


Mohsin Raza
151.1K posts

@Mohsinbwn
Spoksman @CPCofficial6 | Love to read & write | Cricket | Civil Supremacy | Human Rights |




یہ کراچی میں بہت ذیادہ پھیلایا جارھا ھے اس بارے عوام کو آگاہ کریں کہ یہ جھوٹ ھے

حکومت نے وفاقی افسران کو بطور بورڈ ممبر”لامحدود الاؤنس“حاصل کرنیکی اجازت دیدی۔ اس سے قبل اداروں/کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹراور بورڈ آف گورنر میں بطور سرکاری ممبر بیٹھنے والے وفاقی افسران بورڈ اجلاسوں میں شرکت کی سالانہ10لاکھ سے زیادہ فیس/الاؤنس کی وصولی نہیں کر سکتے تھے:دنیا نیوز

کیا پاک فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان کو Disown کر دیا تھا؟ ہر بار 5 جولائی کو بھارتی لابیز کی جانب سے ایک پراپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاک فوج اور پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی اور انہیں تنہا مرنے کے لئے کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ پراپگنڈہ جسے دشمن کی جانب سے پھیلایا جاتا رہا ہے ہر بار سیاسی چپقلش رکھنے والی پارٹیاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں اس بار نیا یہ ہوا کہ اسرائیلی لابی نے اس پراپگنڈہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ اور خوب بیچا! آئیے حقائق پر بات کرتے ہیں، کارگل کی برف پوش خونی چوٹیوں پر لڑی جانے والی یہ لڑائی کوئی روایتی جنگ نہیں تھی۔ کیپٹن شیر خان 27 جون تا 5 جولائی ایک ہی پوسٹ پر مسلسل لڑتے رہے، ایک پلاٹون سائز لڑائی میں ایک بنکر سے دوسرے بنکر تک وہ مسلسل 9 روز تک بہادری سے لڑے۔ 27 جون سے بھارت کی جانب سے پوسٹ پر دوبارہ قابض ہونےکے لئے مسلسل حملے ہوتے رہے جنہیں شیر خان ناکام بناتا رہا۔ کرنل شیر خان ٹریک سوٹ میں اور انکی پلاٹون روایتی لباس(شلوار قمیض) میں لڑتی پائی گئی۔ کارگل لڑائی میں مجاہدین کی تعداد زیادہ تھی، پورے آپریشن میں "البدر مجاہدین" آپریشن کو لیڈ کر رہی تھی۔ جنہوں نے پیشگی کئی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا انکا منصوبہ یہ تھا کہ جب بھارتی فوج سردیوں میں اپنی چیک پوسٹیں خالی کریں گے پاکستان ان پر قبضہ کر لے گا۔ جب بھارت نے ٹائیگر ہلز پر دوبارہ قبضہ کے لئے حملہ کیا۔ عین اس وقت پاکستان بھارت اور امریکہ کے درمیان کارگل جنگ کو ختم کرنے پر بات چیت شروع ہو چکی تھی۔ بل کلنٹن اور نواز شریف کی ملاقات 4 جولائی کو ہوچکی تھی۔نواز شریف کو امریکہ میں خبر ہوئی کہ بھارت نے ٹائیگر ہلز واپس لے لی ہے۔ غرضیکہ جنگ بندی کے اس سارے عمل میں پاکستان نے کسی ایک فرد کو بھی ڈس اون نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اس وقت جنگ کے دوران پاکستان نے بیانیہ بنایا وہ یہ تھا کہ کارگل میں لڑنے والے مجاہدین ہیں جنہوں نے پوسٹوں پر قبضہ کیا، بعد میں آرمی پہنچی۔ کشمیر تو ایک Conflict zone ہے جہاں بھارت اور پاکستان میں سے جس کو جب موقع ملتا ہے پیش قدمی کر کے قبضہ کر لیتا ہے۔ اور ہر جگہ جنگ کے حالات میں بیانیہ اسی قسم کا بنایا جاتا ہے۔ اگر ہم بیانیہ یہ بناتے کہ فوج وہاں لڑ رہی ہے تو پاکستانی فوجی وہاں یونیفارم میں موجود ہوتے نہ کہ عام لباس میں۔ اگر پاکستان اپنے جوانوں کو ڈس اون کرتا تو جنرل مشرف انہیں پی ایم اے کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں خراج تحسین پیش نہ کرتے، انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر نہ ملتا، حوالدار لالک جان کو بھی نشان حیدر دیا گیا جو 7 جولائی کو شہید ہوئے۔ کارگل جنگ میں سندھ رجمنٹ کے کیپٹن مالک بھی شہید ہوئے اور انکے ساتھ البدر مجاہدین میں انکا سگا بھائی شامل تھا، دونوں بھائی ایک ساتھ جنگ لڑ رہے تھے، ایک بھائی فوجی ، دوسرا مجاہد، کیپٹن مالک جو فوج میں تھے وہ شہید ہو گئے اور مجاہد غازی بن گیا۔ پراپگنڈہ یہ ہے کہ بھارتی برگیڈئیر بجواس کے پریس کانفرنس کے بعد انکو Own کیا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ بھارت نے کیپٹن کرنل شیر خان کی جراءت و بہادری کی تعریف میں ایک خط انکے جسد خاکی کے ساتھ بھجوایا جو کہ ایک اعزاز ہے۔ لیکن انکے کہنے پر Own کرنے والا پراپگنڈہ بےبنیاد ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ 5 جولائی کو شہادت ہوئی تو 18 جولائی تک پاکستان انہیں اون ہی نہیں کر رہا تھا۔ 5 جولائی کو شہادت ہوئی اسکے بعد باڈی سری نگر گئی اور وہاں سے دہلی روانہ کر دی گئی۔ بھارتی حکومت نے اس دوران اپنا بیانیہ بنایا اور دنیا کو بتایا کہ یہاں مجاہدین نہیں پاکستان کہ فوج لڑ رہی تھی ۔ پھر ساری دستاویزی کاروائی مکمل کی گئی اور پاکستان کی جانب سے مکمل اعزاز کے ساتھ اور استحقاق کے ساتھ اس وقت کے کور کمانڈر اور گورنر نے انکے جسد خاکی کو وصول کیا۔ اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انکی نماز جنازہ ادا کر کے تدفین ہوئی ۔ آپ کے پاس مکمل اختیار ہے اپنی تسلی کر لیں ان سے جنہوں نے جنگ لڑی،جنگ دیکھی، جنہوں نے اس جنگ پر کتابیں لکھی انہیں علم ہوگا کہ پاکستان نے اپنے کسی ایک فرد کو بھی Disown نہیں کیا البتہ لاجسٹک مسائل نے پاکستانی بیانیے کو نقصان پہنچایا ایس ایس جی کے کیپٹن عمار شہید جن کا جسد خاکی پاکستان نہیں آیا کیا پاکستان نے انکو ڈس اون کیا؟ پاکستان نے انہیں نہ صرف ستارہ جراءت دیا بلکہ چکلالہ گیریژن کے سامنے عمار شہید چوک انکے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنگوں کے دوران بنائے بلکہ گھڑے جانے والے بیانئیے نسلوں تک پیچھا کرتے ہیں۔ الحمدللہ ہمارے ملک نے خود سے وفا کرنے والوں کو کبھی بھی ڈس اون نہیں کیا ہر وہ شخص جو اس پرچم کے لئے لڑتا ہے یہ زمین اسکی تکریم کا حق ادا کرتی ہے۔ سوائے چند ننگ دین و ننگ ملت کے جنہوں نے اپنا ضمیر چند ٹکوں کے عوض گروی رکھوا دی۔



وفاقی وزارتوں میں 1100 ارب روپے سے زائد کی مالی بےضابتگیاں۔ jang.com.pk/news/1488290

Punjab Assembly has passed the Punjab Public Awareness and Dissemination of Information Act, 2025. It became law on June 25. The law blocks anyone from questioning Punjab govt self-promotion or asking about ad spending. It also lets the govt rename any public project.






