خواجہ سعد رفیق کا کانسٹیٹیوشن ایونیو میں آٹھ فلیٹس کے حوالے سے اہم بیان
👈 “کانسٹیٹیوشن ایونیو میں میرا کوئی ذاتی فلیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنی مالی استطاعت ہے کہ میں وہاں آٹھ ارب کےفلیٹس خرید سکوں۔
👈 چند ماہ قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے نام، دستخط اور شناختی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے وہاں آٹھ فلیٹس میرے نام منتقل کر دیے گئے ہیں۔
👈 میں نے ٹاور مالکان کو متعدد بار مطلع کیا کہ یہ فلیٹس میرے نام سے ہٹا دیے جائیں، مگر ان کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
👈 کل رات مجھے معلوم ہوا کہ یہ تمام فلیٹس میرے سوشل میڈیا مینیجر نے میرے نام پر خریدے تھے اور بینک نے بھی میرے علم کے بغیر ادائیگیاں منتقل کر دی تھیں۔
@KhSaad_Rafique
@RH_views مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنی عمریں ہونے کے باوجود آپکو عقل کیوں نہیں آئی۔ اگر وہ صیہونی ہوتا تو اب تک جیل میں نہ ہوتا۔ پچاس روپے والے اشٹام پر، لندن میں ہوتا۔ امریکہ میں ہوتا۔
وہ ریمنڈ ڈیوس کی طرح اسکو بھی لے جاتے۔
اخبار غلط ملک کا ہے لیکن جو لکھا ہے وہ درست لکھا ہے
برسوں سے پاکستانی قوم جس خدشےکا اظہار کر رہی تھی
آج وہ حقیقت بن کر پوری دنیا کے سامنے آ گیاھے
لوگ اعتراض کرتےتھےکہ عمران خان کو #یہودی_ایجنٹ کیوں کہا جاتا ہے
لیکن اب تو یروشلم پوسٹ (The Jerusalem Post) نے خود مہرِ تصدیق ثبت کر دی
اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار
#یروشلم_پوسٹ کا
👇1/4
ہم تو مذاق سمجھتے تھے مگر گوروں نے تو سچ میں میری جند میری جان جنرل عاصم منیر کہنا شروع کر دیا ہے ٹرمپ اسے غیر معمولی صلاحیتوں والا فیلڈ مارشل کہتا ہے تعصب سائیڈ پر رکھ کر اس گورے سے سنیں دنیا عاصم منیر کو کیا سمجھ رہی
باقی ہر یوتھیے کی وال تک لازمی پہنچنی چاہیے
ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی حیران کن کہانی ۔۔۔ جنڈ ضلع اٹک کے رہائشی تنویر گل کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں گیس کمپنی پی پی ایل کھدائی کرنے آئی تو ہماری ذاتی ملکیتی زمین سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ۔ علاقہ کے کچھ لوگوں نے ہم سے کوڑیوں کے مول زمین لینا چاہی مگر ہم نے انکار کردیا تو پھر علاقہ پٹواری جاوید اختر نے کچھ غنڈوں اور پولیس کے ساتھ ملکر ہماری زمین پر جعلی کاغذات اور علاقہ پولیس کی مدد سے قبضہ کر لیا ، اس ناانصافی پر میں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کو درخواست دی انہوں نے جانچ پڑتال کروائی اور اپنی رپورٹ میں مخالفین کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ساتھ ہی پولیس کو ہدایت کی کہ اصل مالکان کو قبضہ واپس دلایا جائے لیکن پولیس کی بااثر لوگوں سے ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ ہوئی الٹا مجھ پر مختلف نوعیت کے چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرکے مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ 6 دن حراست میں رکھا گیا اس دوران تش۔دد کیا گیا اور زمین کی ملکیت سےدستبردار ہونے اور اس پر قبضے کا کسی فورم پر ذکر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگرمیں نے انکار کردیا تو پولیس نے جعلی مقدمات میں چالان کرکے جیل بھیج دیا ۔ تنویر گل کے بقول میرے بوڑھے والدین اور بیوی نے بھاگ دوڑ کرکے بڑی مشکل سے میری ضمانت کروائی ۔۔۔۔
تنویر گل نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، انکی اہلیہ نے وزیراعلیٰ صاحبہ سے اپیل میں کہا ہے کہ یا تو ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، ہمارا حق ہمیں دلایا جائے اور ہماری جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور یا پھر ہمیں صاف انکار کردیا جائے تاکہ ہم پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف رخ کر جائیں ۔
From @WSJopinion: Pakistan has put itself back on the diplomatic map. Its army chief consolidates his power at home by brokering a cease-fire between Iran and the U.S., writes @dhume.
