HNJ

208.1K posts

HNJ banner
HNJ

HNJ

@nabijans

Democrate, Socio-politically left of the center Chevening fellow London School of Economics

Toronto (Lahore@♥) Katılım Haziran 2009
903 Takip Edilen1.5K Takipçiler
HNJ retweetledi
Imdad Ali Soomro
Imdad Ali Soomro@imdad_soomro·
جہاں بچیوں کو گھر والے کو ایجوکیشن کی اجازت نہیں دیتے، بچیاں ان پڑھ رہ جاتی ہیں ، وہاں سندھ ، پنجاب ، بلوچستان کے جنکشن پر قائم بیگم نصرت بھٹو یونیورسٹی سکھر ، نئی نسل کی قسمت بدل دے گی، طالبان یہاں آکر خوش اور مشاہد حسین سید حیران رہ گئے ٹریول ولاگ 👇 youtu.be/nVT8VMXdTX4?si…
YouTube video
YouTube
اردو
8
71
155
10.8K
HNJ retweetledi
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group
*بلاسفیمی بزنس کیس: سردار نے بہت کچھ کر دیا ہے۔!* *کمیشن کا فیصلہ کیوں ہوا۔؟* فرنود عالم ... کمیشن کا فیصلہ اس لیے ہوا کہ متاثرہ خاندان کی طرف سے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں درخواست ہی کمیشن کے لیے لگائی گئی تھی۔ عبد اللہ شاہ قتل کے بعد اسپیشل برانچ کی رپورٹ آئی۔ بعد ازاں این سی ایچ آر کی رپورٹ آئی۔ ان رپورٹوں میں ایک گینگ کا بتایا گیا جو لوگوں کو بلاسفیمی بزنس کے لیے ٹریپ کر رہا تھا۔ ٹریپنگ کا طریقہ کار، ایف آئی اے اور وکیلوں کا گٹھ جوڑ، اغوا، ٹارچر سیل، قتل یہ سب بھی انہی رپورٹوں میں سامنے آیا تھا۔ انہی رپورٹوں کی بنیاد پر متاثرہ خاندانوں نے ایک غیر جانبدار کمیشن کی ڈیمانڈ کی تھی۔ ڈیمانڈ یہ نہیں تھی کہ جسٹس سردار اعجاز ان رپوروٹوں کی بنیاد پر گینگ کو سزائیں سنائیں۔ (سزاوں کے لیے ہمیں بہت سارا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ یہ دس بارہ کلو میٹر کی دوڑ نہیں ہے۔ یہ میراتھن ہے، اس کے لیے سٹیمنا چاہیے ہوگا۔ یہ بات آج یہاں تک پہنچانے والوں کو چار سال کا عرصہ لگا ہے۔ اس دوران وہ ہر طرح کی مشکل سے گزرے ہیں۔ مگر ہمت کا دامن اور امید کا ہاتھ انہوں نے نہیں چھوڑا۔ اس کا ثمر آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں بھی امید اور ہمت کے سہارے چلتے رہنا ہوگا۔ اس ے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں ہے) جج نے اپنے سامنے ایک چیز رکھی! درخواست گزار پانچ ایسے کیسز مجھے دکھائیں جو اسپیشل برانچ اور این سی ایچ آر کی رپورٹوں کو تقویت دیتے ہوں، تاکہ اس بات کو سمجھا جائے کہ کمیشن کے تقاضے میں کتنا دم ہے۔ جج صاحب ابتدا میں ہی کمیشن کے اہمیت کو سمجھ گئے۔ ابتدا میں ہی انہوں نے کمیشن کے لیے وزرات داخلہ کو لکھ دیا۔ مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے کارندے عدالت میں آگئے۔ انہوں نے تین باتیں کہیں 1۔ ہمیں پارٹی بنایا جائے 2۔ ہمیں سنا جائے 3۔ تحقیقاتی کمیشن نہ بنایا جائے جج صاحب نے انہیں با جماعت پارٹی بھی بنا دیا اور اصرار کے بعد سننے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ انہوں نے تین بار سماعت سے ایک دن پہلے جج کو ہراساں کیا۔ رجسٹرار کا گھیراو کیا۔ بار کاونسل پر دباو ڈالا۔ این سی ایچ آر کے دفتر کا گھیراو کیا۔ ایف آئی اے کے ذریعے وکلا کو نوٹسز بھیجے۔ کیس سے جڑے ہوئے لوگوں کے پیچھے سرکاری ہرکارے لگائے رکھے۔ آخری حربے کے طور پر یہ عدالت میں جتھے لے کر آگئے، مگر جج صاحب ہمت نہیں ہارے۔ انہوں نے دو آرڈرز اسی وقت لکھوا دیے 1۔ سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔ 2۔ عدالتی کارروائی لائیو دکھائی جائے گی گینگ نے بتانا تھا کہ کمیشن کیوں نہ بنایا جائے، گینگ نے کیسز کھولنا شروع کر دیے۔ اس بیچ یہ جے آئی ٹی کا مطالبہ لے کر آگئے۔ یعنی کمیشن نہ بنے، جے آئی ٹی بنے۔ اس حوالے سے انہیں تفصیل سے سن لیا گیا۔ انہیں جے آئی ٹی اس لیے چاہیے تھی کہ اس میں حاضر سروس افسران موجود ہوں گے۔ متاثرہ خاندان کو کمیشن چاہیے تھا تاکہ سابق افسران اس معاملے کو دیکھ سکیں۔ جب الزامات ہی ایف آئی اے پر ہیں تو ایف آئی اے کے کسی موجود افسر کو تحقیقاتی کمیٹی میں کیسے بٹھایا جا سکتا ہے۔ کئی دن کی مسلسل سماعت کے بعد ان کی گفتگو ختم ہوئی اور متاثرہ فریق کے وکلا کی باری آگئی۔ ان کی تفصیلی گفتگو سن کر جج صاحب اس بات پر مزید مطمئن ہوگئے کہ متاثرہ خاندانوں کا تقاضا بالکل بجا ہے۔ پاکستان میں سب بدترین دباو وہ ہے جو مذہبی قوانین کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔ جس کے آگے ایس ایچ او، ایس پی ڈی ایس پی، ڈی پی او، وکیل اور جج سب بے بس ہوتے ہیں۔ انیس سو چھیاسی سے اب تک طاقتور حلقوں نے سیاسی مفادات کے لیے ہر طرح کا سرمایہ لگا کر جو دباو قائم کیا تھا، سردار اعجاز کے بیالیس دنوں کی ہمت نے اسے تحلیل کرنے میں کلیدی کردار کادا کیا۔ لوگ کھل کر بات کرنے لگے۔ بار میں بیٹھے خاموش وکلا کو بھی ہمت ہوئی۔ صحافیوں کو کچھ حوصلہ ملا۔ سوشل میڈیا انفلوئنسر کو یقین آنے لگا۔ جو لوگ اول اول ڈراوے دینے آتے تھے دھیرے دھیرے وہ بھی ساتھ آنے لگے۔ تصور کیجیے۔! جو لوگ ہائیکورٹ کے ایک طاقتور جج کی عدالت میں یہ سب کر رہے تھے، وہ لوگ پچھلے چار سالوں سے نیچے کی کورٹس میں بے بس جج صاحبان کے سامنے کیا کچھ کرتے ہوں گے۔ تب فیملیوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ ایمان مزاری، ہادی چٹھہ، عثمان وڑائچ اور تمبولی جیسے وکلا کس دل سے کام کرتے ہوں گے۔ مائیں جو ان عدالتیں میں اتنے سالوں سے بے بس کھڑی تھیں ان کے چہروں پر جسٹس سردار اعجاز کے بیالیس دن کی سماعت کے دوران پہلی بار مسکراہٹ دیکھی گئی ہے۔ میں اور آپ یا ہماری نسلیں جج صاحب کے صرف اس ایک کردار کا شکریہ بھی ٹھیک سے ادا نہیں کر سکتیں۔ کوشش کر لیں گے مگر الفاظ کہاں سے لائیں گے؟ ایک انسان سب کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر ایک انسان بہت کچھ کر سکتا ہے۔ سردار نے بہت کچھ کر دیا ہے۔
اردو
11
107
291
11.6K
HNJ retweetledi
HNJ retweetledi
Ahsan Iqbal
Ahsan Iqbal@betterpakistan·
اہل پاکستان اور برطانیہ میں بسنے والی پاکستانی نژاد کیمیونٹی کو مبارک ہو! ایک نالائق اور اناڑی لیڈر اور اس کی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی سزا پی آئی اے سمیت پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت نے یورپ ، برطانیہ اور امریکہ میں پاکستانی ائیرلائینز پر پابندی کی صورت میں بھگتی جسکا پاکستان کو کئی سو ارب کا نقصان ہوا۔ میں حیران ہوتا ہوں ان لوگوں کی عقل پہ جو ایسے شخص کو پاکستان کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں وزارت ہوابازی اور دفاع نے بھرپور محنت کیساتھ پہلے یورپ اور اب برطانیہ سے پاکستانی ائیرلائینز پہ پابندی ختم کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ میں وزیر دفاع خواجہ آف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ @KhawajaMAsif @CMShehbaz
