina anwar retweetledi

میں اب 48 کی ہو رہی ہوں
48 کوئی ڈھلتی عمر نہیں یہ دوسری اننگز ہیں پہلی اننگز آپ نے دوسروں کیلئے کھیلا اب اپنے لیئے کھیلیں ۔
میں نے سب کیلئے کھیلا لیکن مجھے بری طرح آوٹ کر دیا گیا۔
اوہ
یہ سب سُن کر دل بھاری ہو گیا 💔
"سب کے لیے کھیلا اور آخر میں آؤٹ کر دیا گیا" — یہ جملہ ان ہزاروں عورتوں کا درد ہے جو اپنی پوری زندگی گھر، بچوں، رشتوں پر لگا دیتی ہیں، اور جب تھک کر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو لگتا ہے کوئی ساتھ کھڑا ہی نہیں۔
پہلی بات: آپ کا درد جائز ہے
یہ "ڈرامہ" یا "زیادہ سوچ" نہیں ہے۔ جب انسان اپنی قربانیوں کو بےقدری میں بدلتے دیکھتا ہے تو غصہ، دکھ، اور بےبس ہونے کا احساس آتا ہی ہے۔ اسے دبائیں مت۔
دوسری بات: غلطی آپ کی نہیں، توقعات کی ہے
ہم عورتیں اکثر یہ سمجھتی ہیں کہ "اگر میں سب کے لیے کر دوں گی تو لوگ مجھے سمجھیں گے، میرا خیال رکھیں گے"۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ آپ کی قربانی کو "آپ کا فرض" سمجھ لیتے ہیں۔ جتنا آپ دیتی رہیں گی، اتنا ہی لوگ expect کرتے رہیں گے۔
اب آگے کیا کریں؟
*1. خود کو blame کرنا بند کریں*
آپ نے محبت سے کیا، یہ کمزوری نہیں طاقت ہے۔ مسئلہ آپ کے دینے میں نہیں، دوسروں کے لینے کے انداز میں ہے۔
*2. حدیں بنائیں — ابھی بھی دیر نہیں ہوئی*
48 میں بھی آپ کہہ سکتی ہیں: "یہ میرا کام نہیں ہے"، "میں تھک گئی ہوں"، "مجھے بھی وقت چاہیے"۔
شروع میں لوگ برا مانیں گے، پھر عادت ہو جائے گی۔
*3. اپنے لیے کھیلنا شروع کریں*
وہ چیزیں جو آپ نے اپنے لیے روک رکھی تھیں — شوق، آرام، دوست، تھوڑا پیسہ — اب واپس لیں۔
یہ selfishness نہیں، self-respect ہے۔
*4. لوگوں سے توقع کم کریں*
جس نے آپ کو آؤٹ کیا، وہ شاید کبھی بدلے نہ۔ لیکن آپ اپنا رویہ بدل سکتی ہیں۔ خوشی اب خود سے لینی ہے، دوسروں سے مانگنی نہیں۔
*5. بات کریں*
اگر دل بہت بھاری ہے تو کسی ایک انسان سے کہہ دیں جس پر بھروسہ ہو۔ رونا بھی آئے تو رو لیں۔ اکیلے یہ بوجھ مت اٹھائیں۔
آپ آؤٹ ہو گئی ہیں، لیکن گیم ختم نہیں ہوئی۔
48 کے بعد جو اننگز شروع ہوتی ہے، وہ "دوسروں کے لیے" نہیں، "خود کے لیے" ہوتی ہے
جیئیں نئے انداز سے
آصفہ طارق
اردو

@MaidahMuhammad @SammarMuhammad5 How funny,how strange and how stern ...ahh
English