on.wsj.com/47SgP8R
اگر سمجھ نہ آئی ہو تو سمجھنے کی ایک کوشش مزید کی جا سکتی ہے.
پاکستان کا ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے تجویز کرنا اس سے محبت نہ تھی یہ ایک سفارتی حربہ تھا. ان مووز کے سٹریٹیجک فائدے ہوتے ہیں اور ایک فائدہ اس وقت آپ سب کے سامنے ہے.
باقی نہ نوبل انعام ہم نے دینا ہوتا ہے نہ ہم سے پوچھ کر دیا جاتا ہے نہ ہی یہ پہلے بڑا میرٹ پر دیا جاتا تھا کہ ہم نے غلط بندے کا نام لے کر اس کی حرمت پامال کر دی
یہ انعام پہلے ہی ویپنائز ہو چکا ، ہم نے بھی ایک داؤ کھیل دیا اور بس.
یہ جب تجویز کیا گیا تھا اس وقت بھی کوشش یہی تھی کہ امن پر یہ پکا ہو جائے اور ایران پر حملہ نہ کرے. عدیم ہاشمی والی بات کہ:
اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے عدیم اس کو مکرنے نہیں دیا
ٹرمپ امن اور جنگیں رکوانے کی بات کر رہا تھا پاکستان نے اسے پکا کرنے کی کوشش کی یہ شاہزادہ تو امن کا داعی ہے،. یہ بالکل جنگ نہیں کرے گا، اسے نوبل انعام دے دو یار.
پاکستان سپر پاور نہیں ہے کہ ڈنڈا اٹھا کر امریکہ کے سامنے کھڑا ہو جائے ، جب کہ یہ کام ابھی تک روس اور چین نہیں کرسکے. پاکستان نے ناخنوں سے پہاڑ تراش کر راستے بنانے ہوتے ہیں.
جسے بات سمجھ آ گئی ہو اس کا بھی بھلا، جسے نہ آئی ہو اس کا بھی بھلا، اور جو جانتےبوجھتے نہ سمجھے اس کا بھی بھلا
پاکستان زندہ باد
🚨 بڑی بریکنگ نیوز اپ کو اندر کی خبر دے رہا ہوں سب اپنی چالیں چل رہے ہیں مگر اصل گیم پاکستان جیتنے جا رہا ہے تیار رہو اس جنگ کا انجام سب کی ہار اور پاکستان کی بڑی جیت ہوگا!🔥🇵🇰
کچھ لوگ ابھی بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اس خاموش👇
1/10
پاکستان کو سری لنکا نیپال بنگلہ دیش بنانے کا خواب دیکھنے والوں کو مرحوم ہو جانا چائیے کیونکہ آج کا پاکستان تمھارے پلید خوابوں کو ارادوں کو روند کر بہت آگے نکل چکا ہے
@Zunairamahum سب سے بہتر ہے کہ پاکستان نیوٹرل ہوجائے کیونکہ یہ دونوں ملک ہی پاکستان کے خیرخواہ نہیں۔ مطلب پرست ہیں۔ انہوں نے اپنی اپنی پراکسی پاکستان میں پالی ہوئی ہیں۔
کر سکتا ہے۔ جو عورت بیٹے کی بیوی رہی ہو، طلاق ہو یا خاوند فوت ہو جائے تو اس کا سسر اور اسکی سابقہ بہو رضامند ہیں تو شادی کر سکتے ہیں۔ جس عورت سے باپ نے شادی کی ہو، باپ وفات پا جائے تو بیٹا اس سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ باپ کے ساتھ شادی کے بعد سماجی رسم میں اس کا مقام بلند ہو کر بیٹے کے لیے ماں کی پوزیشن اختیار کر لیتی ہے، اس لیے بیٹے کے لیے ماں کا احترام لازمی ہے۔
نساء آیت 19: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا (مومنو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ عورتوں کی مرضی کے خلاف ان کے وارث بن جاؤ۔) عورت کی رضامندی لازمی ہے۔
نساء آیت 20: اگر ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے شادی کرنا چاہے تو پہلی بیوی کو جو کچھ دیا ہے وہ واپس نہیں لے سکتا۔
نساء آیت 22: ان عورتوں سے شادی منع ہے جن سے تمہارے باپ شادی کر چکے ہیں۔ اسلام سے پہلے مکہ کے رواج میں باپ کی وفات کے بعد بڑا بیٹا اپنی سوتیلی ماں کو گرل فرینڈ کے طور پر رکھ لیتا تھا یا شادی کر لیتا تھا، لیکن یہ رسم معاشرے میں غیر مقبول ہو چکی تھی۔ اس لیے قرآن نے اسے ختم کر دیا۔