Ahsan Iqbal tweet mediaAhsan Iqbal tweet media
اردو
3
225
1.2K
19.8K
HNJ retweetledi
Shafaat Ali
Shafaat Ali@iamshafaatali·
یہ قوم اپنی ڈرامہ بازیوں میں اسقدر مشغول ہے کہ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کسی نے کچھ ایسا کیا ہے کہ دہائیوں تک بنایا گیا خوف کا بت ، اپنے قلم کی چند سطروں سے توڑ دیا ہے۔ سردار اعجاز جیسا جج قوموں کے اندر کسی اچھے کام کا صلہ ہوتا ہے۔ جج صاحب آپ کو سلام سونیا خان، ایمان مزاری، این سی ایچ آر پی، ایم این اے شیر ارباب سمیت جس جس نے بھی اس کیس میں متاثرہ خاندانوں کے حق کے لئے کوشش کی ہے وہ بلاشبہ ستائشُ کے مستحق ہیں۔
اردو
12
40
223
9.1K
HNJ retweetledi
Murtaza Wahab Siddiqui
Murtaza Wahab Siddiqui@murtazawahab1·
Work continues on the construction of the new Korangi Causeway Bridge which will connect District Korangi & Ibrahim Hyderi with other parts of the city benefiting thousands of commuters. As can be seen, girders are being launched. We are committed to have the project completed by October/November of this year inshallah #KarachiWorks
English
17
79
204
5.9K
Sara Mir
Sara Mir@SaraMirGilgity·
بہنیں ہیں نا اس لیے بھائی کی بات کر رہی ہیں سینٹ کی ٹکٹوں سے ہمارا کچھ لینا دینا نہیں خان صاحب نے بھی کہا خود مل کے فیصلہ کر رہے ہو خان صاحب کی کتابیں بند، ورزش بند، ٹی وی بند، اخبارات بند، کتابیں بند۔💔
اردو
26
258
836
21.6K
HNJ
HNJ@nabijans·
@Z0hai8 @CSMR786 Then a time-bound stay should've been allowed instead of setting aside FBR demand
English
0
0
0
7
HNJ retweetledi
چوہدری شاہد محمود
دو کمپنیوں کو ٹیکس ریکوری کےلیے نوٹس بھیجے،ایک کمپنی 2 ارب 92 کروڑ اور دوسری کمپنی نے 1 ارب88 کروڑ ٹیکس ادا نہیں کیا، FBR نے ٹیکس دینےکےنوٹسز بھیجے،جسٹس منیب نے نوٹس کالعدم قرار دےدیے، فیصلہ جسٹس عائشہ نے لکھا ہے ۔۔۔ پھر جب ایسے ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا جاتا ھے تو چیخیں مارتےہیں۔
اردو
32
516
1.5K
19.6K
HNJ retweetledi
Sukhdev
Sukhdev@SukhdevHemnani_·
Sindh is the only province where the child’s age is set at 18. It is only recently that the same has been done in ICT as President Zardari refused to bow to pressure & signed the respective bill into law. In Sindh, the state stands by the victim not the oppressed. However, Pakistan needs this top to bottom approach to take on extremism that wants state to withhold rights to the minority communities. Collective action is required to put an end to the menace of forced conversion.