محسن نقوی صاحب ملک ریاض ڈیل کے آخری مراحل میں ہیں، انکی صحت بھی دو دن سے واقعی خراب ہے اللہ صحت دے۔ آمین وہ ہی وزیر داخلہ رہیں گے۔

کیا پاک فوج نے کیپٹن کرنل شیر خان کو Disown کر دیا تھا؟ ہر بار 5 جولائی کو بھارتی لابیز کی جانب سے ایک پراپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پاک فوج اور پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی اور انہیں تنہا مرنے کے لئے کارگل کی برف پوش چوٹیوں پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ پراپگنڈہ جسے دشمن کی جانب سے پھیلایا جاتا رہا ہے ہر بار سیاسی چپقلش رکھنے والی پارٹیاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں اس بار نیا یہ ہوا کہ اسرائیلی لابی نے اس پراپگنڈہ کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ اور خوب بیچا! آئیے حقائق پر بات کرتے ہیں، کارگل کی برف پوش خونی چوٹیوں پر لڑی جانے والی یہ لڑائی کوئی روایتی جنگ نہیں تھی۔ کیپٹن شیر خان 27 جون تا 5 جولائی ایک ہی پوسٹ پر مسلسل لڑتے رہے، ایک پلاٹون سائز لڑائی میں ایک بنکر سے دوسرے بنکر تک وہ مسلسل 9 روز تک بہادری سے لڑے۔ 27 جون سے بھارت کی جانب سے پوسٹ پر دوبارہ قابض ہونےکے لئے مسلسل حملے ہوتے رہے جنہیں شیر خان ناکام بناتا رہا۔ کرنل شیر خان ٹریک سوٹ میں اور انکی پلاٹون روایتی لباس(شلوار قمیض) میں لڑتی پائی گئی۔ کارگل لڑائی میں مجاہدین کی تعداد زیادہ تھی، پورے آپریشن میں "البدر مجاہدین" آپریشن کو لیڈ کر رہی تھی۔ جنہوں نے پیشگی کئی پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا انکا منصوبہ یہ تھا کہ جب بھارتی فوج سردیوں میں اپنی چیک پوسٹیں خالی کریں گے پاکستان ان پر قبضہ کر لے گا۔ جب بھارت نے ٹائیگر ہلز پر دوبارہ قبضہ کے لئے حملہ کیا۔ عین اس وقت پاکستان بھارت اور امریکہ کے درمیان کارگل جنگ کو ختم کرنے پر بات چیت شروع ہو چکی تھی۔ بل کلنٹن اور نواز شریف کی ملاقات 4 جولائی کو ہوچکی تھی۔نواز شریف کو امریکہ میں خبر ہوئی کہ بھارت نے ٹائیگر ہلز واپس لے لی ہے۔ غرضیکہ جنگ بندی کے اس سارے عمل میں پاکستان نے کسی ایک فرد کو بھی ڈس اون نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو اس وقت جنگ کے دوران پاکستان نے بیانیہ بنایا وہ یہ تھا کہ کارگل میں لڑنے والے مجاہدین ہیں جنہوں نے پوسٹوں پر قبضہ کیا، بعد میں آرمی پہنچی۔ کشمیر تو ایک Conflict zone ہے جہاں بھارت اور پاکستان میں سے جس کو جب موقع ملتا ہے پیش قدمی کر کے قبضہ کر لیتا ہے۔ اور ہر جگہ جنگ کے حالات میں بیانیہ اسی قسم کا بنایا جاتا ہے۔ اگر ہم بیانیہ یہ بناتے کہ فوج وہاں لڑ رہی ہے تو پاکستانی فوجی وہاں یونیفارم میں موجود ہوتے نہ کہ عام لباس میں۔ اگر پاکستان اپنے جوانوں کو ڈس اون کرتا تو جنرل مشرف انہیں پی ایم اے کی پاسنگ آوٹ پریڈ میں خراج تحسین پیش نہ کرتے، انہیں سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر نہ ملتا، حوالدار لالک جان کو بھی نشان حیدر دیا گیا جو 7 جولائی کو شہید ہوئے۔ کارگل جنگ میں سندھ رجمنٹ کے کیپٹن مالک بھی شہید ہوئے اور انکے ساتھ البدر مجاہدین میں انکا سگا بھائی شامل تھا، دونوں بھائی ایک ساتھ جنگ لڑ رہے تھے، ایک بھائی فوجی ، دوسرا مجاہد، کیپٹن مالک جو فوج میں تھے وہ شہید ہو گئے اور مجاہد غازی بن گیا۔ پراپگنڈہ یہ ہے کہ بھارتی برگیڈئیر بجواس کے پریس کانفرنس کے بعد انکو Own کیا گیا۔ یہ سراسر غلط ہے۔ بھارت نے کیپٹن کرنل شیر خان کی جراءت و بہادری کی تعریف میں ایک خط انکے جسد خاکی کے ساتھ بھجوایا جو کہ ایک اعزاز ہے۔ لیکن انکے کہنے پر Own کرنے والا پراپگنڈہ بےبنیاد ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ 5 جولائی کو شہادت ہوئی تو 18 جولائی تک پاکستان انہیں اون ہی نہیں کر رہا تھا۔ 5 جولائی کو شہادت ہوئی اسکے بعد باڈی سری نگر گئی اور وہاں سے دہلی روانہ کر دی گئی۔ بھارتی حکومت نے اس دوران اپنا بیانیہ بنایا اور دنیا کو بتایا کہ یہاں مجاہدین نہیں پاکستان کہ فوج لڑ رہی تھی ۔ پھر ساری دستاویزی کاروائی مکمل کی گئی اور پاکستان کی جانب سے مکمل اعزاز کے ساتھ اور استحقاق کے ساتھ اس وقت کے کور کمانڈر اور گورنر نے انکے جسد خاکی کو وصول کیا۔ اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ انکی نماز جنازہ ادا کر کے تدفین ہوئی ۔ آپ کے پاس مکمل اختیار ہے اپنی تسلی کر لیں ان سے جنہوں نے جنگ لڑی،جنگ دیکھی، جنہوں نے اس جنگ پر کتابیں لکھی انہیں علم ہوگا کہ پاکستان نے اپنے کسی ایک فرد کو بھی Disown نہیں کیا البتہ لاجسٹک مسائل نے پاکستانی بیانیے کو نقصان پہنچایا ایس ایس جی کے کیپٹن عمار شہید جن کا جسد خاکی پاکستان نہیں آیا کیا پاکستان نے انکو ڈس اون کیا؟ پاکستان نے انہیں نہ صرف ستارہ جراءت دیا بلکہ چکلالہ گیریژن کے سامنے عمار شہید چوک انکے نام سے منسوب کیا گیا۔ جنگوں کے دوران بنائے بلکہ گھڑے جانے والے بیانئیے نسلوں تک پیچھا کرتے ہیں۔ الحمدللہ ہمارے ملک نے خود سے وفا کرنے والوں کو کبھی بھی ڈس اون نہیں کیا ہر وہ شخص جو اس پرچم کے لئے لڑتا ہے یہ زمین اسکی تکریم کا حق ادا کرتی ہے۔ سوائے چند ننگ دین و ننگ ملت کے جنہوں نے اپنا ضمیر چند ٹکوں کے عوض گروی رکھوا دی۔