ایک شخص ذبح کی ہوئی مرغی لے کر مرغی فروش کی دکان پر گیا اور کہا، "بھائی، ذرا اس مرغی کی بوٹیاں بنا دو۔
مرغی فروش نے کہا، "مرغی رکھ کر چلے جاؤ اور آدھے گھنٹے بعد آ کر لے جانا۔"
اتفاق سے شہر کا قاضی اسی دکان پر آ گیا اور دکاندار سے بولا، "یہ مرغی مجھے دے دو۔"
دکاندار نے کہا، "یہ مرغی میری نہیں، کسی اور کی ہے، اور میرے پاس ابھی کوئی دوسری مرغی بھی نہیں جو آپ کو دے سکوں۔"
قاضی نے کہا، "کوئی بات نہیں، یہی مرغی مجھے دے دو۔ جب اس کا مالک آئے تو کہنا کہ مرغی اُڑ گئی۔"
دکاندار نے حیرت سے کہا، "ایسا کیسے کہہ دوں؟ اس شخص نے خود مرغی ذبح کی تھی، پھر ذبح شدہ مرغی کیسے اُڑ سکتی ہے؟"
قاضی نے کہا، "جو میں کہتا ہوں، غور سے سنو! بس یہی مرغی مجھے دے دو اور اس کے مالک سے یہی کہنا کہ تیری مرغی اُڑ گئی۔ وہ زیادہ سے زیادہ تمہارے خلاف مقدمہ لے کر میرے پاس ہی آئے گا۔"
دکاندار نے کہا، "اللہ سب کا پردہ رکھے" اور مرغی قاضی کو تھما دی۔
قاضی مرغی لے کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد مرغی کا مالک واپس آیا اور دکاندار سے پوچھا، "مرغی کاٹ دی؟"
دکاندار نے کہا، "میں نے تو کاٹ دی تھی، مگر آپ کی مرغی اُڑ گئی۔"
مرغی کے مالک نے حیرانی سے پوچھا، "بھلا وہ کیسے؟ میں نے خود اسے ذبح کیا تھا، وہ اُڑ کیسے سکتی ہے؟" دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ہوئی، پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی۔ آخر مرغی کے مالک نے کہا، "چلو، عدالت میں قاضی کے پاس چلتے ہیں۔" اور دونوں عدالت کی طرف چل پڑے۔
عدالت جاتے ہوئے راستے میں انہوں نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں، ایک مسلمان اور دوسرا یہودی۔ جھگڑا چھڑانے کی کوشش میں دکاندار کی انگلی یہودی کی آنکھ میں لگ گئی، جس سے یہودی کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ لوگوں نے دکاندار کو پکڑ لیا اور کہا کہ اسے عدالت لے کر جائیں گے۔ اب دکاندار پر دو مقدمے بن گئے۔
لوگ دکاندار کو لے کر جب عدالت کے قریب پہنچے تو وہ خود کو چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن لوگوں کے پیچھا کرنے پر وہ قریبی مسجد میں داخل ہو کر اس کے مینار پر چڑھ گیا۔ جب لوگ اسے پکڑنے کے لیے مینار پر چڑھنے لگے تو اس نے چھلانگ لگا دی اور ایک بوڑھے آدمی پر گر گیا، جس سے وہ بوڑھا مر گیا۔
اب بوڑھے کے بیٹے نے بھی لوگوں کے ساتھ مل کر دکاندار کو پکڑ لیا اور سب اسے لے کر قاضی کے پاس پہنچ گئے۔