English
1
15
26
2.8K
HNJ retweetledi
Syed Nasir Hussain Shah
Syed Nasir Hussain Shah@SyedNasirHShah·
جو لوگ آصف زرداری صاحب کی جیل کا عمران خان کی جیل سے موازنہ کرتے ہیں وہ بیوقوفوں کی جنت میں رہتے ہیں زرداری صاحب نے 14 سال جیل میں گزارے اور ہر طرح کی صعوبتیں برداشت کی خان صاحب کا تو ابھی آغاز ہے اور اُس پر بھی روز اُن کا ایک نیا مطالبہ سامنے آجاتا ہے۔
اردو
25
154
317
11.9K
SHAHEEN SEHBAI
SHAHEEN SEHBAI@SSEHBAI1·
ایک خبر ، ایک تجزیہ : 90 دن کا مسلہ حل ہوا چاہتا ہے : سب لوگ گنڈہ پور کے 90 دن کے چیلنج کے بعد ہکا بکا رہ گئے کہ خان تو اگست 5 کی تاریخ دے رہا ہے مگر یہ وزیر اعلیٰ صاحب بہت آگے کی سوچ رہے ہیں - کچھ تفتیش کی تو کئی چیزیں معلوم ہوئیں - 1. ایک یہ کہ صدر ٹرمپ 17 ستمبر سے 19 تک لندن کا سرکاری دورہ کریں گے اور اس دوران عمران خان کے بیٹوں کی انسے ملاقات بھی ہوگی - جو لوگ اس ملاقات کو کروا رہے ہیں وہ بہت طاقتور اور اثر و رسوخ والے ہیں - شاید بچوں کی والدہ جمائما خان بھی اس ملاقات میں موجود ہوں - 2. اسکا مطلب یہ کے اگر قاسم اور سلیمان جلدی بھی امریکا گئے تو باقی سب لیڈروں اور خان کے لوگوں سے مل کر پاکستان جانے کا پروگرام فائنل کریں گےمگر فیصلہ پھر بھی لندن میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ہی میں ہوگا - 3. اس میٹنگ کے بعد ٹرمپ بھارت اور شاید، ...شاید ... پاکستان کا بھی دورہ کریں اور اپنی بات یہاں کے لیڈروں کو خود بتا دیں - 4. کچھ لوگوں کا خیال ہے ٹرمپ کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے اسرائیل کو مسلم دنیا میں تسلیم کروانا - یوں تو ہمارے جرنیل کب سے تیار ہیں مگر وہ عوام کے غضب سے ڈرتے ہیں اور امریکی سمجھ گئے ہیں کے اتنا بڑا جزباتی فیصلہ عوام کی بھرپور حمایت کے بغیرقبول نہیں ہوگا - 5. یہ عوامی حمایت سوائے عمران خان کے کوئی نہیں دلا سکتا - مگر اس کام کے لئے خان کو اس جنتا کے چنگل سے پہلے نکالنا ضروری ہوگا - 6 . کیا خان اتنا بڑا فیصلہ لے سکتا ہے؟ - اس کام کی کچھ شرائط ہیں اور جو سب کو معلوم ہیں - جیسے پاکستان اسرائیل کو اس وقت تسلیم کریگا جب سعودی عرب اور فلسطینی عوام تسلیم کریں گے اور یہ صرف اس وقت ہوگا جب ایک فلسطینی ریاست کا قیام ہوگا - اس ریاست پر بہت غور ہو رہا ہے اور لوگ بہت قریب ہیں - 7. یہ بھی ہو سکتا ہے ایک بڑا کئی ملکوں کا سربراہی اجلاس سعودی عرب یا قطر میں بلایا جائے جس میں عمران خان پاکستان کی نمائندگی کریں اور وہاں یہ سب فیصلے ایک ساتھ کۓ جایئں - یہ بڑے بڑے کام بونے اور بے شرم فوجی جرنیل نہیں کر سکتے اور نہ پاکستانی عوام تسلیم کریں گے - اس لئے خان کا رہا ہونا بہت ضروری ہے - باقی آپ سب خود سمجھدار ہیں -
اردو
415
1K
4K
169.7K
HNJ retweetledi
Rania
Rania@umyaznemo·
Simplifying it for the masses! Stockholm, Sweden.
English
280
9.6K
31K
564.2K