Mohib Mobi

47.4K posts

Mohib Mobi banner
Mohib Mobi

Mohib Mobi

@MohibeAltaf

[email protected]

سرجانی ٹاون کراچی Katılım Şubat 2022
406 Takip Edilen1.7K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Mohib Mobi
Mohib Mobi@MohibeAltaf·
کمالو کتنے ہی ڈرامے کیوں نہ کر لے ڈاکٹر عمران فاروق کے والدین اپنی وفات سے پہلے بتا چکے ہیں کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل کمالو کے ساتھ بیٹھے ہیں اور وہ اسکو جانتے ہیں
اردو
0
181
441
25.9K
Mohib Mobi
Mohib Mobi@MohibeAltaf·
خالد مقبول اپنی زبان سے اعتراف کر چکا ہے کہ PSPٹولے نے مہاجر اور پارٹی نوجوانوں کی مخبریاں کیں انکو گرفتار لا پتہ اور شہید کروایا مگر اسکے باوجود انہی کے ساتھ بیٹھا ہے
اردو
0
8
16
335
Mohib Mobi
Mohib Mobi@MohibeAltaf·
کمالو اور کرائمخانی خالد مقبول کا وہ ہی حشر کرینگے جو ڈاکٹر عمران فاروق کا کیا تھا بس دیکھنا یہ ہے کہ یہ کام وہ پارٹی الیکشن سے پہلے کرینگے گے یا بعد میں
اردو
0
3
9
299
Mohib Mobi retweetledi
SAMI UDDIN
SAMI UDDIN@samiuddinshah·
آواز کو دبایا جا سکتا ہے، مگر سوچ کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ #AltafHussain آج بھی کراچی کے عوام کے دِلوں اور سوچوں میں زندہ ہے۔
اردو
0
38
57
611
Mohib Mobi retweetledi
Mustafa Azizabadi
Mustafa Azizabadi@azizabadi·
کراچی میں امن و امان کی صورتحال تباہ کن ہے، شہر چوروں، ڈاکوؤں ، لٹیروں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں کے نرغے میں ہے، شہری روزانہ لٹ رہے ہیں اور لوٹ مار کا پیسہ سندھ پر مسلط ” سسٹم “ کو جارہا ہے ، حکومت سندھ سرپرستی کررہی ہے۔
اردو
13
120
185
1.8K
Mohib Mobi retweetledi
Mansoor Nisar Panhwar
Mansoor Nisar Panhwar@mansoor_nisar6·
123 دن گزر گئے! میرے والد سابق ایم این اے نثار پنہوار اور بھائی محسن پنہوار مہینوں سے جبری لاپتہ ہیں، حالانکہ انہوں نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں کام کیا۔ سچ بولنے کی سزا ظلم نہیں ہونی چاہیے، یہ نہ اسلام ہے، نہ انسانیت۔ خدارا اس ظلم کو ختم کریں۔ #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
Mansoor Nisar Panhwar tweet media
اردو
1
31
41
438
Mohib Mobi retweetledi
Dr. Nadeem Ehsan
Dr. Nadeem Ehsan@NdmEhsan·
تاریخ ہماری شاہدہے #الطاف_ہمارا_قائد_ہے (پہلی تحریر) بانی و قائدِتحریک الطاف حسین بھائی کےکارکن کی حیثیت سےاپنی تحریکی یادوں کوقلم بندکرنےکاآغازکررہاہوں -یہ17ستمبر2015کی تحریرہے اس تحریرکی خاص بات یہ ہےکہ اس تحریرمیں،میں نےقائدِمحترم کےعلاوہ کسی کانام نہیں لکھاتھا۔جبکہ نہ22اگست ہوئی تھی اور نہ ہی کسی بھی ٹولے کی جبری ولادت با مروت کروائی گئی تھی۔ بحیثیت ایک تحریکی کارکن میری تنظیمی چھٹی حس مجھ سےیہ کہہ رہی تھی کہ ” مرکز اور مرکزیت “ کےموضوع پرلکھو اورپھرمیں ایک ہی قلمی نشست میں اسے تحریرکرتاچلاگیا۔ اپنی اگلی تحریرمیں یہ بتاؤں گا کہ میں نے آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں کب اورکیوں شمولیت اختیار کی اورسب سے اہم یہ کہ بانی و قائدِتحریک الطاف حسین بھائی سےکب اورکہاں میری پہلی ملاقات ہوئی اوراس ملاقات میں کیا گفتگوہوئی تھی۔ ۔ ” مرکز اور مرکزیت “ یہ تحریر تحریکی ساتھیوں، قارئین اور تاریخ کےطالبعلموں کی نذر اس تحریر کو آپ ٹوئٹ میں دیئے گئے تینوں اسکرین شاٹس یا فیس بک👇کے👇لنک پر پڑھ سکتےہیں facebook.com/share/1Wjtpns3… ۔ @AltafHussain_90 @OfficialMQM - @ImranKhanPTI @CMShehbaz @NawazSharifMNS @MaryamNSharif @BBhuttoZardari @PresOfPakistan @NaeemRehmanEngr @MoulanaOfficial @sakhtarmengal @OfficialDGISPR @BBCUrdu @voaurdu @dw_urdu @USAUrdu @HassanNisar @HamidMirPAK @mujibshami1 @AajKamranKhan @shazbkhanzdaGEO @AsadAToor @asmashirazi @MazharAbbasGEO @xadeejourno @WusatUllahKhan @WaseemBadami @SaleemKhanSafi @suhailswarraich @FrontlineKamran @meherbokhari @NadiaNaqi @NasimZehra @MalickViews @najamsethi @realrazidada @SImranshafqat @ZarrarKhuhro @OryaMaqboolJan @Aftab_Iqbal1 @husainhaqqani @AbsarAlamHaider @soldierspeaks @WajSKhan @MoeedNj @SSEHBAI1 @ImranRiazKhan @ARYSabirShakir @SHaiderRMehdi @ShazadAkbar
Dr. Nadeem Ehsan tweet mediaDr. Nadeem Ehsan tweet mediaDr. Nadeem Ehsan tweet mediaDr. Nadeem Ehsan tweet media
Dr. Nadeem Ehsan@NdmEhsan

قائدِ محترم آپ کوہماری عمرلگ جائے میری ہرتجدیدصرف تجھ سےوابستہ ہے تیری نظروقدم میری منزل کارستہ ہے #DawnOfRevolution

اردو
13
85
115
1.9K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
میں کراچی کے باصلاحیت نوجوان صالح آصف کو آرٹیفشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صالح آصف نے کم عمری میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) جیسی جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح کی AI کمپنی قائم کی جس نے بین الاقوامی اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جس سے پاکستان کا نام روشن ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نوجوان علم و ہنر اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ صالح آصف کی یہ کامیابی نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے کہ اگر علم حاصل کیا جائےاور کوشش کی جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ میں پاکستان کے تمام نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صالح آصف کی طرح تعلیم، ہنر اور جدید علوم خصوصاً ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھیں اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
Altaf Hussain tweet media
اردو
53
231
456
8.4K
Mohib Mobi retweetledi
Mustafa Azizabadi
Mustafa Azizabadi@azizabadi·
ایک شخص نے فرعونی دعویٰ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو دفن کرنے کا اعلان کیا تھا، آج اس کی اپنی جماعت قانونی طور پر دفن ہوگئی۔ الیکشن کمیشن سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری ہوگیا۔بنانے والوں کی اربوں کھربوں روپے کی انویسٹمنٹ ڈوب گئی۔ لیبارٹریوں میں بنائی جانے والی ایسی ناجائز چیزوں کا مقدر یہی ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ،آیت نمبر:20 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ۔'' ” بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے “
اردو
23
160
315
20.8K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
3/3 پس جوچیزایک سائنسی حقیقت ہو، سائنسی بنیاد پر ثابت شدہ ہو اورانسانوں کی فلاح وبہبود اور اس کے مقاصد کی اشاعت و ترویج کے لئے مفید ہووہ بالآخر بلاامتیازِ مذہب ومسلک مانی جاتی ہے۔  میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بحیثیت مسلمان کسی بھی فقہ یا مسلک کے ماننے والے ہوں، میں نہیں کہتا کہ آپ اپنامسلک یاعقیدہ چھوڑ دیں، آپ بے شک اپنے اپنے مسلک وعقیدے پر قائم رہیں لیکن دوسرے کے فقہ، مسلک وعقیدے میں کیڑے نہ نکالیں، آپ اپنے طریقے سے نماز پڑھیں، دوسرے مسلک کے ماننے والے کواس کے طریقے سے نماز پڑھنے دیں، آپ اوروہ نمازمیں اللہ کو ہی سجدہ کررہے ہیں، اسی کی عبادت کررہے ہیں۔ لہٰذانماز کی ادائیگی کے طریقے میں اختلاف اورعقائد کی بنیاد پرآپس میں ایک دوسرے سےنفرت نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کااحترام کریں، ایک دوسرے کے ساتھ پیارمحبت سے پیش آئیں۔آپس میں دوستی کریں، آپس میں گھلیں ملیں۔آپ کسی بھی مذہب یاکسی بھی مسلک کے ماننے والے ہوں، آپ انسان ہیں اورانسانی رشتہ تمام رشتوں پر مقدم ہوتا ہے۔ مذہب یاعقیدے کی بنیاد پر لوگوں سے نفرت کرناانسانیت اورانسانی رشتے کی صریحاً نفی ہے۔  اسی طرح کسی بھی شہری کامذہب کوئی بھی ہو، اگروہ آپ کے مذہب کا ماننے والا نہیں ہے تواس بنیاد پر اس سے لڑائی کرنا، علاقے میں فساد برپا کرنا، لوگوں کو فسادپر اکسانا، مذہب کی بنیاد پر کسی کوقتل کردینا،اس کی عبادت گاہ، اس کے گھر کو جلا دینا سراسر غلط فعل ہے۔ اگرآپ مذہب کی بنیاد پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو قتل کررہے ہیں، اس کی عبادت گاہ یا گھر کو جلا رہے ہیں اوراس عمل کو اپنے مذہب کی بنیاد پردرست قراردے رہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ آپ اس عمل کو اپنے مذہب کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں جبکہ کوئی بھی مذہب قتل وغارتگری، اشتعال انگیزی اوراس طرح کے کاموں کا درس نہیں دیتا۔  اسی طرح زبان،قومیت یاعلاقے کا معاملہ آجاتا ہے، اس بنیاد پر بھی آپس میں ایک دوسرے سے نفرت یا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ میراپیغام یہی ہے کہ ہر زبان، ہر علاقے، ہرقوم کے انسان سے محبت کرو، کسی سے نفرت نہ کرو۔اسی طرح مذہب ومسلک اورعقیدے کی بنیاد پر کسی سے نفرت اورجنگ وجدل نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کے مذہب ومسلک کااحترام کرو۔   میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی بہتری اور فلاح اسی میں ہے کہ ہم خودبھی جئیں اور دوسرے کوبھی جینے دیں،ہم اپنے معاشرے کو ایسامعاشرہ بنائیں جہاں جنگل کا قانون نہ ہو جہاں ہر طاقتور جانور کمزور جانور کوکھا جاتا ہے بلکہ ہمارامعاشرہ انسانوں کا ایسا معاشرہ ہو جہاں انسانیت کااحترام کیاجائے، انسانوں کے ساتھ مذہب، فقہ، مسلک، عقیدے، زبان، علاقے، یا کسی بھی بنیاد پر نفرت، تعصب، تفریق یا امتیاز نہ کیا جائے۔  الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 397 ویں فکری نشست سے خطاب 18اپریل 2026ء
Altaf Hussain tweet media
اردو
22
142
204
2.4K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
2/3 میں اس موضوع کی مزیدوضاحت اس طرح کرناچاہوں گا کہ کسی بھی مذہب کے مولوی،پادری،پنڈت یامبلغین مذہب کی آڑ میں اشرافیہ کےمفادات کےلئے کام کرتے ہیں اور اشرافیہ کےاقدامات کو اس مذہب کی تعلیمات کےعین مطابق قرار دیکرلوگوں کو حکمراں اشرافیہ کی اطاعت وحمایت، فرمابرداری اور پیروی کرنےکی تلقین کرتے ہیں۔  اِس مقصد کےتحت لوگوں میں مذہبی جنونیت پھیلانے کےلئے عوام کے سامنے ایسے ایسےموضوعات لائےجاتے ہیں جو مذہبی انتہاپسندی اورعوام کےدرمیان انتشار کوفروغ دینے کاسبب بنتے ہیں۔ مثال کےطورپرفقہی اختلافات کو کفر سے تعبیرکردیا جاتا ہےاوراس مخالف فقہ یامسلک کے ماننے والوں کوکافرحتیٰ کہ واجب القتل قراردیدیا جاتا ہے، بعض درس گاہوں میں بچوں کو باقاعدہ تعلیم وتربیت دیکر کسی مخصوص فقہ یا مسلک کےماننے والوں کو کافرکہنے کی تسبیحات تک پڑھائی جاتی ہیں۔بعض عناصر کی جانب سےمذہبی اجتماعات، جلسے جلوسوں یا سیمینارز میں مخالف فقہ، مسلک یاکسی مذہب کے پیروکاروں یا کسی مخصوص طبقہء فکرکے ماننے والوں کےخلاف لوگوں کو بھڑکایا جاتا ہے۔یہ انتہا پسندانہ طرز عمل معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان شدید نفرت وعداوت، عدم برداشت اور انتشار کوفروغ دیتا ہے۔  