Zeshan Syed
26.3K posts

Zeshan Syed
@ZeshanSyed08
Foreign & Diplomatic Affairs, Court Reporter at @NeoNewsUR @NaiBaat fellow at @InterNewsPakistan @MediaHouse https://t.co/trz1RbZRbO IHCJA.



For the first time ever, an Israeli newspaper just defended a Pakistani politician. Tells you a lot.

In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.





جو لوگ اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا اور ہم آئی ایم ایف پروگرام میں کیوں ہیں، میں ان سے یہی کہوں گا کہ ذرا سوچیں کہ پاکستان کو اس نہج تک کس نے پہنچایا؟ ہم کیوں اس قدر معاشی طور پر کمزور ہو گئے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا؟ حقیقت یہ ہے کہ یکم اپریل 2022 کو پاکستان تقریباً ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ آج جب ہم بڑی مشکل سے اس تباہی سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک نیا عالمی بحران ہماری معیشت پر آ گرا ہے۔ اس کے باوجود ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کے اثرات عوام پر کم سے کم منتقل ہوں۔ اسی لیے حکومت نے جہاں مجبوری میں قیمتیں بڑھائیں، وہیں وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کمی بھی کی—لیکن یہ بوجھ کہیں نہ کہیں سے پورا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے پاس اضافی وسائل موجود نہیں۔ ہم نے شعوری طور پر “ٹارگیٹڈ سبسڈی” کا راستہ اپنایا تاکہ ریلیف صرف ان لوگوں تک پہنچے جنہیں واقعی ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایک لینڈ کروزر والا بھی اتنا ہی فائدہ اٹھائے جتنا ایک موٹر سائیکل چلانے والا۔ اسی لیے دو پہیہ استعمال کرنے والے طبقات کے لیے خصوصی سبسڈی دی گئی۔ کسانوں کے لیے، جو ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، صوبائی حکومتوں نے کسان کارڈ اور دیگر پروگرامز کے ذریعے مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ زرعی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔ اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کرایوں میں بے تحاشا اضافہ نہ ہو اور مہنگائی پر قابو رکھا جا سکے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہیں—یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم سب اس صورتحال پر دلی رنجیدہ ہیں، کیونکہ اس نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی حکومتی پالیسی یا کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی بحران ہے، جو ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہوا۔ اسی لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھرپور اور جارحانہ کردار ادا کیا تاکہ اس جنگ کو روکا جا سکے—اور الحمدللہ، دنیا بھر میں پاکستان کی اس کوشش کو سراہا گیا۔ مشکل وقت ضرور ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آزمائشوں میں ہی مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہم حوصلہ، اتحاد اور امید کے ساتھ آگے بڑھیں، تو کوئی بحران ہمیں شکست نہیں دے سکتا—انشاءاللہ ہم اس مشکل سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔







