A r buledi Baluch

13.8K posts

A r buledi Baluch banner
A r buledi Baluch

A r buledi Baluch

@buledi_r

Katılım Kasım 2021
719 Takip Edilen483 Takipçiler
A r buledi Baluch retweetledi
Alifya Sohail
Alifya Sohail@AlifyaSohail·
“Didn’t we go to Islamabad? Didn’t we try and speak to Pakistan? Why did it show us such hatred?”
English
72
563
2.5K
59.1K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@AhmadFarhadReal پہلی بار گٹر کے منہ والے رضی دادا نے تھوڑا سچ بولا ہے ۔ پیپلزپارٹی ذوالفقار بھٹو (جسے فوج نے چوہے کی طرح پھندے سے لٹکایا اور کتے کی طرح گھسیٹ کر دفن کیا ) نے بلوچستان میں آپریشن کرکے ہزاروں بلوچوں کو مارا ۔ بھٹو کتا کل بھی قاتل تھا بھٹو کتا آج بھی قاتل ہے ۔
اردو
0
0
0
42
Ahmad Farhad
Ahmad Farhad@AhmadFarhadReal·
اگر یہ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو رضی دادا انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت سرکاری خرچ پر مینٹل ہاسپٹل میں داخل کروا دیا جاتا۔
Tariq Mateen@tariqmateen

یہ شخص کسی دہشت گرد سے زیادہ متعصب ہے اور یہ نیشنل چینلز پر بھی بیٹھتا ہے ریاست کو یہ برداشت ہے کیونکہ یہ اینٹی عمران ہے

