Pakistani รีทวีตแล้ว
Pakistani
11.1K posts

Pakistani
@Harumsays
a proud Pakistani 🇵🇰🇵🇰 what I feel can't post love music poetry and traveling
เข้าร่วม Ağustos 2017
892 กำลังติดตาม96 ผู้ติดตาม
Pakistani รีทวีตแล้ว

سنتے جائیے سر دھنتے جائیے ۔۔ پاکستانی تاریخ کا بھیانک سکینڈل ۔تحریر سے متفق ہوں تو شئیر کرتے جائیں شاید ارباب اختیار تک ہماری اواز پہنچ سکے ۔۔ 👇🏾
وہ بچی چینی بول رہی تھی۔ اسلام آباد کی جھگیوں میں۔ کوئی سکول نہیں۔ کوئی ٹیچر نہیں۔ تو پھر اس معصوم کم سن بچی نے یہ زبان کہاں سے سیکھی۔
جب کسی نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا کہ چینی لوگ ہمارے علاقے میں آتے ہیں۔ ہمیشہ آتے ہیں۔
بس یہیں سے ایک ایسی کہانی شروع ہوتی ہے جو آپ کو اندر سے ہلا کر رکھ دے گی۔
یہ صرف ایک وائرل ویڈیو نہیں ہے۔ یہ ایک پوری تجارت کا چہرہ ہے۔ ایک ایسا کاروبار جہاں مال ہماری بیٹیاں ہیں۔
اس سب کی شروعات سمجھنے کے لیے چین جانا ضروری ہے۔
چین نے دہائیوں پہلے ایک بچہ پالیسی لاگو کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا۔ آج چین میں مردوں کی تعداد عورتوں سے کروڑوں زیادہ ہے اور جو لڑکیاں موجود ہیں وہ کسی بھی معمولی مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں۔
تو ان مردوں نے نظریں پھیریں اپنے پڑوسی ممالک کی طرف۔ پاکستان۔ بنگلہ دیش۔ میانمار۔ کمبوڈیا۔
پاکستان سب سے آسان ہدف تھا کیونکہ چین اور پاکستان کے سیاسی تعلقات بہت گہرے ہیں۔ سی پیک کے بعد یہاں چینی شہریوں کی آمدورفت اور بھی آسان ہو گئی۔
اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ بھرپور فائدہ۔
یہ لوگ کیسے کام کرتے تھے۔ پہلے ایک دلال آتا تھا۔ کبھی کسی فنکشن میں۔ کبھی گرجا گھر کے باہر۔ وہ غریب عیسائی خاندانوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ان سے کہتا تھا کہ ایک امیر چینی تاجر نے آپ کی بیٹی کو پسند کیا ہے۔ کرسچن ہے۔ نیک آدمی ہے۔ بیٹی کی زندگی بدل جائے گی اور ہر ماہ آپ کو بھی پیسے آتے رہیں گے۔
غریب باپ نے سوچا کہ شاید یہی بیٹی کا مستقبل ہو۔
2019 میں اسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیق نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم سے نکالی گئی ایک فہرست میں 600 سے زائد ایسی پاکستانی لڑکیوں کے نام تھے جن کا نکاح چینی مردوں سے ہوا تھا اور جو پھر واپس نہیں آئیں۔ ہر نام کے ساتھ شناختی نمبر۔ شوہر کا نام۔ نکاح کی تاریخ۔
ہیومن رائٹس واچ نے اپریل 2019 میں خبردار کیا کہ یہ لڑکیاں چین میں جنسی غلامی کے خطرے میں ہیں۔
وہاں جا کر انہیں پتہ چلتا تھا کہ شوہر کرسچن نہیں ہے۔ اور جو وعدے کیے گئے تھے وہ سب جھوٹ تھے۔ انہیں چین کے دور دراز دیہی علاقوں میں قید کر دیا جاتا تھا جہاں پولیس کی رسائی نہیں ہوتی تھی۔ پھر انہیں مجبور کیا جاتا تھا اپنا جسم بیچنے کے لیے۔
