Dr Aasim Yusuf, Chief Medical Officer at Shaukat Khanum Hospitals and Imran Khan's longtime personal physician.
Statement on Mr Imran Khan’s health.
Link: facebook.com/share/v/1b3cYE…
ڈاکٹر عاصم یوسف ، (سی ای او شوکت خانم ہسپتال) کا سوشل میڈیا پر شیئر کیا گئے بیان کا اردو ترجمہ :
السلام علیکم۔ آج جمعہ، 30 جنوری 2026 ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے پاکستان اور دنیا بھر میں جناب عمران خان کی صحت کے بارے میں افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ دو روز قبل حکومتی ترجمان نے بتایا کہ خان صاحب کو ہفتے کے آخر میں اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں آنکھ کی شدید تکلیف کے باعث لے جایا گیا تھا۔
ابھی تک ہمیں بیماری کی نوعیت، کی گئی جانچ یا دیا گیا علاج باقاعدگی سے تصدیق شدہ طور پر معلوم نہیں ہوا۔ بار بار سننے میں آ رہا ہے کہ معاملہ آنکھ کی ایک رگ کی بندش ہے، جسے عام الفاظ میں کہا جائے تو آنکھ سے خون نکالنے والی مرکزی رگ میں رکاوٹ آ گئی ہے۔ اس کے پیچھے متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں اور عموماً کوئی بنیادی طبی مسئلہ پایا جاتا ہے جس کی مزید جانچ اور علاج درکار ہوتا ہے۔
عام طور پر اس قسم کے کیسز میں آنکھ میں مخصوص ادویات کے انجیکشن دیے جاتے ہیں، بعض اوقات اسٹیرائیڈ انجیکشن کے ساتھ، اور کچھ مریضوں کو لیزر علاج کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ ایک طویل المدتی مسئلہ بن سکتا ہے، اس لیے بار بار علاج اور باقاعدہ فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔
ہمیں اس اسلام آباد ہسپتال کے ڈاکٹروں پر اعتماد ہے جہاں کہا جا رہا ہے کہ خان صاحب کا علاج ہوا، مگر یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کے لیے ریٹینا (آنکھ کی داخلی سطح) کی بیماریوں میں ماہر چشم ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس ہسپتال میں ریٹینا کے ماہر موجود نہیں تھے۔ اگر واقعی وہاں ریٹینا اسپیشلسٹ نے انہیں دیکھا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے، مگر فی الحال یہ ہمارے لیے تشویش کا معاملہ ہے۔
یہ مسئلہ کچھ بنیادی طبی حالتوں کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، مثلاً بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، ذیابیطس، خون میں کولیسٹرول یا دیگر چکنائیوں کا بڑھ جانا، کچھ خود کارِ مدافعتی بیماریاں، یا خون کا زیادہ گاڑھا یا جمنے والا ہونا (ہائپر کوایگولیبل اسٹیٹ)۔ اس لیے ضروری ہے کہ خان صاحب کی ان چیزوں کی مکمل جانچ کی جائے اور اگر کوئی مسئلہ ملے تو اس کا مناسب علاج کیا جائے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ خان صاحب کو نہ صرف آنکھ کے ریٹینا اسپیشلسٹ بلکہ ایک جنرل فزیشن بھی دیکھے، اور بہتر یہی ہوگا کہ انہیں وہی ڈاکٹر چیک کریں جو پچھلے کئی سالوں سے ان کی میڈیکل ہسٹری سے واقف ہوں۔
گزشتہ شب مجھے خان صاحب کی قانونی ٹیم کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ شاید ہمیں 29 جنوری کی رات ملاقات کی اجازت مل سکے۔ میں نے لاہور کے معروف ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر خُرم عظیم سے کہا کہ وہ میرے ساتھ چلیں، جو فوری طور پر راضی ہو گئے۔ ہم رات تقریباً 11 بجے اڈیالہ جیل پہنچے، مگر ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، اور ہم آدھی رات کے بعد وہاں سے واپس لوٹ آئے۔ جب بھی قانونی ٹیم کو اجازت ملے یا ممکن ہو، ہم دوبارہ جانے کے لیے تیار ہیں۔
سوشل میڈیا پر کچھ کہانیاں گردش کر رہی ہیں کہ ہمیں بدسلوکی کا سامنا ہوا، یا ہمیں سردی میں 12 گھنٹے انتظار کروایا گیا، یا ہم نے کہا کہ خان صاحب کو کئی ماہ کے لیے کسی خاص ہسپتال میں داخل کیا جائے۔ یہ سب باتیں بالکل غلط ہیں۔ ہمارے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں ہوئی، نہ ہی ہم نے طویل داخلے کا مطالبہ کیا۔ ہم نے صرف بار بار یہ کہا ہے اور آج بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ طویل المدت ہے اور بار بار اسپتال آنا پڑے گا، اور جو علاج جو اس ہفتے شروع ہوا بظاہر ہسپتال میں ہی ممکن ہے۔
