

HRC Khyber Pakhtunkhwa
23 posts

@HRC_KP
Human Rights Council Khyber Pakhtunkhwa (HRC KP) A registered non-governmental, non-profit organization dedicated to the promotion and protection of human right
















اعلامیہ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRC Pakistan) موضوع: سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (SSIC) کے ملازمین کا سنگین معاشی استحصال اور حکومت سندھ کی بے حسی کراچی – 25 فروری 2026 ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان شدید تشویش اور سخت مذمت کا اظہار کرتی ہے کہ سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (SSIC) میں 700 سے زائد ملازمین اور ان کے خاندانوں کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔ یہ محض انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ ایک فلاحی ریاست میں محنت کشوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور معاشی قتل کے مترادف ہے۔ اہم حقائق: سال 2025 کے چھ ماہ (مارچ، اپریل، مئی، جون، نومبر، دسمبر) کی تنخواہیں تاحال غیر ادا شدہ ہیں۔ سال 2026 کے پہلے دو ماہ (جنوری اور فروری) کی تنخواہیں بھی زیر التوا ہیں۔ مجموعی طور پر 8 ماہ کی تنخواہیں بقایا ہیں۔ رمضان المبارک سے قبل ادائیگی کا وعدہ محض جھوٹا ثابت ہوا۔ کراچی سمیت سندھ بھر کے ملازمین اپنے جائز حق کے لیے دربدر ہیں، جو فاقہ کشی، قرضوں اور شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ یہ عدم ادائیگی آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) اور مزدوروں کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تنخواہ کی عدم ادائیگی صرف مالی بحران نہیں، بلکہ انسانی وقار پر براہ راست حملہ اور معاشی استحصال کی بدترین شکل ہے۔ ہمارے مطالبات: فوری ادائیگی: تمام بقایا تنخواہیں (8 ماہ) یکمشت اور بلا تاخیر ادا کی جائیں۔ فرانزک آڈٹ: ادارے کے مالی معاملات کی آزادانہ اور شفاف فرانزک تحقیقات کرائی جائیں۔ مستقل حل: تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے ہنگامی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک پائیدار نظام وضع کیا جائے۔ احتساب: ذمہ دار افسران اور حکام کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔ انتباہ: اگر حکومتِ سندھ نے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان متاثرہ ملازمین کے ساتھ مل کر اعلیٰ عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کرے گی اور اس معاملے کو قومی سطح پر میڈیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورمز (جیسے UN Human Rights Council) تک لے جائے گی۔ خاموشی اب جرم ہے۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے محنت کش شہریوں کے ساتھ انصاف کرے۔ جاری کردہ: ترجمان ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRC Pakistan) #PaySalariesNow #SSIC #hrcpakistan #StopEconomicExploitation #WorkersRights #HumanRights #JusticeForSSICEmployees #ReleasePendingSalaries #SindhGovernment #SindhCM @CMOffice_Sindh @GovtOfSindh @SindhCM_Murad @Industries_Sindh @HumanRightsPak @BBhuttoZardari @SindhAssembly @PPP_Org @AseefaBZ @CMOffice_Sindh @GovtOfSindh @SindhCM_Murad @Industries_Sindh





ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (HRCPakistan) بیان تاریخ: ۱۵ فروری ۲۰۲۶ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے میں، جمشید حسین @Jamshedhrcpak چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان @ImranKhanPTI کی صحت کی تشویشناک صورتحال پر گہری اور فوری تشویش کا اظہار کرتا ہوں۔ آج صبح ادیالہ جیل میں میڈیکل ٹیم نے چیک اپ کیا، ٹیسٹ لیے، بلڈ پریشر دیکھا—لیکن یہ سب جیل کی چار دیواریوں کے اندر ہی ہوا۔ باہر سے بلائے گئے ڈاکٹرز نے کام کیا، مگر یہ نہ تو عمران خان کے ذاتی سرجن تھے، نہ ہی خاندان کی طرف سے منتخب کردہ ماہرین۔ یہ ایک بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی اور خاندان بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ہو، ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی میں—مگر کل کا وعدہ، ایمبولینس کی آمد، اور پھر مکمل خاموشی۔ یہ تاخیر، یہ خفیہ طریقہ کار، قیدی کی جان کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ صرف میڈیکل اخلاقیات کا معاملہ نہیں—یہ پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی قوانین (ICCPR آرٹیکل ۷ اور ۱۰) کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہر قیدی کو آزاد، مناسب اور غیر جانبدار علاج کا حق دیتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں: ۱۔ عمران خان کو فوری طور پر کسی معتبر نجی ہسپتال (جیسے شفا انٹرنیشنل) میں منتقل کیا جائے۔ ۲۔ ان کی ذاتی میڈیکل ٹیم کو علاج میں مکمل طور پر شامل کیا جائے۔ ۳۔ ایک آزاد، مشترکہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں خاندان کی نامزدگی بھی شامل ہو۔ ۴۔ تمام طبی رپورٹس عوامی طور پر جاری کی جائیں—شفافیت کے بغیر اعتماد نہیں بنتا۔ حکومت سے آخری اپیل: سیاسی انتقام کو انسانی جانوں پر ترجیح نہ دیں۔ اگر کوئی سنگین نقصان ہوا تو تاریخ اور عوام آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان (جمشید حسین، چیئرمین) #ImranKhanHealthEmergency #HumanRightsForimrankhan @GovtofPakistan @CIJ_ICJ @elonmusk @freedomhouse @OHCHRPartners @amnestysasia






ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا اعلامیہ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی صحت کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ عمران خان گزشتہ تقریباً ڈھائی سال (922 دن سے زائد) سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ تازہ میڈیکل رپورٹ (6 فروری 2026) کے مطابق، ان کی دائیں آنکھ میں **right central retinal vein occlusion** (ریٹینل وین کی مرکزی بندش اور خون کا لوتھڑا) کی تشخیص ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف **15 فیصد** رہ گئی ہے (یعنی تقریباً 85 فیصد بینائی کا نقصان)۔ یہ مسئلہ اکتوبر 2025 سے شروع ہوا، جب عمران خان نے مسلسل دھندلاہٹ اور hazy vision کی شکایات کیں، مگر جیل انتظامیہ نے تین ماہ تک مناسب طبی اقدامات نہیں کیے۔ صرف آئی ڈراپس دیے گئے، اسپیشلسٹ سے رجوع نہیں کیا گیا، جس سے نقصان شدید اور ممکنہ طور پر ناقابل تلافی ہو گیا۔ یہ تاخیر اور غفلت پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے: - **آئین پاکستان** کے **آرٹیکل 9** کے تحت زندگی اور آزادی کا حق (جو مناسب طبی نگہداشت کو بھی شامل کرتا ہے)، **آرٹیکل 14** کے تحت انسانی وقار کی حفاظت (جو غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے تحفظ دیتا ہے)، اور **آرٹیکل 10A** کے تحت منصفانہ ٹرائل اور قانونی مشاورت کا حق متاثر ہو رہا ہے۔ - **اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز** (UN Standard Minimum Rules for the Treatment of Prisoners) کے **رول 24-27** کے تحت قیدیوں کو صحت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے، جو کمیونٹی کے معیار کے برابر ہونی چاہیے۔ صحت کی خدمات فوری، آزادانہ اور مکمل ہونی چاہئیں، اور طبی فائلیں خفیہ اور مریض کو دستیاب ہونی چاہئیں۔ دانستہ تاخیر یا غفلت غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آتی ہے۔ کونسل حکومت اور جیل انتظامیہ سے فوری مطالبات کرتی ہے: - متعلقہ افسران (بشمول سابق سپرنٹنڈنٹ) کے خلاف **Pakistan Penal Code** کی دفعہ 304A (غیر ارادی شدید نقصان کی لاپرواہی)، CrPC کی دفعہ 220/166 (سرکاری ڈیوٹی میں دانستہ غفلت)، اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ - عمران خان کو فوری طور پر بہترین اسپیشلسٹ آئی کیئر (انجیکشنز، ہسپتالائزڈ علاج) فراہم کیا جائے۔ - فیملی، وکلا اور آزاد میڈیکل ٹیم (ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف) کو بلا روک ٹوک رسائی دی جائے۔ - سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 16 فروری 2026 سے پہلے مکمل میڈیکل بورڈ کا معائنہ کرایا جائے اور رپورٹس شفاف طور پر شیئر کی جائیں۔ کونسل زور دیتی ہے کہ قیدی کی حیثیت سے عمران خان کو بھی وہی بنیادی حقوق حاصل ہیں جو ہر شہری کو ملتے ہیں۔ یہ غفلت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ فوری جوابدہی قائم کرے۔ تاخیر سے مزید نقصان ناقابل قبول ہے۔ کونسل تمام انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ اس بحران پر آواز اٹھائیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ اللہ عمران خان کو جلد صحت یاب فرمائے اور انصاف نافذ ہو۔ #ImranKhanHealthEmemrgency @PTIofficial @jamshed_hrc