نساء آیت 23: محرموں کی پوری فہرست ہے جن کے ساتھ شادی نہیں ہو سکتی۔ محرم اور غیر محرم کا سوال شادی کے لیے ہے کہ کن رشتوں کے درمیان شادی یا جنسی تعلقات حرام ہیں۔
نساء آیت 24: شادی شدہ عورتیں بھی حرام ہیں، ان کے ساتھ نہ شادی ہو سکتی ہے اور نہ جنسی تعلقات، جیسے محرموں کے ساتھ۔ البتہ لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت ہے۔ شادی کے لیے انسان کا بالغ اور آزاد ہونا اسلام میں بنیادی شرط ہے۔ اس کے علاوہ ہر مرد اور عورت آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔ مذہب، رنگ یا نسل کی کوئی پابندی نہیں۔ بقرہ آیت 221 میں مشرکین کے ساتھ دو طرفہ شادی منع ہے، لیکن "مشرکین" سے مراد اس وقت مکہ کے وہ لوگ تھے جو نبی کو نہیں مانتے تھے اور یہ آیت اختیاری ہے، جبکہ نساء کی آیات 23/24 اختیاری نہیں بلکہ صاف لکھا ہے: "حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ"۔
انڈین یونین کو پہلا بڑا دھچکا
مانیپور نے اپنے کرنسی نوٹ جاری کر دیئے
بھارتی افواج کی پسپائ کے بعد حکومت ہندوستان کی مانیپور کے علاقہ پر عملداری ختم ہو گئ۔
فریڈم فائٹرز کا تمام تنصیبات پر مکمل کنٹرول!
@DCFAPakistan جناب چاول کا چھلکا نہ تو جلایا جاتا ہے اور نہ ہے ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے خریدار ہیں۔ پیپر ،گتا، بورڈ بنانے والے اس کے خریدار ہیں۔ اصل مسئلہ چاول کی کٹائی کے بعد کا بچ جانے والا پودا ہے جس کو جلادیا جاتا ہے
@DCFAPakistan جناب چاول کا چھلکا نہ تو جلایا جاتا ہے اور نہ ہے ضائع کیا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے خریدار ہیں۔ پیپر ،گتا، بورڈ بنانے والے اس کے خریدار ہیں۔ اس مسئلہ چاول کی کٹائی کے بعد کا پودا ہے جس کو جلادیا جاتا ہے اس کا کوئی حل بتائیں پروفیسر صاحب۔
چاول کے چھلکوں سے کوئلہ (Rice Husk Charcoal) — جنگلات کے تحفظ اور توانائی کے متبادل کا مؤثر حل
تعارف
پاکستان زرعی ملک ہے جہاں چاول (Rice) ایک بڑی نقد آور فصل ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن چاول پیدا ہوتے ہیں، جن کی ملنگ کے دوران بڑی مقدار میں چاول کے چھلکے (Rice Husk) بطور زرعی فضلہ نکلتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ چھلکے یا تو ضائع کر دیے جاتے ہیں، کھلے عام جلائے جاتے ہیں یا کم قدر ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں یہی چھلکے ایک قابلِ قدر متبادل ایندھن کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، جہاں ان سے کوئلہ (Rice Husk Charcoal / Biochar) تیار کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف معاشی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ جنگلات کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مسئلے کی نوعیت
پاکستان میں توانائی کے لیے لکڑی اور جنگلات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے
دیہی علاقوں میں ایندھن کے لیے درختوں کی کٹائی عام ہے
چاول کے چھلکے جیسا زرعی فضلہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں ہو رہا
