BMS🇵🇰🇭🇺 retweetledi

بریکنگ نیوز 🚨
پہلی بار اوریجنل سائفر اردو ترجمے کے ساتھ منظر عام پر
آج میری جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ، ڈونلڈ لو (Donald Lu) کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ایک ملاقات ہوئی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ لیس ویگیری (Les Viguerie) بھی تھے۔ ڈی سی ایم، ڈی اے اور کونسلر قاسم بھی میرے ساتھ شریک ہوئے۔
2۔ آغاز میں، ڈان (Don) نے یوکرین کے بحران پر پاکستان کے مؤقف کا حوالہ دیا اور کہا کہ "یہاں اور یورپ میں لوگ اس بات پر کافی فکر مند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) ایسا جارحانہ طور پر غیر جانبدارانہ مؤقف کیوں اپنا رہا ہے، اگر ایسا مؤقف ممکن بھی ہو۔ ہمیں تو یہ ایسا غیر جانبدارانہ مؤقف نظر نہیں آتا"۔ انہوں نے شیئر کیا کہ این ایس سی (NSC) کے ساتھ ان کی بات چیت میں، "یہ بالکل واضح لگتا ہے کہ یہ وزیرِ اعظم کی پالیسی ہے"۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں یہ "اسلام آباد کے موجودہ سیاسی ڈراموں سے جڑا ہوا ہے جس کی وزیرِ اعظم کو ضرورت ہے اور وہ ایک عوامی چہرہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔
میں نے جواب دیا کہ صورتحال کا یہ مطالعہ درست نہیں ہے کیونکہ یوکرین پر پاکستان کا مؤقف گہرے داخلی مشاورتی عمل کا نتیجہ تھا۔ پاکستان نے عوامی حلقوں میں سفارت کاری کرنے کا کبھی سہارا نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم کے ایک سیاسی جلسے کے دوران ریمارکس اسلام آباد میں یورپی سفیروں کے عوامی خط کے ردعمل میں تھے، جو سفارتی آداب اور پروٹوکول کے خلاف تھا۔ کوئی بھی سیاسی رہنما، خواہ پاکستان میں ہو یا امریکہ میں، ایسی صورتحال میں عوامی جواب دینے پر مجبور ہوتا۔
3۔ میں نے ڈان سے پوچھا کہ کیا امریکہ کے شدید ردعمل کی وجہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) میں ووٹنگ کے دوران پاکستان کا غیر حاضر رہنا تھا؟ انہوں نے واضح طور پر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ یہ وزیرِ اعظم کے دورہِ ماسکو کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ اگر وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے، تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیرِ اعظم کا ایک ذاتی فیصلہ دیکھا جا رہا ہے۔ بصورتِ دیگر، مجھے لگتا ہے کہ آگے کا راستہ بہت مشکل ہوگا"۔ وہ کچھ دیر کے لیے رکے اور پھر کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کیسے دیکھے گا لیکن میرا اندازہ ہے کہ ان کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوگا"۔ پھر انہوں نے کہا کہ "ایمانداری سے میرا خیال ہے کہ یورپ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سے وزیرِ اعظم کی تنہائی بہت شدید ہو جائے گی"۔
ڈان نے مزید تبصرہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیرِ اعظم کے دورہِ ماسکو کی منصوبہ بندی بیجنگ اولمپکس کے دوران کی گئی تھی اور وزیرِ اعظم کی جانب سے پوتن سے ملاقات کی ایک کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی اور پھر یہ خیال تیار کیا گیا کہ وہ ماسکو جائیں گے۔
4۔ میں نے ڈان کو بتایا کہ یہ ایک مکمل طور پر غلط معلومات پر مبنی اور غلط تاثر ہے۔ دورہِ ماسکو پر کم از کم چند سالوں سے کام چل رہا تھا اور یہ ایک گہرے ادارہ جاتی مشاورتی عمل کا نتیجہ تھا۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ جب وزیرِ اعظم ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، تو یوکرین پر روسی حملہ شروع نہیں ہوا تھا اور اب بھی پُرامن حل کی امید موجود تھی۔ میں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یورپی ممالک کے رہنما بھی اسی وقت ماسکو کا سفر کر رہے تھے۔
ڈان نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ "وہ دورے خاص طور پر یوکرین کے تعطل کے حل کی کوشش کے لیے تھے جبکہ وزیرِ اعظم کا دورہ دوطرفہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر تھا"۔ میں نے ان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کروائی کہ وزیرِ اعظم نے ماسکو میں رہتے ہوئے اس صورتحال پر واضح طور پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ سفارت کاری کام کرے گی۔ وزیرِ اعظم کا دورہ خالصتاً دوطرفہ تناظر میں تھا اور اسے یوکرین کے خلاف روس کے اقدام کی توثیق یا حمایت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
میں نے کہا کہ یوکرین کے بحران پر ہمارا مؤقف تمام فریقین کے ساتھ رابطے کے ذرائع کھلے رکھنے کی ہماری خواہش کے مطابق ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اور ہمارے ترجمان کی جانب سے ہمارے بعد کے بیانات نے اس کی واضح وضاحت کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، طاقت کے عدم استعمال یا دھمکی، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، اور تنازعات کے پُرامن تصفیے کے عزم کا اعادہ کیا۔
1/3
اردو

















