Mohsin Raza

151.1K posts

Mohsin Raza banner
Mohsin Raza

Mohsin Raza

@Mohsinbwn

Spoksman @CPCofficial6 | Love to read & write | Cricket | Civil Supremacy | Human Rights |

Pakistan Katılım Mayıs 2010
790 Takip Edilen2K Takipçiler
Mohsin Raza retweetledi
® Imran
® Imran@ideaspromax·
مجاں داؤد صاحب کی ذیل میں درج تحریر ھُذا میں کچھ نکات بحث طلب اور کافی سوالیہ نشان کے حامل ہیں۔۔ 1-بنیادی طور پر پاکستان نے تو کارگل میں شمولیت سے ہی انکار کر رکھا تھا، اور تمام مدعا کشمیریوں کے سر منڈھ رکھ تھا۔ 2-کارگل کے پورے کونفلکٹ کو دوران پاکستان نے جنگ ڈکلئیر نہیں کی تھی نہ ہی میڈیا بشمول ٹی وی اور اخبارات میں جنگ کا ماحول بنایا گیا جیسا کہ 2019 اور سالِ رواں میں بنا۔ 3-کارگل کونفلکٹ میں کسی موقع پر بھی پاکستان نے اپنی ائیر فورس کو انگیج نہیں کیا، کیونکہ مشرف پلان کے تحت پاکستان کا موقف تھا کہ چوکیوں پر قبضہ کشمیریوں نے کیا ہے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف بھارت ائیر فورس اور آرٹلری دونوں استعمال کرتا رہا جسکی وجہ سے پاکستان کا شدید جانی نقصان ہوتا رہا۔ 4-انڈین اییر فورس کے استعمال کی وجہ سے پاکستان کی سپلائی لائنز متاثر ہوتی رہیں جسکی وجہ سے نہ بروقت اسلحے کی کمک پہنچی نہ فوجیوں کی خوراک۔ پاکستانی فوجیوں کی لاشوں کی بھارتیوں کے ہاتھوں تدفین کی ویڈیوز اس وقت بھی زیر گردش ہیں، بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔ 5-مشرف کے اعترافات اور اعزازات وغیرہ تو کونفلکٹ ختم ہونے کے بعد کی بات ہے جب انٹرنیشنل میڈیا نے فوجیوں کی شہادتیں اور نقصانات رپورٹ کرنے شروع کر دئیے تھے۔ جنرل شاہد عزیز، جنرل جمشید گلزار کیانی جو کہ کارگل کونفلکٹ کا حصہ تھے آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ کارگل میں ہم نے انڈیا کے ہاتھوں کافی نقصان اٹھا چکنے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے پاس جنرل محمود کو سیزفایز کروانے کیلئیے بھیجا، جنرل محمود نے بالمشافہ اور جنرل مشرف نے فون پر نوازشریف کو باقاعدہ کنونس کیا کہ فوری سیز فائیر نہ ہوا تو کافی نقصان ہو جائے گا کیونکہ اییر فورس کو شامل نہ کرنا بڑی غلطی تھی، اور اب شامل کرتے تو کونفلکٹ بہت زیادہ بڑھنے کا اندیشہ تھا۔ دونوں کے کنونس کرنے پر نوازشریف کلنٹن سے ملے، جیسے ہی کلنٹن نے واجپائی کو سیزفاییر کیلئے راضی کیا، مشرف ٹولے نے میڈیا پر شور مچا دیا کہ نوازشریف نے جیتی ہوئی جنگ ہروا دی۔
Mian Dawood@miandawoodadv