اردو
14
223
959
8.4K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@DrDemocrat86 @AhmadFarhadReal لیکن نہ نقوی بلوچستان کا باسی ہے نہ سرفراز بگٹی ۔ جو نفرت سرفراز کی وجہ سے بلوچوں میں پیدا ہورہا ہے اس کا اندازہ نہ نقوی کو ہے اور نہ نقوی کے بوسز کو ۔
اردو
0
0
0
12
Dr. Democracy
Dr. Democracy@DrDemocrat86·
@AhmadFarhadReal آپ سے گزارش ھے کہ جس جگہ اور چیز کا پتہ نہ ہو اس معملے پہ کمینٹ نہ کرے ۔ بلوچستان کا مسلہ وہاں کا باسی صیحح سمجھتا ھے اور قصوروار اور مظلوم کو بھی
اردو
1
0
0
77
Ahmad Farhad
Ahmad Farhad@AhmadFarhadReal·
ہمارے ملک میں چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو یہ دہشت گردی دنوں میں ختم ہو جاتی۔محسن نقوی سو فی صد تائید ہے سرفراز بگٹی صاحب نے بلوچستان سے دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا ہے۔
اردو
14
102
637
7.8K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@AhmadFarhadReal لگتا ہے نقوی سرفراز کے ہاتھوں بلوچستان کو علیحدہ کرکے چھوڑے گا ۔ سرفراز کی وجہ سے بلوچوں میں ریاست کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوچکی ہے ۔ اور نقوی مزید سرفراز کا پیٹھ تھپتھپا رہا ہے ۔ تاکہ اگلی مرتبہ ایک ہی جھٹکے سے مملکت ء اللہ دتہ زمین بوس ہو ۔
اردو
0
0
0
56
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@iqrarulhassan عوام راج 😂 نام ہی ڈفرز والا ہے ۔ کچھ عقل کرتے اپنی طرف سے ی لگا لیتے ۔ کیا اس کی بھی اجازت نہیں تھی ؟
اردو
0
0
0
34
Iqrar ul Hassan Syed
Iqrar ul Hassan Syed@iqrarulhassan·
عوام راج کی ملک گیر اور اوورسیز پاکستانیوں کی ممبرشپ کا آج باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ یہ تحریک سیاسی اور فوجی اشرافیہ کے اٹھہتر سالہ اقتدار کے خاتمے کی تحریک ہے۔ پاکستان کے عام لوگوں اور مڈل کلاس کے راج کی تحریک ہے۔ اس تحریک کی کامیابی عام آدمی کی کامیابی ہو گی۔ انشاء اللہ #عوام_راج
Iqrar ul Hassan Syed tweet media
اردو
126
59
170
8.1K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@PTIofficial سب سے بڑا دہشتگرد پی ٹی آئی ہے جس نے 9 مئی کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا ۔ لاہور میں بابائے قوم کے جناح ہاوس پر حملہ کیا ۔ شہیدوں کے یادگاروں پر حملہ کیا فوجی تنصیبات پر حملہ کیا ۔ لیکن پھر بھی پی ٹی آئی محب وطن جماعت ہے ۔
اردو
1
0
1
114
PTI
PTI@PTIofficial·
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں پہ پاکستان تحریک انصاف کا ردعمل: پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج صبح سے ہونے والی دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی اور دیگر علاقوں میں ایک ہی وقت میں حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں، جن کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، امن کو سبوتاژ کرنا اور بلوچستان سمیت پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف ان دہشت گرد حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ ہم اپنے شہداء شہریوں اور جوانوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمی ہونے والے شہریوں اور اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ معصوم شہریوں، خواتین، بچوں اور مزدوروں کی شہادتیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ عام عوام بنتے ہیں۔ ہم اس موقع پر وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کی پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور مسلسل غیر سنجیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں موجودہ حالات واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ نہ تو وفاقی سطح پر سنجیدہ حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی بلوچستان کی صوبائی حکومت زمینی حقائق کا ادراک رکھنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی حکومت محض بیانات تک محدود نظر آتی ہے جبکہ صوبہ عملی طور پر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے ماضی میں دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور حالات کو معمولی ظاہر کرنے کا رویہ آج خود اپنی تردید کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کے نزدیک ایسی غیر سنجیدگی اور وقتی دعوے بلوچستان جیسے حساس صوبے میں صورتحال کو مزید بگاڑنے کا سبب بنے ہیں، جس کے نتائج آج پاکستانی قوم دہشت گردی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ پارٹی اس امر پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ خبروں کے مطابق دہشت گرد حملوں کے بعد بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ہزاروں شہری پھنسے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام معطل ہے جس کے باعث عوام کو درست اور بروقت معلومات فراہم نہیں ہو پا رہی ہیں۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انداز میں صورتحال سے عوام کو آگاہ کرے تاکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں بے یقینی اور اذیت کا شکار نہ ہوں۔ بلوچستان کا مسئلہ محض بیانات، غیر سنجیدہ رویوں اور سیاسی غفلت سے حل نہیں ہوگا۔ روز بروز بڑھتے دہشت گرد واقعات، نہتے شہریوں اور جوانوں کی جانوں کا ضیاع اور عوام کی مشکلات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ایک جامع اور سنجیدہ پالیسی اپنائی جائے جس میں امن، تحفظ اور اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ - مرکزی شعبہ اطلاعات، پاکستان تحریک انصاف
اردو
48
536
1.9K
113.1K
A r buledi Baluch retweetledi
Nadia Baloch
Nadia Baloch@NadiaBaloch99·
اگر آپ اس رپورٹ کو پڑھیں تو آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ آج بلوچستان کو درپیش سیکیورٹی بحران کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ مصنوعی سیاست دانوں نے مذاکرات اور مفاہمت کے تمام دروازے عملاً بند کر دیے ہیں جبکہ پرامن جدوجہد کے ہر راستے کو طاقت کے زور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے بعد نوجوانوں میں مایوسی اور غصے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو انہیں مزید تشدد کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جب یہاں پرامن احتجاج کرنے یا ایک ٹویٹ کرنے پر لوگوں کو 17، 17 سال کی سزائیں دی جائیں اور ان پر چالیس مقدمات قائم کر دیے جائیں تو سوال یہ ہے کہ عوام آخر جائیں کہاں اور کریں کیا؟آج بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جنہوں نے پرامن جدوجہد کو جرم اور دہشت گردی بنا کر پیش کیا ہے۔اور جو لوگ بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں مسلح عناصر کی سہولت کار ہیں تو انہیں آج اس کا جواب دینا چاہیے۔ ماہ رنگ کو جیل میں ڈالے دس ماہ ہو چکے ہیں، پھر تشدد کم ہونے کے بجائے بڑھ کیوں رہی ہے؟
The Native Voices@TheNativeVoices