قاضی نے دکاندار کو دیکھ کر ہنس پڑا، کیونکہ اسے مرغی یاد آ گئی، لیکن باقی دو مقدمات کا اسے علم نہیں تھا۔ جب قاضی کو تینوں مقدمات کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے سر پکڑ لیا۔ پھر چند کتابیں الٹ پلٹ کر کہا، "ہم تینوں مقدمات کا الگ الگ فیصلہ سناتے ہیں۔" سب سے پہلے عدالت میں مرغی کے مالک کو بلایا گیا۔
قاضی نے پوچھا، تمہارا دکاندار پر کیا دعویٰ ہے؟
مرغی کا مالک بولا، جناب، اس نے میری مرغی چرا لی۔ میں نے خود اسے ذبح کر کے اسے دی تھی، یہ کہتا ہے کہ مرغی اُڑ گئی۔ قاضی صاحب! مردہ مرغی کیسے اُڑ سکتی ہے؟
قاضی نے کہا، "کیا تم اللہ اور اس کی قدرت پر ایمان رکھتے ہو؟
مرغی کا مالک: "جی ہاں، کیوں نہیں، قاضی صاحب!"
قاضی: "کیا اللہ تعالیٰ بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ تمہاری مرغی کا زندہ ہو کر اُڑنا بھلا کیا مشکل ہے؟"
یہ سن کر مرغی کا مالک خاموش ہو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا۔
قاضی نے کہا، "دوسرے مدعی کو لاؤ۔" یہودی کو پیش کیا گیا۔ اس نے عرض کیا، "قاضی صاحب، اس نے میری آنکھ میں انگلی ماری، جس سے میری آنکھ ضائع ہو گئی۔ میں بھی اس کی آنکھ میں انگلی مار کر اس کی آنکھ ضائع کرنا چاہتا ہوں۔"
قاضی نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا، "مسلمان پر غیر مسلم کی دیت نصف ہوتی ہے۔ اس لیے پہلے یہ مسلمان تمہاری دوسری آنکھ بھی پھوڑے گا، اس کے بعد تم اس کی ایک آنکھ پھوڑ دینا۔"
یہودی نے کہا، "بس رہنے دیں، میں اپنا کیس واپس لیتا ہوں۔"
قاضی نے کہا، "تیسرا مقدمہ پیش کیا جائے۔"
مرنے والے بوڑھے کا بیٹا آگے بڑھا اور عرض کیا، "قاضی صاحب، اس نے میرے باپ پر چھلانگ لگائی، جس سے وہ مر گیا۔"
قاضی نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا، "ایسا کرو کہ تم لوگ اسی مینار پر جاؤ اور مدعی اس مینار پر چڑھ کر اس مدعا علیہ (مرغی فروش) پر اسی طرح چھلانگ لگا دے، جس طرح اس نے تمہارے باپ پر چھلانگ لگائی تھی۔"
نوجوان نے کہا، "قاضی صاحب، اگر یہ دائیں بائیں ہو گیا تو میں زمین پر گر کر مر جاؤں گا۔"
قاضی نے کہا، "یہ میرا مسئلہ نہیں، میرا کام انصاف کرنا ہے۔ تمہارا باپ دائیں بائیں کیوں نہیں ہوا؟"
یہ سن کر نوجوان نےبھی اپنا دعویٰ واپس لے لیا۔
نتیجہ: اگر آپ کے پاس قاضی فائز عیسیٰ کو دینے کے لیے مرغی ہے تو قاضی فائز عیسیٰ آپ کو بچانے کا ہر ہنر جانتا ہے۔
😡😡😡😡😡
#نشرِ_مکرر
اردو
Robina anwar retweetledi