کیا پاک فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان کو Disown کر دیا تھا؟ ہر بار 5 جولائی کو بھارتی لابیز کی جانب سے ایک پراپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاک فوج اور پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی اور انہیں تنہا مرنے کے لئے کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ پراپگنڈہ جسے دشمن کی جانب سے پھیلایا جاتا رہا ہے ہر بار سیاسی چپقلش رکھنے والی پارٹیاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں اس بار نیا یہ ہوا کہ اسرائیلی لابی نے اس پراپگنڈہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ اور خوب بیچا! آئیے حقائق پر بات کرتے ہیں، کارگل کی برف پوش خونی چوٹیوں پر لڑی جانے والی یہ لڑائی کوئی روایتی جنگ نہیں تھی۔ کیپٹن شیر خان 27 جون تا 5 جولائی ایک ہی پوسٹ پر مسلسل لڑتے رہے، ایک پلاٹون سائز لڑائی میں ایک بنکر سے دوسرے بنکر تک وہ مسلسل 9 روز تک بہادری سے لڑے۔ 27 جون سے بھارت کی جانب سے پوسٹ پر دوبارہ قابض ہونےکے لئے مسلسل حملے ہوتے رہے جنہیں شیر خان ناکام بناتا رہا۔ کرنل شیر خان ٹریک سوٹ میں اور انکی پلاٹون روایتی لباس(شلوار قمیض) میں لڑتی پائی گئی۔ کارگل لڑائی میں مجاہدین کی تعداد زیادہ تھی، پورے آپریشن میں "البدر مجاہدین" آپریشن کو لیڈ کر رہی تھی۔ جنہوں نے پیشگی کئی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا انکا منصوبہ یہ تھا کہ جب بھارتی فوج سردیوں میں اپنی چیک پوسٹیں خالی کریں گے پاکستان ان پر قبضہ کر لے گا۔ جب بھارت نے ٹائیگر ہلز پر دوبارہ قبضہ کے لئے حملہ کیا۔ عین اس وقت پاکستان بھارت اور امریکہ کے درمیان کارگل جنگ کو ختم کرنے پر بات چیت شروع ہو چکی تھی۔ بل کلنٹن اور نواز شریف کی ملاقات 4 جولائی کو ہوچکی تھی۔نواز شریف کو امریکہ میں خبر ہوئی کہ بھارت نے ٹائیگر ہلز واپس لے لی ہے۔ غرضیکہ جنگ بندی کے اس سارے عمل میں پاکستان نے کسی ایک فرد کو بھی ڈس اون نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اس وقت جنگ کے دوران پاکستان نے بیانیہ بنایا وہ یہ تھا کہ کارگل میں لڑنے والے مجاہدین ہیں جنہوں نے پوسٹوں پر قبضہ کیا، بعد میں آرمی پہنچی۔ کشمیر تو ایک Conflict zone ہے جہاں بھارت اور پاکستان میں سے جس کو جب موقع ملتا ہے پیش قدمی کر کے قبضہ کر لیتا ہے۔ اور ہر جگہ جنگ کے حالات میں بیانیہ اسی قسم کا بنایا جاتا ہے۔ اگر ہم بیانیہ یہ بناتے کہ فوج وہاں لڑ رہی ہے تو پاکستانی فوجی وہاں یونیفارم میں موجود ہوتے نہ کہ عام لباس میں۔ اگر پاکستان اپنے جوانوں کو ڈس اون کرتا تو جنرل مشرف انہیں پی ایم اے کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں خراج تحسین پیش نہ کرتے، انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر نہ ملتا، حوالدار لالک جان کو بھی نشان حیدر دیا گیا جو 7 جولائی کو شہید ہوئے۔ کارگل جنگ میں سندھ رجمنٹ کے کیپٹن مالک بھی شہید ہوئے اور انکے ساتھ البدر مجاہدین میں انکا سگا بھائی شامل تھا، دونوں بھائی ایک ساتھ جنگ لڑ رہے تھے، ایک بھائی فوجی ، دوسرا مجاہد، کیپٹن مالک جو فوج میں تھے وہ شہید ہو گئے اور مجاہد غازی بن گیا۔ پراپگنڈہ یہ ہے کہ بھارتی برگیڈئیر بجواس کے پریس کانفرنس کے بعد انکو Own کیا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ بھارت نے کیپٹن کرنل شیر خان کی جراءت و بہادری کی تعریف میں ایک خط انکے جسد خاکی کے ساتھ بھجوایا جو کہ ایک اعزاز ہے۔ لیکن انکے کہنے پر Own کرنے والا پراپگنڈہ بےبنیاد ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ 5 جولائی کو شہادت ہوئی تو 18 جولائی تک پاکستان انہیں اون ہی نہیں کر رہا تھا۔ 5 جولائی کو شہادت ہوئی اسکے بعد باڈی سری نگر گئی اور وہاں سے دہلی روانہ کر دی گئی۔ بھارتی حکومت نے اس دوران اپنا بیانیہ بنایا اور دنیا کو بتایا کہ یہاں مجاہدین نہیں پاکستان کہ فوج لڑ رہی تھی ۔ پھر ساری دستاویزی کاروائی مکمل کی گئی اور پاکستان کی جانب سے مکمل اعزاز کے ساتھ اور استحقاق کے ساتھ اس وقت کے کور کمانڈر اور گورنر نے انکے جسد خاکی کو وصول کیا۔ اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انکی نماز جنازہ ادا کر کے تدفین ہوئی ۔ آپ کے پاس مکمل اختیار ہے اپنی تسلی کر لیں ان سے جنہوں نے جنگ لڑی،جنگ دیکھی، جنہوں نے اس جنگ پر کتابیں لکھی انہیں علم ہوگا کہ پاکستان نے اپنے کسی ایک فرد کو بھی Disown نہیں کیا البتہ لاجسٹک مسائل نے پاکستانی بیانیے کو نقصان پہنچایا ایس ایس جی کے کیپٹن عمار شہید جن کا جسد خاکی پاکستان نہیں آیا کیا پاکستان نے انکو ڈس اون کیا؟ پاکستان نے انہیں نہ صرف ستارہ جراءت دیا بلکہ چکلالہ گیریژن کے سامنے عمار شہید چوک انکے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنگوں کے دوران بنائے بلکہ گھڑے جانے والے بیانئیے نسلوں تک پیچھا کرتے ہیں۔ الحمدللہ ہمارے ملک نے خود سے وفا کرنے والوں کو کبھی بھی ڈس اون نہیں کیا ہر وہ شخص جو اس پرچم کے لئے لڑتا ہے یہ زمین اسکی تکریم کا حق ادا کرتی ہے۔ سوائے چند ننگ دین و ننگ ملت کے جنہوں نے اپنا ضمیر چند ٹکوں کے عوض گروی رکھوا دی۔