Unprecedented coordinated attacks hit over 12 towns in #Balochistan. Who is behind “Operation #herof2 and what does #BLA leader Bashir Zaib’s video from a strategic location signal? Read our full report and analysis thenativevoices.com/what-is-happen…

اردو
6
50
157
35.3K
Ch Fawad Hussain
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry·
آزاد بلوچستان کا تصور ہی ایک احمقانہ تصور ہے، بلوچستان میں بلوچ آبادی پچیس لاکھ ہے جن کی بڑی اکثریت پاکستان کے ساتھ ہے، پختون اور پنجابی دوسری بڑی قومیں ہیں جن کی مکمل وفاداری پاکستان کے ساتھ ہے، چند ہزار بلوچ لوگ انڈیا کی ایکٹو سپورٹ سے دھشت گردی کے ذریعے نیا ملک بنا سکتے ہیں؟ کیا ایسا ملک جس کے ایک طرف پاکستان دوسری طرف ایران اور تیسری طرف افغانستان ہو گا کتنی دیر قائم رہ سکتا ہے؟ کیا بین الاقوامی طاقتیں اس ملک کو کھا نہیں جائیں گی؟ پاکستان سے بلوچستان کو علیحدہ کرنے کیلئے نیوکلیر جنگ ہی لڑنی پڑے گی انڈیا لڑ سکتا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب یہ ہے کہ انڈین اسپانسرڈ دھشت گردی سے کوئ کامیابی نہیں مل سکتی اور بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ دراصل بلوچ عوام کے خلاف سازش ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو گی! اس لئے بلوچستان کے جو لوگ گمراہ ہیں انھیں بلوچستان میں مقامی حکومت کیلئے بات کرنی چاھیے اور بلوچستان کے وسائل کو سرداروں کی بجائے عام آدمی کی دسترس میں لانے کی جدوجہد کرنی چاھئے۔۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے مسئلہ کا کوئ حل نہیں۔۔
اردو
189
143
1.1K
130.2K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@sahmed850 آپ لوگوں کا عقل تشریف میں نہ ہوتا تو آپکو سمجھ آتی لوگ کھبی دہشگردوں کا استقبال سیٹی بجاکر نہیں کرتے۔
اردو
1
0
0
48
S Ahmed
S Ahmed@sahmed850·
جب عاصم منیر کی فوج سیاست کرے گی تو دہشت گرد یوں ہی کھلے عام دہشت گردی ہی کریں گے اور اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ عام لوگ سیٹیاں بجا کر دہشت گردوں کو استقبال کر رہے ہیں
اردو
28
223
685
5.4K
A r buledi Baluch
A r buledi Baluch@buledi_r·
@BalochNadir5 علامہ صاحب بلوچ کو معافی 🙏 دیدو پچھلے بیس سالوں سےروزانہ کی بنیاد پر بلوچ نوجوانوں کو اٹھاکر کر لاپتہ کیا جارہا ہے روزانہ لاپتہ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں ۔ لیکن کھبی کسی پاکستانی سیاستدان نے اس پر آواز نہیں اٹھائی اور نہ کھبی بلوچوں کو پاکستانی سمجھا گیا ۔
اردو
0
0
0
20
Nadir Baloch
Nadir Baloch@BalochNadir5·
8 فروری کو ہر کسی کو باہر نکلنا ہیں۔جو بھی پاکستان سے محبت کرتا ہیں۔چاہے وہ کسان ہے، مزدور ہے، سٹوڈنٹ ہے۔ جو بھی ہے سب نے پرامن باہر نکلنا ہیں۔۔ وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس!!!!
اردو
4
32
172
2.8K
Khurram Zeeshan
Khurram Zeeshan@khurramzeeshan·
عمران خان کی حکومت گرانے کا بدلہ ایسے لیا جیسے سیاسی جماعت کا کارکن لیتا ہے۔ اسکی قید کا بدلہ ایسے لیا جیسے کوئی نفرت کرنے والا لیتا ہے۔ اگر اسے کچھ ہوا تو بدلہ ایسے لیں گے جیسے بیٹا اپنے باپ کا لیتا ہے۔
Enkidu Reborn@enkidureborn