ایک لڑکی کی قیمت اس بازار میں 65 ہزار ڈالر تک پہنچتی تھی۔ ماں باپ کو ملتے تھے صرف 1500 ڈالر۔ باقی سب دلالوں کی جیب میں جاتا تھا۔
ایف آئی اے نے ایکشن لیا۔ چھاپے مارے۔ 52 چینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو پاکستان میں ہمیشہ ہوتا ہے۔ گواہ پیچھے ہٹ گئے۔ کوئی ڈرا کر۔ کوئی خریدا گیا۔ عدالت نے 31 چینی ملزمان کو بری کر دیا۔ جنہیں ضمانت ملی انہیں فوری ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ تحقیق کاروں پر دباؤ ڈالا گیا کیس بند کرنے کا۔ صحافیوں کو کہا گیا کم لکھو۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی محققہ مادیہ افضل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نے انصاف کی بجائے چین سے اپنے تعلقات کو ترجیح دی۔
اور پھر دنیا کو لگا یہ سب بند ہو گیا۔
لیکن بند نہیں ہوا۔
مارچ 2025 میں ٹریبیون پر ایک خبر شائع ہوئی۔ ایف آئی اے نے ایک چینی شہری کو گرفتار کیا جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے بہانے اسمگل کر رہا تھا۔ متاثرہ خاتون نے بیان دیا کہ اسے اچھی نوکری اور شادی کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اسی سال ایف آئی اے نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک اسمگلنگ نیٹ ورک کو اس وقت پکڑا جب وہ راولپنڈی سے خواتین کو چین روانہ کرنے والا تھا۔ کاغذات کا بغور جائزہ لینے پر حکام کو شک ہوا اور گرفتاریاں ہوئیں۔
چین کے سرکاری پراسیکیوٹر کے دفتر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے مارچ 2025 کے دوران 1546 افراد کو انسانی اسمگلنگ اور جعلی شادیوں کے جرائم میں گرفتار کیا گیا۔ یعنی یہ کوئی ماضی کی بات نہیں ہے۔ یہ آج بھی ہو رہا ہے۔
اب اس بچی کی ویڈیو کی طرف واپس آتے ہیں۔
وہ بچی جو اسلام آباد کی جھگی میں رہتی ہے اور روانی سے چینی بولتی ہے۔ وہ بچی جو کہتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے یہاں ہمیشہ آتے ہیں۔
کیا یہ محض سیاحت ہے۔
کیا یہ محض کاروبار ہے۔
پاکستان کی حکومت کو 2019 میں بھی معلوم تھا۔ ایف آئی اے نے رپورٹ سیدھی وزیراعظم عمران خان کو بھیجی تھی جس میں 52 چینی شہریوں اور 20 پاکستانی ملزمان کی تفصیل تھی۔ پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔
یہ خاموشی جرم ہے۔
اگر ہمارے اندر تھوڑی بھی غیرت باقی ہے تو اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ اپنے حلقے میں بات کریں۔ اداروں کو بتائیں کہ پاکستان کے غریب علاقوں میں ایک ایسا کاروبار چل رہا ہے جہاں ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو تجارتی مال سمجھا جاتا
اردو
Pakistani รีทวีตแล้ว
Pakistani รีทวีตแล้ว
Pakistani รีทวีตแล้ว