اردو
10
33
80
4.3K
Mohsin Raza retweetledi
Zulfiqar Ahmed 🤔
Zulfiqar Ahmed 🤔@ZulfiqarAhmed69·
In Pakistan if you kill someone, you can pay off to the family (if they agree) and walk away free. In Pakistan, if you get caught with billions of fraud/scam, you can make plea bargain and walk away. Justice is for sale at all levels.
English
32
64
321
9.2K
Mohsin Raza retweetledi
Syed Imran Shafqat
Syed Imran Shafqat@SImranshafqat·
انسانی تاریخ میں آوازوں کو بند کرکے کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا ۔۔۔ ستائس یوٹیوب چینلز کو بند کرنے کے بجائے اپنے عدالتی نظام کو درست کرنا زیادہ بہتر ہوگا ۔ جہاں ایک وزیراعظم اپنے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ میں پچھلے گیارہ سال سے انصاف نہیں لے سکا
Syed Imran Shafqat tweet media
اردو
56
42
174
6.7K
Mohsin Raza retweetledi
مفتی مفتا Green Party of Pakistan
پاکستانی ہو تو پاکستان کی مالکی own کرو، اپنے جائز حقوق مانگنا اور چھیننا سیکھو مراعات یافتہ طبقے کی پبلک ٹیکس سے دی جانے والی مراعات کو چیلنج کرو۔۔۔۔ ان سب کو ٹف ٹائم دو جو مسلسل اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھواتے جارے ہیں اور عوام کو پیستے جارہے ہیں
اردو
14
106
234
3.8K
Mohsin Raza retweetledi
Patrick Henningsen
Patrick Henningsen@21WIRE·
This is in Ray, Iran, a 1,000-year-old marvel still stands, known as the Toghrol Tower. Measures some 20 meters high, standing since 1063 CE, made of earthen bricks, with some historians believing that it shelters the tomb of Tughril Beg, founder of the Seljuk dynasty. It serves as a beacon for Silk Road caravans, its stark silhouette marking the landscape under a fiery sun and moonlit desert scape alike. It is an engineering wonder - note the smooth, 11 m-wide inner cylinder cloaked by a 24-sided exterior ring, 16 m in width. In true Persian fashion, its geometry not only serves to protect the tower from earthquakes - but it also transforms the monument into a giant sundial; each vertex’s shadow marking an hour of the day - nearly a millennium on, the structure still measures time with the rising sun, a testament to the ancient artisans who blended astronomy, spirituality, and architectural daring under one roof of brick and sarooj. One of many wonders of the world located on the great nation of Iran…
Patrick Henningsen tweet media
English
194
2.3K
12.4K
493.1K
Mohsin Raza retweetledi
Mohsin Hijazee
Mohsin Hijazee@MohsinHijazee·
"رپورٹ میں سب سے سنگین معاملہ 35؍ لاکھ 90؍ ہزار ٹن گندم کی درآمد کو قرار دیا گیا ہے، جو اس وقت کی گئی جب ملک میں مقامی سطح پر وافر مقدار میں گندم موجود تھی۔" ویسے چینی کی امپورٹ والا اگلی کسی رپورٹ میں نکلے گا لیکن فی الحال تو اندھ بھگتوں کا دو ہفتے کا ہوم ورک نکل آیا ہے۔
Ansar Abbasi@AnsarAAbbasi