ہمیں یہ سمجھناچاہیے کہ مذہب ایک عقیدے، faith اورBelief system کا نام ہے۔حقیقت یہ ہےکہ دنیا میں پیدا ہونے والاہربچہ” لامذہب“پیدا ہوتا ہے، ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے بچے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ بغیرمذہب کے پیدا ہوتا ہے۔البتہ جوبچہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے وہاں بچے کو مسلمان بنانے کےلئے اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے کوچرچ لےجاکر اسے Baptise کیا جاتا ہے یعنی مقدس پانی سےاس کے سر کو دھویا جاتا ہےیا نہلایا جاتا ہے، اسی طرح دیگرمذاہب کے ماننے والے بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق رسومات ادا کرکے اپنے بچے کواپنے مذہب کے دائرے میں لاتے ہیں۔آگے چل کرمسلمان اپنے بچوں کو مسجد لیکر جاتے ہیں، عیسائی اپنے بچوں کو چرچ لے کرجاتے ہیں،یہودی اپنے بچوں کو اپنی عبادت گاہ synagogue لے کرجاتے ہیں۔ ہندو اپنے بچوں کومندرلے کرجاتے ہیں اورسکھ اپنے بچوں کو گردوارے لیکر جاتے ہیں۔اسی طرح دیگرمذاہب کے ماننے والے اپنے بچوں کو اپنی عبادت کی اُن جگہوں پرلے کرجاتے ہیں جو اُن کے مذہب میں مقدس ومعتبرتصورکی جاتی ہیں۔ یوں وہ بچہ جس گھرانے میں پرورش پاتا ہے، وہ اپنے ماں باپ  یا گھر والوں کو جو مذہبی عبادات ادا کرتے دیکھتا ہے، وہی کرنے لگتا ہے، اس طرح وہ بچہ وہی مذہب اختیارکرتا ہے جواس کے ماں باپ اورگھر والوں کا مذہب ہوتاہے۔ گویا یہ بات ثابت ہوئی کہ کوئی بھی مذہب موروثی ہوتا ہے۔ یعنی ہرمذہب کا ماننے والاعموماً وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے والدین اور آباؤاجداد کا مذہب ہوتاہے اور اُس مذہب کواختیار کرنے میں اس انسان کااپنا کوئی کریڈٹ نہیں ہوتا۔  ہرفرد کوشروع سے یہی بتایا جاتا ہے کہ اُس کامذہب سب سے اچھا اور سچا مذہب ہے۔ لہٰذا وہ اپنے مذہب کو ہی صحیح اورسچامذہب مانتاہے اوریہ سوچ اس کے ایمان کاحصہ بن جاتی ہے۔ غورکیاجائے تو کسی بھی مذہب یامذہبی عقیدے، faith  اورBelief system  کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں ہوتی اوراسے سائنسی بنیادوں پر کسی لیبارٹری میں درست ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی مذہب سائنسی بنیاد پرکسی لیبارٹری میں ثابت کیاجاسکتا تووہ ایک سائنسی حقیقت کی طرح ہرگھر میں موجود ہوتا۔ مثال کے طورپر بلب ایک سائنسی ایجاد ہے، سائنسی حقیقت ہے اورسائنسی بنیاد پر ثابت ہےلہٰذا وہ بلاامتیازِ مذہب ومسلک وعقیدہ ہرعبادت گاہ اورہر گھر میں جل رہا ہوتا ہے۔  اگرہم تاریخ کاجائزہ لیں توہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہرسائنسی نظریہ یاسائنسی ایجاد کومذہب کے خلاف قرار دیا گیا اوراس کے استعمال کو مذہبی بنیاد پرحرام تک قرار دے دیا گیا۔مثال کے طورپر لاؤڈ اسپیکر جو ایک سائنسی ایجادہے،جب برصغیر میں لاؤڈ اسپیکرکومتعارف کرایا گیا تو مذہبی بنیادپر اس کی مخالفت کی گئی، اس کااستعمال حرام قرار دیا گیا، لاؤڈ اسپیکرپر اذان دیناحرام قرار دیا گیا لیکن آج ہر مذہب و مسلک کے ماننے والے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح پہلے کیمرے، ٹیلیوژن، وی سی آر کو مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کی جانب سےحرام قراردیا گیا،طالبان اور دیگر بعض مذہبی انتہا پسند عناصر نے تو ٹی وی اور کیمرے توڑ کر کھمبوں تک پر لٹکادیے لیکن آج تمام مذہبی عقائد کے ماننے والے اپنے عقائد کی ترویج و تشہیر اور اشاعت کے لئے ٹی وی اور کیمروں کا خوب استعمال کرتے ہیں، ان کے اپنے اپنے ٹی وی چینلز تک ہیں۔یعنی کل تک جو چیز حرام قرار دے دی گئی تھی آج وہ حلال ہوگئی ہے۔گویا جب انسانوں کا شعور بڑھتا ہے اوروہ غورکرتے ہیں تو بالآخر سائنسی ایجادات کی حقیقت اور افادیت کوتسلیم کرتے ہوئے ان کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔
Altaf Hussain tweet media
اردو
12
118
155
1.9K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
دنیا میں پیدا ہو نے والا ہربچہ” لامذہب “ پیدا ہوتا ہے ……الطاف حسین  کوئی بھی مذہب کسی سے نفرت کادرس نہیں دیتا لیکن بدقسمتی سے ہردور کی سپرپاورنے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مذہب کوبطورہتھیار استعمال کیا ہے۔کسی بھی ملک میں جس مذہب کو مانا جاتا ہے،عموماً اُس ملک کی حکمراں اشرافیہ اپنی خواہشات کی تکمیل اور جائز وناجائز مقاصد کے حصول کے لئے اُس مذہب کوبطور ڈھال استعمال کرتی رہی ہے۔ اسی طرح کسی بھی ملک کی حکمراں اشرافیہ مذہب کواستعمال کرکے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرتی چلی آئی ہے۔  میں مذہب کےغلط استعمال کے موضوع کو آگے بڑھانے سے قبل ماضی بعید اور ماضی قریب کی چند مثالیں پیش کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین بالخصوص نوجوان نسل (Gen Z) اس اہم اور حساس موضوع کو اس کی روح کے مطابق آسانی سے سمجھ سکیں۔  مثال کے طورپر 1857ء کی جنگ آزادی میں ہندوستانیوں کی شکست کے بعد انگریزوں کا پورے ہندوستان پر مکمل قبضہ ہوگیا تھا، آہستہ آہستہ ہندوستان کے لوگوں نے ہندوستان پرانگریزوں کے ناجائز قبضے کے خلاف منظم ہونا شروع کیا، اس سلسلے میں کئی حریت پسند گروپوں نے بھی جنم لیا اور آزادی آزادی کے نعروں کی گونج ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگی تو ہندوستان کے لوگوں کے اتحاد کو توڑنے، انہیں تقسیم کرنے اور کمزور کرنے کیلئے انگریزوں نے مذہب کے نام کو اِس شاطرانہ طریقے سے استعمال کیا کہ ہندواورمسلمان جو لگ بھگ ایک ہزار سال سے اپنے اپنے مذہب پرقائم رہتے ہوئے ایک ساتھ رہتے چلے آرہے تھے، ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شرکت کرتے رہے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی تہوار کااحترام کرتے چلے آرہے تھے، انگریزوں نے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا۔ اس تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے انگریز حکمراں اشرافیہ نےہندوستان کے مولویوں اور پنڈتوں کو استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہندو اور مسلمان جو ملکر انگریزوں کے خلاف آزادی کے لئےلڑرہے تھے، وہ اس طرح تقسیم ہوگئے کہ انگریزوں سےلڑنے کے بجائے آپس میں ہی لڑنے لگے، یہ سلسلہ بالآخر ہندوستان کے جغرافیے کی تقسیم کا سبب بنا۔  ہم ماضی قریب کی مثال کو سامنے رکھیں کہ 70 کی دہائی میں امریکہ اور روس کی سردجنگ چل رہی تھی اور جب روس افغانستان تک پہنچ گیا تو امریکہ نے روس کا براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مذہب کے نعرے کو استعمال کیا۔ افغانستان اور پاکستان میں مجاہدین تیار کرنے کیلئےبمعہ جنگی ساز وسامان کھربا کھرب ڈالرز استعمال کیے اور پاکستان کو روس سےلڑنے کا مرکزی مقام بنادیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی حکمراں اشرافیہ نے پاکستان میں سینکڑوں جہادی مدرسے قائم کرکے سادہ لوح عوام بالخصوص نوجوانوں کو نہ صرف جہاد کی تعلیم دی بلکہ انہیں جنگ لڑنے کی تربیت دینے کے لئے تربیتی مراکز بھی قائم کیے۔   پورے پاکستان میں جگہ جگہ بڑے بڑے بینرز آویزاں اور وال چاکنگ ہونے لگی کہ ان مجاہدین کی مدد کریں جو کافروں یعنی روسیوں کے خلاف اللہ کے نام پر جہاد کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ حکمراں اشرافیہ کی سرپرستی میں کیا گیا اوراس مقصد کیلئے بھی پاکستان کی حکمراں اشرافیہ نے عوام کی ذہن سازی کیلئے مذہبی جماعتوں اور مذہبی جغادریوں کو استعمال کیا۔ اسی طرح حکمراں اشرافیہ کے مفادات کے حصول کے لئے تحریک طالبا ن پاکستان (TTP) کا وجود عمل میں لایا گیا اورملک میں مذہبی انتہا پسندی کوفروغ دیا گیا۔  اس کے بعد سے لیکرآج 18، اپریل 2026ء کے دن تک پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد مذہبی انتہاء پسندی میں مبتلا ہوچکی ہے اورآئےدن ایسےواقعات سامنے آتے ہیں کہ فلاں شخص نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے یا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺکی شان میں گستاخی کا عمل کیا ہے۔اس قسم کے جھوٹے الزامات عائد کرکے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو قتل کرنے، زندہ جلانے یا مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں اوراملاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات رونماہوتے رہے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات کا ایساسلسلہ شروع ہوا ہے جوآج تک ختم نہ ہوسکا اور یہ سب کچھ حکمراں اشرافیہ کی سرپرستی میں ہوا۔  1/3
Altaf Hussain tweet media
اردو
36
136
209
4.3K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
3/3 Similarly, regardless of a citizen's religion, if they do not share your faith, fighting them, creating unrest in the area, inciting people to violence, killing someone, or burning their place of worship or home is an entirely wrongful act. If you kill someone or burn their home in the name of religion and claim it is right, you are attributing these actions to your religious teachings—whereas no religion teaches murder, mayhem, or provocation. The same applies to language, ethnicity, or region; there should be no hatred, prejudice, or discrimination on these bases. My message is simple: Love every human being irrespective of language, religion, and ethnicity.  I believe that the betterment of the world lies in the philosophy of ” live and let live." We must build a society that is not ruled by the "law of the jungle,” where the strong consume the weak. Instead, it should be a human society where humanity is respected, and no one is subjected to hatred, prejudice, or discrimination based on religion, sect, belief, language, or region. Altaf Hussain Address to the 397th Intellectual Session on TikTok April 18, 2026
Altaf Hussain tweet media
English
1
106
141
1.4K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
2/3 To spread religious fanaticism for this purpose, topics are introduced to the public that promote extremism and sow discord. For example, jurisprudential (Fiqh) differences are labelled as "Kufr" (infidelity), and followers of opposing sects are declared "Kafir" or even “bound to be killed" (Wajib-ul-Qatl). In some educational institutions, children are formally taught to recite chants, labelling followers of specific sects as infidels. Certain elements incite people against opposing sects or religions during religious gatherings, processions, and seminars. This extremist behaviour fosters intense hatred, intolerance, and chaos among different segments of society. We must understand that religion is both a faith and a belief system. The reality is