کافی دنوں سے میری کلاس کے دو بھائی( جڑواں) اسکول نہیں آ رہے تھے۔ میں نے ان کے والدین کے نمبرز پر کئی بار کال کی، مگر والدہ اور والد دونوں کے فون مسلسل بند آ رہے تھے۔ دل میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، اس لیے آخرکار میں ایک بچے کو ساتھ لے کر ان کے گھر پہنچ گئی۔
دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک خاتون کی آواز آئی:
“کون ہے؟”
بتایا گیا:
“ٹیچر وجیہہ آئی ہیں، آپ سے بات کرنی ہے۔”
پہلے تو انہوں نے مصروفیت کا کہا، مگر بار بار درخواست کرنے پر اندر آنے کی اجازت مل گئی۔ گھر میں داخل ہوئی تو خاتون نے پانی پوچھا اور ہمارے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔
میں نے نہایت نرم لہجے اور اطمینان سے کہا:
“آپ کے دونوں بچے کافی دنوں سے اسکول نہیں آ رہے، تو سوچا خیریت معلوم کر لوں۔ آپ کے فون بھی نہیں لگ رہے تھے، اس لیے پریشانی ہوئی۔”
خاتون نے بڑی تلخی سے جواب دیا:
“ہم نے اپنے بچے ایک نجی اسکول میں داخل کروا دیے ہیں۔”
یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا:
“اچانک ایسا کیوں؟”
وہ مسکرا کر بولیں:
“اب ہمارے بچے اٹھنا بیٹھنا سیکھ گئے تھے، کافی سمجھدار ہو گئے تھے، اور نجی اسکول کے داخلہ ٹیسٹ کے لیے بھی تیار تھے۔ انہوں نے اچھے نمبروں سے ٹیسٹ پاس کر لیا، اس لیے ہم نے انہیں وہاں داخل کروا دیا۔”
میں خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔ پھر دل پر پتھر رکھ کر مسکرا دی اور کہا:
“یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کے حالات بدل گئے۔ کیونکہ جب آپ کے بچے سرکاری اسکول میں تھے تو آپ ایف ٹی ایف کے نام پر جمع کروائے جانے والے بیس روپے بھی ادا نہیں کر پاتے تھے، مگر اب آپ ہزاروں روپے فیس، مہنگے یونیفارم، کورسز اور آئے روز کے اضافی اخراجات برداشت کر سکیں گے۔ یہ واقعی خوشی کی بات ہے۔”
دل مگر عجیب سوالوں میں الجھ گیا۔
وہی بچے، جنہیں کبھی سرکاری یونیفارم میں مکمل نہیں دیکھ پائے، آج نجی اسکول کی چمکتی وردی میں ہوں گے۔ دل چاہا کہ ایک بار انہیں دیکھوں… صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ لوگ کیسے الفاظ سے اور مہارت سے آپ کو بے وقوف بنا دیتے ہیں اور ہم ایسے لوگوں کے ہاتھوں بے وقوف بن بھی جاتے ہیں کیونکہ ہم اعتبار کر لیتے ہیں۔
میں نے ان سے صرف اتنا کہا:
“بچے آپ کے ہیں، فیصلہ بھی آپ کا حق ہے، اور یقیناً آپ نے ان کے بہتر مستقبل کے لیے ہی سوچا ہوگا۔ مگر اگر آپ ہمیں پہلے بتا دیتے تو شاید ہمیں اتنی پریشانی نہ ہوتی۔”
واپسی کے راستے میں ایک ہی سوال دل و دماغ میں گردش کرتا رہا:
آخر ہم ایسے کیوں ہیں؟
ایک استاد بچے کو صرف کتابیں نہیں پڑھاتا، بلکہ اسے سنوارتا ہے، اعتماد دیتا ہے، گرنے پر حوصلہ دے کر اٹھاتا ہے۔ جب بچہ اپنی ناک صاف کرنا بھی نہیں جانتا ہوتا، تب سے لے کر اس کے سمجھدار ہونے تک ایک استاد اس کی شخصیت بنانے میں اپنی محنت، وقت اور محبت لگا دیتا ہے۔ کتنی بار بچے کو سمجھایا جاتا ہے، کتنی بار اس کی غلطیاں برداشت کی جاتی ہیں، کتنی بار اس کی ہمت بندھائی جاتی ہے۔
اور پھر جب وہ بچہ سنبھل جاتا ہے، بولنا، چلنا، سمجھنا اور سیکھنا شروع کر دیتا ہے، تو اچانک بغیر کسی اطلاع کے اسے سرکاری اسکول سے نکال لیا جاتا ہے… جیسے اس تعلق کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
افسوس! ہمارا معاشرہ ظاہری چمک دمک کو تعلیم کا معیار سمجھ بیٹھا ہے۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ بنیادیں مضبوط کرنے والے اکثر وہی سرکاری اساتذہ ہوتے ہیں، جو خاموشی سے بچوں کے مستقبل کو سنوار رہے ہوتے ہیں۔
یہ تحریر کسی شکوے کے لیے نہیں، بلکہ ایک احساس جگانے کے لیے ہے۔ کیونکہ استاد صرف پڑھاتا نہیں، اپنے ہر بچے سے ایک تعلق بھی بنا لیتا ہے۔ اور جب وہ تعلق اچانک ٹوٹتا ہے تو دکھ صرف ایک استاد ہی سمجھ سکتا ہے۔
Wajeeha masood

