Sabitlenmiş Tweet
سیاسی کبوتر
18.3K posts

سیاسی کبوتر
@asim01934673
اسلام علیکم ورحمةوبرکةاللہ
خدا کی بستی Katılım Ocak 2023
2K Takip Edilen2K Takipçiler

تھانہ پیرودھائی کی حدود میں بچوں کے اغوا کی مبینہ کوشش، علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس
خیابان سر سید سیکٹر تھری میں بچے کو اغوا کرنے کی کوشش ناکام
میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔
والدین سے اپیل ہے کہ بچوں کو اکیلا نہ چھوڑیں، انہیں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں اور اپنے اردگرد مشکوک افراد پر نظر رکھیں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
اردو
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi

منقول:
جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا،
اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے
کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھا
تم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟"
چرواہا بس اتنا بولا:
اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا
برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔
گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔
نپولین نے انہیں بلا کر کہا
مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے
جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔
میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے
جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔
اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو
جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔
محمد کریم مسکرا کر بولے
میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔
نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا
ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی
وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔
مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔
الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا
اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔
محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے
تو نپولین نے کہا
میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی
بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی
جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔
اور محمد رشید رضا نے کہا تھا:
ایک جاہل قوم کے لیے انقلاب لانے والا
ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے
اپنے جسم کو آگ لگا دے۔


اردو
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi

عاصم منیر کو پورا بھروسہ ہے کہ جب وہ اسرائیل کی حفاظت کے لئے فوج بھیجے گا تو ایک بھی فوجی اسرائیل کی حفاظت اور فلسطینی مسلمانوں کو مارنے کے لئے احتجاج نہیں کرے گا نا نوکری چھوڑے گا نہ فوج میں کوئی اضطراب پیدا ہوگا۔ 70 سال سے اسرائیل کے خلاف منجن بیچنے والی فوج اپنے چیف کی عالمی قبولیت کے لئے اب اسرائیل کی خدمات کرنے کو تیار ہیں۔
یہ ہماری فوج کا اصل چہرہ ہے
اردو
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi
سیاسی کبوتر retweetledi

ڈاکہ خانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لُوٹو اور بھاگو۔۔۔
ابّا کی میراث سمجھ لیا ہے پاکستان کو
ⷶMαι∂αн Mυнαммα∂@MaidahMuhammad
شاعر کا مطلب ڈکیتی خانہ سمجھا اور پڑھا جائے۔
اردو
سیاسی کبوتر retweetledi

دل پھٹ گیا دیکھ کر۔۔۔۔ یا اللہ رحم کر فلسطین پر۔ x.com/ssaafiawoud/st…
اردو
سیاسی کبوتر retweetledi