کھلے عام جلانے سے:
فضائی آلودگی
کاربن اخراج
صحت کے مسائل
میں اضافہ ہو رہا ہے
حل: چاول کے چھلکوں سے کوئلہ بنانا
چاول کے چھلکوں کو کنٹرولڈ حرارت (Pyrolysis) کے ذریعے آکسیجن کی کمی میں جلایا جاتا ہے، جس سے:
اعلیٰ معیار کا کوئلہ
کم دھواں
زیادہ حرارت
طویل جلنے کی صلاحیت
حاصل ہوتی ہے۔
یہ کوئلہ:
گھریلو ایندھن
ہوٹل و ریسٹورنٹس
چھوٹی صنعتوں
بھٹوں اور بوائلرز
میں مؤثر طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی فوائد
1. درختوں اور جنگلات کا تحفظ
لکڑی کے کوئلے کا متبادل
غیر قانونی کٹائی میں کمی
2. کاربن اخراج میں کمی
کھلے جلاؤ کے بجائے کنٹرولڈ عمل
گرین ہاؤس گیسز میں کمی
3. فضائی آلودگی میں کمی
کم دھواں
بہتر صحت
معاشی فوائد
کسانوں اور رائس مل مالکان کے لیے اضافی آمدن
دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع
درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی
کم لاگت توانائی کا حصول
زرعی و صنعتی فوائد
زرعی فضلے کا بہترین استعمال
Biochar کو مٹی کی زرخیزی بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
چھوٹے پیمانے پر صنعت لگانے کے مواقع
بین الاقوامی مثالیں
چین
بھارت
ویتنام
فلپائن
ان ممالک میں Rice Husk Charcoal بڑے پیمانے پر:
توانائی
ماحولیات
کاربن کریڈٹس
کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
سفارشات
1. حکومت زرعی فضلے سے توانائی کے منصوبوں کو فروغ دے
2. رائس ملز کو کوئلہ بنانے کے چھوٹے یونٹس لگانے کی ترغیب دی جائے
3. کسانوں اور نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے
4. لکڑی کے کوئلے کے متبادل کے طور پر Rice Husk Charcoal کو فروغ دیا جائے
5. ماحولیاتی قوانین کے تحت کھلے جلاؤ کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
نتیجہ
چاول کے چھلکوں سے کوئلہ بنانا ایک پائیدار، سستا اور ماحول دوست حل ہے۔ اگر اس زرعی فضلے کو ضائع کرنے کے بجائے توانائی میں تبدیل کیا جائے تو:
جنگلات محفوظ رہ سکتے ہیں
کسان خوشحال ہو سکتے ہیں
ماحول بہتر ہو سکتا ہے
اور ملک توانائی کے بحران سے نکلنے کی سمت بڑھ سکتا ہے
زرعی فضلہ نہیں، یہ مستقبل کی توانائی ہے۔
ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان
*بڑی خبر*
*پنجاب حکومت کا فوتیدگی پر کھانا پکانے کی رسم پر پابندی کا فیصلہ.
*لاہور : پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں فوتیدگی کے موقع پر کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور دعوتی تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے*
*حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غمزدہ خاندانوں پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کرنا اور دکھ و صبر کے موقع کو سادگی سے منانا ہے*
*ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ہدایات جلد ضلعی انتظامیہ کو جاری کی جائیں گی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی*
*علماء کرام سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے حکومت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے*
*کہ فوتیدگی کے موقع پر دکھاوے کی بجائے سادگی اور دعا پر توجہ دینی چاہیے۔
ذرائع