وفاقی وزارتوں میں 1100 ارب روپے سے زائد کی مالی بےضابتگیاں۔ jang.com.pk/news/1488290

اردو
0
6
11
625
Mohsin Raza retweetledi
Riaz ul Haq
Riaz ul Haq@Riazhaq·
اب آپ پنجاب حکومت سے اشتہارات کی مد میں خرچ رقم کے بارے میں نہیں پوچھ سکتے۔ اس قانون کا اطلاق سال جنوری 2024 سے ہوگا۔
Benazir Shah@Benazir_Shah

Punjab Assembly has passed the Punjab Public Awareness and Dissemination of Information Act, 2025. It became law on June 25. The law blocks anyone from questioning Punjab govt self-promotion or asking about ad spending. It also lets the govt rename any public project.

اردو
3
73
199
14.1K
Mohsin Raza
Mohsin Raza@Mohsinbwn·
@xadeejourno اللہ صحت دیں۔آپ اتنی جلدی ٹوٹنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
اردو
0
0
0
53
Mubashir Zaidi
Mubashir Zaidi@xadeejourno·
ٹوٹ رہا ہوں ابھی ٹوٹا تو نہیں ہوں
Mubashir Zaidi tweet media
اردو
1.4K
148
3.1K
168.3K
Defence Matrix
Defence Matrix@Defencematrix1·
Clarification: The Dassault CEO Eric Trappier confirms no loss of Rafale in combat. But the "fractricide" part of the report was most likely a bad interpretation, which was cleared by @VishnuNDTV . The post has now been retracted . Thank you.
Defence Matrix tweet media
English
79
86
1.1K
43K
Mohsin Raza retweetledi
Science girl
Science girl@sciencegirl·
Generational time line
English
142
431
2.2K
385K
Mohsin Raza retweetledi
Defence Index
Defence Index@Defence_Index·
🚨 NATURE’S NUCLEAR BLAST — Indonesia’s Volcano Sends Ash 11 Miles High 🌋 Mount Lewotobi Laki-Laki just erupted in one of Indonesia’s most powerful eruptions in 15 years. It launched an ash plume 18 km (11 miles) into the stratosphere — ☢️ That’s the same height reached by a 100-kiloton nuclear explosion. No warhead. No launch codes. Just Earth reminding us who’s boss. 🛰️ Ash clouds now threaten air travel, crops, and regional climate. 📍Located in the volatile Pacific "Ring of Fire" — the eruption shows why this zone is Earth’s most dangerous pressure valve.
English
5
27
65
13.5K
Mohsin Raza retweetledi
hourlyscopes
hourlyscopes@hourlyscopes·
aries, say “oops” and keep going
English
9
51
420
23.5K
Mohsin Raza retweetledi
Ch Sajaad Husein
Ch Sajaad Husein@ch_sajaad·
23 مارچ کو یہ ٹویٹ کی تھی کہ ملک ریاض سے ڈیل مکمل ہو چکی ہے، اب فوج کے پیارے بوڑھے بچے جنرل حمید گل کے بیٹے کے ذریعے پورا پلان پھینکا گیا جناب کیسے تشریف لائیں گے، ساتھ ہی پرانے فوجی پاپی طلعت کے ذریعے سیکورٹی ذرائع سے تردید پھینکی گئی جبکہ سچ یہی ہے کہ ڈیل بہت پہلے ہو چکی ہے اب ملک ریاض دبئی رہے یا پاکستان اس سے کیا فرق پڑتا ہے قومی مفاد میں جلد بحریہ ٹاون پاکستان میں اکٹیو ہو جائے گا۔۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اگر فوج کیا حکومت وقت بھی چاہے تو دبئی سے کسی کو واپس گرفتار کر کے لانا دنیا بھر میں سب سے زیادہ آسان ہے، لوگ روز گرفتار ہو کر آتے، پاکستان انٹرپول جی۔ سی۔ سی عمان سے آپریٹ ہوتا ہے ملک ریاض کو کوئی خوف ہوتا تو دبئی میں ڈیرہ ہی نہ لگاتا۔ اس لئے آپ بھی موج میلہ کریں اور خوش رہیں۔
Ch Sajaad Husein@ch_sajaad

محسن نقوی صاحب ملک ریاض ڈیل کے آخری مراحل میں ہیں، انکی صحت بھی دو دن سے واقعی خراب ہے اللہ صحت دے۔ آمین وہ ہی وزیر داخلہ رہیں گے۔

اردو
8
25
156
7.9K
Mohsin Raza retweetledi
Faizan Lakhani
Faizan Lakhani@faizanlakhani·
PCB's COO, not any selector, addresses the press conference today, to announce the T20 squad for series against Bangladesh. Interesting! Don't remember such media appearance for team announcements by the board's COOs in the past.
English
17
33
292
17.1K
Mohsin Raza retweetledi
Majid Nizami
Majid Nizami@majidsnizami·
اس تحریر میں چند تلخ حقائق شامل نہیں ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ تھا کہ اگر کارگل کی ان لاشوں کو اپنا مان لیتا تو مجاہدین والا بیانیہ مٹی میں مل جاتا اور بعد ازاں ایسا ہی ہوا۔ ایک نہیں تین مثالیں حاضر ہیں۔ کیپٹن کرنل شیر کے بھائی انور شیر نے ہمارے محترم عباس ناصر (جو اس وقت بی بی سی اردو کا حصہ تھے) کو فون کیا اور کہا کہ انڈیا نے کچھ شہیدوں کی لاشیں دیکھائی ہیں ان میں ہمارا بھائی بھی ہے، حکومت پاکستان ہماری مدد نہیں کر رہی تو آپ کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سرینگر کے نمائندے سے بات کی اور اس نے مزید تفصیلات سے آگاہ گیا۔ اس کے بعد یہاں اس معاملے پر شور وغل ہوا اور میت واپس آئی۔ دوسری مثال ایس ایس جی والے کیپٹن عمار کی ہے، جس شہید کی ماں سے ملک کے آرمی چیف جنرل مشرف نے جھوٹ بولا کہ آپ کے بیٹے کی لاش ضرور واپس لائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک اور مثال کیپٹن تیمور ملک شہید کی ہے، کیپٹن تیمور کے کچھ قریبی رشتے دار برطانیہ میں تھے، انہوں نے وہاں سے مہم چلائی اور انڈین حکام سے رابطہ کرکے کہا یہ ہمارا شہید ہے اور ہمیں اس کی میت کے وارث ہیں، کیپٹن تیمور ملک کی میت واپس آنے میں تقریباً دو مہینے لگ گئے تھے۔
Mian Dawood@miandawoodadv