عمران خان کی حکومت گرانے کا بدلہ ایسے لیا جیسے سیاسی جماعت کا کارکن لیتا ہے۔ اسکی قید کا بدلہ ایسے لیا جیسے کوئی نفرت کرنے والا لیتا ہے۔ اگر اسے کچھ ہوا تو بدلہ ایسے لیں گے جیسے بیٹا اپنے باپ کا لیتا ہے۔

اردو
64
415
1.4K
14.9K
A r buledi Baluch retweetledi
Mahrang Baloch
Mahrang Baloch@MahrangBaloch_·
The enforced disappearance of Baloch women marks a serious escalation of state violence in Balochistan. It must be understood through the lenses of necropolitics, identity-based marginalization, and colonial forms of governance. For decades, the Baloch have been treated by the state as a suspect population. They are governed not through inclusion, citizenship, or consent, but through coercion and exclusion. Enforced disappearance, long used against Baloch men, has now expanded into a gendered strategy. It targets women and girls, including students, minors, pregnant women, and persons with disabilities, many of whom have no formal political affiliation. This shift is not accidental. It reflects a form of necropolitical power, as theorized by Achille Mbembe, in which the state asserts sovereignty by deciding whose lives are protected, whose are rendered killable, and whose can be erased into legal and social nonexistence. Within this framework, Baloch identity itself becomes criminalized. Violence is not directed at individual actions, but at a population defined as politically unreliable and structurally marginal. The disappearance of women, therefore, operates as a form of collective punishment, transforming identity into a site of governance and fear. Yet this violence has not produced the political submission it seeks. Instead, it has exposed the limits of coercive rule. When Baloch men were disappeared, women emerged as key political actors. They searched for their loved ones, organized protests, confronted courts and security institutions, and demanded justice at national and international levels. Their visibility challenged the state’s attempt to frame repression as counterterrorism or security management. It is this disruption that helps explain the shift toward targeting women themselves. From an analytical perspective, the disappearance of Baloch women can be understood as an attempt to dismantle the social foundations of resistance by attacking those who sustain memory, care, and political continuity. However, long-term repression and identity-based violence often produce the opposite effect. They strengthen political awareness, deepen collective bonds, and generate new forms of resistance rooted in shared experience and historical consciousness. This magazine is part of that political and analytical context. It serves as an archive, bringing together documentation, testimony, analysis, art, and collective reflection into a shared historical record. By focusing on lived experience and linking it to broader structures of power, the publication refuses to treat enforced disappearance as mere statistics or isolated cases. It challenges attempts to erase Baloch identity by insisting on visibility, naming, and memory. The magazine does not claim neutrality. In situations of systematic marginalization, detachment often reinforces injustice. Instead, it takes a position based on ethical responsibility and critical inquiry. It affirms that the enforced disappearance of Baloch women is not a security measure, but a colonial practice rooted in long-standing repression. In doing so, it aligns with people’s struggles and insists that memory, documentation, and collective action are essential to resisting erasure and control. Dr. Mahrang Baloch Central Organizer Baloch Yakjehti Committee Access the full magazine via our official Telegram channel: t.me/bycofficial/20… Alternatively, you can access the magazine here: gofile.io/d/1APrry
Mahrang Baloch tweet media
English
33
322
775
38.6K
A r buledi Baluch retweetledi
Sajid Tareen Advocate
Sajid Tareen Advocate@SajidTareen4·
عمران خان، ایمان مزاری، مہرنگ، علی وزیر اور وہ تمام لوگ کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم/اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز اٹھائی، ساجد ترین ایڈووکیٹ
Sajid Tareen Advocate tweet media
اردو
3
19
64
1.5K
A r buledi Baluch retweetledi
Sabiha Baloch
Sabiha Baloch@SabihaBaloch_·
Shahzain Baloch, a graduate of optometry from Isra University and a former member of the Baloch Students Council Islamabad, was taken from Ganjh Chowk, Spinny Road, Quetta , on 24 January 2026 at approximately 11:30 PM #EndEnforcedDisappearences
Baloch Students Council (Islamabad)@BSCIslamabad