that every child born in this world is born “religionless." A child emerging from a mother’s womb has no religion; they are born without one. •A child born into a #Muslim household is given the Adhan (call to prayer) in their ear to make them Muslim. •A child born into a #Christian household is taken to a church to be baptised. •Followers of other religions perform rituals according to their own beliefs to bring the child into the fold of their faith. Muslims take their children to the mosque, Christians to the church, Jews to the synagogue, Hindus to the temple, and #Sikhs to the Gurdwara. Thus, a child begins to do/adopt what they see their parents or family members doing. They adopt the religion of their family. This proves that religion is hereditary. Generally, a follower of any religion adopts the faith of their parents and ancestors. There is no personal "credit" for the individual in adopting that religion. Every individual is told from the beginning that their religion is the best and the only true one. Consequently, they accept it as the truth, and this thought becomes a part of their faith. If we look closely, no religion or belief system has a scientific reality; it cannot be proven true on scientific grounds in a laboratory. If a religion could be proven scientifically, it would be present in every home like a scientific fact. For example, a lightbulb is a scientific invention—a scientific fact proven by science—therefore, it burns in every place of worship and every home, regardless of religion or sect. In the past, we have seen that almost every scientific theory or invention was initially declared "against religion," and its use was even declared Haram (forbidden). For instance, when the loudspeaker was introduced in the subcontinent, it was opposed on religious grounds, and its use was declared Haram, even for the Adhan. Today, however, followers of every religion and sect use it. Similarly, cameras, television, and VCRs were once declared Haram. The Taliban and other extremists even smashed TVs and hung them from poles. Yet today, all religious groups use TV and cameras extensively to promote their beliefs, even owning their own TV channels. What was Haram yesterday has become Halal today. As human wisdom grows, people eventually recognise the reality and utility of scientific inventions and start consuming them. I want to say to Pakistanis: as #Muslims, you may belong to any sect or school of thought. I am not asking you to abandon your beliefs. By all means, remain firm in your faith, but do not impugn the faith of others. Pray in your own way, and let others pray in theirs. Ultimately, you are both prostrating to Allah and worshipping Him. Do not hate one another based on differences in prayer methods or beliefs; instead, respect each other and treat one another with love. Mingle and make friends. Regardless of your religion or sect, you are human, and the human bond should take precedence over all other ties. Hating people based on religion or belief is a clear disgrace to humanity and human relationships.