@pakistanipeeeps بالکل دین نے باپ بیٹی
اور ماں بیٹے کے لیے بھی حدود و قیود کی وضاحت کی ہے
سات سال کی عمر سے بستر تک الگ کرنے کا کہا
اردو

@digitalchirrya ان کو پاکستان میں عزت راس نہیں ائی تھی عزت سے ایگزٹ مل رہا تھا اب ساری دنیا کے سامنے مانگتے پھریں گے
اردو

@naziagoraya کوئی جواد صاحب سے بھی کمنٹس لے لے۔ کیا کسی کو جواد احمد کہہ دینا بھی گالی ہے ۔
اردو
Pakistani รีทวีตแล้ว

@Harumsays وہ تو کاروبار کرتی تھیں نوکروں کے زریعے ۔ دوسروں کے پاس نوکری تو نہیں
اردو

@mb_ghalibaf You forgot to mention the miseries aap honorable Irani by your regime
They are suffering more because of you
and less because of America
English

@FSWarraich ایئر فورس ان کے پاس نہیں ایک میزائل بھی امریکہ تک پہنچ نہیں سکا
قیادت ساری مروا لی
سائنسدان اپنے نہیں بچا پائے
گیس فیلڈز اور عوامی تنصیبات پہ حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہم نے اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے ہر جگہ پر فساد ڈلوایا اس میں بھی کامیاب رہیں گے
اردو

باقر صاحب فرما رہے کہ ہیں کہ ایران کے پاس سپلائی کارڈز ہیں اور امریکہ کے پاس ڈیمانڈز کارڈز۔ ایران نے ان میں سے ابھی صرف آبنائے ہرمز کارڈ استعمال کیا ہے۔ باب المندب اور ریجنل پائپ لائنز کا کارڈ استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن امریکہ اپنے ڈیمانڈ کارڈز زیادہ استعمال کر چکا ہے۔ یعنی اپنے محفوظ ذخیروں کو استعمال کرنے کا کارڈ استعمال کر چکا ہے جو لامتناہی نہیں ہیں۔ سپلائی کم ہونے کی وجہ سے ڈیمانڈ بڑھ چکی ہے اور قیمتیں بلند ہو گئی ہیں۔ قیمتیں قابو میں رکھنے کے لیے امریکہ کو مسلسل ایڈجسٹمنٹ کارڈ استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ چھٹیوں کا موسم آنے والا ہے جس میں امریکہ میں فیول ڈیمانڈ بہت بڑھ جائے گی اور قیمتیں قابو میں نہیں رہیں گی۔ ہاں البتہ امریکی اگر چھٹیاں اور سیر سپاٹے کے پلان ختم کر دیں تو شاید افاقہ ہو۔
(باقر قالیباف نے ایرانیوں کی مشکلات کا ذکر اس میں نہیں کیا)
محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf@mb_ghalibaf
They brag about the cards. Let's see: Supply Cards= Demand Cards SOH (partly played)+BEM(unplayed)+Pipelines(unplayed)= Inv Release (played)+Demand Destruction (partly played)+⏳More Price Adj (to come) Add summer vacation to the right unless they want to cancel it for the US!
اردو
Pakistani รีทวีตแล้ว

ریحان طارق صاحب کی حالیہ پوڈ کاسٹ ضرور دیکھیں۔ کمبوڈیا کے حالات سن کر آپ کا دل پھٹنے کو آئےگا۔
میرے لئے یہ سب سننا نیا تو نہیں تھا کیونکہ پندرہ مارچ کو ہم نے لاہور کے ایک گھرانے کے اکلوتے جوان بیٹے مبشر نور جو میانمار میں اسکی*مرز کا شکار بنے تھے اور آج تک لاپتہ ہے کی تلاش کے لئے پوسٹ لگائی تھی۔وہ پوسٹ دنیا بھر میں بہت زیادہ پھیلی تھی۔
تو اس پوسٹ کے بعد سے کمبوڈیا کے حالات میرے سامنے آئے۔بہت سارے لوگوں نے رابطہ کرکے وہاں چائنیز کے اس*کیم کمپنیوں کے حالات بتائے۔سن کر آپ کانپ جائیں گے۔
جو لوگ وہاں موجود تھے اور جو وہاں سے نکل کر پاکستان پہنچے تھے سب نے اپنی زبانی بتائی۔
کیسے وہ نوجوانوں کو بلاتے ہیں،کیسے ایجنٹ آگے فروخت کرتے ہیں اور کس طرح کی عمارتوں میں قید رکھ کر اسک*یم کا کام لیتے ہیں۔وہاں خودکشی*اں اور جانوروں جیسا سلوک۔ الامان والحفیظ۔
مبشر نور کی پوسٹ کے توسط سے ایک پاکستانی نوجوان راحیل محبوب کا کیس ملا تھا۔جو اسک*یم کمپنی میں ٹی بی میں مبتلا ہوا،بیماری میں بھی کام لیتے رہے،کوئی علاج نہیں کروایا،جب جسم بالکل سکڑ گیا اور ناکارہ ہوا تب جاکر کمپنی والوں نے نکال دیا،اور پھر وہیں فوت ہوا۔
مجھے کسی نے اس لڑکے کا کیس دیا تھا تو اس وقت کومےمیں تھا،پاکستان منتقل کرنے کے لئے پوسٹ لگانے والے تھے کہ اسی دن وہاں وہ فوت ہوگیا اور میت پاکستان لائی گئی۔
وہاں سے ایک صاحب نے بتایا کہ آج بھی لاتعداد پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں وہاں قید ہیں اور ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
ان مافیا کے خلاف کارروائی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ کمبوڈیا کی معیشت ہی ان کاموں سے چل رہی ہے۔
آپ کے پاس وقت ہو تو ریحان طارق صاحب کا شعیب نامی لڑکے کے ساتھ پوڈ کاسٹ ضرور دیکھیں شعیب نے کیا دیکھا اور اس پر کیا بیتی سب سنیں اور کمبوڈیا،میانمار جیسے ممالک جانے سے بچیں۔
#waliullahmaroof
اردو
Pakistani รีทวีตแล้ว
Pakistani รีทวีตแล้ว