Shahzain Baloch, a graduate of optometry from Isra University and a former member of the Baloch Students Council Islamabad, was taken from Ganjh Chowk, Spinny Road, Quetta , on 24 January 2026 at approximately 11:30 PM. His enforced disappearance lays bare a deeply

English
2
80
150
7K
A r buledi Baluch retweetledi
Akhtar Mengal
Akhtar Mengal@sakhtarmengal·
اتنی بڑی طاقتور ریاست ایک بچی سے اتنی خوف زدہ، سترہ سال کی سزا نہ پاکستان کو توڑنے یا پاکستان کو لوٹنے والوں کو ملی ، سزا ملی تو حق کی آواز اٹھانے والوں اور مظلوموں کا ساتھ دینے والوں کو ملی #ReleaseImaanAndHadi facebook.com/share/r/18Htiq…
اردو
0
136
700
14.6K
A r buledi Baluch retweetledi
Sabiha Baloch
Sabiha Baloch@SabihaBaloch_·
Baloch Yakjehti Committee@BalochYakjehtiC

𝗦𝘂𝗰𝗰𝗲𝘀𝘀𝗳𝘂𝗹 𝗖𝗼𝗻𝗱𝘂𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗼𝗳 𝘁𝗵𝗲 𝗕𝗮𝗹𝗼𝗰𝗵 𝗚𝗲𝗻𝗼𝗰𝗶𝗱𝗲 𝗥𝗲𝗺𝗲𝗺𝗯𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲 𝗗𝗮𝘆 𝗦𝗲𝗺𝗶𝗻𝗮𝗿 𝙅𝙖𝙣𝙪𝙖𝙧𝙮 𝟐𝟓, 𝟐𝟎𝟐𝟔 - 𝙌𝙪𝙚𝙩𝙩𝙖, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣 Today, a seminar was held in Quetta to observe Baloch Genocide Remembrance Day, the day we remember the discovery of mass graves and mutilated bodies in Tootak. ​During the event, the relatives of the forcibly disappeared shared their long and painful stories. The families of the detained BYC leaders expressed how the state is weaponising the law against the Baloch people to silence our movement. ​The seminar highlighted the illegal detention of Dr Mahrang, Bebo Baloch, Gulzadi Baloch, Shaji Baloch, and Bebagr Baloch. Dr Sabiha shed light on the ongoing pattern of human rights violations in Balochistan. We have witnessed the harsh behaviour of the state, which refuses to let any protest be heard. They continue to torture, harass, and disappear anyone who speaks out against such state-led oppression. ​The seminar concluded with a powerful message: the more you persecute us, the more we will rise. Every tactic used to crush our voice will fail to quiet our call for justice. We will continue to stand firm and tell the world the truth about these atrocities. ​#StopBalochGenocide #BalochGenocideRemembranceDay

QHT
1
44
78
1.6K
A r buledi Baluch retweetledi
Nadia Baloch
Nadia Baloch@NadiaBaloch99·
The enforced disappearances of Balach Hassan and Ehsan Hassan are a violation of both human rights and the law. Such acts are not just crimes but they contribute to a larger pattern of violence against the Baloch people that is considered the part of genocide. The long cycle of enforced disappearances must end. #ReleaseBalachAndAhsan
Nadia Baloch tweet mediaNadia Baloch tweet media
English
3
67
133
10.4K