ایک بلوچ استاد کی شہادت پر اساتذہ کے نام پیغام
علمی طور پر ہماری زبانوں کے محافظینِ علم و دانش کی شہادت جسمانی سے زیادہ غیر مادی شکل میں نمودار ہوتی ہے، کیونکہ یہ فرد کے بجائے اجتماعی سانحہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے حالات میں بلوچ ادیبوں، لکھاریوں اور اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بے بسی اور خوف کو ختم کر کے آگے بڑھیں، کیونکہ سرکاری نوکری یا دیگر مفادات کے نام پر غیرجانبداری کا نعرہ اب نسلوں کی سودا کے علاوہ کچھ نہیں، اب بلوچ اساتذہ، درس و تدریس اور علم و ادب سے منسلک تمام حلقے اپنے تاریخی زمہ داریوں سے روگردانی کی بجائے اپنے پیشے کی حرمت کی خاطر اس خاموشی کو ترک کردیں، کیونکہ جابر جب بندوق تھان لیتا ہے تو اسے نہیں یاد نہیں رہتا ہے کہ تم کتنے غیر جانبدار تھے بلکہ اس کے لئے محض تمہارا پیشہ اور شناخت معنی رکھتے ہیں جنہیں وہ جڑ سے اکھاڑنا چاہتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالت میں سب سے مؤثر آوازیں حلقہِ علم بنے ہیں لہذا بلوچ حلقہِ علم و ادب اپنا موثر کردار نبھائے۔
پد ننے آن دا شعر اک ویران مرور،
مہروان آتا مہراک ویراں مرور،
نن کہ ارمان کرور دا نوشتاک حیات،
دا غزل نظم و بحراک ویران مرور۔🥀
آہ، پروفیسر۔💔
#StopKillingBalochTeachers
پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کو اُن کے آبائی علاقے نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مستونگ سے جبری گمشدگی، اور پنجگور کے علاقے پروم سے اساتذہ کو لاپتہ کرنا بلوچ دانشوروں کی منظم اجتماعی نسل کشی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب
بلوچستان میں جاری خون کی حولی ایک اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے جاری ہے۔ بلوچستان میں اساتذہ، پروفیسرز، ادیب، ڈاکٹر، شاعر اور طلبہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ پروفیسر غمخوار حیات کا قتل ہمارے سماج کو ناخواندگی اور لاشعوری کی طرف دکھیلنے کی مترادف ہے۔ اس طرح ہمارے ادیبوں کو ایک ایک کرکے شہید کرنا ہمیں اجتماعی طور پر مٹانے کی برابر ہے، جس کی میں پُرزور مذمت کرتا ہوں۔
بلوچ قوم اپنے اساتذہ کے قتل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوجائیں اور آواز بلند کریں۔
#StopBalochGenocide
واجہ سباء، زاہد آسکانی، پروفیسر رزاق، ماسٹر نزیر مری، غمخوار حیات، ءُ دگہ بازینے اے یک درچ اِنت کہ مئے چارگرد ءِ زانتکاریں مردم یک پہ یک جنَگ بوھگ ءَ اَنت۔
من مہ باں بلّے واب زندگ بنت
زند ءَ جوریں جواب زندگ بنت
مہر ءِ درستیں حساب زندگ بنت
پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانشوروں پر ایک اجتماعی حملہ ہے، شدید مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں استاد، شاعر، سیاسی کارکن، ادیب، طالبعلم، صحافی سمیت تمام مکتبہ فکر کے پرامن لوگ جو قلم اور کتاب کے زریعے علم پھیلانے میں کوشاں ہیں، ہمیشہ مظالم کے شکار ہوتے آرہے ہیں۔ بلوچ سماج ایک ایسی دور سے گزررہی ہے کہ پرامن اور قلم کی زبان کو بھی برداش نہیں کیا جاتا، ہمارا ہر وہ شخص جو سوچتا ہے اور سماج کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا ہے ان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے یا پھر بے دردی سے قتل کرکے ان کی آواز کو خاموش کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ان قوتوں کی بھول ہے کہ علم اور سوچ کسی بندوق کی گولی سے ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید مضبوط اور توانا ہوکر ابھرتے ہیں۔
پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے ایک استاد، ادیب اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی قلم کے زریعے نہ صرف براہوئی ادب اور زبان کو ترقی دینے میں جدوجہد کی بلکہ اپنے سماج میں علم کو پھیلانے میں تگ و دو کی جو ایک حقیقی استاد کا آئینہ ہے۔ ان کو سوچنے، لکھنے، پڑھانے، مادری زبان کو پروان چڑانے اور طالبعلموں کو علمی راستہ دکھانے کی سزا دی گئی جو سوچنے اور علم حاصل کرنے پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا براہوئی ادب میں کارکردگی ایک مسیحا جیسا ہے جنہوں نے مادری زبان کو ترقی دینے میں اپنا قومی کردار ادا کیا۔ ایک پرامن اور علم دوست استاد کا اس طرح بے دردی سے قتل بلوچستان کے پورے علمی سرکل پر ایک حملہ ہے۔
بلوچستان کے استاد اور دانشور ہمیشہ حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں جہاں حکومتی حمایت یافتہ گروہوں نے بلوچوں کے کئی استادوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی سوچ اور آواز دبانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ استاد صباء دشتیاری سے لے کر غمخوار حیات تک یہ وہ علمی کارواں ہے جنہں علم کا شمع روشن کرنے کی سزا دی گئی، پروفیسر صباء کی سریاب میں اور غمخوار حیات کی نوشکی میں شہادت بلوچ قوم کی فکری سوچ پر حملے ہیں۔ یہ علم کے وہ مسافر تھے جنہوں نے خاموشی کے بجائے لکھنے، سوچنے اور علم پھیلانے کو ترجیح دی، آج ان جیسے علم دوست استادوں کے بدولت بلوچستان میں علم کا شمع روشن ہے۔ ان جیسے استادوں کو نشانہ بنانا نہ صرف سنگین مجرمانہ عمل ہے بلکہ انسانی سوچ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
ہم پروفیسر غمخوار حیات کا بے دردی سے قتل کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ تمام استادوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جیسے سنگین مجرمانہ عمل کے خلاف اٹھیں اور بھرپور ردعمل دیں تاکہ علم پر قدغن لگانے کی یہ مجرمانہ کوششیں ناکام ہوجائیں۔ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجروموں کو سزا دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مرکزی ترجمان؛ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
Scholasticide!
In the Killi Mengal area of Noshki, renowned Brahui-language poet, writer, and intellectual Professor Ghamkhwar Hayat was killed in firing carried out by State-backed armed groups known as “death squads.”
#StopBalochGenocide#StopBalochScholasticide
The first thing the colonizer does is to attack the intellectual independence of the colonized, to destroy the language in which their imagination can flourish.
Ngūgī
#MartyrGhamkuwarHayat
”امن ئسے نا ڈھیہ کہ مولا
عاجزانگا دا دعائے بن خدایا.....“
Yet another Baloch professor, Waja Ghamkhwar Hayat Baloch was shot martyred by armed-men, repeatedly affiliated with “Death Squads” in Noshki today, May 16, 2026. The Baloch intellectual genocide continues.
Rest In Power
I am saddened to hear the news of missing Gwadar University’s Vice Chancellor along with his colleagues. The educationalists are peaceful individuals, engaged in promoting literacy in the society. They must not be harmed and recovered safely.