کیا پاک فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان کو Disown کر دیا تھا؟ ہر بار 5 جولائی کو بھارتی لابیز کی جانب سے ایک پراپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاک فوج اور پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی اور انہیں تنہا مرنے کے لئے کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ پراپگنڈہ جسے دشمن کی جانب سے پھیلایا جاتا رہا ہے ہر بار سیاسی چپقلش رکھنے والی پارٹیاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں اس بار نیا یہ ہوا کہ اسرائیلی لابی نے اس پراپگنڈہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ اور خوب بیچا! آئیے حقائق پر بات کرتے ہیں، کارگل کی برف پوش خونی چوٹیوں پر لڑی جانے والی یہ لڑائی کوئی روایتی جنگ نہیں تھی۔ کیپٹن شیر خان 27 جون تا 5 جولائی ایک ہی پوسٹ پر مسلسل لڑتے رہے، ایک پلاٹون سائز لڑائی میں ایک بنکر سے دوسرے بنکر تک وہ مسلسل 9 روز تک بہادری سے لڑے۔ 27 جون سے بھارت کی جانب سے پوسٹ پر دوبارہ قابض ہونےکے لئے مسلسل حملے ہوتے رہے جنہیں شیر خان ناکام بناتا رہا۔ کرنل شیر خان ٹریک سوٹ میں اور انکی پلاٹون روایتی لباس(شلوار قمیض) میں لڑتی پائی گئی۔ کارگل لڑائی میں مجاہدین کی تعداد زیادہ تھی، پورے آپریشن میں "البدر مجاہدین" آپریشن کو لیڈ کر رہی تھی۔ جنہوں نے پیشگی کئی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا انکا منصوبہ یہ تھا کہ جب بھارتی فوج سردیوں میں اپنی چیک پوسٹیں خالی کریں گے پاکستان ان پر قبضہ کر لے گا۔ جب بھارت نے ٹائیگر ہلز پر دوبارہ قبضہ کے لئے حملہ کیا۔ عین اس وقت پاکستان بھارت اور امریکہ کے درمیان کارگل جنگ کو ختم کرنے پر بات چیت شروع ہو چکی تھی۔ بل کلنٹن اور نواز شریف کی ملاقات 4 جولائی کو ہوچکی تھی۔نواز شریف کو امریکہ میں خبر ہوئی کہ بھارت نے ٹائیگر ہلز واپس لے لی ہے۔ غرضیکہ جنگ بندی کے اس سارے عمل میں پاکستان نے کسی ایک فرد کو بھی ڈس اون نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اس وقت جنگ کے دوران پاکستان نے بیانیہ بنایا وہ یہ تھا کہ کارگل میں لڑنے والے مجاہدین ہیں جنہوں نے پوسٹوں پر قبضہ کیا، بعد میں آرمی پہنچی۔ کشمیر تو ایک Conflict zone ہے جہاں بھارت اور پاکستان میں سے جس کو جب موقع ملتا ہے پیش قدمی کر کے قبضہ کر لیتا ہے۔ اور ہر جگہ جنگ کے حالات میں بیانیہ اسی قسم کا بنایا جاتا ہے۔ اگر ہم بیانیہ یہ بناتے کہ فوج وہاں لڑ رہی ہے تو پاکستانی فوجی وہاں یونیفارم میں موجود ہوتے نہ کہ عام لباس میں۔ اگر پاکستان اپنے جوانوں کو ڈس اون کرتا تو جنرل مشرف انہیں پی ایم اے کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں خراج تحسین پیش نہ کرتے، انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر نہ ملتا، حوالدار لالک جان کو بھی نشان حیدر دیا گیا جو 7 جولائی کو شہید ہوئے۔ کارگل جنگ میں سندھ رجمنٹ کے کیپٹن مالک بھی شہید ہوئے اور انکے ساتھ البدر مجاہدین میں انکا سگا بھائی شامل تھا، دونوں بھائی ایک ساتھ جنگ لڑ رہے تھے، ایک بھائی فوجی ، دوسرا مجاہد، کیپٹن مالک جو فوج میں تھے وہ شہید ہو گئے اور مجاہد غازی بن گیا۔ پراپگنڈہ یہ ہے کہ بھارتی برگیڈئیر بجواس کے پریس کانفرنس کے بعد انکو Own کیا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ بھارت نے کیپٹن کرنل شیر خان کی جراءت و بہادری کی تعریف میں ایک خط انکے جسد خاکی کے ساتھ بھجوایا جو کہ ایک اعزاز ہے۔ لیکن انکے کہنے پر Own کرنے والا پراپگنڈہ بےبنیاد ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ 5 جولائی کو شہادت ہوئی تو 18 جولائی تک پاکستان انہیں اون ہی نہیں کر رہا تھا۔ 5 جولائی کو شہادت ہوئی اسکے بعد باڈی سری نگر گئی اور وہاں سے دہلی روانہ کر دی گئی۔ بھارتی حکومت نے اس دوران اپنا بیانیہ بنایا اور دنیا کو بتایا کہ یہاں مجاہدین نہیں پاکستان کہ فوج لڑ رہی تھی ۔ پھر ساری دستاویزی کاروائی مکمل کی گئی اور پاکستان کی جانب سے مکمل اعزاز کے ساتھ اور استحقاق کے ساتھ اس وقت کے کور کمانڈر اور گورنر نے انکے جسد خاکی کو وصول کیا۔ اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انکی نماز جنازہ ادا کر کے تدفین ہوئی ۔ آپ کے پاس مکمل اختیار ہے اپنی تسلی کر لیں ان سے جنہوں نے جنگ لڑی،جنگ دیکھی، جنہوں نے اس جنگ پر کتابیں لکھی انہیں علم ہوگا کہ پاکستان نے اپنے کسی ایک فرد کو بھی Disown نہیں کیا البتہ لاجسٹک مسائل نے پاکستانی بیانیے کو نقصان پہنچایا ایس ایس جی کے کیپٹن عمار شہید جن کا جسد خاکی پاکستان نہیں آیا کیا پاکستان نے انکو ڈس اون کیا؟ پاکستان نے انہیں نہ صرف ستارہ جراءت دیا بلکہ چکلالہ گیریژن کے سامنے عمار شہید چوک انکے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنگوں کے دوران بنائے بلکہ گھڑے جانے والے بیانئیے نسلوں تک پیچھا کرتے ہیں۔ الحمدللہ ہمارے ملک نے خود سے وفا کرنے والوں کو کبھی بھی ڈس اون نہیں کیا ہر وہ شخص جو اس پرچم کے لئے لڑتا ہے یہ زمین اسکی تکریم کا حق ادا کرتی ہے۔ سوائے چند ننگ دین و ننگ ملت کے جنہوں نے اپنا ضمیر چند ٹکوں کے عوض گروی رکھوا دی۔

اردو
25
78
292
19.7K