@jaysean101015 @samri37499586 @KeepsamM They accept jobs and scales given by pmln
They never questioned PTI of banning teaching jobs
They are playing role as teachers played in east Pakistan
Treason
English

@samri37499586 @Harumsays @KeepsamM Because they are educated ones and they refuse to accept aristocracy.
English
Pakistani รีทวีตแล้ว

اس نوجوان کا نام عبد الرووف ہاشمی ہے۔ انکا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے۔
ایک ایجنٹ نے انکو سبز باغ دکھاکر سال 2024 میں کمبوڈیا بھیا تھا، وہاں ایئرپورٹ میں دوسرے ایجنٹ نے رسیو کیا اور کام کے لئے لیجانے کا کہہ کر کسی اس*کیم کمپنی پر فروخت کردیا۔
بھائی کے بقول مختلف کاموں نام پر ایجنٹ ہم سے تقریبا بیس لاکھ روپے تک بھی لے چکے تھے۔
عبدالروف نے تقریبا دس ماہ بعد یکم دسمبر 2025 کو کال کی اور گھر میں بتایا کہ میں ان کمپنی سے بھاگ کر ایک ہوٹل میں آیا ہوں ۔ مجھے واپس بلانے کے انتظامات کریں۔
23 دسمبر کے بعد سے بھائی سے رابطہ منقطع ہوا اور آج تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
آخری رابطے تک عبدالروف کمبوڈیا کے دار الحکومت فیناپن شہر کے میاں جی نامی پاکستانی ریسٹورن میں موجود تھے۔
ایک طرف تصویر کمبوڈیا جانے کے لئے ایئرپورٹ کی ہے اور دوسری طرف مافیا کے چنگل سے بھاگنے کے بعد کی ہے۔
کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی،سفارتخانہ پاکستان،دفتر خارجہ اور وزارت خارجہ سے اپیل ہے کہ عبدالروف کی تلاش کے لئے اقدامات کریں۔ ماں باپ کا یہ خوبصورت جوان ایسے کیسے لاپتہ ہوا؟
کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں نوکریوں کا جھانسا دے کر کئی ممالک کے لاکھوں لوگوں کو غلام بنایا جاچکا ہے ۔ کئی ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کو آزاد کرانے کے لیے کاروائی کی ہے جبکہ تھائی لینڈ نے تو اس مقصد کے لیے بمبا*ری بھی کردی ہے تاکہ سرحد پار ان اڈوں کو ختم کیا جاسکے۔ عوام اور خصوصا نوجوانوں سے درخواست ہے کہ ان ممالک میں نوکری کے لیے جانے سے پرہیز کریں چاہے ایجنٹ کتنے ہی سبز باغ کیوں نہ دکھائے۔ یہ بین الاقوامی کچے کا علاقہ ہے ۔
عبدالروف ان کا شکار بن چکا ہے،انکا گھر ماتم کدہ بن چکا ہے۔ انکی خوشیاں لوٹائیں۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
کسی بھی اطلاع کے لئے میرے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
26 April 2026
#waliullahmaroof

اردو