ہم حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ خان صاحب کو ریٹینا اسپیشلسٹ تک رسائی دی جائے اور انہیں وہی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں جو کسی بھی شہری یا انسان کو ایسی حالت میں ملنی چاہئیں۔ یہ مرض جیل کے اندر مکمل طور پر علاج کے قابل نہیں ہے؛ انہیں آئندہ کئی ماہ، اور ممکنہ طور پر دو سے تین سال تک، فالو اپ اور دہرانے والے علاج کے لیے اسپتال جانا پڑ سکتا ہے۔
میرے ساتھی ڈاکٹر خرم عظیم اور میں جب بھی ضرورت ہوئی، خان صاحب کا معائنہ کرنے کے لیے دستیاب ہیں۔ اسی طرح ہم نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے دو ریٹینا ماہرین کے نام قانونی ٹیم کو دے دیے ہیں جو ضرورت پڑنے پر علاج میں مدد کر سکتے ہیں یا خان صاحب کی دیکھ بھال سنبھال سکتے ہیں۔
آخر میں، ہم درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں واضح معلومات فراہم کی جائیں کہ خان صاحب کو بالکل کون سی بیماری ہے، اب تک کون سی جانچ اور علاج ہو چکے ہیں، اور ہمیں خان صاحب تک رسائی دی جائے تا کہ ہم، بطور ان کے معالجین گزشتہ کئی برسوں سے، انہیں دیکھ کر آئندہ علاج
میں حصہ لے سکیں۔ شکریہ۔
Source : Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital and Research Centre official Facebook page.
If personal physicians and specialists are raising alarms about specific health risks regarding Mr. Imran Khan, these concerns should be addressed with medical seriousness rather than being dismissed as political rhetoric. A constructive critique of the current situation is that the relevant authorities must ensure the fundamental right to healthcare for every detainee. Access to specialized doctors should not be hindered; timely diagnosis and expert care are not just a patient’s right but the only way to prevent a major medical crisis.
صحت کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ ایک معالج کی حیثیت سے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مرض کا علاج عام ڈاکٹر کے بس میں نہیں ہوتا، خصوصاً جب معاملہ پیچیدہ طبی حالات یا حساس اعضاء (جیسے آنکھ) کا ہو۔
اگر عمران خان صاحب کے ذاتی معالج اور ماہرین کسی خاص طبی خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں، تو اسے محض سیاسی بیان سمجھنے کے بجائے طبی نقطہ نظر سے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ 'تنقید برائے اصلاح' یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی قیدی، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اس کے بنیادی طبی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور ماہر ڈاکٹروں تک رسائی میں رکاوٹ نہ بنیں۔ بروقت تشخیص اور ماہرانہ علاج نہ صرف مریض کا حق ہے بلکہ کسی بھی بڑے طبی حادثے سے بچنے کا واحد راستہ بھی ہے
@SKMCH گرفتاری سے بچنے کیلئے عمران خان زمان پارک میں مورچہ بند تھا تب پیٹ درد کا بہانہ بنا کر شوکت خانم گیا اور وہاں جا کر زوم میٹنگ کی
اب پھر شوکت خانم میموریل والے ایسی ہی کوئی نئی سیاسی میٹنگ کا بندوست تو کر رہے ھونگے جو بضد ہیں کہ آنکھوں کے مریض کو کینسر ہسپتال لیا جائے۔
@SKMCH how come doctors of cancer hospital made from public money are concerned for a prisoner in state custody? shame on you and do the job of treating patients in your hospital or lower the threshold to treat patients which are not admitted as per current policies
@SKMCH خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "
#FreeImranKhan
#قوم_کی_مانگ_خان_کا_علاج
@SKMCH وَمَكَروا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيرُ الماكِرينَ (آل عمران: ۵۴)
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے۔
@SKMCH Dear SKCMH team, you should urgently rush to international court of justice without wasting time for the brutal treatment of Establishment with Imran Khan.
@SKMCH The Government must initiate an independent and transparent audit of all Shaukat Khanum Hospitals and Labs, shockingly, this money laundering enterprise of @PTIofficial has never been independently audited.
‼️ ‼️