ہم دنیا کا سب سے اہم ملک نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے یہ ملک تاقیامت رہنے کے لیے ہرگز نہیں بنایا نہ ہی یہ ملک اسلام کا کوئی قلعہ ہے۔ یہ ملک کفر کے سینے پر مونگ بھی نہیں دلتا اور اسکی جغرافیائی اہمیت اتنی ہے کہ اس جغرافیے کی بدولت ہمیں امریکہ کی روس کیساتھ جنگ بھی لڑنا پڑی اور امریکہ کی طالبان کیساتھ جنگ بھی لڑنا پڑی۔ ایک پڑوسی جس کے پاس بیش بہا معدنی وسائل ہیں اس سے تیل اور گیس نہیں خرید سکتے کہ عالمی پابندیاں ہیں۔ دوسرا پڑوسی بھی ہوسٹائل ہے۔ بھارت تو ازلی دشمن ہے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی سپر پاور اور ہمارے درمیان دنیا کے بلند ترین پہاڑ ہیں۔ بمشکل سڑک کا لنک ہے جو موسموں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں رہتا ہے۔ ٹرین کا تو خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔
ہمارے ملک کے بارہ کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی انکے پاس خوراک نہیں ، تعلیم نہیں ، صحت نہیں۔ ہمارے ملک پر بے تحاشا قرضہ ہے۔ ہمارے ملک کی ایکسپورٹس امپورٹس سے آدھی ہیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت نہیں آمریت ہے۔ ہمارے ملک میں عدالتوں کے اندر فوج کے ایجنٹ بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایک بھی ادارہ رشوت سے پاک نہیں ہے۔ ہمارا میڈیا کو سچ بولنے بھی نہیں دیا جاتا اور یہ میڈیا سچ بولنا بھی نہیں چاہتا۔ ہمارے ملک کی آدھی آبادی کی عمر تیس سے کم ہے۔ ہمارے ملک کے پاس ان کو دینے کے لیے روزگار نہیں ہے۔
معصوم بچوں سے زیادتی ، جعلی پولیس مقابلے ، ڈومیسٹک وائلنس ، آئس کے عادیوں کے ہاتھوں اموات ، دہشتگردی ، خودکش دھماکے اس ملک کی کرائم کی خبریں ہیں۔ ایک صوبے میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ دوسرے صوبے میں شدت پسندی غالب ہے۔ چار صوبوں میں جعلی حکومتیں ہیں۔ وفاق میں جعلی حکومت ہے۔ اشرافیہ کو ٹیکس چھوٹ ہے ، انکے لیے مراعات ہیں۔ حکمران طبقے کی تنخواہوں کو ہر سال دو گنا کردیا جاتا ہے غریب کی تنخواہ پانچ سال میں بھی دوگنا نہیں ہوتی۔
نوجوان طبقے کی دلچسپی ٹک ٹاک میں ہے۔ لیک ویڈیوز میں ہے۔ راتو رات امیر ہونے میں ہے۔ وقت ضائع کرنے میں ہے اور جھوٹے خواب دیکھنے میں ہے۔ ناف دکھانےوالے یا گاہے بگاہے لیک ویڈیوز والی خواتین افلوئنسرز ہیں۔ انکے لیے سپورٹس گراونڈز نہیں ہیں۔ انکے لیے معیاری تعلیم نہیں ہے۔ انکے سامنے کیرئیرز نہیں ہیں۔ اگر کوئی پڑھ لکھ جائے تو نوکری ہی موجود نہیں۔ نوکری موجود ہے تو سفارش نہیں۔ کام کرنا آتا ہے تو انٹرنیٹ نہیں۔ انٹرنیٹ ہے تو پے پال جیسی سروسز نہیں۔
دنیا میں عزت نہیں۔ امریکہ چھڑی کیساتھ اس ملک کے حکمرانوں کو ہانک رہا ہے۔ جہاں چاہتا ہے استعمال کررہا ہے۔ ہماری فارن پالیسی انکی جنبش ابرو کی محتاج ہے۔ عالمی میڈیا میں پاکستان کو ابھی افغان جنگ کی وجہ سے جگہ ملی۔ پھر مریدکے میں کریک ڈاون پر ملی۔ پھر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ملی۔ مینڈیٹ چھیننے کی وجہ سے ملی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ملی۔ ٹرمپ کو پالش مارنے کی وجہ سے ملی۔ مقبول ترین لیڈر کو جیل میں ڈالنے کی وجہ سے ملی۔ صحافیوں کو شہید اور لاپتہ کرنے کی وجہ سے ملی۔ پاسپورٹ کی رینکنگ بہت نیچے۔ عدالتوں میں انصاف دینے کی رینکنگ بہت نیچے۔ کوئی بھی مثبت انڈیکس اٹھائیں۔ ہم بہت نیچے ہیں۔ کوئی منفی انڈیکس اٹھائیں ہم بہت اوپر ہیں۔
آپ جس اندھیر نگری میں رہتے ہیں یہ دوزخ ہے۔ یہ ایک برباد ہوچکا ملک ہے۔ یہ غریب لوگوں کا ملک ہے۔ اپنے اپنے مطالعہ پاکستان سے باہر نکل آئیے۔ آپ اسلام کے قلعے ، آپ دنیا کے سب سے اہم ملک میں ، آپ معدنی وسائل سے مالا مال ملک میں نہیں بیٹھے ہوئے۔ آپ کو ایک یکسر ناکام ملک کو بہتری کی طرف لیکر جانا ہے۔ آپ جس گڑھے میں گرے ہوئے ہیں اسے محل سمجھتے ہیں۔ آپ نے اگر اسے واقعی محل بنانا ہے تو جاگو ، جاگو ، جاگو اور جاگو۔ کہاں کھڑے ہو اس کا ادراک کرو۔ اسکے بعد منزل کو نکلو۔ شاید بیس تیس سال میں کچھ بہتری آجائے۔ شاید آپ انسانوں کی دنیا میں انسان شمار کیے جائیں۔
اردو