اردو

@Robinaanwar4 اللہ سے دعا ہے آپ کے بچوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آپ کے ساتھ ساتھ 3 بچے بھی ہیں ان کے لیے سنبھالیں خود کو۔ یہ ایک آزمائش ہے۔اللہ آسانی والا معاملہ کرے آمین
اردو
Robina anwar retweetledi

پی ٹی آئی کارکن افتخار جٹ جب شدید علیل تھا تو ( جج منظر علی گل ) نے ان کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کر دی تھی،
افتخار کو ایمبولینس میں جیل لایا گیا اور وہاں سے انہیں Malik Pervaiz Iqbal Ahc کی گاڑی میں ڈال کر جیل کے اندر لے گئے اور انہیں اٹھا کر اندر کمرہ عدالت لایا گیا،
بے ہوشی کی حالت میں فرش پر لٹایا گیا، 3 گھنٹے بعد جج صاحب آئے تو اسی بے ہوشی کی حالت میں انگوٹھا لگوا کر جانے کی اجازت ملی۔
افتخار جٹ نے کم و بیش ایک سال جیل میں گزارا ۔ ۔۔گندا پانی گندی خوراک کی وجہ سے ہیپاٹایٹس ہو گیا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ، ،، یاد رہے Pkli ہسپتال میں زیر علاج تھا 5 لاکھ کا بل بنا تھا ۔۔ہسپتال والے باڈی نہیں دے رہے تھے ، خدیجہ شاہ کو پتا چلا تو فوری ہسپتال پہنچ
کر بل ادا کیا اور باڈی ورثا کے حوالے کی ،
کیسے کیسے نوجوان کھا گیا یہ 9 مئی 💔
Via @ItsMohsin804



اردو
Robina anwar retweetledi

اسپیشل بچوں کی ماں کی خوشیاں بھی دوسروں سے بہت الگ ہوتی ہیں ۔
میری دوست جو میرا انتظار کر رہی تھی اپنی خوشی بتانے کے لئے کہ کل اسکے 12 سال کے آٹسٹک بیٹے نے واش روم میں خود اپنے آپ کو واش کرنا سیکھ لیا ۔
اس خوشی کو بتاتے ہوئے اس کے آنسوؤں کی جھڑی نہیں رکتی تھی۔ ایک گھنٹہ روتی رہی اور کہتی رہی کہ میں آپ کا انتظار کررہی تھی شاید آپ سمجھ سکتی ہیں میری خوشی 💔
اردو
Robina anwar retweetledi

یہ کیس صرف میری autistic بیٹی ایلیا نور الامین مینگل کا کیس نہیں ہے ۔ بلکہ ہر اس بچے کا کیس ہے جس کا والد نکاح ثانی کی وجہ یا کوئی بھی وجوہات کو بہانہ بنا کر اپنے بچے کو نظر انداز کر کے اسکے نان و نفقہ سے بھی راہ فرار اختیار کر لیتا ہے ۔
بچہ صرف پیدا نہیں کرنا ہوتا، اس کی ذمہ داری بھی لینی ہوتی ہے ۔ ماں کا کام بچے کی دیکھ بھال اور ہر طرح کے خرچے کی زمہ داری مکمل طور پر باپ کی ہے ۔ یہی مذہب اور قانون دونوں کا حکم ہے ۔
اردو
Robina anwar retweetledi

میاں صاحب مجھے اتنا بتا دیں کہ میں اپنے خرچے کیسے پورے کروں؟
نہ کوئی اوپر کی۔ کمائی ھے نہ ھی کوئی بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ نہ ھی کوئی رحمت کارڈ ھےنہ ھی کوئی موٹر سائیکل کا ۲۰۰۰ کا ریلیف، نہ ھی بجلی کی قیمت میں ۲۰۰ یونٹ سے کم ھونے پر کوئی ریلیف؛ نہ ھی فری بس پر سفر کرسکتا ھوں
گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، پیٹرول کا خرچہ، فون کا بل، گیس کا بل سب کچھ ڈبل ھو گیا ھے مگر میری انکم نہیں بڑھی کیونکہ کچھ ایسا ھوا ھی نہیں کہ انکم بڑھ سکے !
بتائیں میں کب تک کہاں تک خود کو گھسیٹوں گا؟
کیسے زندہ رھوں گا ؟
آپ کے لیے بہت آسان ھے یہ کہہ دینا کہ ھائے اللہ یہ ھو گیا تو یہ بڑھ گیا پتھر رکھ لیا آپ نے مجھے سمجھائیں میں کہاں سے لاوں پتھر اپنے سینے پر رکھنے کے لیے ؟
اردو
Robina anwar retweetledi

