Sabitlenmiş Tweet

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام
شرعِ ملوکانہ میں جدّتِ احکام دیکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کی لذّت حرام
اے کے غلامی سے ہے روح تیری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام
موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری سے ایک خوبصورت پیغام ہے جو انسانی ذات کی آزادی اور خودی کی اہمیت پر غور کرتا ہے۔
معانی:
مکر و فنِ خواجگی: آقاؤں کا مکر اور فریب۔
کاش: خدا کرے ایسا ہوتا۔
شرع ملوکانہ: بادشاہت کے قوانین، بادشاہت کا مذہب۔
جدّتِ احکام: نیا پن۔
صور کا غوغا: شور۔
حلال: جائز مذہبی طور پر۔
حرام: ناجائز مذہبی طور پر۔
یہ شعر ہمیں آزادی کی قیمت سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ موت کی طرح غلامی بھی ایک سخت حقیقت ہے، جو طبعی ہوتی ہے۔ ایک طرف آدمی کی روح جسم سے نکل جاتی ہے، لیکن دوسری طرف اس کی روح کو اس کے آقا کی مرضی میں رہنا پڑتا ہے۔ غلامی سے آزادی کی خواہش اول تو غلام میں پیدا نہیں ہوتی، لیکن اگر ہو بھی جائے تو وہ مر جاتی ہے یا خام رہتی ہے۔ اس کے آقا اپنے مکر و فن اور حیلے سے اسے غلامی کے چکر سے نکلنے نہیں دیتے۔
یہ شعر ہمیں انسانی خودی کی اہمیت کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کی روح کو آپ کے آقا کی مرضی میں نہیں رہنا چاہئے، بلکہ آپ کو خودی کی راہوں پر چلنا چاہئے۔
اردو


