Altaf Hussain tweet media
English
3
104
137
1.3K
Mohib Mobi retweetledi
Altaf Hussain
Altaf Hussain@AltafHussain_90·
Every Child is Born "Religionless"... — Altaf Hussain No religion teaches hatred. However, the superpowers of every era have used religion as a weapon to gain public support. In any country, the ruling elite generally uses the prevailing religion as a shield to fulfil their desires and achieve both legitimate and illegitimate goals. Similarly, the ruling elites of various nations have always used religion to mould public opinion in their favour. Before I delve further into the subject of the misuse of religion, I would like to present a few examples from the distant and recent past so that readers, especially the youth (Gen Z), can easily understand this important and sensitive topic in its true spirit. For instance, after the defeat of the Indians in the 1857 War of Independence, the British gained complete control over India. Gradually, the people began to mobilise against the illegal British occupation. Several freedom-fighter groups emerged, and the echoes of "Independence" grew louder every day. To break this unity, divide the people, and weaken them, the British used religion cunningly. #Hindus and #Muslims, who had lived together for nearly a thousand years while adhering to their respective faiths—sharing in each other's joys and sorrows and respecting each other's religious festivals—were divided by the British based on religion. To ensure this division, the British ruling elite used the local Moulvis (clerics) and Pandits. Consequently, the Hindus and Muslims who were fighting together against the British became so divided that they began fighting each other instead, which eventually led to the geographical partition of India. Looking at a more recent example of the Cold War in the 1970s, when the Soviet Union invaded #Afghanistan, the United States resorted to religious bait instead of confronting the Soviet Union directly. Trillions of dollars, along with military equipment and ammunition, were used to prepare the Mujahideen in Afghanistan and Pakistan. #Pakistan was turned into a central battleground against Russia. The Pakistani ruling elite established hundreds of Jihadi Madrassas (seminaries), where they not only gave "Jihad" education to innocent and elementary-minded people—especially the youth—but also set up centres to train them to fight in it. Across Pakistan, massive banners and wall chalkings appeared, urging people to help the "Mujahideen" who were fighting a "Jihad" in the name of Allah against the "infidel" Russians. All of this was done under the patronage of the ruling elite, who exploited religious parties and influential religious figures to brainwash the public. Concurrently, the Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP) was brought into existence to serve the interests of the ruling elite, promoting religious extremism within the country. From that time until today, April 18, 2026, a large section of the Pakistani public has fallen prey to religious extremism. Every other day, incidents surface where someone is accused of desecrating the Holy Quran or committing blasphemy against the Last Prophet, Muhammad (PBUH). Based on such false allegations, incidents of murdering individuals from different religions, burning them alive, or torching the places of worship and properties of religious minorities have continued to occur. A tragic cycle of such events began and has yet to end—all under the patronage of the ruling elite. I would like to further elaborate on this subject by emphasising that the clerics, priests, pundits, or preachers of any religion often work for the interests of the elite under the guise of faith. They declare the actions of the elite to be exactly in accordance with religious teachings, urging the people to obey, support, and follow the ruling class. 1/3
Altaf Hussain tweet media
English
7
120
156
3.1K
Mohib Mobi retweetledi
Shahid Hussain
Shahid Hussain@ShahidHussainJM·
بریکنگ سکھر مقامی ذرائع کے مطابق سکھر سرکٹ ہاؤس میں سندھ کے سات قبائل کے درمیان خونی تنازع پر جرگہ میں50 لاکھ انعام یافتہ ڈاکو راحب شر اور ثناء اللہ شر شرکت کیلئے پولیس پروٹوکول میں سرکٹ ہاؤس پہنچائے گئے سکھر کے سرکٹ ہاؤس میں گھوٹکی ضلع میں جاری سولنگی، سیلرو دھوندو، بھٹو شر، کوش برادریوں کے درمیان جاری خونی تنازع کے حل کے لیے جرگہ سردار علی گوہر خان کی سربراہی میں جاری ہے جرگے میں فریقین کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں جبکہ تمام فریقین کو الگ الگ بٹھایا گیا ہے سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کیے گئے ہیں ذرائع کے مطابق جرگہ 2 روز تک جاری رہے گا جبکہ اس کے بعد 20 اور 21 اپریل کو مہر جتوئی خونی تنازع پر بھی سرکٹ ہاؤس میں جرگہ منعقد کیا جائے گا
اردو
35
170
403
45.9K
Shujaa_Mir_90
Shujaa_Mir_90@SidSamRay_·
📌جومہاجرنام اورسیاست دفن کرنےآئےتھے،میرےرب نے اُن کوہی دفن کردیا کہ جن کو باپ بدلنےکی عادت پڑجائے، یتیمی اُن کامقدر بن جاتی ہے۔ 📌مہاجرنام اورمہاجر حقوق کےلئےسیاست اورمزاحمت بانی و قائدِتحریک کی قیادت میں ہمیشہ جاری رہےگی انشا اللہ۔!! 🟥🟩⬜🇧🇬 @AltafHussain_90 @OfficialMQM
Shujaa_Mir_90 tweet media
اردو
11
38
63
1.5K