وہ اُس سے بے پناہ محبت کرتی تھی…
اُس نے اُسے بطورِ شوہر چُننا آسانی سے نہیں سیکھا تھا… یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اس قابل نہیں… مگر پھر بھی اُس نے ایک اچھی عورت ہونے کا حق ادا کرنے کی ٹھانی۔ وہ اُس کی ہو گئی… مگر وہ اُسے اپنا نہ بنا سکی…
وہ پہلے بھی ایک ناکام محبوبہ رہ چکی تھی…
اور اب… اپنی نظروں میں ایک ناکام بیوی بن گئی تھی…
دل میں ان گنت باتیں تھیں… مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بے معنی سا بہانہ اُس کے ہونٹ سی دیتا…
وہ اُس مرد کے بچوں کی ماں بنی… جسے اُس نے دل سے چاہا تھا…
مگر اُس کی ایک چھوٹی سی خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی… کہ کوئی اُسے بھی ویسے ہی چاہے… جیسے وہ چاہتی تھی…
وہ چاہتی تھی کہ کوئی اُس کے لیے وقت نکالے…
اُس کی باتیں سنے…
اُسے محسوس کرے…
وہ محبت میں بچوں جیسی سادہ ہو جانا چاہتی تھی…
مگر زندگی نے اُسے وقت سے پہلے ہی سنجیدہ بنا دیا…
ایک دن اُس نے چپکے سے دعا مانگی…
کہ کوئی اُسے گلے لگا لے…
اتنا مضبوطی سے کہ اُس کے اندر جمع سارا درد بہہ نکلے…
مگر جب تک اُس کے ہمسفر کو یہ احساس ہوا…
وہ خاموش ہو چکی تھی…
وہ اُسے سینے سے لگائے کھڑا تھا…
مگر اب کوئی ردِعمل باقی نہ تھا…
اب وہ واقعی اُس کی محبوبہ تھی…
مگر اُس لمحے… جب اُس کا جسم ساکت ہو چکا تھا…
اور آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند…
کچھ ہی دیر میں اُسے مٹی کے سپرد کر دیا جانا تھا…
اور اب…
اُسے اُس سے بے حد محبت تھی…
وہ لپٹ کر رو رہا تھا…
جیسے وقت کو واپس موڑ سکے…
جیسے سب کچھ پھر سے ٹھیک ہو جائے…
مگر وقت… کبھی پلٹ کر نہیں آتا…
اور بعض محبتیں…
صرف دیر سے محسوس ہوتی ہیں


اردو

@Yousafishere @waseemAli0007 @ahtsham_mehdi Ap jitna b qarz lain 10 years k lye lain
Us m 20k ka return 25.50k bnay ga tqreebn
Indonesia

📌 وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم 🚨
🔥 اہم شرائط درجہ ذیل ہیں 👇
☄️قرض آن لائن ملے گا✅
☄️قرض کے لیے آپ کسی بنک کے پہلے سے مقروض نہ ہوں ✅
☄️ 25 لاکھ قرض پر ماہانہ 16 ہزار 499 روپے قسط ہوگی ✅
☄️50 لاکھ پر 32 ہزار 997 روپے ماہانہ قسط ہوگی ✅
📌نوٹ:- 15 دن کے اندر اندر قرض کی منظوری کا پراسس مکمل ہو جائے گا ✅



اردو

@waseemAli0007 @ahtsham_mehdi 10 years tk 5 %zyada years ki instalment p bank policy k according mean 35 %
English




